امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین کے حوالے سے جس وقت "صدی کی ڈیل” (Deal of the Century) کی بات کی تھی،اسی وقت انصاف پسند لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ یہ ڈیل کسی طرح بھی فلسطین کی مفاد میں نہیں ہوگی؛ بل کہ یہ یک طرفہ غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے حق میں ہوگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی ریلی کے وقت سے ہی، فلسطین واسرائیل کے حوالے جو بھی بیانات دیے، وہ سب کے سب جانبدار اور صہیونی ریاست کی حمایت میں تھے۔ پھر صدر منتخب ہونے کے بعد، جب اس نے "صدی کی ڈیل” کی بات کی اور اس ڈیل کے کچھ نکات گاہے بہ گاہے لیک (Leak) ہونے شروع ہوئے؛ تو ان سے مزید اس رائے کو تقویت ملی کہ جو ڈیل پیش کی جانے والی ہے، وہ یک طرفہ ہوگی۔

 

جب اس سال جنوری کے آخری عشرہ (28/جنوری 2020) میں، وائٹ ہاؤس میں، ایک پریس کانفرنس کے دوران، اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کی موجودگی میں، اس ڈیل کو پیش کیا گیا؛ تو قضیہ فلسطین سے دل چسپی رکھنے والے ہر شخص نے محسوس کیا کہ یہ ڈیل یک طرفہ ہے۔ باریکی سے دیکھا جائے؛ تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ڈیل کسی ثالثی نے تیار نہیں کیا ہے؛ بلکہ ایک طاقتور فریق کا تیار کیا ہوا ہے، جو اپنی مرضی کے موافق اپنے فریق کو کچھ شرائط وضوابط کی پابندی کے بعد، بھیک کی شکل میں کچھ دینے کو تیار ہو رہا ہو۔ اس ڈیل میں فلسطین کے حق اور مفاد میں کچھ بھی نہیں ہے۔

 

اس ڈیل میں ایسے بیجا شرائط کوجگہ دی گئی ہیں، جنھیں کوئی بھی خود مختاری کا مطالبہ کرنے والافلسطینی منظور نہیں کرسکتا تھا۔ ان سب بیجا شرائط کی منظوری کے بعد، ان فلسطینیوں کو "فلسطین” نہیں؛ بل کہ”فلسطین جدیدۃ” کے نام سے جو کچھ دیا جاتا، وہ ایک نام نہاد اور مجبور ولاچار ریاست ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ڈیل میں اکثر مقامات اسرائیل کے حوالے کرنے کی بات کی گئی ہے اور "فلسطین جدیدۃ” کے نام سے جو چند سالوں کے بعد وجود میں آتا، وہ بشمول غزہ کی پٹی کے چند قطعہ اراضی فلسطینیوں کے حوالے کیا جاتا۔ صہیونی غاصب ریاست کے ظلم وجور اورقتل وغارت سے پریشان ہوکر، جو لاکھوں فلسطینی لبنان، اردن اور دنیا کے دوسرے ممالک میں پناہ گزیں ہیں، ان کے واپسی کی اس ڈیل میں کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ ایک مضحکہ خیز شرط یہ بھی تھی کہ "فلسطین جدیدۃ” کی حکومت اپنے دفاع کےلیے کسی طرح کا کوئی ہتھیار نہیں رکھ سکتی؛ بل کہ اس کے دفاع کی ذمہ داری اسرائیل کو دی جاتی اور "فلسطین جدیدۃ” کی حکومت اس کی قیمت ادا کرنی ہوتی۔ جو بھی اسلحہ اور ہتھیار ابھی "حماس” اور "جہاد اسلامی” کے پاس ہیں، ان ہتھیاروں سے بھی دست بردار ہونے کی شرط تھی۔ ایسی بے جا اور یک طرفہ ڈیل کو "ٹرمپ منصوبۂ امن” (Trump Peace Plan) کا نام دیا گیا تھا۔

