تیرہ چودہ سے سترہ اٹھارہ سال کی عمر

52

یہ زندگی کا موسم بہار ہے-اس مرحلے میں معصوم کلی چٹک کر شگفتہ پھول بنتی ہےقد تیزی سے بڑھتا اور سرعت کے ساتھ ذہنی و جسمانی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں دیکھتے دیکھتے ایک دبلا پتلا لڑکا توانا وتندرست مرد اور ایک چھریر ے بدن کی لڑکی معزز خاتون نظر آنے لگتی۔

شکل وصورت رفتار گفتار ہر چیز میں بڑا پن اور نمایاں فرق محسوس ہونے لگتاہےغرض ہر طرف بہار اور شگفتگی کا دور دورہ ہوتا ہےاس دور کی نمایاں خصوصیات حسب ذیل ہیں:١ عمر کا نازک ترین دور جنسی جزبات میں شدت اور جنسی جبلت بر سرکار ہوتی ہےنا تجربہ کار ی اور نا عاقبت اندیشی کے باعث جسمانی اور اخلاقی حیثیت سے بہت خطرناک نتائج سے دو چار ہو نے کا اندیشہ ہوتاہےاس لیے غیر معمولی توجہ دینے اور ان کے عادات و اطوار پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے البتہ اپنے برتاؤ اور رویہ سے ایسا محسوس نہ ہونے دیا جائے کہ شک وشبہ اور تجسّس کی نظر سے دیکھا جارہا ہے’٢ فرصت کے اوقات یا تنہائی میں عموماً گندے جنسی خیالات و جزبات ابھرتے ہیں اور شیطان مختلف قسم کے وساوس میں مبتلا کرتا ہے_ اس لیے فرصت کے اوقات کے لیے دلچسپ مفید مشاغل و مصروفیات کا زیادہ سے زیادہ بندوبست ہونا چاہیے تاکہ وہ ہمہ وقت مصروف رہے ۔

ذہنی و جسمانی ہلکے بھاری دونوں طرح کے مشاغل میں منہمک رہنے کے برابر مواقع ملتے رہنے چاہیں٣ خود رای خود مختاری اپنے امور خود انجام دینے اپنے معاملات پر خود غور و فکر اور فیصلہ کرنے کا شوق اور والدین نیز بڑوں کی مداخلت سے آزاد ہونے کا خیال ابھرتا ہےجایز حدود میں انہیں آزادی ملنی جاہیے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں _ ہمیشہ اپنا محتاج نہ رکھا جائے جیسا کہ لاڈ پیار میں اکثر والدین کر تے ہیں_ ان سے متعلق امور میں ان سے مشورہ کر لینا چاہیے اور روک ٹوک سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے ورنہ باغی بننے کا اندیشہ رہتا ہے_ نر می اور ملا طفت سے راستے پر لانے کی کوشش کی جائے٥ مختلف امور کی انجام دہی کے لیے انہیں سے منصوبے بنواکر عملی جامہ پہنانے پر اکسایا جائے تا کہ ممکن وناممکن میں فرق کرنا بھی سیکھیں رفتہ رفتہ حقیقت پسندی پیدا ہو نا کامی سے بچانے اور مسلسل جدو جہد کر کے کامیابی تک پہنچنے میں امدا و رہنمائی کی جاے تاکہ وہ دنیا کی تلخ حقیقتوں سے آنکھیں چار کرنے لگیں ٦ عمر کا یہ سنہری دور نی امنگیں نیے عزائم مستقبل میں اپنے مقام کا تعین اور ترقی کرنے کا حوصلہ ابھرتا ہے۔

ان خصوصیات سے فایدہ اٹھا نا چاہیے- ان کے ذریعے اعلی صفات پیدا کرنے اور ترقی کے اعلی مدارج پر پہنچا نے میں مدد و رہنمائی کرنی چاہیے ورنہ غلط رخ پر جانے سے بے حد نقصان پہنچ سکتا ہے_یہ ہے مختلف مراحل اور ہر مرحلے کی خصوصیات تعلیم وتربیت میں ان خصوصیات کا پورا لحاظ۔ رکھنا چاہیے_ بچہ جس مرحلے سے گزر رہا ہو اس مرحلے کی خصوصیات کا بغور مشاہدہ کیا جاے اور پوری رعایت رکھی جائے _ اگر ان خصوصیات کو نظر انداز کیا گیا یا فطری تقاضوں کو کچلا گیا توبچے شخصیت کی ہم آہنگ نشو ونما نہ ہو سکے گی اور اس کا نتیجہ بہ ہر حال بھگتنا پڑے گا _محبت و شفقت ؛ ہمدردی و دل سوزی کو شعار بنا کر ہی بچوں کی تربیت ہو سکتی ہے _ ماحول کو پاکیزہ رکھنا اور اپنانا اچھا اسوہ سامنے لانا ہی سب سے مفید حربہ ہے۔