جمعرات, 29, ستمبر, 2022

منظورکردہ تجاویز
بموقع اجلاس مجلس عمومی رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار
شاخ:- کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند
مہمان خصوصی: حضرت مولاناشوکت علی صاحب قاسمی،بستوی،دامت برکاتہم ناظم عمومی کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ
زیرصدارت:جناب مولانامرغوب الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم ،صدررابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار
منعقدہ:مورخہ 19؍ربیع الثانی1443ھ مطابق 25؍نومبر2021 ،بروز جمعرات
بمقام:جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ

(1)مدارس اسلامیہ کے مابین ربط واتحاد پر تجویز

مقصد اورنصب العین کے اتحاد کی وجہ سے دارالعلوم دیوبند اور اس کے منہاج پر کام کرنے والے تمام مدارس اسلامیہ عربیہ کے مابین فطری طور پر ربط پہلے سے موجود ہے ، مگر آئے دن اسلام مخالف سرگرمیاں جس تیزی سے بڑھ رہی ہیں، رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکا یہ اجلاس ضروری محسوس کرتاہے کہ تمام مدارس اسلامیہ کے مابین روابط مزیدمستحکم اور مربوط ہوں، اس کے لئے درج ذیل چیزوں کی طرف توجہ دی جائے ۔
(الف) جو مدارس پہلے سے دارالعلوم دیوبند سے مربوط ہیں وہ اپنے ضلع میں موجود رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ سے روابط کو مستحکم اور مضبوط بنائیں۔
(ب) جو مدارس اب تک مربوط نہیں ہوسکے ہیں اور وہ دارالعلوم دیوبند کی فکر سے ہم آہنگ ہیں، رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکی ضلعی شاخوں کے ذمہ داران(صدورونظمائے اعلیٰ )سے مل کر اپنے مدرسہ کو مربوط کرنے کی کوشش کریں، تاکہ منتشر اور بکھرے ہوئے مدارس کو ایک ساتھ ملاکر مزید قابل انتفاع بنایا جاسکے۔
(د) رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکی ضلعی شاخوں کے ذمہ داران سے بھی گذارش کی جاتی ہے کہ ہرچھوٹے،بڑے مدرسے کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کریں،داخلی،خارجی،تعلیمی یاکسی بھی اعتبارسے بحرانی کا شکارہے تو اس کو دورکرنے کی کوشش کی جائے یہ سمجھ کر کہ یہ بھی آپ کاہی ادارہ ہے۔

(2) مدارس اسلامیہ کےنظام تعلیم وتربیت پرتجویز

مدارسِ اسلامیہ؛ حفاظت دین کے قلعے، اور علوم اسلامیہ کے سرچشمے ہیں،ان کا بنیادی مقصد ایسے افرادتیار کرناہے جو ایک طرف اسلامی علوم کے ماہرین ہوں، دینی کردار کے حامل، اور فکری اعتبار سے صراط مستقیم پر گامزن ہوں، تودوسری طرف وہ مسلمانوں کی دینی واجتماعی قیادت کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں، اس معیارکے باکردار افراد تیار کرنے کےلئے ضروری ہے کہ مدارس اسلامیہ کے نظام تعلیم وتربیت کو مزید فعال اور مستحکم بنایا جائے ، طلبہ کی تعلیم وتربیت ، اور استعداد سازی پر بھر پور توجہ مرکوز کی جائے ۔
اس کے لئے مندرجہ ذیل امور کا اہتمام کیاجائے۔
(الف) جہاں دارالعلوم دیوبند کا مکمل نصاب جاری نہیں ہوسکا ہے وہاں یہ نصاب جاری کیاجائے ۔
(ب) تعلیمی معیار بلند کرنے کےلئے مدرسین کی تدریسی تربیت اور تدریب کا انتظام کیاجائے، اس مقصد کے لئے صوبائی رابطہ کے ماتحت ہر علاقہ کے مرکزی مدارس میں تربیتی کیمپ منعقد کیے جائیں۔
(ج) نحو وصرف کی تعلیم اور تمرین عربی پر خاص توجہ دی جائے، ابتدائی کتب پختگی کے ساتھ یاد کرائی جائیں اور قواعد کے اجراء پر بطور خاص دھیان دیا جائے ۔
(د) سال سوم عربی تک پابندی سے ماہانہ امتحان کا نظام قائم کیاجائے ۔
(ھ) تعلیمی سال کے متعینہ اوقات میں اعتدال کے ساتھ مقررہ نصاب کی تکمیل کو لازم قرار دے کراس پر عمل کو یقینی بنایاجائے، دوران تدریس اختصار کے ساتھ کتاب کے حل وتفہیم پر توجہ دی جائے۔
(و) طلبہ کو مطالعہ وتکرار کا عادی بنایاجائے اور ان کو تکرار کا طریقہ سکھایاجائے ۔
(ز)تربیت کی عمدگی کے لئے دارالاقامہ کے نظام کو فعال ومتحرک بنایاجائے ، اس کے تحت طلبہ کی اسلامی وضع قطع اور دینی واخلاقی تربیت کا اہتمام کیاجائے، ان کی سخت نگرانی کی جائے اور خارج اوقات میں ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے۔

