بہارمیں مسلم ووٹ پر سب کی نظر،اقتدار میں حصہ داری ندارد!

38

افروز عالم ساحل

 

بہار میں انتخابی بگل بج چکا ہے۔ قائدین جہاں اپنے لیے ایک عدد ٹکٹ حاصل کرنے کوشاں ہیں وہیں پارٹیاں اپنے ’کاسٹ سمیکرن‘ (ووٹوں کے توازن) کو برقرار رکھنے میں لگ گئی ہیں۔ ایسے میں تمام سیاسی پارٹیوں کی نظریں مسلم ووٹروں کی طرف ہونا فطری ہے کیونکہ بہار میں مسلمان سب سے ملائی دار ووٹ بینک ہے۔ اس ملائی کو کھانے کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں میں ہمیشہ سے مقابلہ ہوتا آیا ہے۔ بی جے پی جیسی دائیں بازو کی پارٹی بھی اس بار نتیش کمار کے سہارے بہار میں اس کھیل کا حصہ بن چکی ہے۔ لیکن بہار کا مسلمان کیا سوچتا ہے، اس الیکشن میں مسلمان کیا رول ادا کریں گے، کتنی مسلم پارٹیاں میدان میں ہیں اور یہاں کے لوگ ان پارٹیوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ایسے تمام سوالوں کے ساتھ ہفت روزہ دعوت نے بہار کی اہم شخصیتوں سے گفتگو کرتے ہوئے بہار کی زمینی حقیقت کو جاننے کی کوشش کی ہے۔ساتھ ہی یہ سمجھنے کی بھی کوشش کی کہ بہار میں جس تناسب سے مسلمانوں کی ووٹ بینک کی حصہ داری ہے، کیا اسی تناسب سے اقتدار میں بھی ان کی حصہ داری ہے؟ انہیں کوئی پوچھنے والا یا حصہ دینے والا ہے بھی یا نہیں؟ اور کیا یہاں مسلمان صرف اقتدار پانے کا وسیلہ بن کر رہ گئے ہیں؟

 

کیا اس مرتبہ انتخابات میں مسلم ووٹوں کا کوئی اثر رہے گا؟ اس سوال پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ پولیٹیکل سائنس سے بہار کی سیاست پر پی ایچ ڈی کرنے والے محمد عرفان کہتے ہیں کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی مسلمانوں کا ایک ہی ایجنڈہ بی جے پی کو ہرانا ہے۔ لیکن نتیش کمار سے ان کی محبت بھی کم نہیں ہو رہی ہے۔ مسلم اتحاد کی کہانی جوکیہاٹ سیٹ کی کہانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے۔

 

کیا ہے جو کیہاٹ سیٹ کی کہانی؟

 

بہار کے ضلع ارریہ کی جوکیہاٹ سیٹ کئی لحاظ سے کافی اہم ہے۔ اس پورے علاقے میں ہمیشہ سے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر تسلیم الدین کا دبدبہ رہا ہے۔ 2015 اسمبلی الیکشن میں اس جوکیہاٹ سیٹ سے تسلیم الدین کے بڑے بیٹے سرفراز عالم نے بطور جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) امیدوار 53980 ووٹوں کے فرق سے آزاد امیدوار رنجیت یادو کو ہرایا تھا۔

 

17ستمبر 2017 کو رکن پارلیمنٹ تسلیم الدین کے انتقال کے بعد مارچ 2018 میں ارریہ لوک سبھا سیٹ پر ہوئے ضمنی الیکشن میں بطور آر جے ڈی امیدوار سرفراز عالم نے اپنے حریف کو 57358 ووٹوں کے بڑے فرق سے ہرایا۔ ان کے رکن پارلیمنٹ بننے کے بعد جوکیہاٹ سیٹ پر 28 مئی 2018 کو ضمنی الیکشن ہوا۔ سرفراز عالم کی خواہش تھی کہ اس الیکشن کے لیے ان کے بیٹے کو ٹکٹ ملے لیکن ان کے چھوٹے بھائی چاہتے تھے کہ یہ الیکشن وہ خود لڑیں۔ کہاجاتا ہے کہ جب یہ لڑائی تھوڑی آگے بڑھی تو آخر میں تسلیم الدین کی بیوی نے اپنے چھوٹے بیٹے شاہنواز کے لیے لالو پرساد یادو کو کال کیا اور آر جے ڈی کی طرف سے شاہنواز عالم امیدوار بنے اور جے ڈی یو کے امیدوار مرشد عالم کو 41225 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔

 

