مدارس ملحقہ پر پابندی کی حمایت ملت کے اجتماعی مفاد کے لئے نقصان دہ!

87

تحریر:محمداطہرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیت علماء ارریہ
آسام : کی بی جے پی حکومت کے وزیر تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی ریاست میں سرکاری امداد سے چلنے والے مدارسِ ملحقہ کو بند کردے گی،بورڈ کو تحلیل کردےگی اور ان کے اساتذہ کو اسکول میں منتقل کردےگی۔اخبارات کے مطابق ماہ نومبر میں نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

پہلے تو آسام کی حکومت کے اس مسلم مخالف اعلان کی ہم پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،کیونکہ حکومت ہی نے مدرسہ بورڈ کو قائم کیا اور مدارس دینیہ کا الحاق کیا،جن کی نگرانی میں نصاب تعلیم بنائی گئی،مدارس کے امتحان میں کامیاب ہونے والے فارغین کو ملک کی دیگر یونیورسٹیوں میں داخلے کی منظوی دی گئی اور جبکہ بورڈ کی اسناد کو ملک کے اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بحالی کی اجازت دے کر تعلیمی خدمات کے مواقع فراہم کئے گئے،آج اچانک انہیں بند کرنے کا اعلان کردیا گیا جو افسوسناک ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ الیکشن ایشو ہے،جس کے ذریعے ووٹوں کا پولرازیشن کیا جانا ہے۔ان شاءاللہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی علامت ان مدرسوں کے تعلق سے حکومت آسام کو اپنی اس پالیسی میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری اہم بات آج ہمیں جس پر گفتگو کرنی ہے وہ حکومتی اقدام سے زیادہ خطرناک ہے۔وہ یہ ہے کہ حکومت آسام نے جس روز سے یہ اعلان کیا ہے،اسی وقت سے ہمارے ہی حلقہ کے کچھ لوگ حکومت کے اقدام ستائش کررہے ہیں جو کسی بھی اعتبار سے مناسب نہیں ہے۔چنانچہ مدرسہ بورڈ،اس کے نظام و نصاب تعلیم اور اس سے منسلک اساتذہ کرام پر مستقبل کے اپنے اندیشوں کو پیش کرکے اپنے موقف کی تائید کےلئے حکومت آسام کے اس فرمان کو بطورِ دلیل پیش کررہے ہیں۔اس سلسلے میں چند باتیں عرض کرنی ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ مدارس ملحقہ یا مدرسہ بورڈ کے قیام کے حوالے سے ہمارے اکابرین کا جو موقف رہا ہے وہ واقعی دور اندیشی پر مبنی تھا،اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔مگر میری گفتگو ملک کے آج کے نازک ترین ماحول میں موجوہ فرقہ پرست حکومت کے حالیہ مسلم مخالف پے درپے واقعات و فیصلے کے تناظر میں ہے اور بطورخاص ریاست بہار کے ان مدارس ملحقہ کے تعلق سے ہے،جن کے قیام کو سوسال پورے ہورہے ہیں۔اس سلسلے میں چند باتیں عرض ہیں:
(1) پہلی بات یہ ہے کہ معاملہ یہ نہیں ہے کہ آپ مدارس ملحقہ کے نظریہ سے اتفاق نہیں رکھتے۔اس لئے ان پر ملک کی کسی ریاستی سرکار کی طرف سے پابندی کی تلوار لٹک رہی ہے تو آپ خوشی سے اپنا دامن جھاڑ کر کنارہ ہوجائیں کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے،کیونکہ یہ ہمارے ادارے نہیں ہیں۔اس لئے کہ آزادی کے بعد سے آج تک 75 / سالہ دور حکومت میں برسر اقتدار مسلم مخالف حکومت جس خطرناک منصوبے،پلان اور اسکیم کے تحت تیز رفتاری کے ساتھ اقدامات کررہی ہے ان سے صاف ظاہر ہے کہ اسے ملک کے مسلمانوں کے آپسی اختلافات، نظریات،مسالک اور جماعتوں سے کوئی سروکار نہیں ہے،بلکہ اس مغرور،متحد اور طاقت ور حکومت کی منشاء بس یہ ہے کہ ملک کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے اسلامی مراکز،اسلامی مدارس،مسلم شعائر،مسلم علماء اور دینی وملی تحریکات سے اس ملک کو پاک کردیا جائے یا کم از کم انہیں دوسرے درجے کا شہری بناکر اپنے رحم و کرم پر جینے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔چنانچہ ہم اپنے گھروں میں تیرا میرا کرتے ہیں اور وہ اپنےحلقے میں ہمارے خلاف طرح طرح کے خطرناک منصوبے تیار کرتے ہیں۔