ماہِ ربیع الاوّل میں مسلمان عہد کریں کہ اپنے نبی کی سیرت پر عمل کریں گے ، مفتی رضوان قاسمی

68

آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلےعرب کی سرزمین ہر قسم کی برائیوں کا آماجگاہ بن چکی تھی انسانیت خوف و دہشت کی آتش فشاں میں جل بھن رہی تھی ظلم و عدوان کا پرچم لہرا رہا تھا اور عدل و احسان کا جھنڈا سرنگوں، بچیوں کی پیدائش کو منحوس سمجھ کر زندہ دفن کرنے اور بیوی بچوں کو جوا میں ہار جانے کا دور دورہ تھا انسان تو انسان زندہ جانوروں تک پر چمکتے ہتھیاروں سے نشانہ بازی کی جاتی تھی معمولی سی باتوں پر سالوں سال لڑائی ہوتی تھی گویا انسانیت جمود و تعطل کا شکار ہو چکی تھی ایسے میں رحمت خدا وندی جوش میں آئی اور نو 9 / ربیع الاول مطابق 14 / چودہ بکرمی 20 / اپریل 571ء صبح صادق کے وقت پیر کے دن بی بی آمنہ کے آغوش مبارک میں کائنات کے سب سے بڑے محسن اعظم اور تاریخ عالم کی سب سے بے نظیر ہستی کی ولادت باسعادت ہوئی دادا نے آپ کا اسم گرامی محمد اور والدہ محترمہ نے احمد رکھا یہاں پر یہ صراحت ضروری ہے کہ تاریخ ولادت 9/ ربیع الاول کے بجائے 12/ ربیع الاول مشہور کر دیا گیا ہے جو کہ صحیح نہیں ہےبلکہ یہ خاتم الانبیاء کے دنیا سے پردہ فرمانے کی تاریخ ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے اور مجھ سے بڑے تمام عمر کے لوگوں نے ہوش و خرد سنبھالتے ہی بارہ ربیع الاول کو بارہ وفات بارہ وفات سنا یعنی بارہ کا مطلب بارہ تاریخ اور وفات کا مطلب دنیا سے پردہ فرمانے کا دن، بارہ وفات کبھی بھی عمومی طور پر بارہ ولادت بارہ ولادت کے نام سے مشہور نہیں رہا مذکورہ باتیں یہاں بیرول سبڈویژن سے متصل مغربی جانب واقع جامع مسجد جنوبی محلہ موضع اکبرپور بینک میں نماز جمعہ سے قبل اپنے فکر انگیز خطاب میں صدر مرکزی جمیعت علماء سیمانچل جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاذ مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول بیرول دربھنگہ نے کہی انہوں نے کہا کہ یہ تو اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی شازس ہے کہ تاریخ ولادت کو الٹ پلٹ کر دیا اور تاریخ وفات کو یوم ولادت بنا کر امت مسلمہ کے شعور پر نقب زنی کی گئی تاکہ کوئی مسلمان حضور اکرم کی دنیا سے پردہ فرمانے کی تاریخ میں فکر آخرت، خوف خدا، جہنم سے پناہ، جنت کی طلب پر تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی سوچنے کے بجائے یوم ولادت پر خوب خوشی و مسرت کا اظہار کرے اور بد قسمتی سے اس کو دیگر مذاہب و تہذیب کے پیشواؤں کی جینتی منانے کی شکل دے دی گئی جیسا کہ اب ہونے لگا ہے جلوس محمدی کے نام پر اس میں جس طرح ڈی، جے، گانے بجانے اور ڈانس و جھومنے کا چلن زور پکڑتا جا رہا ہے کہ آج بار بار اس کا اہتمام کرنے کرانے والے علماء اور تنظیموں کو اسے روکنے کی اپیلیں کرنی پڑ رہی ہے جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ کیا عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا مظاہرہ کرنے کے لئے سڑکوں پر اترنے کی ضرورت ہے؟ کیا دور رسالت سے لیکر خلفائے راشدین، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین، تابعین، تبعہ تابعین، اولیاء اللہ و بزرگان دین یا حضرت غوث الاعظم، حضرت بغدادی، حضرت خواجہ اجمیری اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہم اجمعین وغیرہم کے یہاں عشق رسول کی یہ مثالیں ملتی ہیں ؟ کیا امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل، آمام بخاری رحمھم اللہ کے یہاں عشق رسول کا یہ طرز عمل پایا جاتا ہے؟ کیا احادیث کی مشہور و مستند کتاب صحاح ستہ و دیگر اور فقہ کی مشہور و مستند کتابوں میں عید الفطر اور عید اضحی کے علاوہ کسی تیسری عید کا کوئی باب ہے ؟ بالکل نہیں : تو پھر عشق رسول اللہ میں غلو کرکے مسلمانوں پر تیسری عید کیوں مسلط کیا جا رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ آنے والے دنوں میں دو رکعت نماز دوگانہ بھی شروع کر دیں اس وقت اسلام کو متہم و مطعون خوف و دہشت اور کھیل تماشے کا مذہب ثابت کرنے کی جو شازشیں ہو رہی ہے ایسے حالات میں شریعت پر عمل ، بدعات و خرافات اور غیر اسلامی رسم و رواج سے بچنا اور ملت کو بچانا ضروری ہے آپ نے ضلالت و گمراہی کی زنجیر میں جکڑی اور بھٹکی ہوئی انسانیت کے درمیان اپنے حسن اخلاق، کردار و عمل سے صرف نبوت کی تئیس سالہ دور نبوت میں جس میں تیرہ سالہ مکی زندگی ہے اس میں دشمنوں نے چین وسکون میسر نہ ہونے دیا پھر آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی ہے لیکن دس سالہ مدنی زندگی میں اپ نے ایسا کامل و اکمل انقلاب برپا کر دیا کہ اس کے زیر اثر فکر و نظر، تہذیب و تمدن، ٹقافت و معاشرت، اخلاق و سیاست کے ہر شعبہ میں بنیادی تبدیلی اور اساسی تغیر پیدا ہو گیا اور عرب کا خونی و شیطانی معاشرہ کا ڈھانچہ ایسا بدل گیا کہ تھوڑے ہی عرصے میں پہچان مشکل ہو گئی کہ کیا واقعی وہ وہی لوگ ہیں جو کل تک اپنی بربریت اور سفاکی کی وجہ سے جانوروں سے بھی بدتر ہو گیے تھے آج وہ انسانوں کے غم خوار کس طرح ہو گئے ہر دور کے صاحب علم و فکر کے لئے یہ بات ہمیشہ قابل توجہ رہی ہے اور دنیا اس انقلاب کےنتائج و اٹرات اور طریقہ کار کا آج تک مطالعہ کر رہی ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ مطالعہ کرتی ہی رہے گی میں تمام مسلمانوں سے بالخصوص اپنے نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ ہمارے نبی کی سیرت دنیائے انسانیت کا ایساعالم گیر آئینہ ہے جس میں ہر انسان اپنے ظاہر وباطن، قول و عمل، جسم و جاں، روح و دماغ، زبان و دل اور قلب و جگر کو دیکھ کر اپنی اصلاح کر سکتا ہے انہوں نے جاری اپنے فکر انگیز خطاب میں تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ آئیے 12 / ربیع الاول کے موقع پر ہم سب حد سے نہ گزرنے اور اپنے نبی اکرم صلی الله عليه وسلم کی سیرت کو اپنی زندگی میں اتارنے کا عہد کریں اعتدال کی راہ اپنائیں اور حضور صل اللہ علیہ وسلم کی اس بدعاء سے بچیں جس میں آپ نے فرمایا کہ "جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ گڑھا اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہے "ہمارے لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو سمجھنا چاہئے کہ ہمارے نبی اکرم اور ان کے جانثاروں کے جس حسن اخلاق اور عدل و انصاف کے بدولت دنیا بھر میں تیزی سے اسلام پھیلا آج ٹھیک اس کے برعکس مسلمانوں کے عمل کی نحوست سے غیر تو غیر ہیں ہی اپنے بھی دین سے پھر رہے ہیں مرتد ہو رہے ہیں صد افسوس کہ تیس کروڑ سے زائد ملت اسلامیہ ہند کے مستقبل کا کوئی ٹھوس ویژن نہیں ہے ہمارے نوجوان اپنے نبی کے طریقے کو اپنے لئے اسوہ ، نمونہ اور آئیڈیل بنانے کے بجائے غیروں کی نقلیں اتار رہے ہیں اس موقع پر میں اپنی ملت کے جوانوں سے کہوں گا کہ فرمان الہی پر عمل کرتے ہوئے اپنے پیارے نبی امام الانبیاء کی سیرت کو اپنی زندگی میں اس ظلم و جبر کے ماحول میں آئیڈیل بنائیں اور اپنے پاک و صاف دین و مذہب کو کھیل تماشے کا ذریعہ نہ بنائیں اس موقع پر مفتی رضوان قاسمی نے جناب حاجی عبدالعزیز صاحب اور ان رفقاء کی زیر نگرانی اکبرپور بینک میں زیر تعمیر مدرسہ محمدیہ کی عالیشان عمارت ، قبرستان ، عیدگاہ اور جامع مسجد کے کاموں کو سراہتے ہوئے لوگوں سے ہر ممکن تعاون کرتے رہنے کی اپیل کی اس وقت ملک کے بدلتے ہوئے ماحول ميں انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ آپس میں جذباتی ہونے کے بجائے ہر قسم کے باہمی تنازعات سے بچتے ہوئے مل جل کر اتحاد و اتفاق سے جینے کی کوشش کریں