ادھر 2019لوک سبھا الیکشن میں سرفراز عالم کی ہار ہوئی۔ اس سیٹ سے بی جے پی کے پردیپ کمار سنگھ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ اب 2020اسمبلی الیکشن میں پھر سے سرفراز عالم کی خواہش ہے کہ وہ جوکیہاٹ سیٹ سے الیکشن لڑیں، لیکن ان کے چھوٹے بھائی شاہنواز عالم اس سیٹ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان حالات میں سرفراز نے جے ڈی یو سے ٹکٹ حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی اعلان کر دیا کہ اگر جے ڈی یو انہیں ٹکٹ نہیں دیتی ہے تو وہ آزاد امیدوار کے طور پر اپنے بھائی سے انتخاب لڑیں گے۔ ارریہ سے تعلق رکھنے والے محمد عرفان کا سوال ہے کہ جب دو سگے بھائیوں میں اتحاد نہیں ہو پا رہا ہے تو پھر پوری کمیونٹی میں اتحاد کی امید کس بنیاد پر کی جائے؟ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ آج ارریہ کی حالت ایسی بن چکی ہے کہ ان دونوں بھائیوں کی لڑائی میں کوئی بھی ہندو امیدوار کسی بھی پارٹی سے کھڑا ہو جائے تو آسانی سے الیکشن جیت سکتا ہے۔

 

مسلمان کب تک مجبوری میں ووٹ دیتا رہے گا؟

 

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دینے والے آئی پی ایس عبدالرحمن کہتے ہیں کہ بہار کے مسلمان ہمیشہ سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ اس بار بھی وہی نظر آرہا ہے۔ جو بھی سیکولر پارٹیوں کا گٹھ بندھن بنے گا، مسلمان اس کے ساتھ ہی جائیں گے۔ عبدالرحمن کا تعلق بہار کے ضلع مغربی چمپارن کے بتیا شہر سے ہے۔

 

پٹنہ ہائی کورٹ کے وکیل اور بہار کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والے سماجی کارکن محمد نوشاد انصاری نے بتایا کہ بہار کے مسلمانوں نے ہمیشہ سیکولر پارٹیوں کا ساتھ دیا ہے جس کے نتیجے میں 2015 کے الیکشن میں بی جے پی کو شکست اٹھانی پڑی تھی لیکن مہاگٹھ بندھن سے الگ ہو کر نتیش کمار اسی بی جے پی کے ساتھ چلے گئے جسے ہرانے کے لیے مسلمانوں نے انہیں ووٹ دیا تھا۔ یہ کہانی بہار میں ہمیشہ دیکھنے کو ملتی رہی ہے۔ اکثر و بیشتر ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے لیڈران بی جے پی میں شامل ہوتے نظر آتے ہیں۔ سیکڑوں چھوٹے بڑے لیڈر ادھر سے ادھر جارہے ہیں۔ مانجھی پھر سے جے ڈی یو میں شامل ہونے جارہے ہیں تو وہیں اس بات کا بھی امکان ہے کہ لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) جو کل تک بی جے پی کے ساتھ تھی اب شاید وہ سیکولر پارٹی بن جائے اور مسلمانوں کے حق کی بات کرنے لگے۔ اس طرح سے بہار ہی نہیں، پورے ملک کے مسلمان ووٹر الجھن کا شکار ہیں کہ کس پر یقین کیا جائے اور کس پر نہیں۔

 

نوشاد انصاری مزید کہتے ہیں کہ ذات کی بنیاد پر بہار میں تمام پارٹیاں ابھری ہیں لیکن بہار کا مسلمان اس میں کہیں نظر نہیں آتا۔ اس لیے اب اسے بھی اپنے ایک عدد لیڈر کی تلاش کرنی چاہیے۔ یہاں کا مسلم نوجوان بھی چاہتا ہے کہ ہماری بھی ایک پہچان ہو کیونکہ ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو صرف مسلمانوں کا ووٹ چاہیے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان مجبوری میں انہی کو ووٹ دے گا۔ پٹنہ کے ایک اور سماجی کارکن ارشد اجمل کا بھی واضح طور سے کہنا ہے کہ مسلمان اس بار بھی مہا گٹھ بندھن کو ووٹ دے گا لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمانوں کے کچھ ووٹ نتیش کمار کو بھی مل جائیں گے کیونکہ انہوں نے کافی مسلم ورکرس پیدا کیے ہیں جو ان کے لیے محنت کر رہے ہیں۔

 