(3)مربوط مدارس اسلامیہ کے یکساں نصاب تعلیم پر تجویز

مدارس اسلامیہ کے قیام کا مقصد ایسے رجالِ کار تیار کرنا ہے،جو ستائش کی تمنا، یا صلے کی پرواہ سے بے نیاز ہوکر دین متین کے دفاع وتحفظ کا فریضہ انجام دے سکیں، اسلامی علوم وفنون کے ماہر ہوں، اور مذہب اسلام کی حقیقی روح سے واقف ہوں، اپنی روحانی طاقت اور علمی مہارت سے اسلام دشمن طاقتوں اور فرقِ باطلہ کے سیلاب بلا خیز پر بند باندھ سکیں، اس قسم کے علماء مخلصین اور خدام دین کی تیاری کے لئے دارالعلوم دیوبند کا نصاب آج بھی کافی ہے ، شرط یہ ہے کہ پورے اخلاص واحتساب کے ساتھ اس نصاب کی تعلیم وتدریس اور طلبہ کی تربیت کا اہتمام کیاجائے، اس لئے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار کا یہ اجلاس تمام مربوط مدارس اسلامیہ سے پرزور اپیل کرتاہے کہ وہ اپنے مدرسہ میں دارالعلوم دیوبند کا نصاب تعلیم نافذ کریں، تاکہ یکسانیت کے ساتھ اجتماعی طور پر منزل مقصود کی جانب رواں ،دواں ہونا ممکن ہو۔

(4) اب تک بند مدارس کو فعال بنانے پرتجویز

کرونا وائرس کی مہاماری، اور لاک ڈاون کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان تعلیمی اداروں اور بالخصوص مدارس اسلامیہ کا ہواہے ، مگر پھر حالات الحمدللہ اچھے ہوئے اور سرکار نے مدارس سمیت تمام تعلیمی اداروں کو کھولنے کی اجازت دے دی،لیکن یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ اب تک بہت سے مدرسے بند ہیں، اور تعلیم وتعلم کا سلسلہ شروع نہیں ہوسکاہے ، رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کا یہ اجلاس تمام ضلعی شاخوں کے ذمہ داران سے اپیل کرتاہے کہ وہ اس جانب توجہ دیں،اور جو مربوط مدارس اب تک بند ہیں ،ان کے انتظامیہ سے بات کرکے مدرسہ کو کھلوانے اورفعال بنانے کی کوشش کریں،اگر دشواری محسوس کی جائے تو اس کی اطلاع ریاستی دفتررابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار کو دی جائے۔مربوط مدارس کے ذمہ داروں سے بھی گذارش کی جاتی ہے کہ وہ خود بھی اس جانب پہل کریں،اور اپنے ضلع کے مرکزی اداروں اور ضلع کے ذمہ داروں سے مل کر مدرسہ کو فعال بنانے پر غورکریں۔

