بیواؤں کو معاشرہ کیوں فراموش کردیتا ہے؟

40

بیواؤں کو معاشرہ کیوں فراموش کردیتا ہے؟؟؟

ایک بیوہ پہلے ہی اپنے حالات سے لڑتے ہوئے بہت محدود زندگی گزارتی رہتی ہے۔یہ مت کرو ۔۔۔۔۔۔وہ مت کرو۔۔۔۔اور اس کی خوشی اور غم پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے۔ کبھی شوہر کے مرنے کا طعنہ دے کر، کبھی اُس کو منحوس کہہ کر اُس کی خوشی چھینی جاتی ہے تو کبھی ہر وقت اپنے آنکھوں میں آنسو اور فریاد کرنے کا کہہ کراُسے اپنے دکھ کو ہلکا کرنے سے بھی روکا جاتا ہے۔کسی بھی صورت ایک بیوہ عورت کو چین اور سکون سے نہیں رہنے دیا جاتا۔ آخر کیوں؟
اسلام بیوہ کے حقوق کو پورا کرنے کی خاص تلقین کرتا ہے ۔لیکن ہمارا معاشرہ اس کے برعکس کرتا ہے۔ہماری جائیداد جان کی دشمن بن جاتی ہے۔ شوہر کے مرنے کے بعد اس عورت کو دودھ میں گری مکھی کی طرح باہر نکال پھینک دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار تو عدت پوری ہونے تک کا بھی انتظار نہ کرتے ہوئے اسے اپنے ماں باپ کے گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ اگر اولاد ہے تو غنیمت، کچھ نہ کچھ شوہر کے حصے میں سے دیا جاتا ہے۔ ورنہ تو پھر اللہ ہی نگہبان۔بیوہ کی بیوگی کو آج بھی عورت پر ایک داغ کی طرح تصور کیا جاتا ہے۔ جیسے کہ اسی نے اپنے شوہر کو مارا ہو اور اس کے بعد ہونے والے معاملات آج بھی اتنے ہی تکلیف دہ ہیں، جتنے ہمیشہ سے رہے ہیں۔ کبھی تھوڑی بہت مدد لوگوں کی طرف سے ہوتی ہے، وہ بھی ہمدردی سے عاری ہوتی ہے اور اگر اسے ماحول سے تنگ آکر اگر ایک عورت خود اپنے بل بوتے پر زندگی گزارنے کا فیصلہ کرے تو اسے برا کہا جاتا ہے طعنے تہمت میں شدت آجاتی ہے اور پھر بات کردار کی سچائی تک پہنچنے میں دیر ہی کہاں لگتی ہے؟ پھر اسے بد کردار ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اور نہ جانے اس عورت کو کیسی کیسی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسے میں اگر خدانخواستہ عورت دوسری شادی کرنے کا فیصلہ کرے اور کوئی نیک انسان کسی بیوہ کو اپنانے کی حامی بھر لے، مانا کہ ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم رہ گئی ہیں۔ تو اس عورت پر جنسی ضرورتوں کا موضوع زیرِ بحث بنایا جاتا ہے۔
ایک مرد کو سارے ادھیکار ہیں، عورت کو کیوں نہیں؟ ایک آدمی کی اگر بیوی مر جائے تو چالیس دن بھی گزرنے کا انتظار نہیں کیا جاتا اور اس کا نکاح کروا دیا جاتا ہے۔ اس کے اکیلے پن کی سب کو فکر ہوتی ہے۔۔۔۔۔پھر عورت کے اکیلے پن کی فکر کیوں نہیں؟ کیوں اسے دوسرا نکاح کرنے پر اسے برا کہا جاتا ہے؟ پچاس ساٹھ سال کے مرد بھی نکاح کر لیتے ہیں تو پینتیس سے چالیس کی عورت نکاح کیوں نہیں کر سکتی؟؟ کیا یہی ہے ہمارا معاشرہ؟ عورت کے حقوق کی تو باتیں بہت کرتے ہیں!!! پر دیتا کوئی نہیں!!!! ایسی بیوائیں کئی ہیں ہمارے سامنے جو بے چاری اپنی زندگی گھٹ گھٹ کر گزار رہی ہیں۔ رنڈوا مرد بھی پہلے کنواری ہی ڈھونڈتا ہے۔۔۔۔نہ ملنے پر بیوہ کے لئے حامی بھرتا ہے۔
موت بر حق ہے اور ایک ناگہانی آفت ہے جو اللہ کی طرف سے متعین ہے۔ اس کے حوالے سے یعنی شوہر کے انتقال پرعورتوں کے ساتھ یہ ناقابلِ برداشت رویہ ٹھیک نہیں،گویا بیوہ ہونے والی عورت نے خود اپنے ہم سفر کی جان لی ہو۔ سماج سے اب یہ سوچ اوررویہ ختم ہونا چاہئے اور بہت ضروری ہے کہ ہمارا معاشرہ بجائے مشکلات پیدا کرنے اور محرومیوں میں اضافہ کرنے، ان بیواؤں کو نہ صرف قبول کرے بلکہ ان کے لیے آسانیوں کے راہیں ہموار کرے کیونکہ زندگی پر سب کا حق برابر ہے۔یہاں یہ بات میں پھر کہہ رہی ہوں۔ہمارے معاشرے میں ایک مرد اپنی بیوی کی موت کے بعد یا طلاق کے بعد یا علیحدگی کے بعد دوسری شادی کرتا ہے تو لوگ اس کے فیصلے کو سراہتے اور درست قرار دیتے ہیں۔ اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس کی اور گھر کی دیکھ بھال کے لیے اور اگر بچے ہوں تو ان کی پرورش کے لیے دوسری شادی کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اور اس کے برعکس اگر کوئی بیوہ دوسری شادی کر لیتی ہے تو اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کر دیے جاتے ہیں کہ اس کے شوہر کو مرے ہوئے ابھی زیادہ وقت بھی نہیں گزرا ،اس نے دوسری شادی رچالی، اسے دوسری شادی کی ضرورت ہی کیا تھی، کیا یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتی۔ اور جنسی تہمت بھی لگانے سے باز نہیں آتے۔
