حضرات!
آج ملک خودکشی کے لئے قسم کھا چکا ہے، وہ آگ کے خندق میں گرنے کے لئے تیار ہے، وہ بداخلاقی اور انسانیت کشی کے دلدل میں ڈوب رہا ہے، آپ ہی ہیں جو ہندوستان میں کیا پورے ایشیا میں اس ملک کو بچا سکتےہیں،آپ اللہ ورسول کی بات کہیے، آپ کو کوئی ضرورت نہیں کہ آپ نیلام کی منڈی میں اتر آئیں اور آپ سودا کرانے لگیں کہ ہماری بولی بولی جائے، اس لئے میں ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں، کاش میں آپ کے دلوں اور دماغوں پر چوٹ لگا سکتا، میں صرف آپ سے کہتا ہوں کہ اس ملک کو صرف تنہا آپ بچا سکتے ہیں اس لئے کہ آپ کے پاس عقیدہ توحید اور انسانی اصول و مساوات ہے،آپ کے پاس اجتماعی عدل کا مکمل نظام موجود ہے،آپ ہی ہیں جو ہر چیز سے بالاتر ہیں، آپ ہی ہیں جن کے پاس ایمان بالاخرہ ہےاور جو العاقبة للمتقين پر یقین رکھتے ہیں۔آپ ان لوگوں میں سے نہیں جنکی نظر طاقت اور قوت پر رہا کرتی ہے اور جن کی نگاہ میں مال ومتاع اور اکثریت سب کچھ ہے اور نہ آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو انتخابات میں کامیابی اور پارلیمنٹ تک پہونچ جانے کو سب سے بڑی معراج سمجھتے ہیں ۔(بحوالہ تعمیر حیات، ۱۰/اپریل ۱۹۸۰ء)
دارالعلوم دیوبند کے جشن صد سالہ کے موقع پر حضرت مولانا سید ابوالحسن علی الحسنی الندوی کی یہ تقریر ہے ۔تقریبا چالیس سال پہلے لاکھوں عوام وخواص ودیگر علمی وعالمی أشخاص کے سامنے کی گئی ہے ۔موجودہ حالات کی بہترین عکاسی کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس بڑے مسئلے کا بھی حل پیش کرتی ہے جو اس وقت لاینحل بن گیا ہے ۔ایک جماعت کا یہ ماننا ہے کہ سیاسی طور پر قوت کا حصول ہی موجودہ وقت کی ضرورت شدیدہ بن گئی ہےجبکہ اکابرین علماء ومفكرين کا یہ موقف اس طور پر نہیں رہا ہے ۔یہاں دعوتی طور پر ہمیں اپنے فرائض منصبی کواداکرناہی دراصل قیادت ہے اوراس میں بے پناہ قوت ہے ۔ اقوام کی رہبری ورہنمائی کاصاف مطلب اور واضح مفہوم یہی ہے ،مولانا موصوف بھی اسی کے قائل ہیں اور اسی کو کامیابی کی دلیل کہتے ہیں ،انہیں کے الفاظ میں ملاحظہ کرلیجئے ؛
میرے دوستو اور بزرگو! آپ اپنے حقیقی عظمت کے راز کو سمجھئیے کہ دنیا میں اب تک ہزاروں طوفان، آندھی اور سیلاب کے باوجود آپ ابتک کیوں باقی ہیں؟ ایک ہندوستان ہی کی تاریخ کو دیکھ لیجئے، یہ زمین جس کو حالی نے اکال الارض اور ہندوستانی تہذیب و مزاج کو اکال الأمم سے تعبیر کیا ہے یعنی جو قوم یہاں آئی وہ تحلیل ہوگئی اور اس نے اپنی قومی خصوصیات وامتیازات کو کھودیا، اور ہرکہ درکان نمک رفت نمک شد کا منظر سامنے آتا رہا ۔اس میں نہ تو نہ تو آریائی نسلیں باقی رہیں اور نہ دوسری قومیں ۔جوبھی یہاں آیا وہ اس کے رنگ میں رنگ گیا ۔لیکن وہ کیا چیز تھی جس نے آپ کو اپنے تشخص کے ساتھ باقی رکھا ہے؟ وہ ہے عقیدہ توحید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستگی ۔اللہ کی عظمت کا اقرار اور اس کے سامنے ساری طاقتوں کا انکار ۔اور۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی محبت کا طوق اپنے گلے میں ڈالنا،( حوالہ سابق)
بظاہر ہم جسے ترقی اور تقویت کا سامان سمجھتے ہیں یہ زندگی حضرت علی میاں کی نظر میں کس معیار پر اترتی ہے حضرت علی میاں رح کہتے ہیں؛ ہم صاف اعلان کرتے ہیں ۔اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھی اعلان کریں ۔کہ ہم ایسے جانوروں کی زندگی گزارنے پر ہرگز راضی نہیں جن کو صرف راتب چاہئیے اور ان کو  Self security چاہیے کہ ان کو کوئی مارے نہیں ۔ہم ہزار بار ایسی زندگی گزارنے اور ایسی حیثیت قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ہم اس سرزمین پر اپنی اذانوں اور نمازوں کے ساتھ رہیں گے بلکہ ہم تراویح اور اشراق وتہجد تک چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے، ہم ایک ایک سنت کو سینے سے لگا کر رہیں گے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو سامنے رکھ کر کسی ایک نقش بلکہ کسی نقطہ سے بھی دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں ۔(حوالہ سابق )