صحافی عارف اقبال: حوصلے جنہیں جھک کر سلام کرتے ہیں

35

*صحافی عارف اقبال: حوصلے جنہیں جھک کر سلام کرتے ہیں*

*مفتی عین الحق امینی قاسمی*
(ناظم معہد عائشہ الصدیقہ رحمانی نگر کھاتوپور، بیگوسرائے)

بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو زندگی کے بعد کی زندگی میں شہرت وقدر کے مرتبے پاتے ہیں،مگر وہیں کچھ ایسے بھی سنسکاری ہوتے ہیں جن کاکردار،اسی زندگی میں بولنے لگتا ہے،انہیں خوددار،باکردار،جانباز اور جواں سال کم عمر صحافی جناب عارف اقبال ہیں، جنہوں نے نقش وعکس،فکر وفن کی مدد سے صحافتی دنیا میں منجمد دھاروں کا رخ ہنر مندی سے موڑنے کا کام کیا،بلکہ یوں کہا جائے تو بجا ہوگا کہ:
وہ اور ہی ہوں گے کم ہمت جو ظلم وتشدد سہہ نہ سکے
شمشیر وسنا کی دھاروں پر جو حرف صداقت کہہ نہ سکے
ا ک جذب حصول مقصد نے یوں حرص وہوا سے پاک کیا
ہم کفر کے ہاتھوں بِک نہ سکے ہم وقت کی رومیں بہہ نہ سکے
لوگ کہتے ہیں بد لتا ہے زمانہ سب کو
عارف وہ ہیں جو زما نے کو بدل دیتے ہیں
”دربھنگہ کی سرزمین صوفی، سنت، بزرگ،درویش، محقق، فقیہ، عالم، فلسفی، مجاہد، شاعر، طبیب وغیرہ تاریخ ساز شخصیت سے بھری پڑی ہے، اسی سر زمین دربھنگہ سے تعلق رکھنے والے محمد عارف اقبال کی پیدائش شہر دربھنگہ کے ریلوے جنکشن سے متصل پورب واقع محلہ کٹرہیا پوکھر،وارڈ نمبر17 ضلع دربھنگہ کے ایک علمی و دینی گھرانے میں ہوئی۔والدمحمد قاسم شہر کے سماجی کارکن، تاجراور سابق مرکزی وزیر محمد علی اشرف فاطمی کے درسی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
محمد قاسم صاحب نے اپنی چوتھی اولاد عارف اقبال کی تعلیم شہر دربھنگہ کے قدیم وتاریخی ادارہ مدرسہ امدادیہ لہریا سرائے دربھنگہ اور مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپورسے کرائی،عارف اقبال کا مزاج بچپن سے ہی صحافیانہ رہا ہے اس لئے صحافت کی طرف رخ کر لیا اورفن صحافت میں ہنر پیدا کرنے کے لئے پٹنہ گئے اورپٹنہ یونیورسٹی،پٹنہ سے ”پی جی ڈبلومہ ان اردو جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکشن“کا کورس کیا،اس سے بھی پیاس نہیں بجھ سکی توصحافت کی اعلیٰ تعلیم کیلئے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے ” & Mass Communcation T.V Journalism میں داخلہ لیا اورماہرین صحافت سے میڈیا کی باریکی تکنیکی امور کو بہتر طریقہ سے سمجھا، یہاں رہتے ہوئے آپ India News اور Zee News جیسے بڑے نیوز چینلوں سے بھی وابستہ ہوئے اورصحافتی تربیت حاصل کی۔جن اساتذہ سے آپ نے صحافت کی تعلیم حاصل کی ان میں ”آج تک“ کے مشہورصحافی وسینئر اینکر سعید انصاری، عارفہ خانم(دی وائر)، محفوظ عالم(نیوز 18اردو)، راشد احمد(قومی تنظیم)، شیوتا جھا (اینکر آج تک)، اسفر فریدی(انقلاب)،خورشید ہاشمی(سینئرصحافی)وغیرہ کے نام اہم ہیں۔ اس کے علاوہ صحافتی میدان کے دو اہم شخصیت کلدیب نیر اور روش کمارسے آپ کا قلبی اور خصوصی لگاؤ رہا ہے۔