 

بہ ہرحال، اس ڈیل کو فلسطین کے بہادر عوام وخواص نے منظور کرنے سے انکار کردیا۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مقصد بھی یہی تھا کہ فلسطین اس نام نہاد ڈیل کو منظور نہ کرے۔ پھر وہ دنیا کو یہ کہتے پھریں کہ دیکھیے ہم نے امن وامان کی غرض سے یہ ڈیل تیار کی تھی، مگر فلسطین نے منظور نہیں کیا۔ وہ امن وامان کی راہ میں حائل ہیں۔

 

ذرائع ابلاغ کے مطابق، آج کل صہیونی غاصب ریاست اپنے توسیع پسندانہ پروگرام کو بروئے کار لانے کی کوشش میں لگی ہے۔ اس پروگرام کے تحت فی الحال مقبوضہ مغربی کنارے پر صہیونی ریاست کی خود مختاری کے منصوبے پر امریکہ اور غاصب ریاست کی انتظامیہ کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ اسی طرح فلسطینی علاقے: غرب اردن اور وادی اردن کے الحاق کے حوالے سے بھی صہیونی ریاست امریکی انتظامیہ سے بات چیت کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی انتظامیہ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطی "آفی برکوفیٹچ ” نے غرب اردن کو اسرائیل سے الحاق کے منصوبے پر، عمل در آمد کے حوالے خود صہیونی ریاست کے حکام سے ان دنوں بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جن کو امریکی صدر نے "صدی کی ڈیل” میں، غاصب ریاست کو حوالے کرنے کی تجویز بھی پیش کرچکا ہے۔

 

صہیونی ریاست کا اپنے توسیع پسندانہ پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکی انتظامیہ اور اس کے ایلچی سے صلاح ومشورہ اور بات چیت کی خبر سے یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ غاصب ریاست کے توسیع پسندانہ پروگرام کی پورے طور پر حمایت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صہیونی ریاست کو”صدی کی ڈیل” میں، وہ سب کچھ دینے کی کوشش کی تھی جس کے بارے میں صہیونی ریاست نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اتنی آسانی وہ سب اس کو مل جائے گا۔ پھر امریکہ غرب اردن اور وادی اردن کو اسرائیل سے الحاق کے لیے کیوں تائيد نہیں کرے گا! آج کل فلسطین کے حوالے سے جو اقدام ٹرمپ انتظامیہ اٹھا رہی ہے، وہ حقیقت میں اقوام متحدہ کے تجاویز کی کھلی خلاف ورزی ہے؛ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قضیہ فلسطین کے حوالے سے اسرائیل وامریکہ نے کبھی بھی اقوام متحدہ کی کسی بھی تجویز کو کوئی اہمیت نہیں دی ہے۔

 

ان نا گفتہ بہ حالات میں، اندرونِ خانہ یعنی فلسطین سے ایک مثبت خبر یہ آرہی ہے کہ فلسطین کی دو اہم جماعتیں: حماس (حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ) اور تحریک فتح میں قربت بڑھ رہی ہے۔ ابھی چند دنوں قبل (4/جولائی 2020 کو) حماس کے نائب صدر صالح العاروری اور تحریک فتح کے مرکزی سیکریٹری جنرل جناب جبریل الرجوب نےصہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی۔ اس پریس کانفرنس میں انھوں نے فلسطینی علاقوں پراسرائیلی ریاست کےقبضے اور توسیع پسندانہ پروگرام کے خلاف اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت پرزور دیا۔ کاش کہ فتح والےاتحاد کی یہ باتیں شروع سے سمجھ لیے ہوتے! بہرحال، یہ ایک قابل ستائش اور مثبت قدم ہے۔ فلسطینی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک نے اس مشترکہ پریس کانفرنس پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موقف، الفاظ، بیانات اور قومی قیادت کا متفق ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے صدی کی ڈیل اور فلسطینی علاقوں: غرب اردن اور وادی اردن کے الحاق کے اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے مسلح مزاحمت پر مبنی، متفقہ حکمت اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ اسپیکر نے مزید کہا کہ اگر دونوں بڑی جماعتیں آپس میں متحد ہوجائیں؛ تو صہیونی ریاست کےتوسیع پسندانہ عزائم کو ناکام بنا سکتی ہیں۔