اس آسان سی بات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ موجودہ حکومت کی منشاء مدارس ملحقہ یا مدارس نظامیہ کو ٹارگیٹ کرنا نہیں ہے،بلکہ دراصل مدارس اسلامیہ دینیہ ان کا ٹارگیٹ ہیں۔جیساکہ برابر اس سلسلے میں اشتعال انگیز بیانات آتے رہتے ہیں۔چنانچہ ابھی کل ہی ایک بار پھر اترپردیش کے بدنام زمانہ وزیر وسیم رضوی اور آج ہی مدھییہ پردیش کی وزیر اوشا ٹھاکر کی طرف سے ملک کے تمام مدارس اسلامیہ کو بند کرنےکی وکالت کی گئی ہےاور لگاتار آسام حکومت کے فیصلے کی حمایت کی جارہی ہے۔الحاصل مذکورہ بالا سطور کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر آپ مدارس ملحقہ کو مدارس دینیہ کے حصوں سے کاٹ دیتے ہیں اور اپنے پرانے موقف کے مطابق آج کسی ایک ریاستی حکومت کے اعلان کی کسی نہ کسی شکل میں حمایت کرتے ہیں تو حکومت پر تو آپ کی حمایت سے کوئی فرق نہیں پڑے گا،مگر یاد رکھیں کہ مستقبل میں حکومت کی اس حمایت کو دیگر مدارس نظامیہ پر پابندی کے لئے بطورِ ہتھکنڈہ استعمال کیا جائے گا۔کل کو وہ یہ کہیں گے کہ چونکہ ہم نے جن مدارس ملحقہ پر پابندی لگائی تھی ان میں بھی عصری تعلیم کے ساتھ دینی و مذہبی تعلیم دی جاتی تھی اور اب یہ مدارس اسلامیہ جو حکومت کی امداد سے آزاد ہیں؛ان میں بھی تو کسی سطح پرعصری مضامین کی شمولیت کے ساتھ اسلامی ومذہبی تعلیم دی جارہی ہے،اس لئے انہیں بھی بند کیا جانا چاہئے۔اور اس دن یہ دلیل دی جائے گی کہ سیکولر ملک میں متوازی نظام و نصاب تعلیم کے ذریعے اسلامی تہذیب و ثقافت کے فروغ اور اس کی بالادستی کی کوششیں ہو رہی ہیں،جسےفرقہ پرست طاقتیں سیکولر ملک میں چلنے نہیں دیں گی۔جیسا کہ وہ اس سے پہلے دارالاقضاء و دارالافتاء کے حوالے سے کہہ چکے ہیں،تب آپ کا کیا جواب ہوگا؟
(2) دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو موجودہ مدارس ملحقہ کے بورڈ سے اختلاف ہے یا اس کے ماتحت چلنے والے مدارس کے اساتذہ کرام کی کارکردگی پر اعتراض ہے؟جس میں آپ اپنے آپ کوحق بجانب سمجھتے ہیں،تو اب سوال یہ ہے کہ ریاست بہار میں 1922ءسے مدرسہ بورڈ قائم ہے جس کی ابتداء مدرسہ ایگزامنیشن بورڈ سے ہوئی تھی تو آخر اس سوسالہ عرصے میں مدرسہ بورڈ میں ملک کے بڑے بڑے اکابر علماء شامل تھے،آخر ان اکابرین نے ان سرکاری مدارس کی زبوں حالی و پس ماندگی کو دور کرنے کے لئے کوئی تحریک کیوں نہیں چلائی؟اور ان کی سرپرستی و نگرانی کیوں نہیں کی؟اور ان کی اصلاح کی کوششیں کیوں نہیں کی گئیں؟
(3) تیسری بات یہ ہے کہ آج جولوگ مدارس ملحقہ کے اساتذہ پر درس وتدریس سے غفلت کے الزامات عائد کررہے ہیں،وہ دہلی کے رام لیلا میدان سے لے کر،گاندھی میدان پٹنہ اور ارریہ کے الشمس ملیہ کالج تک لاکھوں لاکھ کا مجمع جمع کرکے ملت اسلامیہ کے مسائل کو پیش کرتے رہے ہیں؛آخر کیا وجہ ہوئی کہ آج تک یہ جماعتیں یا افراد یا فضلاء کرام ریاست بہار کے مدارس ملحقہ سے وابستہ ان اساتذۂ کرام کو جمع کرکے انہیں ان کے فرائض منصبی کا احساس نہیں دلایاگیا؟
(4) یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مدارسِ ملحقہ میں تقرری سے دل چپسی سبھوں کو رہتی ہے،اور ابھی چند ماہ قبل مدارس ملحقہ میں برائے تقرری جن بڑے بڑے آزاد مدارس نظامیہ کے نام شامل ہیں؛جس فہرست میں دارالعلوم دیوبند سرفہرست ہے،مگر اب تک اس میں دارالعلوم وقف دیوبند کانام شامل نہیں تھا تو انتظامیہ نے انتہائی مشقتوں کے بعد اپنا نام فہرست میں شامل کروایا،جس پر ہم علماء ضلع ارریہ نے دارالعلوم وقف کی انتظامیہ کے ساتھ چیئرمین محترم کی تحسین بھی کی تھی۔
