بہار الیکشن : علی نگر سیٹ کا موجودہ انتخابی منظرنامہ۔

84

 

محمد سرفراز عالم قاسمی
اسسٹنٹ پروفيسر،
ایم ٹی ٹی کالج مدھے پور، مدھوبنی۔

ضلع دربھنگہ کاعلی نگر حلقہ ان خاص سیٹوں میں سے ایک ہے، جن کے نتائج پر پورے بہار کی نگاہیں رہنے والی ہیں۔ سال 2008 میں تشکیل میں آئے اس انتخابی حلقے پر پہلی دفعہ 2010 میں اسمبلی الیکشن ہوا اور بہار کے قدآور نیتا، سابق قاٸد حزب اختلاف و وزیر مالیات عبدالباری صدیقی کو راشٹریہ جنتادل (RJD) نے اپنا امیدوار بنایا، صدیقی نے اپنے قریبی حریف جنتادل یوناٸیٹیڈ (JDU) کے پربھاکر چودھری کو تقریبا 14 ہزار ووٹوں سے شکست دی، اس وقت سے اب تک اس سیٹ پر راشٹریہ جنتادل (RJD) کا قبضہ ہے۔ یہاں اس بار دوسرے مرحلے میں یعنی تین نومبر کو ووٹنگ ہے، اس انتخابی حلقے میں علی نگر، تارڈیہ اور گھنشیام پور سمیت تین بلاک کے درجنوں گرام پنچایتوں کے 2 لاکھ 51 ہزار سے زادہ ووٹرس ہیں، جن میں 52 فیصد سے زیادہ مرد اور 47 فیصد عورتیں ہیں۔

2015 کے اسمبلی انتخاب میں، جے ڈی یو (JDU) اور آر جے ڈی (RJD) کا مہاگٹھ بندھن، بی جے پی کی زیر قیادت والے این ڈی اے (NDA) کے خلاف میدان میں تھا، مگر کچھ سیٹیں ایسی تھیں، جنہیں لے کر آر جے ڈی اور جے ڈی یو میں تقسیم کے دوران اتفاق رائے نہیں ہو پایا تھا، ایسی ہی سیٹوں میں شامل علی نگر سے آر جے ڈی اور جے ڈی یو دونوں نے اپنے امیدوار الگ الگ اتارے تھے، آر جے ڈی نے پھر سے صدیقی پر بھروسہ کیا، وہیں جے ڈی یو نے بھی دوبارہ صدیقی کے سامنے پربھاکر چودھری کو ٹکٹ دیا، اس بار بھی نتیجہ 2010 کے جیسا ہی تھا، مگر ہار کا فرق تھوڑا کم ہوا اور صدیقی نے چودھری کو 5 ہزار ووٹ سے شکست دی۔

ذرائع کے مطابق اس مرتبہ یہاں کے لوگ خاطرخواہ ترقياتی کام نہ ہونے کی وجہ سے عبدالباری صدیقی سے ناراض تھے، اسی لیے پارٹی نے انہيں قدرے کم محفوظ علی نگر سیٹ کے بجائے ”کیوٹی“ جیسے محفوظ مسلم اقلیتی حلقہ اسمبلی سے امیدوار بنایا ہے اورعلی نگر میں عظیم اتحاد کی طرف سے راشٹریہ جنتا دل کے ٹکٹ پر ”بال کلیان پبلک اسکول پالی گھنشیام پور“ کے بانی، اعلی ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے، ونود مشرا میدان میں ہیں، ونود گزشتہ بیس سالوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے متحرک کارکن رہے ہیں، ان کی پرورش و پرداخت بی جے پی کے زیر سایہ اور فکری نشوونما آرایس ایس کی شاکھاٶں میں ہوٸی ہے، متعدد الزامات کی وجہ سے چھ سال تک بی جے پی سے معطل بھی رہے، مگر پھر کوئی دوسری پارٹی سے وابستہ نہیں ہوئے تا آنکہ بی جے پی میں ان کی واپسی ہوگٸ، مگرپھر بھی متعدد مرتبہ ٹکٹ کی کوشش کرنے کے باوجود بھی ناکامی ہی ہاتھ لگی، اب بی جے پی سے ٹکٹ نہ ملنے پر اپنا بیس سال رشتہ منقطع کیا، بھگوا رومال گردن سے پھینکا، ہرا رومال کاندھے پر ڈالا، سماج وادی وچار دھارا کی دہائی دی، تیجسوی کا پریم چھلکا اور مہاگٹھبندھن سے لالٹین چھاپ کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