سابق آئی اے ایس سید گل ریز ہدیٰ کے مطابق بہار کا مسلمان کوئی ’یک سنگی گروپ‘ (Monolith Group) تو ہے نہیں۔ سیمانچل کے مسلمانوں کا الگ پس منظر وحالات ہیں۔ شمالی و جنوبی بہار کے مسلمانوں کے الگ تجربے ہیں۔ مختلف جگہوں پر الگ الگ عنصر کام کرے گا۔ ایسے میں اس الیکشن میں مسلمان کسے ووٹ دیں گے یہ کہنا بہت ہی مشکل ہے۔ تاہم وہ یہ مانتے ہیں کہ سب کا ’کامن فیکٹر‘ ایک ہی ہے کہ سب ہی مودی حکومت سے پریشان ہیں۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ کسی کو خوف یا مجبوری میں ووٹ نہیں دینا چاہیے۔ جب تک آپ مجبوری میں ووٹ دیتے رہیں گے تو آپ کبھی مضبوط فیصلہ نہیں کر پائیں گے۔ یہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں بھی ہمیشہ سے یہی کہتی آئی ہیں کہ بی جے پی کو ہرانا ہے اور مسلمان بھی یہی سوچتا ہے کہ بی جے پی کو ہرانا ہے۔ اس بات کو میں غلط سمجھتا ہوں۔ ہم لوگوں کو کسی کو ہرانے کی بات چھوڑ دینی چاہیے۔ جب بھی آپ کسی کو ہرانے کی بات کرتے ہیں تو آپ خود ہی ہار جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں جیتنے کی بات کرنی چاہیے اور جب آپ جیتیں گے تو وہ خود بہ خود ہار جائیں گے۔

 

سید گل ریز ہدیٰ 1977 آسام بیچ کے آئی اے ایس آفیسر ہیں۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد نتیش کمار کی گزارش پر بہار اسٹیٹ پلاننگ بورڈ کی ذمہ داری سنبھالی لیکن 2018 میں انہوں نے استعفیٰ دے کر بہار حکومت میں سابق وزیر پورنماسی رام کے ساتھ مل کر اپنی پارٹی ’’جن سنگھرش دل‘‘ بنائی ہے۔ گل ریز ہدیٰ انٹرنیشنل فینانس کارپوریشن کے ساتھ ساتھ ورلڈ بینک کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹر کے مشیر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے حکومت ہند کے وزارت مالیات میں 22 سال اپنی خدمات دی ہیں۔

 

کیا ہے بہار کے رائے دہندوں کی تاریخ؟

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سنٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈی اِن ہسٹری کے پروفیسر محمد سجاد نے بتایا کہ بہار کی تاریخ رہی ہے کہ یہاں کی اقلیت نے اسی پارٹی کو ووٹ دیا ہے جس پارٹی کو اکثریت نے بھی ووٹ دیا ہے۔ اس بارے میں وہ ہیری بلیئر امریکن پولیٹیکل ریویو میں بھی لکھ چکے ہیں جنہوں نے 1952 سے 1972 تک کے الیکشنز پر ریسرچ کیا ہے۔

 

پروفیسر سجاد کے مطابق 1977 کے لوک سبھا الیکشن میں جب لوگ کانگریس کے خلاف ہوئے تو مسلمان بھی کانگریس کے خلاف ہوگئے۔ بوفورس اسکینڈل یا بدعنوانی جیسے معاملات سے مسلمان بھی ناراض ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ کہنا غلط ہے کہ مسلمانوں کا ووٹنگ طرز دوسروں سے مختلف ہے۔ 1967، 1990 اور 1995 کے بہار اسمبلی الیکشن میں مسلمان اکثریتی ووٹرس کے ساتھ ہی گئے۔ یہاں تک کہ جب نتیش کمار بی جے پی کے ساتھ تھے تب بھی مسلمانوں نے نتیش کی پارٹی کو ووٹ دیا ہے حالانکہ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ 2005 کے بعد بہار میں سیاسی حالات میں تھوڑی سی تبدیلی آئی ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت لالو پرساد یادو کے ساتھ گئی وہیں ایک حصہ نتیش کمار کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔

 

پروفیسر محمد سجاد کی دو مستقل کتابیں Muslim Politics in Bihar اور مظفر پور کے مسلمانوں پر 1857 سے 2012 تک کا احاطہ کرنے والی کتاب Contesting Colonialism and Separatism شائع ہوئی ہیں۔ ان کی کتابوں کا اردو ترجمہ گزشتہ سال قومی اردو کونسل نے شائع کیا ہے۔

 

تناسب کے لحاظ سے حصہ داری کیوں نہیں؟

 

دہلی کے جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے ابھئے کمار کا کہنا ہے کہ ’’صرف بہار میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر کی سیکولر پارٹیوں کو صرف مسلمانوں کا ووٹ چاہیے لیکن جب اقتدار میں حصہ داری کی بات آتی ہے تو یہی سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو ٹکٹ دینے سے بھی گریزاں نظر آتی ہیں۔ اس کے باوجود مسلمان ہی ایسا واحد ووٹ بینک ہیں جو پوری مستعدی کے ساتھ ان سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دیتا ہے۔ ابھئے کمار مزید کہتے ہیں کہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ملک میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ ان سیکولر پارٹیوں کے اپنے کیڈر اور ذاتی ووٹرس بھی اپنی ہی پارٹی کے مسلم امیدواروں کو ووٹ نہیں دیتے۔ لیکن مسلمان ایسا نہیں کرتا۔ وہ کسی دوسری پارٹی کے مسلم امیدوار کو ووٹ دینے کے بجائے انہی پارٹیوں کے ایسے امیدواروں کو ہی ووٹ دیتا ہے جو مسلمان نہیں ہوتے ہیں۔

