شوگر بڑھی تو کورونا سے موت کا امکان بھی زیادہ

26
طبی ماہرین نے کہا ہے کہ ذیابیطس کے ایسے مریض جن کے خون میں شوگر کی مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، ان کے کورونا وائراس سے ہلاک ہونے کا خطرہ کئی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق چین کے سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ تصدیق کی ہے کہ جن افراد میں شوگر کی مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، ان کی کورونا سے جان جانے کا خطرہ دگنا ہو جاتا ہے۔
چین کے سائنسدانوں نے ووہان کے دو ہسپتالوں میں زیر علاج 605 مریضوں میں شرح موت کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق کے مطابق شوگر کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے کورونا کے مریضوں میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور بعد میں موت واقع ہوئی۔ شوگر لیول بڑھنا بھی  موت واقع ہونے کی وجہ بن سکتا ہے۔
چین کے سائنسدانوں کی حالیہ تحقیق نے ذیابیطس کے مریضوں پر کی جانے والی پچھلی تحقیق کے نتائج کو آگے بڑھایا ہے۔ مئی کے مہینے میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا تھا کہ فرانس کے ہسپتالوں میں کورونا سے ہلاک ہونے والے دس مریضوں میں سے ایک ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھا۔
تاحال سائنسدانوں کو یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ شوگر لیول زیادہ ہونے سے کورونا کے مریضوں میں  پیچیدگیاں پیدا ہونے اور اموات کی وجہ کیا یے۔ حالیہ تحقیق کے ذریعے اندازہ لگایا گیا ہے کہ خون میں کلاٹس بننے، شریانوں کی سطح کمزور ہونے یا مدافعتی نظام کا غیر معمولی ردعمل، کورونا مریضوں میں موت کی وجہ ہو سکتا ہے۔
حالیہ تحقیق سے جڑے سائنسدانوں نے تمام ہسپتالوں کو تجوی دی ہے کہ وہ کورونا کے تمام مریضوں کا شوگر لیول چیک کریں چاہے ان میں ذیابیطس کے مرض کی تشخیص نہ ہوئی ہو۔
برطانوی گلاسگو یونیورسٹی میں میڈیسن کے پروفیسر نوید ستار نے حالیہ تحقیق پر ردعمل میں کہا کہ یہ توقعات کے مطابق نہیں ہے، اور نہ ہی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ شوگر کی مقدار مختلف ہونے سے کورونا کے مریضوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
ایک اور برطانوی میڈیکل پروفیسر برنارڈ نے تحقیق کے حوالے سے کہا کہ کچھ بھی وثوق سے کہنے سے پہلے مزید سائنسی تجربات کرنے کی ضرورت ہے۔