(5) پانچویں بات یہ ہے کہ ریاست بہار کے مدارس ملحقہ میں تقریباً پنچانوے(% 95)فیصد اساتذہ،صدرالمدرسین اور پرنسپل کی جماعت ایسے علماء کرام پر مشتمل ہے جن کی تعلیم و تربیت ام المدارس دارالعلوم دیوبند،مظاہر علوم سہارن پور،جامعہ اشرفیہ مبارک پور اور ندوۃ العلماء لکھنؤ وغیرہ جیسے ملک کے بڑے بڑے مرکزی مدارس میں ہوئی ہے؛تو بورڈ کے بجائے ان فضلاء سے سوال ہونے چاہئیں کہ انہیں اپنے اولو العزم اساتذہ کرام کےذریعے معیاری تعلیم و تربیت،اوقات کی پابندی،اصول و ضوابط کی پاسداری،قوم کے بچوں کے تئیں امانت داری، معاملات کے تئیں دیانت داری اور معیاری تعلیمی نظام کے تئیں احساس جواب دہی کا برسہا برس میں جو درس ملا تھا؛آخر یہاں آکر تو انہیں اپنے اپنے مدارس میں بہتر سے بہتر اور پختہ سے پختہ نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہئے تھا اور ہرلمحہ انہیں یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے تھا کہ ہم کم تنخواہیں پانے والے چوبیس گھنٹوں کی مدرسی کے بالمقابل موٹی موٹی تنخواہیں پاکر صرف چھ گھنٹے کی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں،یہ ان پر اللہ رب العزت کا احسان عظیم ہے۔اس احساس کے ساتھ انہیں معیاری نظام تعلیم وتربیت بنانے،بڑھانے اور چلانے سے کس نے روکا تھا؟روکا ہوتا تو ہم خود دس سال سے سرکاری مدرسے میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔ضلع ارریہ کے سیکڑوں نظامیہ مدارس کےاساتذہ وذمہ داران یہاں کے نظام تعلیم وتربیت سے متاثر ہوتے ہیں اوراپنے یہاں اس کو نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔الحمد للہ ہمیں کبھی بھی کہیں بھی آج تک کوئی دشواری پیش نہیں آئی!اس چھ گھنٹے کی واجب ڈیوٹی کی ادائیگی کے بعد جو وقت بچتا ہے بحمد اللہ اسے سماج و معاشرے کی ملی و دینی خدمت میں لگانے کا موقع بھی مل جاتا ہے،مگر بیشتر فضلاء نے نہ تو اپنی تعلیمی لیاقت کو ملحوظ رکھا،نہ اپنے ادارے کی لاج رکھی اور نہ ہی ان کے سرپرستوں نے کبھی ان کی خبر گیری کی!
خلاصہ کلام یہ کہ اس بات کے مکمل اعتراف اور شدید ترین احساس کے ساتھ کہ مدرسہ بورڈ اور اس سے منسلک اساتذہ کرام کے تعلیمی و تربیتی نیز انتظامی سسٹم میں بہت سی خامیاں ہیں،جس کی اصلاح ازحد ضروری ہے؛لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان مدارس ملحقہ کے فارغین مدارسِ ملحقہ میں ملازمت بہت کم کرتے ہیں بلکہ ان سرکاری مدارس کی ڈگریوں سے بےشمار فارغین ملک کے کونے کونے میں سرکاری تعلیمی خدمات کی تکمیل کرتے ہیں۔وہ سرکاری اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوکر نہ صرف یہ کہ ملازمت کرتے ہیں بلکہ اُردو ٹیچرس کے نام پر اردوزبان کی بقاء و تحفظ کا سامان بھی فراہم کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اردو زبان کے ساتھ سائنس،ہندی اور انگریزی ودیگر سبجیکٹ کا کلاس بھی لیتے ہیں اور ان سرکاری اسکولوں میں بحال دیگر عملہ و ملازمین کے بالمقابل شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنےکی وجہ سے اپنی جداگانہ شناخت بنائے ہوئے ہیں،کیونکہ یہ فاضل ہونے کے ساتھ ساتھ ایم اے اور بی ایڈ بھی ہوتے ہیں۔
لہٰذا جس طرح ہمارے اکابر مدارس نظامیہ کے نظام تعلیم وتربیت کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں،اسی طرح مدارس ملحقہ بھی انہیں کا ایک حصہ ہیں،اس کی اصلاح اور بہتری کے لئے بھی غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔
اخیر میں ہم تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ حکومت کی سازش کے شکار نہ ہوں اور انتہائی ادب واحترام کے ساتھ اپنے اکابر اور احباب سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ مدارس ملحقہ میں اصلاح کے لئے کوشش کریں، میرا بھی انہیں بھرپور تعاون حاصل ہوگا۔