عارف اقبال نے صحافت کے ساتھ تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھا اور مشہور تعلیمی وتربیتی ادارہ دہلی یونیورسٹی، دہلی کے شعبہ اردو سے ایم اے اور الفلاح یونیورسٹی سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے تقریباََ دو سالوں تک روزنامہ قومی تنظیم بہارکے دربھنگہ کے زونل آفس کو اپنی خدمات دے چکے ہیں اور بڑی عمدگی سے صحافت کے معیار پر اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔فی الوقت”ای ٹی وی بھارت اردو“ کے لئے سیمانچل کے ضلع ارریہ میں بحیثیت رپورٹر/کنٹنٹ ایڈیٹرخدمات انجام دے رہیں۔آپ اپنی انفرادی صلاحیت کی وجہ سے یہاں کے دیگر صحافیوں میں الگ مقام رکھتے ہیں، آپ نے اپنی خصوصی اسٹوری میں یہاں کی بنیادی مسائل اوراقلیتوں کے حقوق کو خاص طور سے جگہ دی اور قدیم سے قدیم مسائل کو زندہ کر حکومت کے سامنے پیش کیا ہے،نیز یہاں کی ادبی، تہذیبی اور ثقافتی کلچر کو عوام کے سامنے پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا،بہت کم وقت میں آپ نے سیمانچل بالخصوص ارریہ کی صحافتی میدان میں خود کو ثابت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی صلاحیت و صالحیت پر ارریہ کے دانشور قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے اور سنتے ہیں“
عارف اقبال،ایک ہونہار اور محنت کش صحافی ہیں، ان میں کام کا لگن اور حوصلہ ہے،ان کا ماننا ہے کہ زندگی میں ناممکن کچھ بھی نہیں،بس حوصلہ اور صلاحیت کی ضرورت ہے،خود ان کی یہ مختصر سی زندگی کئی عجوبوں سے مربوط ہے،جہاں قدم قدم پر انہیں تنہائی کا احساس ضرور ہوا،مگر راہ چلتے گئے،سفر طئے ہوتا رہا اور منزلیں قدم چومتی رہیں:
مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
خاص کر زندگی جینے کے لئے جو میدان انہوں نے چنا ہے،وہ تو کانٹوں بھرا تاج ہے،جہاں قدم قدم پر رہزنوں کا ڈیرہ ہے،تو وہیں آس لگائے امیدوں پہ وقت بتانے والے بہت سے ایسے دبے کچلے بے زبان کمزور،مزدور اور غریب انسانوں کا ایک بڑا طبقہ ہے،جس کی نمائندگی بھی عارف اقبال نے اپنا فرض سمجھا اوررہزنوں سے بنداس،مقصد پر اپنی نظر گڑائے حق وانصاف کی لڑائی وہ پوری ایمانداری سے لڑرہے ہیں،اپنے فرائض کی انجام دہی میں وہ کتنے چست درست ہیں، کوئی عارف اقبال کی جوکھم بھری زندگی سے پوچھے،کئی بار تو وہ بیمار ہونے کے باوجود بھی کھیت اور کھلیانوں میں سرگرداں دکھائی دیتے رہے ہیں۔