 

’حصہ داری‘ کے سوال پر پروفیسر محمد سجاد کہتے ہیں کہ ہندوستان کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اقلیتوں کی حصہ داری پر بحث کافی کم ہوتی ہے۔ وہاں تعلیم، تجارت، معیشت اور روزگار پر بات ہوتی ہے۔ نفرت کے اس ماحول میں بہار کا مسلمان اپنی حصہ داری کی بات کتنے موثر انداز میں کہہ سکے گا اور اس کا کتنا اثر ہوگا یہ ایک مشکل سوال ہے۔

 

محمد نوشاد انصاری کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی سرکاری نوکریوں میں بھی حصہ داری لگاتار گھٹتی جا رہی ہے اور اس کم ہوتی ہوئی تعداد پر آواز اٹھانے کے لیے ہمارے پاس لیڈروں کی بھی کمی ہے۔ سیکولر پارٹیوں کو مسلمانوں کا ووٹ تو چاہیے لیکن وہ مسلم امیدواروں کو میدان میں نہیں اتارتے ایسا کیوں؟ اس سوال کے جواب میں سماجی کارکن ارشد اجمل صاف طور پر کہتے ہیں کہ یہ سب جھوٹی باتیں ہیں بلکہ میری نظر میں یہ سوال ہی کافی بچکانہ اور غلط ہے۔ بہار میں گزشتہ اعداد وشمار کو دیکھنا چاہیے جتنے فیصد مسلمان ہیں انہیں اتنے فیصد الیکشن میں ٹکٹ ملتے رہے ہیں بلکہ اس سے زائد بھی ملے ہیں۔ مسلمان اگر سوچ رہے ہیں کہ انہیں یادو طبقہ کے برابر ٹکٹ ملیں تو ایسی توقع رکھنا بے معنی ہے۔

 

لیکن ایسا کیوں؟ اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ آپ کتنے مسلم ارکان اسمبلی کے نام گنا سکتے ہیں اور کیا مسلمانوں کے پاس ایسے چہرے ہیں جن کے نام پر لوگ جمع ہو سکیں۔ مسلمانوں کو کتنی سیٹوں پر انتخاب لڑنے کے لیے ٹکٹ ملا اور انہوں نے کتنی سیٹوں پر جیت درج کی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ زیادہ تر مسلم امیدوار ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال ہی غلط ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو مسلم لیڈر ہیں وہ الیکشن لڑنے کے قابل بھی ہیں؟ اگر ہیں تو پھر انہیں آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ کر اپنی موجودگی درج کرانی چاہیے۔ آپ آزاد الیکشن لڑ کر دس ہزار ووٹ تو لا کر دکھائیے۔ جو لوگ پارٹی کے رحم و کرم پر ٹکٹ چاہتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ مسلمان آپ کو ووٹ دیتا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان آپ کے کہنے سے ووٹ دیتا ہے؟

 

کیا کہتے ہیں بہار کے اعداد وشمار؟

 

اعداد وشمار کی بات کریں تو 2011 کی مردم شماری کے مطابق بہار میں مسلمانوں کی آبادی 16.87 فیصد ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس کے برعکس اقتدار میں ان کی شراکت میں مسلسل کمی آرہی ہے۔

 

2001 سے 2011 کے درمیان مسلمانوں کی آبادی میں 28 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ (ہندو برادری کی آبادی میں بھی 24 فیصد کا اضافہ ہوا ہے) یعنی بہار میں مسلمانوں کی آبادی 1.32 کروڑ سے بڑھ کر 1.76 کروڑ ہوگئی ہے۔ اس طرح سے 10سالوں میں 38 لاکھ مسلمانوں کا اضافہ ہوا۔ لیکن اقتدار میں ان کی شراکت کم ہوئی ہے۔ سال 2000 کے اسمبلی الیکشن میں 20 مسلم ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ فروری 2005 میں یہ تعداد بڑھ کر 24 ہوگئی لیکن نومبر 2005 میں یہ کم ہو کر 16 ہوگئی۔ 2010 میں تھوڑا سا اضافہ ہوا۔ الیکشن جیت کر 19 مسلمان ایم ایل اے بنے تھے، وہیں 30 سیٹوں پر مسلم امیدوار دوسرے نمبر پر رہے۔ 2015 کے اسمبلی الیکشن میں نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے ’عظیم الشان اتحاد‘ یعنی مہا گٹھ بندھن نے کل 33 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا۔ اگر فیصد کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ شرح صرف 12.75 فیصد ہوتی ہے۔ ان میں سے 23 نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ یعنی مہا گٹھ بندھن کے 70 فیصد مسلم امیدوار اس الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے۔ وہیں کٹیہار کے بلرام پور سیٹ پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) لبریشن کے محبوب عالم نے جیت درج کر کے اس تعداد میں ایک مسلم نام کا اضافہ کر دیا۔ اس طرح سے کل 24 مسلم امیدوار ایم ایل اے بنے۔ وہیں 15 مسلم امیدوار دوسرے نمبر پر تھے۔ کچھ سیٹوں پر تو کافی کم ووٹوں کے فرق سے ہار ہوئی تھی۔ ان نتائج کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ مسلمانوں کو ان کی شراکت کے تناسب میں حصہ ملے گا۔ لیکن 28 وزراء کی کابینہ میں صرف 4 مسلمانوں کو شریک کیا گیا۔

