حیدرآباد – حالیہ المیہ ایک موقعہ تحریر : خورشید انور ندوی

115

کہتے ہیں بعض ایسے حکمران بھی دنیا میں گزرے ہیں جن کے زمانے میں شیر اور بکری یا بھیڑ اور بھیڑیا ایک ہی جوہڑ سے ساتھ ساتھ پانی پی لیتے تھے.. یہ انصاف اور امن کے عام ہونے کی ایک تعبیر ہے.. ایسا ہوا تو نہیں ہوگا کیونکہ قدرت اچھے کاموں کا انعام فطرت بدل کر نہیں دیا کرتی.. یہ تو بہت خیالی تصویر ہے اور بہت دلکش ہے.. ہاں یہ ضرور ہرزمانے میں دائرہ امید میں رہا ہے کہ آفات سماوی کے نزول، المیوں کے وقت، زندگی کو متاثر کردینے والے واقعات کے وقت اہل اقتدار اور عوامی نمایندے اپنے علاقے اور حلقے میں لوگوں سے ملیں جلیں، ان کی تکلیفوں کا اندازہ کریں اور انتظامی سطح جو کچھ بن پڑے وہ کریں.. یہ نہ صرف حکمرانوں اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے بلکہ ضرورت بھی ہے.. وہ اپنی موجودہ پوزیش سے پہلے انھیں متاثرین کے درمیان تھے اور ایک میعاد مقرر کے بعد پھر انھیں کے درمیان خود کو خواہی نخواہی لے جانا ہے.. لیکن آج کے حکمران اور عوامی نمائندے بڑے لاپرواہ یا بداعتماد واقع ہوئے ہیں.. عموماً پانی سر سے اونچا نہ ہو تو یہ ٹس سے مس نہیں ہوتے.. بسا اوقات احوال پرسی، اور صورت حال سے براہ راست واقفیت کے لئے نمایندگی کرنی پڑتی ہے، عوامی احتجاج کا سہارا لینا پڑتا ہے، سوشل میڈیا پر اہل علاقہ کی طرف سے اپیلیں جاری کرنی پڑتی ہیں، کبھی کبھی دھمکی آمیز پیغامات ارسال کرنے پڑتے ہیں تب یہ پروگرام ترتیب دیتے ہیں.. اور ان کے جائزے کے دورے ایک تام جھام کے مظاہرے سے کم نہیں ہوتے.. پچاسوں بائکس سینکڑوں سوار اور حاشیہ، دھکم پیل کرتے نجی اور سرکاری سیکورٹی عملہ کے ساتھ علاقے میں ایسے داخل ہوتے ہیں جیسے سکندر اعظم کی فوج مفتوحہ علاقوں میں داخل ہوتی رہی ہوگی.. ہندو لیڈروں میں کم ازکم ہاتھ جوڑ لینے کی ایک روایت ہے جو وہ ہرحال میں برتتے ہیں اور ان کی لاپرواہی اس تواضع میں چھپ جاتی ہے.. مسلمانوں میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے تو انداز فاتحانہ ہی ہوتا ہے.. کہیں ٹھہر کر پرشش احوال کریں.. نوٹس لیں، متاثرین سے ملاقات اور دلاسہ دیں، اپنے محلہ جاتی نمایندوں کو ہدایات دیں.. یہ سب عنقا ہے.. سب سے زیادہ سفاکی یہ دیکھی گئی کہ اپنے علاقے کو یرغمال تصور کرلیا گیا ہےاور دوسرے رفاہی اور امدادی کام کے اداروں اور افراد کو کام کرنے سے روکا جارہا ہے جو بڑی تنگ دلی اورمصیبت زدگان کی توہین ہے.. ایک عجیب بات ہے کہ مخلوط آبادی والے اور غیرمسلم اکثریت والے علاقوں میں ایسی کوئی حساسیت نہیں ہے.. وہاں دسیوں ادارے سرکاری غیرسرکاری کام کررہے ہیں.. بلکہ کچھ محلہ جات میں وزراء کو اہل محلہ کے تیز وتند رویے بھی جھیلنے پڑے.. دو وزراء کے ساتھ بحث وتکرار کی پرنٹ میڈیا پر رپورٹ بھی موجود ہے.. لیکن مسلم اکثریتی محلوں میں یہ سوچا نہیں جاسکتا.. سیاست، سیاست ہے اور اس کی کچھ اپنی حساسیت ہوتی ہے لیکن المیہ کے وقت رواداری کو ترجیح ملنی چاہیے.. یہ ایک غیرمعمولی صورت حال ہے اور زیادہ سے زیادہ تعاون کرنے والوں کی توجہ اور شرکت کی متقاضی ہے.