سیمانچل، کثیر مسلم آبادی والاعلاقہ ہونے کی وجہ سے بے شمار ایسے بنیادی مسائل سے جھوجتا رہا ہے، جس پر خوشحال زندگی کا مدار ہوتا ہے،ایسے انگنت مسائل ہیں جنہیں ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، عارف اقبال کی بے مثال دلچسپی اور ایماندارانہ صحافت کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کی حقیقی صورت حال،اب دھیرے دھیرے سامنے آنے لگی ہے اور کہہ سکتے ہیں کہ عارف اقبال کی صحافت نے بہت سوں کی آنکھیں کھل دیں ہیں اور اب تو چار وناچار بعض صحافی اور نیتاؤں کے قدم بھی اپنی جگہ سے ہلے ہیں،مگروہ جہاں بھی جاتے ہیں، انہیں اپنے کرتوت کی وجہ سے کڑوے بول سننے پڑتے ہیں اور جس طرح پترکاروں اور لیڈروں کے احساس جگے ہیں،اسی طرح یہاں کی غریب عوام کو بھی نہ صرف اپنے حقوق کا علم ہوا بلکہ خود غرض میڈیا اور نیتاؤں کوبھی دو چارکھری کھری سنا نے کی جرات ہوسکی ہے۔
یہ عارف اقبال کا ہی جگر ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل کیلئے دوردیہات تک نکل جاتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر کبھی وہ بیل گاڑی پہ دکھتے ہیں تو کبھی کشتیوں پہ،عام لوگوں کے مسائل کو اٹھانے اور ان کی آواز انتظامیہ تک پہنچانے کے لیے انہیں ایک سے زائد بار کیچڑوں میں ننگے پاؤں بھی چلتے دیکھا ہے،وہ صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون مان کر، اس کا پورا پورا پاس ولحاظ رکھتے ہیں،اسی لئے انہیں بھوک وپیاس کا احساس ہوتا ہے نہ اُن کے کھانے کا کوئی وقت ہے اور نہ آرام وراحت کا کوئی متعین ٹھکانا:
دل کی بے تابی ٹھہرنے نہیں دیتی مجھ کو
دن کہیں رات کہیں صبح کہیں شام کہیں
یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں
زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے
اپنے اِنہیں بے چینیوں کی وجہ سے عارف اقبال،صحافت کا عنوان اور بے کسوں کی پہچان بن چکے ہیں،انہوں نے اپنے دوسالہ صحافتی ٹرم میں ذاتی عمل وکردار سے روایتی صحافت کو آئینہ دکھا نے کا مثالی کام کیا ہے۔اِن آنکھوں نے کتابوں میں کالا پانی کی کہانی اور اس کی دردناکی کو پڑھا ہے،مگر دیکھا نہیں ہے،آج عارف اقبال کی بلند نگاہی سے مربوط صحافت نے ارریا کے ڈمراؤں کا نظارہ پیش کر،جہاں کے لوگ آزادی کے 73 برس بعد بھی آج تک ایک پل سے محروم ہیں،وہ آج بھی دریاؤں اور ندیوں سے جان جوکھم میں ڈال کرگذر تے ہیں،جہاں ان کے بچے،بہو بیٹیاں اللہ بھروسے ہی پل بڑھ کر جوان ہوتے ہیں اور اسی پانی سے ہوکر شادی بیاہ اور زچگی کے مرحلوں کو طے کرتے ہیں،آج تک کسی سوشاسن پتر یا ڈیجیٹل انڈیا کے پرچارکوں کی توجہ اِ ن ووٹروں پہ نہیں پڑی جوجزیرہ انڈمان کی طرح سزاکے دن کاٹ کر آبادی سے بہت دوراپنی زندگی جینے پر مجبور ہیں۔سیمانچل کے خودداروں کے ذمہ قرض ہے کہ وہ عارف اقبال کی جتنی بھی حوصلہ افزائی کریں کم ہے، مگر ہاں انہوں نے اپنی دوسالہ صحافت کے ذریعے یہ ضرور ثابت کردیا کہ:
دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے
یوں تو بچپن سے ہی عارف اقبال کولکھنے پڑھنے کا ذوق تھا،مگر لکھنے اور شخصیات کا سامنا کرنے میں زیادہ دلچسپی رہی،اس سلسلے میں عارف صاحب کے جامع العلوم مظفر پور کے استاذ،سابق قاضی شریعت مولانا محمد زین العابدین صاحب قاسمی بیگوسرائے کہتے ہیں کہ”ارے اس بے چارے کی ہنر مندی اس وقت بھی نمایاں تھی جب وہ جامع العلوم میں بالکل ابتدائی کلاس کے طالب علم تھے،اُن میں بے باکی اور اپنی بات رکھنے کا حوصلہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے،مگر ان سب کے ساتھ ساتھ اپنے سے بڑوں کا احترام بھی ان کی گویا گھٹی میں تھا،وہ اپنی پوری بات ادب وعظمت کے ساتھ کہہ لینا جانتے تھے،کیا معلوم تھا کہ وہ آگے چل کر جمہوریت کے چوتھے ستون کا پیغامبر بن کر ابھریں گے“۔اُن کے صحافتی ذوق نے بڑے بڑوں کو نہ صرف قائل کیا ہوا ہے،بلکہ درجن بھر سے زائد اکابر علماء کرام اور دانشوران کی دعائیں اور توجہات بھی انہیں حاصل ہیں“۔اس ضمن میں بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر کلیم عاجز ان کی تصنیف و تالیف کے دورآغاز کو دیکھ کر کہتے میں ”عارف اقبال صاحب ابھی طالب العلم ہیں۔ علم و ادب سیکھنے ہی کے دوران علم و ادب کی سنجیدہ پیش کش کا کامیاب آغاز کر دیا۔ ہم ان کی ذہانت اور ہمت کی داد دیتے ہیں“۔ معروف ادیب و ناقد حقانی القاسمی کہتے ہیں ”عارف اقبال کا تعلق اس نئی نسل سے ہے جس کے اندرامکانی قوتیں بھی ہیں،ممکنہ توانائیاں بھی اور جس سے معاشرے کو بہت سی توقعات بھی وابستہ ہیں“۔عالم ادب کے معروف عالم دین حضرت مولانا بدر الحسن قاسمی کویت کے مطابق ”عارف اقبال ان با توفیق صحافیوں اور قلم کارو ں میں ہیں جو اکابر ملت و اعیان امت کی زندگی کے نقوش کو بڑی سلیقہ مندی سے محفوظ و مرتب کرتے ہیں تاکہ ان کے کارنامے آنے والی نسلوں کیلئے نشان منزل کا کام دے سکیں“۔اسی طرح صدر جمہوریہ ا یوارڈیافتہ عالم دین مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی کہتے ہیں کہ”یہ بندہ اپنی سادگی نیک مزاجی اور غیر معمولی جد وجہد کی وجہ سے کافی بلندی حاصل کرے گا،ان میں کچھ پانے کا دھن بھی ہے اورکام کاسلیقہ وگن بھی،صالح فکر اور تدبر وفن، اس نوجوان سے تاریخ رقم کرواکر رہیں گے“۔
عارف اقبال یہیں پر نہیں ٹھہرے،انہوں نے پرنٹ میڈیا میں بھی اپنی خدمات دی ہے اور یہاں بھی ان کی شبیہ بہت ہی ممتاز رہی ہے،”آپ صحافتی خدمات کے ساتھ کالم نگاری کا فریضہ بھی انجام دیتے آ رہے ہیں، اب تک علمی، ادبی،تحقیقی،صحافتی اور شخصی مضامین تین درجن سے زائدملک کے مؤقر اخبار ورسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ کہتے ہیں صحافت ایک ایسا میدان ہے جہاں عجلت ہی عجلت ہے، ایک صحافی کو مسائل اور وقت کی تنگی سے بھی لڑنا پڑتا ہے، مگر عارف اقبال نے دیگر صحافیوں کی طرح خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ذہنی بساط بھر انہوں نے پرواز میں دم خم لگادیاہے“۔