اگر الگ الگ پارٹیوں کے حساب سے دیکھا جائے تو آر جے ڈی نے اپنی 101 سیٹوں میں سے 17 مسلم امیدوار میدان میں اتارے تھے جن میں سے 12 امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ آر جے ڈی کے 3 مسلم امیدوار دوسرے مقام پر رہ کر بی جے پی کو ٹکر دیتے نظر آئے۔ کانگریس نے اپنی 41 سیٹوں میں سے 9 مسلم امیدواروں پر بھروسہ کیا تھا جن میں سے 6 نے جیت درج کی اور باقی 3 نے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ جے ڈی یو نے اپنے 101 ناموں میں سے 7 مسلم امیدواروں کا میدان میں اتارا تھا ان میں سے 5 جیت گئے اور بقیہ 2 دوسرے نمبر پر تھے۔بی جے پی نے بھی سال 2015 میں 2 مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا اور دونوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ایک دوسرے نمبر پر رہا تو دوسرا تیسرے نمبر پر نظر آیا۔ مانجھی کی ’ہندوستانی عوام مورچہ‘ نے اپنے 4 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا۔ ان میں سے کوئی جیت تو نہیں پایا لیکن 2 امیدوار دوسرے نمبر پر ضرور تھے۔ ایل جے پی نے 3 مسلم امیدوار اتارے تھے اور تینوں دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

 

اتنا ہی نہیں، اگر سال 2015 میں ہم بہار میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کی بات کریں تو’ٹاپ فائیو‘ میں دو مسلم امیدوار تھے۔ جوکیہاٹ اسمبلی سیٹ سے جے ڈی یو امیدوار سرفراز عالم نے 53980 ووٹوں سے اپنی جیت درج کی اور وہ بہار میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہے۔ پانچویں نمبر پر کانگریس کے عبدالجلیل مستان کا نام تھا۔ عبدالجلیل نے امور اسمبلی سیٹ پر بی جے پی کے صبا ظفر کو 51997 ووٹوں سے شکست دی تھی۔

 

ایک بات یہاں مزید غور کرنے کی ہے۔ بہار میں ایس سی/ ایس ٹی کے لیے کل 38 سیٹیں مخصوص ہیں۔ لیکن جب ہم وہاں مسلمانوں کی آبادی پر غور کرتے ہیں تو کئی سیٹوں پر مسلمانوں کی آبادی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ کٹیہار کی منیہاری اسمبلی سیٹ میں مسلم ووٹرز کی آبادی قریب 42 فیصد ہے۔ لیکن یہ نشست ایس ٹی کے لیے مخصوص ہے، جب کہ یہاں قبائلی ووٹرس کی تعداد 12 فیصد اور دلت ووٹرس 8 فیصد ہیں۔

 

کوڑھا اسمبلی سیٹ کی بھی ایسی ہی کہانی ہے۔ یہاں پر 34 فیصد مسلم ووٹر ہیں۔ لیکن یہ سیٹ ایس سی کے لیے مخصوص ہے۔ جب کہ یہاں دلت ووٹرس کی تعداد 13.5 فیصد اور قبائلی ووٹرس کی تعداد تقریبا 8 فیصد ہے۔ ارریہ کے رانی گنج میں بھی مسلم ووٹرس 28 فیصد ہیں۔ اسی طرح مغربی چمپارن کی رام نگر سیٹ پر 21 فیصد مسلم آبادی ہے اور مشرقی چمپارن میں ہرسیدھی سیٹ کی آبادی تقریبا 20 فیصد ہے، لیکن یہ تمام سیٹیں ایس سی/ ایس ٹی کے لیے مخصوص کردی گئی ہیں۔

 

یہی نہیں، 9 اسمبلی سیٹوں پر مسلمانوں کی آبادی 50 فیصد سے اوپر ہے۔ وہیں 23 سیٹوں پر مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ 54 سیٹوں پر ان کی آبادی 16.5 سے 25 فیصد تک ہے۔ یعنی یہاں مسلمان کسی بھی پارٹی کی فتح میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لہذا اس طرح سے اگر بہار کی کل 243 سیٹوں کا اندازہ کریں تو 80 سیٹوں پر مسلم ووٹ براہ راست نتائج پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