 

فلسطینی شہری کئی دہائیوں سے صہیونی ظلم وجور کے شکار ہیں۔ دن بہ دن ان پر صہیونیوں کا ظلم بڑھتا جارہا ہے۔ قضیہ فلسطین کے حوالے سے جن لوگوں کو کھل کر بولنا چاہیے تھا، جن کو اس قضیہ سے دل چسپی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا اور جن کو فلسطینیوں کے بہتے خون کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی، فلسطینیوں کے جان ومال کے حفاظت کی فکر کرنی چاہیے تھی، وہ سب کے سب خاموش ہیں۔ دوسری طرف صہیونی ریاست اپنے توسیع پسندانہ پروگرام کے تحت دن بہ دن اپنے قدم بڑھا رہی ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے اکثر مسلم ممالک نے اپنے مال وزر کو خوب صورت اورفلک بوس عمارتوں کے بنانے میں صرف کرنا ضروری سمجھا۔ ان ممالک کے حکمرانوں نے اپنی ذات پر ضرورت سے زیادہ مال وزر خرچ کیے اور اپنی شاہانہ اور پر تعیش زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ مگر اپنے ممالک کے مستقبل کو کبھی پیش نظر نہیں رکھا۔ مسلم دنیا کے اکثر ممالک عسکری طور کھوکھلے ہیں۔ ان کے پاس عسکری طاقت نہیں ہے۔ ان کے پاس کوئی قابل ذکر اسلحہ نہیں ہے۔ وہ سب عالمی طاقتوں کے سامنے بونے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی باتوں کو کوئی وزن نہیں دیتا۔ مگر اس کے باوجود، اگر مسلم دنیا فلسطین کی آزادی اور اقصی وقدس کی بازیابی کےلیے بیک زبان بولتی ہے؛ تو آج نہیں تو کل، اس کا کچھ نہ کچھ اثرضرور ہوگا اور امید ہے کہ بہت سے دوسرے ممالک بھی کھل کر ان کا ساتھ دیں گے۔

 

ٹرمپ کے "صدی کی ڈیل” کا شوشہ چھوڑنے کے بعد سے اب تک –سوائے چند مسلم ممالک کے– جس طرح اکثر مسلم ممالک خاموش ہیں، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سب کے سب اس ڈیل کا حصہ ہیں یا پھر وہ کسی ڈر اور خوف میں مبتلا ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے؛ تو پھر وہ خاموش کیوں ہیں؟ جس طرح اسرائیل کے منصوبے ذرائع ابلاغ کے توسط سے گاہے بہ گاہے عام لوگوں تک پہنچتے ہیں، امید ہے کہ ان تک بھی پہنچتے ہوں گےبشرطے کہ ان کی قوت سماعت وبصارت کام کررہی ہوں۔ یہ ایسا وقت ہے کہ عرب لیگ اور مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم: او، آئی، سی (Organization of Islamic Cooperation) کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جانا چاہیے۔ ان دونوں تنظیموں کے ممبران کو اسرائیل کے اس توسیع پسندانہ پروگرام کے خلاف بر وقت قدم اٹھا نا چاہیے اورصہیونی ریاست کا غرب اردن کو اسرائیل کے ساتھ الحاق کرنے کے پروگرام کے خلاف کچھ عملی اقدامات کرنے چاہیے۔اگر ایسا نہیں ہوتا ہے؛ تولگتا ہے کہ چند سالوں میں صہیونی غاصب ریاست بچے کھچے فلسطین کو بھی نگل جائے گی۔