عارف اقبال کی اقبال مندی ہی کہا جائے کہ وہ روایتی صحافی نہیں ہیں،بلکہ جس طرح وہ خبروں کو ایڈٹ کرنے میں بلا کا ذہن رکھتے ہیں، شخصیتوں کو بھی اپنی پارکھی نگاہ سے دیکھتے ہیں،اگر انہیں لگتا ہے کہ اُن کی زندگی میں ملت کے لئے بہت کچھ سرمایہ ہے تو وہ بے جھجک قلم تھام کر بیٹھ جاتے ہیں اور خود سے ہزاروں صفحات لکھ کر اسے منصہ شہود پر لاتے ہوئے خراج عقیدت وصولنے میں بھی کسی سے پیچھے دیکھائی نہیں دیتے،اِس کم عمری میں ہی ”باتیں میر کارواں کی“ اور ”امیر شریعت سادس، نقوش و تاثرات“ منظر عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکی ہیں۔یہ دونوں کتابیں امیر شریعت سادس حضرت مولاناسید نظام الدین صاحبؒ، سابق جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی حیات و خدمات پر مشتمل ہیں“۔
”اب تک عارف اقبال کو صحافت اور تصنیف و تالیف کے میدان میں گراں قدر خدمات کے لئے کئی سارے اعزاز و ایوارڈسے بھی نوازا جاچکا ہے،جن میں سر سید ایوارڈ(برائے صحافت)،نوجوان قلم کار ایوارڈ(برائے کالم نگار)،سید نظام الدین ایوارڈ(برائے تصنیف)، علامہ شبلی نعمانی ایوارڈ(برائے سوانح)، بیسٹ جرنلزم ایوارڈ(برائے صحافت)، سید عبدا لرافع ایوارڈ(برائے صحافت) کے نام شامل ہیں“
کام وکردار کی طرح عارف اقبال اخلاق وعادات میں بھی ممتاز ہیں،اپنی سادگی اوربے تکلف وضع داری سمیت حسن اخلاق کی وجہ سے معاصرین کے درمیان ازخود پہچان لیے جاتے ہیں،جس طرح وہ کام کے دھنی انسان ہیں،عزم وارادہ اور پختہ کاری میں بھی طاق ہیں اُن سے گفتگو کیجئے تو لگتا ہے مدتوں کی شناسائی ہے،اور سب سے خوبی کی بات یہ ہے کہ ان میں بڑبولاپن،لہجے میں کرواہٹ یا بے رخا پن کہیں سے بھی نہیں جھلکتا،بلکہ وہ آپ سے ٹوٹ کر ملیں گے اور اگر آپ کے اندر کوئی خوبی ہے تو اس کا برملا اظہار اور ان کو سننا بھی وہ اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں،یہ وہ خوبیاں ہیں جو اچھے انسانوں کی قطاروں میں دور دور تلک نہیں ملیں گی،یہی وجہ ہے کہ معاصرین اور ہم پیشہ احباب بھی خلوص دل سے اُن کی قدر دانی کرتے ہیں۔
سیمانچل میں انہوں نے اپنا دوسالہ صحافتی ٹرم پورا کیا اور بہت سی خوبیوں اور نہ بھولنے والی یادوں کے ساتھ وہ ارریا کے ہر سطح کے افرادی وقوتوں کے درمیان رہے،انہیں یہاں جیسا بھی پیار ملا،سپورٹ ملا،درد ملا،جذبہ ملا،اِن سب سے زیادہ وہ اس بات کو اہمت دیتے ہیں کہ مجھے یہاں کے عوام کی خدمت کا موقع ملا اور مجھ سے جہاں تک بن پڑا میں نے عام عوام کی آواز بننے کی کوشش کی،ان کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا اور ان کے درد کو اپنا درد جانا،ان کے مکان ودر کو اپنا سمجھتا رہا۔