 

اسد الدین اویسی کا ’’بہار داؤ‘‘

 

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی کے ’’بہار داؤ‘‘ کے تعلق سے ایک بار پھر سیاسی گلیاروں میں کافی ہلچل ہے۔ اس پارٹی نے بہار کے 50 سیٹوں پر قسمت آزمائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 32 حلقوں کی فہرست جاری کی جا چکی ہے۔ اس سے پہلے جتن مانجھی کے ساتھ گٹھ بندھن کی بات بھی سامنے آئی تھی اور کہا گیا تھا کہ دونوں مل کر بہار کے تمام سیٹوں پر الیکشن لڑیں گے لیکن اب مانجھی کے نتیش کمار کے ساتھ جانے کی خبریں سیاسی حلقوں میں گشت کر رہی ہیں۔ خبر ہے کہ بھیم آرمی چیف چندرشیکھر آزاد کی پارٹی سے بھی بات چل رہی ہے لیکن اب تک اس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا ہے۔

 

جیسے جیسے الیکشن قریب آرہا ہے، سیکولر حلقوں میں یہ چرچا ہو رہا ہے کہ اویسی کی پارٹی کے میدان میں اترنے سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ لیکن کیا یہ پوری طرح سے سچ ہے۔ کیا حقیقت میں مجلس بہار کے سیکولر پارٹیوں کا کھیل خراب کر دے گی؟ کیا یہ پارٹی بہار کی سیاست پر کوئی اثر ڈال پائے گی؟ کیا بہار میں اویسی فیکٹر کام کرے گا؟ انہی سب سوالوں کے ساتھ ہفت روزہ دعوت نے ماہرین سے بات کی ہے۔

 

پروفیسر محمد سجاد کہتے ہیں کہ اب جب کہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کے مسائل پر آگے نہیں آتیں اور وہ اکثریت کو مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف حساس اور متحرک نہیں کر پارہی ہیں تو ایسے میں کوئی مسلم سیاسی پارٹی ابھر کر سامنے تو آئے گی ہی۔ ارشد اجمل کے خیال میں بہار میں اسد الدین اویسی کوئی فیکٹر نہیں ہے۔ اصل فیکٹر اختر الایمان ہے کیوں کہ وہ کام کرتے ہیں۔ لیکن اس فیکٹر سے صرف کچھ سیٹوں پر ہی کامیابی مل سکتی ہے اور وہ صرف سیمانچل کے کچھ علاقوں میں بلکہ، یوں سمجھیے کہ کشن گنج میں، اس سے باہر ان کے لیے جیت درج کر پانا مشکل ہے۔ محمد عرفان بھی مانتے ہیں کہ اس بار کے الیکشن میں کشن گنج کی دو چار سیٹوں پر کامیابی ضرور مل سکتی ہے لیکن اگر بات پورے بہار کی کی جائے تو اس الیکشن پر بھی مجلس کا کوئی خاص اثر پڑتا نظر نہیں آرہا ہے کیوں کہ ان کے پاس امیدوار کی شکل میں کوئی ذی اثر شخص نہیں ہے۔ حالانکہ اس بار پارٹی کے بارے مسلم نوجوانوں میں کافی جوش ہے لیکن الیکشن جوش سے نہیں ہوش میں رہ کر جیتا جاتا ہے۔ لیکن محمد نوشاد انصاری کہتے ہیں کہ مجلس اس بار بہار میں کئی سیٹوں پر کامیاب ہوگی۔

 

ماہرین کا ماننا ہے کہ ان دونوں صورتوں میں بہار کے مسلم ووٹوں کا فیصد کافی حد تک متاثر ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ بہار کے مسلم ووٹرس کا ایک طبقہ ایسا ہے جو تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو آزما چکا ہے اور اس کے نتائج کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ اویسی کی پارٹی اس ذہنیت کا فائدہ اٹھانے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔ بہار کے تقریباً ہر ضلع میں اس پارٹی نے اپنی تنظیم کھڑی کرلی ہے اور خاص طور پر بہار کا نوجوان اویسی کی پارٹی کے ساتھ کھڑا نظر آرہا ہے۔ آگے کیا ہوگا یہ ل آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

 

بہار میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی تاریخ

 