2019 میں جب CAA اور NRC کی مخالفت میں علی نگر اور پالی میں احتجاج عروج پرتھا، تب انہوں نے بھگوا جھنڈا کی ریلی پالی چوک سے نکالی تھی۔ CAA اور NRC کی موافقت، مودی حکومت کی حمایت کے ساتھ پورے پالی چوک میں بھگوا جھنڈے کے ساتھ جے شری رام کے نعرے لگوائے اور ماحول اس قدر کشیدہ ہوگیا تھا کہ بڑے بزرگ اگر اپنی دانشمندی کا ثبوت نہیں دیتے تو فساد بھی رونما ہو سکتا تھا۔ مگر اب ان سے کوٸی دقت نہیں ہے، کیونکہ اب آر جے ڈی میں آکر صاف ستھرے ہو گئے ہیں اور مسلمانوں کے زخم پر چھڑکا ہوا نمک شاید دھل بھی گیا ہے۔

آر جے ڈی کے قومی جنرل سکریٹری عبدالباری صدیقی نے کس بنیاد پر اپنے حلقے کے لیے اس کی سفارش کی ہوگی اور پارٹی سربراہ اعلی تیجسوی یادو نے کس وجہ اسے دوسروں پر ترجیح دیتے ہوئے ٹکٹ سے نوازا ہوگا، یہ اس حلقے کے ووٹروں کے لیے ایک ناقابل فہم اور حیرت انگیز معمہ ہی ہے۔

کیونکہ ونود اپنے پرچۂ نامزدگی کے بعد ایک انٹرویو میں صدیقی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :
”ہر نیتا اپنا حلقہ اپنے بیٹے بھتجے یا کسی خاص رشتہ دار کے لیے چھوڑتاہے، مگر صدیقی صاحب نے ایسا نہیں کیا اور متھلانچل کی وراثت کی تحفظ کے لیے ایک برہمن کو یہاں سے ٹکٹ ملا ہے، یہ یہاں والوں کے لیے فخر کی بات ہے“۔
اس سے ہر کس و ناکس کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ صدیقی نے اپنا حلقہ کسی اعلی ذات کے ہندو برادری کے لیے چھوڑا ہے، تو تیسجوی یادو اور ان کی پارٹی کو چاہیے تھا کہ صدیقی جیسے قدآور لیڈر کو ”کیوٹی“ جیسے مسلم اکثریتی حلقہ کے بجائے کسی اعلی ہندو برادری والے حلقہ سے ٹکٹ دے کر اور جتا کر لاتے، تب ان کے فیصلے میں توازن و ہم آہنگی ہوتی، مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔

دوسری طرف بی جے پی اتحاد (NDA) سے سن آف ملاح کے نام سے مشہور مکیش سہنی کی وکاس شیل انسان پارٹی (VIP) سے مصری لال یادو سامنے ہیں، مصری گزشتہ بار بھی بی جے پی کے امیدوار تھے شکست سے دوچار ہوئے، مگر پھر بھی 38.66 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، جبکہ جیتنے والے امیدوار صدیقی کو 48.29 فیصد ووٹ ملا تھا، انہوں نے دس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے ان پر جیت درج کی تھی، مگر لوگوں کے مطابق اس وقت ان کے لیے راستہ بالکل صاف ہے اور انہیں ٹکر دینے والا کوئی نہیں ہے، ووٹروں کا ایسا کا کہنا ہے کہ : معلوم ہوتا ہے کہ مہاگٹھبندھن، یہ سیٹ بی جے پی اتحاد کو تحفے میں پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، کیونکہ اس بار حالات تھوڑے الگ ہیں، وی آٸ پی کو پی جے پی، جے ڈی یو اور دیگر حلیف جماعتوں کا ووٹ ٹرانسفر ہونے کے بھی قوی امکان ہیں۔

