کورونا وائرس سے آزادی

41
جب انسان ٹھان لے کہ اسے کچھ کر گزرنا ہے تو پھر وہ کس کی پروا کرتا ہے؟
جو لوگ پروا کرتے ہیں وہ مضمرات کی باریکیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور جب آپ یہ سوچنے میں لگ جائیں کہ اگر بات نہیں بنی تو کیا ہوگا تو پھر بات بننے کا امکان تقریباً ختم ہی ہو جاتا ہے۔
تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو کامیابی اُنہی لوگوں کے قدم چومتی ہے جو انجام کی پروا نہیں کرتے۔ تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے سکندر اعظم نے دنیا کو دکھایا تھا کہ عزم اور حوصلے سے کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر سکندر نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہوتا کہ اتنی دور نکل تو پڑے ہیں واپسی میں فلائٹ بھی ملے گی یا نہیں تو فوجی مہم محلے سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
لیکن آپ سڑکوں پر نکلیں تو ایسا لگتا ہے کہ کسی میلے میں آگئے ہوں، جیسے خطرہ ٹل چکا ہو۔ بس اچھی بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ ماسک پہن کر نکل رہے ہیں، افسوس کی بات یہ ہے کہ ماسک منہ اور ناک پر نہیں ہوتا۔
جہاں تک سکندر اعظم کا سوال ہے، اس نے صرف ایک دہائی میں دنیا کی شکل بدل دی تھی۔ کورونا وائرس نے بھی بدل دی ہے۔ پھر صرف 32 سال کی عمر میں سکندر کو بخار ہوا اور اس نے دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔
سکندر کا ذکر اس لیے کیا کہ اس کا جنم356  قبل از مسیح میں جولائی کے مہینے میں ہی ہوا تھا اور جو بڑی بڑی جنگوں میں خطرناک دشمن نہیں کر پائے وہ جوانی میں ایک بخار سے ہوگیا۔
کورونا وائرس کا خطرہ ختم نہیں ہوا ہے۔ اپنا خیال رکھیے گا۔