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کو پہلی بار 16 اگست 2015 کو کشن گنج کے روئی دھانسا میدان میں منعقد ’کرانتی کاری جن ادھیویشن‘ میں بلایا گیا تھا۔ یہ پروگرام بہار کی ’سماجی انصاف فرنٹ‘ نامی تنظیم کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا تھا۔ اس کے اصل روح رواں اختر الایمان تھے۔ اختر الایمان راشٹریہ جنتا دل کے ٹکٹ پر پہلی بار 2005 میں اسمبلی پہنچے۔ اگلے الیکشن میں بھی جیت درج کی۔ 2014 میں آر جے ڈی چھوڑ کر وہ جنتا دل یو میں شامل ہوئے اور پارٹی نے انہیں کشن گنج سے لوک سبھا کا امیدوار بنایا لیکن پرچہ نامزدگی کے بعد بھی اختر الایمان نے یہ کہتے ہوئے خود کو مقابلے سے الگ کرلیا کہ ہم نے یہ قربانی گجرات کے دنگائیوں کو روکنے اور سیمانچل میں امن وسلامتی برقرار رکھنے کے لیے دی ہے۔16 اگست کا یہ پروگرام اویسی کو خوب پسند آیا۔ بھاری بارش کے باوجود عوامی سیلاب کا جوش دیکھ کر ہی اویسی نے بہار میں قدم رکھنے کا ذہن بنا لیا۔ حالانکہ اویسی صاحب راقم الحروف سے ایک خاص بات چیت میں کہ چکے تھے کہ’’ میں بہار ضرور جا رہا ہوں لیکن پارٹی اس سال بہار کے الیکشن میں حصہ لے گی یا نہیں ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ویسے میرا خود کا خیال ہے کہ بہار میں اس بار الیکشن لڑنا جلد بازی ہوگی۔‘‘

 

اس کے باوجود مجلس نے بہار کے سیمانچل علاقے کی 6 سیٹوں پر قسمت کی آزمائی کی۔ لیکن ان کی یہ کوشش بری طرح فلاپ رہی۔ انتخابی اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ مجلس کو ان 6 نشستوں کے ووٹوں کو ملا کر صرف 80248 ووٹ ملے تھے جو ڈالے گئے جملہ ووٹوں کا محض 0.2 فیصد تھا، حالانکہ کوچادھامن سیٹ سے اختر الایمان 37086 ووٹ لا کر دوسرے نمبر پر ضرور رہے تھے۔ جے ڈی یو کے مجاہد عالم اس نشست سے 18843 ووٹوں کے فرق سے الیکشن جیتے تھے۔

 

اویسی اور ان کی پارٹی سے جڑے لوگوں نے ہار نہیں مانی۔ خاص طور پر اسد الدین اویسی کا کشن گنج آنا جانا لگا رہا۔ ان کو کشن گنج کی عوام 2015 سے پہلے جانتی بھی نہیں تھی لیکن آج وہ ان کی پارٹی کے ساتھ کھڑی نظرآ رہی ہے۔ اس پارٹی نے 2019 میں کشن گنج لوک سبھا سیٹ پر اختر الایمان کو کھڑا کیا تھا جنہوں نے 295029 ووٹ حاصل کیے تھے لیکن محض کچھ ووٹوں کے فرق سے تیسرے نمبر پر رہے لیکن پارٹی نے ہار نہیں مانی اور زمین پر جدوجہد کرتی رہی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہار ضمنی الیکشن میں کشن گنج سیٹ پر اویسی کی پارٹی کو جیت ملی۔ یہاں پارٹی کے امیدوار قمر الہدیٰ نے بی جے پی کے امیدوار سیوٹی سنگھ کو 10211 ووٹوں سے ہرادیا۔ اور اب پارٹی کے حوصلے کافی بلند ہیں اور اتنے بلند ہیں کہ انہوں نے پورے بہار سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔

 

اویسی کی پارٹی کے علاوہ بہار الیکشن میں مسلم پارٹیاں

 

مجلس کے علاوہ دیگر مسلم پارٹیاں اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا بھی بہار الیکشن میں میدان میں اتر چکی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پارٹی پپو یادو کی ’جن ادھیکار پارٹی‘ کے ساتھ مل کر ان کے گٹھ بندھن میں لڑنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ وہیں مسلم لیگ نے بھی اس بار کے بہار الیکشن میں تال ٹھونک دی ہے۔ ان کا بھی دھیان بہار کے سیمانچل علاقے میں ہے۔ بلکہ اصل میں دیکھا جائے تو یہ پارٹی مجلس کی مخالفت کے لیے ہی اتری ہے۔ ایک خبر کے مطابق یہ پارٹی 13 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارنے کا اعلان کر چکی ہے۔

 

اس کے علاوہ اشفاق رحمٰن کی جنتا دل راشٹروادی، محبوب انصاری کی مومن فرنٹ اور ایس ایم آصف کی پارٹی آل انڈیا مائنارٹیز فرنٹ نام کی پارٹی بھی الیکشن لڑیں گی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام پارٹیوں کا کوئی گراؤنڈ ورک نہیں ہے اور نہ ہی عوام میں کوئی مقبولیت۔

 

مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی نے بنائی تھی بہار میں پہلی حکومت

 

