نئی دہلی: اتر پردیش کے کانپور میں پچھلے ہفتے آٹھ پولیس اہلکاروں کے قتل کے کلیدی ملزم وکاس دوبے کی مبینہ انکاؤنٹر میں موت پراپوزیشن پارٹیوں اوررہنماؤں نے سوال اٹھانے شروع کر دیےہیں۔کانگریس، سماجوادی پارٹی اوربہوجن سماج پارٹی نے انکاؤنٹرکو وکاس دوبے کے سیاسی سرپرستوں کو بچانے کی سازش قرار دیا اور جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیاہے۔غورطلب ہے کہ کانپور کے بکرو گاؤں میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے قتل معاملے کاکلیدی ملزم اورشاطر مجرم وکاس دوبےجمعہ کی صبح کانپور کے بھوتی علاقے میں پولیس کے ساتھ مبینہ انکاؤنٹر میں مارا گیا۔کانگریس نے جمعہ کو کہا کہ اس معاملے کی سپریم کورٹ کے کسی بھی سیٹنگ جج سے جوڈیشل انکوائری کرائی جانی چاہیے تاکہ پوری سچائی عوام کے سامنے آ سکے۔


کانگریس رہنما راہل گاندھی نے وکاس دوبے کے انکاؤنٹر میں مارے جانے کے پس منظرمیں تنقید کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا، ‘کئی جوابوں سے اچھی ہے خاموشی اس کی، نہ جانے کتنے سوالوں کی آبرو رکھ لی۔’کانگریس کی اتر پردیش معاملوں کی انچارج پرینکا گاندھی نے ایک ویڈیو جاری کر کےکہا، ‘بی جے پی نے اتر پردیش کو اپرادھ پردیش میں بدل ڈالا ہے۔ ان کی اپنی سرکار کے اعدادوشمار کے مطابق، اتر پردیش بچوں کے خلاف جرم میں سب سے اوپر ہے، خواتین کے خلاف جرم میں سب سے اوپر ہے، دلتوں کے خلاف جرم میں سب سے اوپر ہے، غیرقانونی ہتھیاروں کے معاملوں میں سب سے آگے ہے، قتل میں سب سے اوپر ہے۔’انہوں نے دعویٰ کیا،‘اتر پردیش میں نظم ونسق کی صورتحال بدترہو چکی ہے۔ ان حالات میں وکاس دوبے جیسے مجرم پھل پھول رہے ہیں۔ انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ پوری ریاست جانتی ہے کہ ان کوسیاسی سرپرستی ملتی
ہے۔’پرینکا نے سوال کیا کہ وکاس دوبے کی مبینہ انکاؤنٹر میں موت کے بعد کانپور گولی واردات میں مارے گئے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کو کیسے بھروسہ دلایا جا سکےگا کہ انہیں انصاف ملےگا؟انہوں نے کہا، ‘کانگریس کا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سیٹنگ جج سے کانپور معاملے کی عدالتی جانچ کرائی جائے اور پوری سچائی عوام کے سامنے لائی جائے۔’انہوں نے کہا کہ وکاس دوبے جیسے مجرموں کی سرپرستی کرنے والوں کی اصلیت سامنے آنی چاہیے کیونکہ جب تک ایسا نہیں ہوگا، تب تک متاثرین کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔اس معاملے پر کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجےوالا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ‘بی جے پی کی حکومت میں‘اتر پردیش’ اب ‘اپرادھ پردیش’ بن گیا ہے۔ آرگنائزڈ کرائم، غیرقانونی ہتھیار،قتل،ریپ، ڈکیتی، اغوا، خواتین کے خلاف جرم …ان سب کا چاروں طرف بول بالا ہے۔ نظم ونسق اتر پردیش میں مجرموں کی‘باندی’ اور جرائم کی ‘بندھک’ بن گئی ہے۔’اتر پردیش میں جرم کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ جس طرح سے 3 جولائی، 2020 کو پولیس کے ایک ڈی ایس پی سمیت آٹھ پولیس اہلکاروں کا قتل ہوا،اس نے آدتیہ ناتھ سرکار میں غنڈہ راج کے بول بالے کو اجاگر کر دیا۔انہوں نے سوال کیا،‘وکاس دوبے تو آرگنائزڈ کرائم کا ایک مہرہ محض تھا۔ اس آرگنائزڈ کرائم کے سرغنہ اصل میں ہیں کون؟ کیا وکاس دوبے سفیدپوشوں اور اقتدار میں بیٹھے لوگوں کا رازدار تھا؟ کیا اس کو اقتدارمیں بیٹھے لوگوں کی سرپرستی حاصل تھی؟’سرجےوالا نے پوچھا، ‘وکاس دوبے کا نام پردیش کے 25 مطلوبہ بدنام زمانہ مجرموں میں شامل کیوں نہیں کیا گیا تھا؟ کیا وکاس دوبے کی مبینہ انکاؤنٹر میں موت اپنے آپ میں کئی سوال نہیں کھڑے کر گئی ؟ اگر اس کو بھاگنا ہی تھا، تو پھر اجین میں اس نے مبینہ سرینڈر کیوں کیا؟’انہوں نے ‘انکاؤنٹر’ کی صورتحال پر بھی سوال کیا، ‘پہلے وکاس دوبے کو ایس ٹی ایف کی سفاری گاڑی میں دیکھا گیا، تو پھر اسے مہندرا ٹی یووی 300 میں کب اور کیسے بٹھایا گیا؟ وکاس دوبے کے پیر میں لوہے کی راڈ ہونے کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلتا تھا، تو وہ اچانک بھاگنے کیسے لگا؟’کانگریس رہنما نے سوال کیا،‘اگر مجرم وکاس دوبے بھاگ رہا تھا، تو پھر پولیس کی گولی پیٹھ میں لگنے کے بجائے سینے میں کیسے لگی؟’انہوں نے دعویٰ کیا،‘آدتیہ ناتھ جی، آج آئینی حدود کی آتش بازی ہوئی ہے اور نظم و نسق کا ہولیکا دہن ہوا ہے۔ ذمہ داری آپ پر ہے۔ اس لیے ہماری مانگ ہے کہ سپریم کورٹ کے جج سے اس پورے معاملے کی جانچ کرائی جائے۔’سرجےوالا نے کہا،‘آدتیہ ناتھ اور ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کے لیے بھی یہ کسوٹی کی گھڑی ہے کہ کیا وہ سفیدپوشوں اور اقتدارمیں بیٹھے لوگوں کی مجرموں کے ساتھ رشتےکو اجاگر کرنے کی ہمت دکھائیں گے؟ یہی راج دھرم کے تئیں آدتیہ ناتھ اور امت شاہ کی وابستگی کا امتحان بھی ہے۔’‘کار نہیں پلٹی ہے، رازکھلنے سے سرکار پلٹنے سے بچائی گئی’وہیں، وکاس دوبے کے مارے جانے کے بعد سماجوادی پارٹی سپریمو اکھلیش یادو نے ٹوئٹ کر کےکہا، ‘دراصل یہ کار نہیں پلٹی ہے، راز کھلنے سے سرکار پلٹنے سے بچائی گئی ہے۔’امر اجالا کے مطابق، اکھلیش یادو نے کہا کہ وکاس دوبے کے بی جے پی رہنماؤں کے ساتھ رشتوں کا انکشاف نہ ہو جائے اس لیے اسے مار دیا گیا۔اس دوران انہوں نے وکاس دوبے کے‌سماجوادی پارٹی سے رشتوں پر اٹھ رہے سوالوں پر بھی جواب دیے۔ انہوں نے کہا کہ جو پرچی پارٹی کی رکنیت کی دکھائی جا رہی ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ کانپور انکاؤنٹر کے بعد بنائی گئی ہو کیونکہ بی جے پی کے لوگ سازش کرتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ وکاس دوبے اور اس سے جڑے لوگوں کے موبائل کی سی ڈی آر(کال ڈٹیل رپورٹ)نکلوائی جائے جس سے کہ پتہ چل جائے کہ اس سے کن لوگوں کےرشتے تھے۔اکھلیش یادو نے کہا کہ مجھے تو دکھ ہے کہ وکاس دوبے کی ماں سے بھی یہ کہلوا دیا گیا کہ وہ سماجوادی پارٹی میں تھا اور سبھی جانتے ہیں کہ بی جے پی کے لوگ سازش کرنے میں ماہر ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2017 کے اسمبلی انتخاب میں اس سیٹ پر سماجوادی پارٹی کی امیدوار ایک دوسری خاتون تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ممکن ہے تو پانچ سال کی سی ڈی آر عوام کے سامنے رکھ دی جائے تو پتہ چل جائےگا کہ وکاس دوبےکی کون سرپرستی کررہا تھا؟اس بیچ بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے ٹوئٹ کر کےاس انکاؤنٹر کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرانے کی مانگ کی۔مایاوتی نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا، ‘کانپور پولیس مرڈر کیس کےکلیدی ملزم وکاس دوبے کو مدھیہ پردیش سے کانپور لاتے وقت آج پولیس کی گاڑی کے پلٹنے اور اس کے بھاگنے پر یوپی پولیس کے ذریعے اسے مار گرائے جانے وغیرہ کےتمام معاملوں کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔’انہوں نے دوسرے ٹوئٹ میں کہا، ‘یہ اعلیٰ سطحی جانچ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ کانپور قتل عام میں شہید ہوئے آٹھ پولیس اہلکاروں کے گھروالوں کو انصاف مل سکے۔ ساتھ ہی، پولیس، مجرم اورسیاسی اتحادیوں کی بھی شناخت کرکے انہیں بھی سخت سزا دلائی جا سکے۔ ایسے اقدام سے ہی اتر پردیش جرم سے آزاد ہو سکتا ہے۔’پولیس کے کام کرنے کے طریقے پر اٹھے سوالوکاس دوبے کی مبینہ انکاؤنٹر میں موت کے بعد اتر پردیش پولیس پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ریاستی پولیس کے کئی سبکدوش اور موجودہ پولیس افسروں نے ایسے انکاؤنٹر کے حقیقی ہونے یا پھر ان کے ہیومن رائٹس کا معاملہ ہونے کے پہلوؤں پر الگ الگ رائے ظاہر کی ہے۔ریاست کے سابق ڈی جی پی کے ایل گپتا نے کہا، ‘ویسے تو جو پولیس کہہ رہی ہے اسے ہمیں مان لینا چاہیے۔ آخر کیوں ہم ہمیشہ منفی رویہ اپناتے ہوئے پولیس کو غلط ٹھہراتے ہیں۔ انکاؤنٹر کیا نہیں جاتا ہے بلکہ ہو جاتا ہے۔’انہوں نے کہا کہ دوبے پر 60 سے زیادہ مجرمانہ مقدمے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ قانون کو کیسے استعمال کیا جانا ہے۔ وہ آخر اتنے سالوں تک جیل سے باہر کیسے رہا۔اس سوال پر کہ موقع واردات کی تصویریں دیکھنے کے بعد مبینہ انکاؤنٹر کے بارے میں ان کا کیا سوچنا ہے، گپتا نے کہا دوبے کو اجین سے لایا جا رہا تھا اور ہو سکتا ہے کہ گاڑی کا ڈرائیورتھک گیا ہو۔ برسات کے موسم میں ایسےحادثے ہو جایا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انکاؤنٹرکے واقعات کی مجسٹریٹ سے جانچ کرائی جاتی ہے۔ مجسٹریٹ پولیس کے ماتحت کام نہیں کرتی۔ اگر کہیں کچھ غلط ہوا ہے تو مجسٹریٹ مقدمہ درج کرانے کے آرڈر دے سکتے ہیں۔انسپکٹر جنرل پولیس(سول ڈیفنس)امیتابھ ٹھاکر نے کہا، ‘ہو سکتا ہے وکاس دوبے نے بھاگنے کی کوشش کی ہو اور وہ انکاؤنٹرمیں مارا گیا ہو، لیکن اس پورے واقعہ پر نظر ڈالیں تو اس سے پولیس میں موجودگندگی بھی اجاگر ہوئی ہے اور اس کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔’امیتابھ کی بیوی نوتن ٹھاکر نے اتر پردیش پولیس میں مبینہ طور پرموجود گڑبڑیوں کو لےکر ہیومن رائٹس کمیشن سے شکایت کی ہے۔انہوں نے کہا، ‘وکاس دوبے یقینی طور پر بہت برا آدمی تھا، لیکن پولیس اس کا ساتھ دےکر کون سا اچھا کام کر رہی تھی۔ وکاس دوبے اور اس کے ساتھیوں پربھات مشرا اور پروین دوبے کے مبینہ انکاؤنٹر میں مارے جانے کے واقعات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے اور اس کو لےکر پولیس کی کہانی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔’اس بارے میں ریاست کے سابق ڈی جی پی پرکاش سنگھ نے ایک ٹی وی چینل سے کہا، ‘میں اس بات سے واقعی مایوس اور حیرانی میں ہوں کہ کوئی انکاؤنٹر اس لیے کیا جانا چاہیے کہ کہیں وہ شخص پوچھ تاچھ میں ان لوگوں کے نام اجاگر نہ کر دے جو اس کی کالی کرتوتوں میں مدد کرتے تھے؟’انہوں نے کہا، ‘میرا ماننا ہے کہ دوبے اور اس کے آقاؤں کا پورا نیٹ ورک تباہ کیا جاتا اور پولیس ان سب کے خلاف کارروائی کر سکتی تھی۔ میں نہیں جانتا کہ آخر کن حالات میں وکاس دوبے کا انکاؤنٹر ہوا۔’انہوں نے کہا کہ دوبے کو اجین سے کانپور لا رہی ایس ٹی ایف کی ٹیم کو ضروری احتیاط اور تیاری کرنی تھی، تاکہ یہ واقعہ رونمانہیں ہوتا۔سنگھ نے کہا، ‘مجھے ایک انجانا سا شک ہے۔ حالانکہ، میرے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے مگر جن لوگوں کی دوبے کے ساتھ سانٹھ گانٹھ تھی، کہیں انہی لوگوں نے ایسے حالات بنائے کہ دوبے نے بھاگنے کی کوشش کی، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔’(خبررساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)