کیوں؟؟؟؟ آخر یہ دوغلا پن کیوں؟اپنا اور اپنے بچوں کا بوجھ خود اٹھانے کے لیے ایک بیوہ کمر کس لیتی ہے اور گھر سے باہر مجبوراً نکلتی ہے، تو اسے کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ باہر کے لوگوں کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت اکیلی ہے تو اسے ان کی خراب نظروں اور جھلسا دینے والے جملوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ہمارے دوہرے رویے والے معاشرے نے عورت کو مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے جب کہ ہمارے سامنے حضور اکرمﷺ کی حیاتِ طیبہ اور ان کے ارشادات موجود ہیں ۔ ایک حدیث کے مطابق حضور ﷺ نے فرمایا،’’میں تمھیں بتاؤں کہ بڑی فضیلت والاصدقہ کون ساہے؟ اپنی اس بچی پر احسان کرنا جو بیوہ ہونے یا طلاق دیے جانے کی وجہ سے تمہاری طرف لوٹا دی گئی ہو اور اس کا تمہارے سوا کوئی کفیل اور بار اٹھانے والانہ رہا ہو۔‘‘اس کے برعکس ہمارا رویہ اور سلوک ایسی مجبور اور بے بس عورتوں کے ساتھ ناروا اور خود غرضانہ ہوتا ہے۔ اپنی معاشی اور معاشرتی صورت حال سے گھبرا کر جب کوئی بیوہ دوسری شادی کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے فیصلے پر اپنی رائے مسلط کی جاتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ایسے حالات میں دوسری شادی میں سب سے بڑی رکاوٹ بچے ہوتے ہیں۔ بچے اپنی ماں اور باپ کی جگہ کسی اور کو دینے پر تیار نہیں ہوتے۔ حالانکہ اس معاملے میں بچوں کو خود غرض نہیں ہونا چاہیے، بلکہ حقیقت کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ اگر بچے چھوٹے ہوں اور ناسمجھ ہوں تو پھر بات بن جاتی ہے اور کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، لیکن اگر بچے سمجھ دار اور بالغ ہیں تو انھیں حقیقت کا جائزہ لینے کے بعد درست فیصلہ کرنا چاہیے۔اور درست فیصلہ وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہے۔ اسلام بیوہ کے حقوق کو پورا کرنے کی خاص تلقین کرتا ہے لیکن ہمارا معاشرہ اس کے برعکس کرتا ہے۔ہماری جھوٹی انا، لالچ اور جائیداد ہماری جان کی دشمن بن جاتی ہے۔
ایک بیوہ جنہیں بیوہ ہوئے دس سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے اپنی بیٹیوں کے ساتھ زندگی کے دن بسر کر رہی ہیں۔کہتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بیوہ کی زندگی بہت مشکل ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ اب تمہارا گزارہ کیسے ہوتا ہے؟ بچوں کے اسکول کی فیس کیسے جاتی ہے؟ اُن کا کہنا ہے کہ شوہر کی وفات کے بعد بہت سے لوگ منہ موڑلیتے ہیں۔۔۔رشتے دار ، یہاں تک کہ سگے بہن بھائی بھی پیچھا چھڑ ا لیتے ہیں کہ کہیں اب اس کی ذمہ داری ہمیں نہ سنبھالنا پڑے۔ لیکن روکنے ٹوکنے اور پابندی لگانے والے بہت آجاتے ہیں۔ رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں۔ نہ دوسری شادی کرنے دیتے ہیں نہ ملازمت کرنے دیتے ہیں۔ ایک اور جو پچیس یا تیس سال کی عمر بیوہ ہوئی تھی وہ دس سال سے بیوگی کی زندگی گزار رہی ہیں۔آپ ہی سوچیں گیا گزرتی ہوگی ایسی عورتوں پر؟؟؟
آج بھی کئی ممالک میں بیوہ پن کو بدنامی کا ایک ذریعہ خیال کیا جاتا ہے۔ کسی اچھے کام میں اسے آگے نہیں لیا جاتا۔۔۔۔۔یہ کہہ کر کہ اچھا کام خراب ہو جائے گا۔۔۔۔بیوہ اگر رنگین کپڑے پہن لے تو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آخر کب تک؟ کیوں نہیں ہم سنتِ رسول پر چلتے؟ جبکہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے مرد اور عورت کو مساوی حقوق دیئے ہیں۔کیوں نہیں بدلتے اپنی سوچ کو؟؟؟آج کےسماج کو بالخصوص نوجوانوں کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی کہ اپنے لئے کنواری لڑکی ہی نہ ڈھونڈیں بلکہ بیوہ کو بھی اپنانے کی کوشش کریں۔ ہمارے آقا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلیں۔یاد ہوگا کہ شادی کے وقت حضرت خدیجہ 40 سال کی تھیں اور آپﷺ کی عمر مبارک 25 سال تھی اور حضرت خدیجہ بیوہ تھیں۔

سیدہ تبسم منظور۔ممبئی
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال ہندوستان اردو ٹائمز
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال نوائے ملت
9870971871