(5) ضلعی شاخوں کو متحرک بنانے پر تجویز

کل ہندرابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبندکے درج ذیل اغراض ومقاصد ہیں:-
(الف) مدارس اسلامیہ عربیہ کے نظام تعلیم وتربیت کو بہتر بنانا۔
(ب) مدارس اسلامیہ عربیہ کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا اور روابط کو مستحکم کرنا۔
(ج) مدارس اسلامیہ عربیہ کی بقا وترقی کے لئے صحیح اور موثر ذرائع اختیار کرنا۔
(د)ان علاقوں میں مدارس اور مکاتب کے قیام کی جدوجہد کرنا جہاں مرکز ضرورت محسوس کرے۔
(ھ)بوقت ضرورت نصاب تعلیم میں کسی جزوی ترمیم وتسہیل پر غور کرنا۔
(و) نصاب تعلیم میں شامل نایاب وکم یاب کتابوں کا نظم کرنا۔
(ز) اسلامی تعلیم اور ان کے مراکز کے خلاف کی جانے والی کوششوں اور سازشوں پر نظر رکھنا۔
(ح)مسلم معاشرہ کی اصلاح اور شعائر اسلام کی حفاظت کرنا۔
ان اغراض ومقاصد کی تکمیل رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکی ضلعی شاخوں کو متحرک بنائے بغیر ممکن نہیں ہے ،اس لئے ریاستی رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکا یہ اجلاس ضلعی شاخوں سے مطالبہ کرتاہے کہ درج ذیل چیزوں کی طرف توجہ دی جائے۔
(1) سال میں کم از کم دوبارمجلس عمومی کی میٹنگ بلائی جائے ،ایک توتعلیمی سال(شوال) کے شروع میں اور دوسرا تعلیمی سال(شعبان) کے اخیر میں،سال کے شروع میں اس بات پر زوردیاجائے کہ مدار س اسلامیہ کے نظام تعلیم وتربیت کو کس طرح بہترسے بہتربنایاجاسکے گا۔جبکہ سال کے اخیرمیں تمام مربوط مدارس کی کارکردگی سب کے سامنے رکھی جائے،اسی میں ریاستی دفتر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق اجتماعی امتحان پر بھی لائحہ عمل طے کیاجائے۔
(2) جہاں اب تک ضلعی شاخ قائم نہیں ہوسکی ہے، اس کے قیام کی کوشش کی جائے ، اور جہاں قائم ہے اور اب تک تشکیل جدید نہیں ہوسکی ہے ، تاریخ طے کرکے تشکیل جدید کی جائے۔
(3) رابطہ مدار س اسلامیہ عربیہ کے اغراض ومقاصدکو بروئے کارلانے کے لئے جو بھی کوششیں کی جائیں،سہ ماہی،ششماہی،سالانہ رپورٹ ریاستی دفترمیں ارسال کی جائے۔
(4)مجلس عاملہ اور مجلس عمومی کے اجلاسوں کی تجاویزکو سختی کے ساتھ ہرسطح پر نافذ کیاجائے۔
(5)صوبائی رابطہ کے تحت مربوط مدارس کے تعلیمی وتربیتی معاینے کا نظام قائم کیاجائے۔
(6) طریقہ تدریس کی اصلاح اور اسے مفیدسے مفیدتربنانے کے لئے صوبائی رابطہ کی معاونت او رمشورہ سے تدریب المعلمین کا نظام قائم کیاجائے۔مقامی وبیرونی فن کے ماہراساتذہ کرام کو مدعو کرکے تربیتی کیمپ لگائے جائیں۔
(7) تمام مربوط مدارس اسلامیہ عربیہ سے مسلسل رابطہ رکھاجائے،کسی طرح کی دشواریاں پیش آئیں ،تو باہمی رابطہ اور مشورہ سے حل تلاش کیاجائے۔