چند سال پہلے ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان ایک سیلاب سے متاثرہ علاقہ کا دورہ کرنے گئے تو سفید پاجامے سے میچ کرتا ہوا سفید موزہ اور جوتا پہن کر پہونچے.. سیلابی پانی اور کیچڑ کے علاوہ سیلاب زدہ علاقے میں کیا ہوگا؟ شاید مسخرے وزیر اعلیٰ کو اس کا اندازہ نہیں تھا.. چنانچہ بوٹ سے اترتے وقت ان کو سکیورٹی کے عملہ نے دونوں طرف سے بغل میں ہاتھ دے کر اٹھایا ہوا ہے اور وہ اسکول کے بھگوڑے بچے کی طرح لگ رہا ہے جس کو ٹانگ کر لایا جارہا ہے.. جمہوری ملک میں جمہوریت کا یہ ایک مذاق ہے.. مصیبت زدگان کے درمیان سادگی متانت اور سنجیدگی اور آزردگی کا اظہار ہونا چاہیے نہ کہ رعونت اور لاپرواہی کا..

حیدرآباد میں حکمران جماعت کے وزراء کا مسلم محلوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ نہ لینا ایک سوال ہے.. بطور حکمران جماعت یہ رویہ ناقابل نظرانداز ہے.. صرف وزیر داخلہ محمود علی صاحب نے اعظم پورہ کا دورہ کیا ہے جہاں خود ان کا گھر ہے.. اس کو متاثرہ علاقوں کا دورہ نہیں کہا جاسکتا.. شاید وزارتی ٹیم اپنے حلیف سیاسی قائدین کی وجہ سے نہ گئے ہوں.. تاہم حکومت کی ہر امداد ان مصیبت زدگان تک سرعت کے ساتھ پہونچنا چاہئے.. سیاست تو روز ہی ہوتی رہے گی، لیکن امداد رسانی کو سستی سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے.. جو بظاہر ہورہی ہے.. جو لوگ میدان کی سیاست کرتے ہیں اس طرح کے موقعے ان کو بھی ایک موقع فراہم کرتے ہیں، علاقہ اور اہل علاقہ تک رسائی کا.. ان کے درمیان اپنی پیٹھ بنانے کا.. اگر ایسا ہے تو کسی کی راہ مسدود نہ کی جائے بلکہ اپنے کام کی وسعت، استحکام اور تسلسل پر اعتماد کرنا چاہئے.. ووٹ محض ریلیف ورک پر منحصر نہیں ہوتا اور بہت سارے عوامل ووٹنگ پر اثر انداز ہوتے ہیں.. جو چند بلا جواز ٹکراؤ ہوئے اس سے نفور ہی بڑھے گا.. علاقے میں اجارہ داری کا تصور اہل علاقہ کی اہانت ہے.. یہ زمیندارانہ رویہ ہے جس کی جمہوریت میں گنجائش ہرگز نہیں..

امید اور یقین رکھنا چاہیے کہ یہ برا وقت بھی جلد گزر جائے گا لیکن سنجیدگی متقاضی ہے کہ اس ٹریجڈی کے اسباب کا پتہ لگایا جائے اور بارانی پانی کی نکاسی کے راستوں پر قبضے اور ناجائز پلاٹنگ اور رہائشی تعمیرات کا سروے کرکے ایک مستقل اور پائیدار حل تلاش کیا جائے.. حیدرآباد ہندوستان کے تیز رفتار ترقی کرنے والوں شہروں میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے.. آئی ٹی ہب ہے، فارماسیٹیکل کا ایک بڑا مرکز ہے، نئے شہر میں فلک بوس عمارتوں کی کہکشاں ہو اور پرانا شہر نکاسی آب کے مسائل سے دوچار رہے یہ ایک بدنمائی ہے.. حیدرآباد شہر کی جغرافیائی پوزیشن انتہائی دلکش اور خوبصورت ہے.. اچھی منصوبہ بندی اور نئی پلاننگ اس شہر کو ہندوستان کا سب سے خوبصورت شہر بنا سکتی ہے..اس کے علاوہ یہ شہر شہری سہولتوں سے آراستہ رہا ہے، ڈرین سسٹم بے مثال تھا، آبرسانی کا انفراسٹرکچر انتہائی پختہ تھا اس کی تجدید ہونی چاہیے اور جلد از جلد ہونی چاہیے.. مشرق مغرب میں چار مینار تا گولکنڈہ قلعہ، شمال جنوب میں فلک نما پیلس تا حسین ساگر براہ معظم جاہی مارکٹ اگر صرف راستے کی توسیع وتزئین کردی جائے تو شہر مرکز نگاہ بن جائے.. موسی ندی کے مجوزہ پروجکٹ اگر پایہ تکمیل تک پہونچ جائیں تو یہ شہر بے مثال کا جھومر ہے.. بہرحال اہل سیاست کچھ کریں نہ کریں ان کی مرضی مگر یہ شہر کسی طور ڈوب کر مرنے کا مستحق ہرگز نہیں…