تیسرے امیدوا سنجے کمار سنگھ عرف پپو سنگھ ہیں، پپو شروع ہی سے آر جے ڈی میں تھے اور صدیقی کے بہت ہی قریبی مانے جاتے تھے، ذرائع کے مطابق ایسا کہا جا رہا تھاکہ صدیقی نے علی نگر کی سیٹ پپو سنگھ کے لیے ہی خالی کی تھی، مگر آخری وقت میں نہ جانے کیا ہوا کہ پپو سنگھ کے بجائے ونود مشرا کو ملا اور پپو نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے آر جے ڈی چھوڑ کر پروگریسیو ڈیموکریٹک الائنس (PDA) سے راجیش رنجن عرف پپو یادو کی جن ادھیکار پارٹی (JAP) سے ٹکٹ حاصل کرلیا، مقامی لوگوں کے مطابق اس سے بھی آر جے ڈی کا روایتی ووٹ تقسیم ہونے کا امکان ہے اور بی جے پی اتحاد کی راہیں ہموار ہوں گی۔

وہیں علاقے کے اقلیتی طبقے کو اس بات کی امید تھی کہ عظیم اتحاد سے کوٸی نوجوان مسلم چہرہ اس حلقے سے ہوتا تو ذیادہ بہتر تھا، مگر ایسا نہ ہونے کی وجہ سے دو مسلم امیدواروں نے بھی اپنا پرچۂ نامزدگی داخل کرایا گیا ہے۔ پہلے نصر نواب ہیں، قیصر نواب کے چھوٹے بھاٸی ہیں، قیصر نواب ”گھنشام پور بلاک“ کے ”پالی“ پنچایت کے ”سمیتی“ تھے، ان کے انتقال کے بعد اسی پوسٹ پر ان کے چھوٹے بھائی نصر نواب کو جیت ملی اور ”گھنشام پور بلاک“ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بطور مسلم متقفہ طور پر ”ڈپٹی پرمکھ“ مقرر ہوئے، مزید ”بلاک سوشل جسٹس کبینیٹ“ کے چیرمین اور ریٸل بولسم انٹر نیشنل اسکول کے منیجنگ ڈائریکٹر بھی ہیں، نوجوان اور متحرک ہیں، انہوں نے گرینڈ ڈیموکریٹک سیکولر فرنٹ (GDSF) سے دیویندر پرساد یادو کی سماجوادی جنتا دل ڈیموکریٹک پارٹی (SJD) سے اپنا پرچۂ نامزدگی داخل کیا ہے۔

جب کہ چوتھے امیدوار ڈاکٹر نسیم اعظم صدیقی ہیں، یہ علاقے کی مشہور و معروف شخصیت جناب غلام فرید صاحب کے رشتے دار ہیں اور بی جے پی کے دربھنگہ ضلع کے اقلیتی سیل کے صدر ہیں، پہلے بی جے پی سے ٹکٹ کے لیے کوشاں تھے مگر نہیں ملنے پر اب بطور آزاد امیدوار انتخابی میدان میں اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔

اس وقت صورتحال قدرے پیچیدہ ہے، یہاں سے مسلم امیدوار نہیں دینے کی وجہ سے یہاں مایوسی بھی ہے اور لوگوں کے مطابق بی جے پی اتحاد کا راستہ بھی صاف دکھ رہا ہے، مگر امید ہے کہ یہاں کے ووٹرس، گزشتہ انتخابات کی طرح اس مرتبہ بھی حکمت عملی سے کام لیں گے اور ماضی ہی کی طرح ووٹوں کی تقسیم اور اس کے بے حیثیت ہونے کی پالیسی کو غلط ثابت کر کے، اپنی سیاسی پختہ بصیرت کا عملی ثبوت پیش کریں گے۔