بہار کے کسانوں کی زمین درک رہی ہے۔ ان کے بچے دانے دانے کو محتاج ہیں … ایسے میں اس وقت جب کہ بہار میں الیکشن سر پر ہے، بہت ضروری ہے بہار کے پہلے وزیراعظم (پریمیئر) محمد یونس کی سیاست سے آج کے سیاستدانوں کو روبرو کرایا جائے۔

 

دراصل 1935 میں برطانوی پارلیمنٹ نے’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ‘ منظور کیا تھا۔ ایکٹ میں وزیر اعظم کا عہدہ صوبائی حکومت کے وزیر کے لیے تھا لیکن عملی طور پر وہ عہدہ وہی تھا جو آج وزیر اعلیٰ کا ہے اور محمد یونس بہار کے پہلے وزیر اعظم بنے تھے۔محمد یونس ہی وہ شخص تھے جہنوں نے بہار اسمبلی اور پٹنہ ہائی کورٹ جیسی عمارتوں کی بنیاد رکھی۔ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اورنگ آباد میں فساد ہوا تھا تو وہ وہاں اکیلے ہی پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے وہاں امن جلوس نکالا تھا۔ انہوں نے چار ماہ کی مختصر مدت میں عوام کے تمام مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی تھی۔ محمد یونس کے پڑ پوتے کاشف یونس، جو ’بیرسٹر محمد یونس میموریل کمیٹی‘ کے چیئرمین ہیں، انہوں نے بتایا کہ یونس صاحب نے بہار کی ترقی کے لیے خوب کام کیا۔ سیاست اور وکالت کے علاوہ بزنس اور بہار کی ترقی کے لیے انہوں نے کافی تگ ودو کی تھی۔ حکومت بنانے سے پہلے ہی انہوں نے بہار میں بینک کھلوایا، انشورنس کمپنی کو متعارف کروایا۔ پٹنہ میں ان کا بنایا ہوا گرینڈ ہوٹل اس وقت بہار کا پہلا جدید ہوٹل تھا۔

 

کاشف کہتے ہیں کہ یونس صاحب نے کسانوں اور مسلمانوں پر خصوصی توجہ دی تھی جنہیں آج تمام جماعتوں نے نظر انداز کر دیا ہے۔ اگر وہ آج ہوتے تو بہار میں کسانوں اور مسلمانوں کی ایسی حالت نہ ہوتی۔ واضح رہے کہ محمد یونس مجاہد آزادی اور قومی یکجہتی کے مسلم لیڈر تھے۔ حصول آزادی کے معاملے میں وہ شروع سے ہی کانگریس کے ساتھ جڑے ہوئے تھے لیکن جب کانگریس سب کو ساتھ لے کر چلنے میں ناکام ہوئی تو 1937 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بیرسٹر محمد یونس نے مولانا محمد سجاد کی مدد سے ’مسلم انڈپینڈنٹ پارٹی‘ قائم کی۔ 1937 میں ریاستی انتخابات میں 152 کے ایوان میں 40 نشستیں مسلمانوں کے لیے مخصوص تھیں، جن میں 20 سیٹوں پر ’مسلم انڈپینڈنٹ پارٹی‘ اور پانچ سیٹوں پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ شروع میں کانگریس پارٹی نے کابینہ کی تشکیل سے انکار کر دیا تو گورنر نے دوسری سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کے طور پر بیرسٹر محمد یونس کو وزیر اعظم (پریمیئر) کا حلف دلایا۔ لیکن چار ماہ بعد جب کانگریس کابینہ کی تشکیل پر اتفاق ہو گئی تو محمد یونس نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ تب سے لے کر اپنی موت کے وقت تک محمد یونس اصول پر قائم رہے اور قومی یکجہتی اور ملک کی آزادی کے سوال پر ہمیشہ کانگریس کا ساتھ دیتے رہے۔

 

محمد یونس کی پوری زندگی کسانوں، دلتوں، مسلمانوں اور بہار کی ترقی کے گرد گھومتی رہی جو ان کے انتخابی سیاست کا اہم ایجنڈا تھا، مگر یہ ایجنڈا ان کی زندگی میں تبدیلی کے لیے تھا نہ کہ انہیں ووٹ کی فصل کی طرح استعمال کرکے کاٹ کر پھینک دینے کا تھا؟ جیسا ان دنوں تمام سیاسی جماعتیں بہار میں کر رہی ہیں۔ عبد الغفور آزادی کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ بنے جو ابھی تک کے واحد مسلمان وزیر اعلیٰ تھے۔ عبد الغفور جولائی 1973 سے اپریل 1975 تک ریاست کے وزیر اعلیٰ رہے۔ 1975 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے انہیں وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ ان کا دور سیاسی لحاظ سے بہت سے معاملات میں اہم تھا کیوں کہ ان کے دور اقتدار میں ہی انقلاب شروع ہوا تھا۔