(8)اجتماعی امتحان کانظم کیاجائے۔

اس کے لئے ایک بہترشکل امتحان سالانہ 2022 کے لئے یہ ہے :-
(الف)ضلع میں موجود رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے ذمہ داران(صدور،نائبین،نظماء،مجلس عاملہ )سب سے پہلے اپنے ضلع کے تمام مربوط مدارس کی مکمل فہرست بنالیں،اس میں یہ بھی درج ہوکہ معیارتعلیم کیاہے؟اور کس درجہ میں کتنے طلبہ ہیں؟
(ب) کتنے باصلاحیت اساتذہ کرام ہیں،جن سے بحیثیت ممتحن مددلی جاسکتی ہے؟اس کی بھی فہرست بنالیں،اگرممتحن کم ہوں ،تو آگے،پیچھے تاریخ کے اعتبارسے تمام مدارس کی ترتیب بنالیں،اور ان کو اپنی نگرانی میں امتحان لینے کے لئے مامورکریں۔
(ت) ممتحن پر جو بھی اخراجات ہوں گے،مثلا،آمدورفت کاکرایہ،وغیرہ وہ اسی مدرسہ کے ذمہ ہوں گے،جہاں وہ بحیثیت ممتحن بھیجے جائیں گے۔
(ج)شعبہ حفظ میں صرف قرآن اور تجویدکا ہی امتحان لیں،اورجہاں پر عربی درجات قائم ہیں،وہاں اس طرح امتحان لیں کہ مدرسہ کاتعلیمی معیار سمجھ میں آجائے،بقیہ کتابوں کاامتحان مدرسہ میں موجوددیگراساتذہ لے لیں۔
(د) مدرسہ کے ذمہ داران اور ممتحنین نمبرات دینے میں ہر حالت میں امانت داری کا خیال رکھیں۔
(نوٹ) اجتماعی امتحان کی یہ شکل صرف 2022 کے لئے ہے،امتحان کے نتائج کی ایک کاپی ضلع میں رکھی جائے،اور ایک کاپی ریاستی دفترمیں ارسال کی جائے۔
جو نتائج بھی سامنے آئیں ،سال کے شروع میں جب ضلعی مجلس عمومی کی میٹنگ ہو،اس میں پیش کیاجائے،اس کی وجہ سے مدارس اسلامیہ کا نظام تعلیم بھی مستحکم ہوگا،اور معیارتعلیم بھی سامنے آئے گا۔

