ترکی : تاریخی ’آیا صوفیہ میوزیم‘ کو دوبارہ سے مسجد بنایا جائے : عدالتی فیصلہ

37

ترکی کی عدالت نے 1934 کے فرمان کو منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت تاریخی اثاثے آیا صوفیہ کو عجائب گھر میں تبدیل کیا گیا تھا۔ عدالت کے اس حکم کے بعد آیا صوفیہ کو واپس مسجد کا درجہ ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق صدر طیب ایردوآن نے یونیسکو کے اس عالمی ورثے کو مسجد میں بحال کرنے کی تجویز دی تھی۔
آیا صوفیہ بازنطینی عیسائیوں اور مسلمان سلطنت عثمانیہ کا اہم تاریخی مرکز ہونے کے علاوہ ترکی آنے والے سیاحوں کے لیے معروف ترین مقام ہے۔ صدر رجب طیب ایردوآن نے فیصلے کی تصدیق کے فرمان پر دستخط کر دیے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جس تصفیے کے مطابق آیا صوفیہ کو مسجد کا درجہ دیا گیا تھا اس کے تحت اس کو مسجد کےعلاوہ استعمال کرنا قانونی نہیں ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ 1934 میں کابینہ نے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آیا صوفیہ کو مسجد کے بجائے میوزیم کا درجہ دیا تھا۔ ترک صدر کا اعلان عدالتی فیصلے کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ آیا صوفیہ کو واپس مسجد کا درجہ دیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق استنبول میں آیا صوفیہ کے باہر ہزاروں کی تعداد میں موجود مرد و خواتین نے نماز کی ادائیگی بھی کی۔
نماز کی ادائیگی کے بعد ترک شہریوں نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا کہ پہلی نمازکی ادائیگی کے بعد فخرمحسوس کررہے ہیں۔ ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ یہ کام بہت پہلے ہو جاناچاہیے تھا۔
خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ نماز ادا کرنے والے ایک ترک شہری نے اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آیا صوفیہ کے سامنے نماز کی ادائیگی ایک حیرت انگیز احساس ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے استنبول دوبارہ فتح ہوا ہے۔
امریکی، یونانی اور دیگر ممالک کے عیسائی مذہبی رہنماؤں نے چھٹی صدی کے اس اثاثے کا درجہ تبدیل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آیا صوفیہ کو مصطفیٰ کمال اتاترک کے دور حکومت میں میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ آیا صوفیہ سے متعلق کیس سامنے لانے والی ایسوسی ایشن کے مطابق یہ تاریخی عمارت سلطنت عثمانیہ کے سلطان محمد دوم کی پراپرٹی تھی۔
سلطان محمد نے 1453 میں اس وقت قسطنطنیہ کہلائے جانے والے شہر پر قبضہ کیا تھا اور نو سو سال پرانے بازنطین گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔
تیس کروڑ ارتھوڈوکس مسیحوں کے روحانی رہنما اکیومینیکل پیٹریارک بارتھولومیو کا کہنا تھا کہ اگر عدالت جمعہ کو آیا صوفیہ کو مسجد کا درجہ دینے کا اعلان کرتی ہے تو اس فیصلے سے مسیحوں کو مایوسی ہوگی اور یہ مشرق اور مغرب میں دراڑ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور یونان نے بھی ترک حکومت کو آیا صوفیہ کا عجائب گھر کا درجہ قائم رکھنے کا کہا تھا۔
صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ آیا صوفیا کے دروازے مقامی و غیر ملکی، مسلم و غیر مسلم کے لیے کھلے رہیں گے۔
صدر ایردوان نے اسٹیٹ کونسل کے فیصلے کے ساتھ میوزیم کی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے دوبارہ سے مسجد کے طور پر استعمال کیے معاملے پر قوم سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ بنی نو انسانوں کا ورثہ آیا صوفیا اپنی نئی حیثیت کے ساتھ ہر کس سے بغلگیر ہونے، کہیں زیادہ مخلصانہ ماحول کے ساتھ اپنے وجود کو جاری رکھے گا۔
ہر کس کو ترکی کے عدالتی و کاروائی عناصر کی جانب سے لیے گئے فیصلے کا احترام کرنے کی دعوت دینے والے جناب ایردوان کا کہنا تھا کہ اپنے نظریے اور سوچ سے ہٹ کر کوئی بھی مؤقف اور بیان ہماری خود مختاری کی خلاف ورزی تصور کی جائیگی۔
صدر کا کہنا تھا کہ واٹی کان کو میوزیم کی حیثیت میں بدلتے ہوئے اسے عبادت کے لیے بند کرنے کا مطالبہ کرنا اسی منطق کی پیداوار ہو گا۔
جناب ایردوان نے استنبول کے فاتح سلطان مہمت کی جانب سے سن 1453 میں فتح کیے جانے کے بعد آیا صوفیا کو مسجد کا درجہ دینے کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ٹھیک 567 سالہ قدیم ایک حق ہے۔ اگر کسی نے اعتقاد کے مرکز پر بحث کرنی ہے تو یہ آیا صوفیا نہیں بلکہ اسلام دشمنی اور غیر ملکیوں سے نفرت کا معاملہ ہونا چاہیے۔
ترک قوم کے آیا صوفیا کا ہمیشہ خیال رکھنے کا ذکر کرنے والے صدر ایردوان نے بتایا کہ ’ الہی حکمت‘‘ کا مفہوم رکھنے والے اس کے اصلی نام تک کو ترک عوام نے بدلنے کی کوشش تک نہ کی۔
انہوں نے بتایا کہ 24 جولائی 2020 بروز جمعہ نماز جمعہ کے ساتھ 86 سال بعد آیا صوفیا کو عبادت کے لیے کھولنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
ترکی میں عبادت کے لیے کھلے 435 گرجا گھر موجود ہونے کی یاددہانی کرانے والے ترک صدر نے بتایا کہ’’یہ چیز مختلف مذاہب کو ایک سرمائے کی نگاہ سے دیکھنے والی ترکوں کی مفاہمت کا مظہر ہے۔‘‘ انہوں نے آخر میں بتایا کہ آیاصوفیا کا جنم نو مسجد ِ اقصی کی آزادی کا مژدہ دیتا ہے۔