ماسک پہننےکی ہدایت پر بس ڈرائیور کو مار مار کر ہلاک کر دیا گیا

42
فرانس میں ایک بس ڈرائیور کی جانب سے مسافروں کو فیس ماسک پہننے کی ہدایت پر مسافروں نے انہیں مار مار کر ہلاک کر دیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے اور ماسک پہننے کی ہدایت پر مسافروں نے بس ڈرائیور پر حملہ کر دیا۔
حملہ اتنا شدید تھا کہ ان کے دماغ پر گہری چوٹیں آئیں اور ڈاکٹروں نے اسے ’برین ڈیڈ‘ یعنی دماغی طور پر مردہ قرار دے دیا۔
59 سالہ بس ڈرائیور فلپ مونگیو کے ساتھ یہ حادثہ فرانس کے جنوب مغربی شہر بے یون میں چند دن قبل پیش آیا تھا۔ ایک ہفتہ ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کے بعد فلپ مونگیو کی جمعے کو موت واقع ہو گئی تھی۔
ملک بھر سے سیاستدان بس ڈرائیور کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں جبکہ حملہ آوروں کی ’بزدلانہ‘ حرکت کی شدید مزمت کی جا رہی ہے۔
وکیل جیرمی بوریو نے اے ایف پی کو بتایا کہ دو افراد پر قتل کی کوشش کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے، تاہم بس ڈرائیور کی ہلاکت کے بعد الزامات میں شدت لائی جائے گی۔ ان مشتبہ افراد کی عمریں 22 اور 23 سال کی ہیں۔
فرانس کے وزیراعظم نے بس ڈرائیور کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ فرانس فلپ مونگیو کو ایک مثالی شہری کے طور پر کبھی نہیں بھولے گا۔ انہوں نے شہریوں کو یقین دلایا کہ حملے میں ملوث افراد کو اس گھناؤنے جرم کی سزا دی جائے گی۔
فلپ مونگیو کے خاندان نے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مارچ کا انعقاد بھی کیا جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ مارچ کا آغاز اس بس سٹاپ سے ہوا جہاں فلپ پر حملہ کیا گیا تھا۔
دیگر بس ڈرائیوروں نے بھی احتجاجاً پیر تک کام کرنے سے انکار کر دیا ہے اور سکیورٹی انتظامات کا مطالبہ کیا ہے۔