(6)تحفظ ختم نبوت ودیگرعقائد باطلہ پر تجویز

قادیانیت اس صدی کاسب سے عظیم فتنہ ہے جوصیہونی طاقتوں کی سرپرستی میں پروان چڑھا اورجس نے ہزارہافرزندان اسلام کے ایمان کوتارتارکرکے رکھ دیا ، اس فتنہ کی زہرناکی کومحسوس کرکے روزاول ہی سے علماء دیوبنداس کی سرکوبی کیلئے مسلسل جدوجہدکرتے رہے ہیں،ناموس ختم نبوت کی حفاظت کیلئے دیوبندسے فکری انتساب رکھنے والے علماء کی خدمات برصغیرکی اسلامی تاریخ میں سنہر ے حروف سے نقش ہیں۔
تقسیم ہندکے بعداس تحریک نے اپنامستقرپاکستان میں بنالیاتھامگروہاں بھی علماء نے اس کا بھرپورتعاقب جاری رکھا،تاآنکہ قادیانیوں کوسعودیہ وغیرہ ممالک اسلامیہ نے قانونی طورپرغیرمسلم قراردے دیا۔سرزمین پاکستان کوتنگ ہوتے ہوئے دیکھ کریہ تحریک گذشتہ دس سالوں سے دوبارہ ہندستان میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہی ہے۔وقت کی رفتارکے ساتھ ساتھ اس خطرناک ایمان سوزتحریک کی سرگرمیاں تشویشناک حدتک بڑھتی جارہی ہیں، ایسے میں ذمہ داران مدارس وائمہ وخطباء مساجدکایہ منصبی فریضہ ہے کہ وہ ا پنی اپنی جگہ رہتے ہوئے دفاع دین کی خاطرہرطرح کی قربانی پیش کریں۔اورباطل کے تعاقب کی شاندارروایات کی پاسداری کرتے رہیں۔
رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکایہ اجلاس قادیانیت،فتنہ شکیلیت اور موجودہ فتنہ ارتدادکے مؤثردفاع اوررجال کارکی تیارکیلئے تجویزکرتاہے کہ:
(۱) تمام مدارس کے اساتذہ ومعلمین مہینہ میں کم ازکم ایک دن اپنے اسباق میں طلبہ کو رد قا دیا نیت ،فتنہ شکیلیت اور ہندوازم کے مضامین سمجھائیں یعنی اسے اپنے نصاب کاجزوبنالیں۔
(۲)اساتذہ ومبلغین اورذمہ داران مدارس پروگرام بناکراپنے اطراف وجوانب کے قصبات ومواضعات کی مساجدمیں جاکرختم نبوت کے بنیادی عقیدہ کی اہمیت سے عام مسلمانوں کوروشناس کرائیں، قرآن وسنت میں مرزائیوں کی لفظی ومعنوی تحریفات کوبے نقاب کریں اورواضح طورپر سمجھادیں کہ ملت اسلامیہ کے تمام مکاتب ان کے کفرپرمتفق ہیں اوریہ کوئی وقتی اورسیاسی مسئلہ نہیں بلکہ خالص دینی اورمذہبی مسئلہ ہے۔
(۲) ارباب مدارس اپنی لائبریریوں میں ردقادیانت پرکتابیں مہیاکریں اوراصل قادیانی لٹریچر اوربرہمنی لٹریچرکے حصول کی بھی کوشش کرتے رہیں۔
(۴) کل ہندمجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبندکی ر ہنمائی میں قادیانیت اور ارتداد سے متاثرہ علاقوں میں منظم طورپرکام کریں۔
(۵) پسماندہ اوردوردرازعلاقوں میں چونکہ ان کی سرگرمیاں زیادہ ہوتی ہیں اس لئے ایسے علاقوں کاخاص طورپردورہ کیاجائے اوران کی دسیسہ کاریوں اورپرفریب چالوں سے عام مسلمانوں کوآگاہ رکھاجائے اوران علاقوں میں فتنوں کی موثرروک تھام کیلئے مکاتب قائم کیے جائیں۔
(۶) ایسے علاقوں کاسروے کرکے قادیانیوں اور ہندوؤں کی خفیہ ارتدادکی سرگرمیوں کاپتہ لگایاجائے اوران کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں اوراس کی رپورٹ ریاستی دفتر رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کو بھی ارسال کی جائے۔
(۷) جدیدتعلیم یافتہ طبقہ میں وقتاًفوقتاًپروگرام کرکے ایمانیات اور خصوصا عقیدہ ختم نبوت ،کی اہمیت سے ان کو روشناس کرایاجائے۔
(۸) ائمہ مساجداپنے خطبات میں ایمانیات خصوصاعقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اوراس بنیادی عقیدہ کومتزلزل کرنے کی ناپاک کوششوں کاپردہ چاک کرتے رہیں۔
(۹) ارباب مدارس اپنے اساتذہ میں سے جوحضرات اس موضوع سے دلچسپی رکھتے ہیں انہیں مہینہ دومہینہ کیلئے اپنے مصارف پرچھٹی دیکر تربیت کیلئے مرکزی دفترکل ہندمجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبندبھیجیں اوردفترسے بذریعہ مراسلت وقت کی تعیین کریں۔

(7)سماجی ومعاشرتی اصلاح پر تجویز

مجلسِ عمومی رابطہٴ مدارسِ اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کا یہ اہم اجلاس،اس بات کی طرف ذمہ دارانِ مدارس کی توجہ مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہے کہ مسلم معاشرہ کی اصلاح،مدارس کی ایک اہم ذمہ داری ہے، بالخصوص ہندوستان جیسے ملک میں مسلمانوں کے تمام دینی معاملات کی نگرانی بنیادی طور پر مدارس کا فرضِ منصبی ہے اور معاشرے میں بگاڑ جس تیزی سے آرہا ہے اس سے ہر شخص واقف ہے، بالخصوص انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعہ نوجوان طبقہ میں برائیاں جراثیم کی طرح سرایت کررہی ہیں اور بے حیائی، فحاشی وعریانیت عام ہورہی ہے، مزید یہ کہ دورِ جدید کی لائی ہوئی ان تمام برائیوں کے ساتھ ساتھ پہلے سے چلی آرہی خرابیاں اپنی جگہ برقرار ہیں، خاص طور پر شادی بیاہ کی رسومات، جہیز کے مطالبہ کی لعنت، شراب نوشی، حرام ذرائع سے مال کمانے کی ہوس، بے پردگی، دینی تعلیم سے دوری اور نماز سے غفلت جیسے بڑے گناہ آج بھی مسلم معاشرہ میں عام ہیں۔
ایسے حالات میں مدارسِ اسلامیہ کے ذمہ داران اور تمام علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ پوری دل سوزی کے ساتھ معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں اوراس سلسلے میں باہمی مشورے سے ہر علاقہ کی ضرورت کے مطابق عملی اقدامات کریں اوراس میں ایک دوسرے کا تعاون کریں، نیز اس کے لیے صرف رسمی اور ضابطے کی کارروائیوں پر اکتفا نہ کریں؛ بلکہ اللہ سے رابطہ مضبوط بنانے کی فکر کریں اور تزکیہ واصلاح کا ماحول عام کریں۔
خاص طورسے درج ذیل چیزوں کی طرف توجہ دیں۔
(1) ہرمدرسہ اپنے ذمہ میں یہ لازم کرلیں کہ سال میں کم از کم ایک بار اپنے اپنے علاقہ میں عشرہ اصلاح معاشرہ اور دینی بیداری مہم پروگرام کا انعقاد کریں،اور اس کی رپورٹ ریاستی دفترکو ارسال کریں۔
(1) آسان او رمسنون نکاح کو عام کریں،تقریر،تحریرکے ساتھ ،عملی اقدامات بھی کریں۔
(2) جہیز ،تلک،اور شادی ،بیاہ میں لین دین سے خود بھی احتراز کریں،اور ان شادیوں میں جانے سے احتیاط کریں،جہاں لین دین کا رواج ہو۔
(3)جمعہ کادن ہفتہ کی عیدہے،تمام مدارس کے ذمہ داران اپنے مدرسہ کے اساتذہ کی فہرست بناکر (جو تقریرکرسکتے ہوں) ان مسجدوں میں بھیجیں،جہاں جمعہ سے قبل تقریریں نہیں ہوتی ہیں،یارسمی اندازمیں تقریریں کی جاتی ہیں۔تقریرکے لئے عام فہم انداز وزبان کاستعمال ہو۔

(8) عصری تعلیم شامل کرنے پر تجویز

زمانہ کے تقاضہ کے مطابق مدارس دینیہ میں عصری تعلیم کی شمولیت ضروری سمجھ میں آتی ہے،ایسے میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکایہ اجلاس تمام مربوط مدارس کو اس جانب توجہ دلانا ضرروی سمجھتاہے کہ عصری تعلیم (ہندی،انگلش،حساب) کو نصاب میں ضروری طورپر شامل کیاجائے۔اس کے لئے سب سے اہم اور ضروری یہ ہے کہ :-
(الف)دینیات کے پنج سالہ نصاب میں سرکاری بورڈ کے مطابق پانچویں تک کے نصاب کو بھی شامل کیاجائے،کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کی جانب سے اس کابھی مکمل نصاب بنایاگیاہے،اس کو مدرسوں میں عملی طورپر نافذ کیاجائے۔

(9)حسابات آڈٹ کرائے جانے پر تجویز

اغیار کی نگاہیں ہمارے مدرسوں کی جانب اٹھ رہی ہیں،ایسے میں ضروری ہے کہ حسابات کو صاف وشفاف رکھے جائیں،اس کے لئے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکا یہ اجلاس درج ذیل امورکی توجہ دلاناضروری سمجھتاہے :
(الف) حسابات آڈٹ کرائے جائیں۔
(ب) چھوٹی،بڑی جو بھی رقوم آمدنی کی شکل میں مدرسہ کو حاصل ہو،بینک میں جمع کئے بغیرخرچ نہ کئے جائیں۔
(ج) مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہیں بینک سے اداکی جائیں۔
(د) آمدوخرچ کا رجسٹر موجودہو،اگرکوئی بھی عام شخص دیکھناچاہے تو آپ دکھاسکیں۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے