اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل نمبر چار اور پانچ

20

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل نمبر چار اور پانچ :

کسی انسان کو غلامی یا غلامی کی بندش میں نہیں رکھا جائے گا۔ غلامی اور غلاموں کی تجارت ان کی ہر شکل میں ممنوع ہوگی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل نمبر چار اور قرآن :

قرآن کہتا جو غلاموں کو آزاد کرتا ہے یہ ایک تقویٰ ، انسانوں کی خرید و فروخت کو قانون کے ذریعہ ممنوع قرار دیا گیا تھا ، اسلام کے ابتدای دور میں گرفتار قیدیوں کو جیل کی سہولت مہیا نہیں تھی اسلئے جنگ کے دوران گرفتار فوجیوں کو فاتح افواج میں تقسیم کردیا جاتا تھا ، تاکہ انھیں مناسب پناہ گاہ ، لباس اور کھانا پینا مہیا کیا جا سکے۔ مالدار قیدی جو تاوان جنگ اداء کرسکتے تھے ،اُنھیں تاوان کی ادائیگی پر اُن کو رہا کردیا جاتا تھا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کی پہلی جنگ مکہ والوں کے ساتھ جو بدر کے مقام پر ہوئی یہ جنگ بدر کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ میں پکڑے ہوئے امیر قیدیوں کو تاوان لے کر چھوڑ دیا گیا تھا ، اور جو قیدی مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سیکھا سکتے تھے اُنھے یہ تعلیم دینے کے معاوضہ کے طور پر آزاد کر دیا گیا تھا۔ تعلیم کی اہمیت کا اسلام میں کس قدر بڑا مقام ہے اس بات سے پتہ چلتا ہے۔

قرآن پاک نے اسیروں کو آزاد کرنے کے لئے مختلف مقامات پرتاکید ی طور پر بیان کیا ہے۔

سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۱۷۷ جو عام طور پر آیت الْبِرَّ کہا جاتا ہے فرمایا ہے،””راستبازی یہ نہیں ہے کہ وہ نماز کے لئے اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف موڑ دے ، لیکن واقعی نیک آدمی وہ ہے —– اور جو اپنے پیسوں ، اپنے لواحقین ، یتیموں ، مسکینوں ، پھنسے راہگیروں ، بھکاریوں اور غلاموں کی آزادیوں کے لئے خرچ کرتا ہے۔ ۔ ”

قرآن کے مطابق غلاموں کو آزاد کرنا ایک بہترین نیک عمل ہے۔

قرآن میں سورۃ النور آیت نمبر ساٹھ میں غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے خیراتی فنڈ خرچ کرنے پر مزید زور دیا گیا ہے:

زکوة مفلسوں اور محتاجوں اوراس کا کام کرنے والوں کا حق ہے اورجن کی دلجوئی کرنی ہے اور غلاموں کی گردن چھوڑانے میں اور قرض داروں کے قرض میں اور الله کی راہ میں اورمسافر کو یہ الله کی طرف سے مقرر کیاہوا ہے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے۔

زکوٰ ۃ ((لازمی چیریٹی چندہ) کے استعمال کی مذکورہ بالا آیت میں ذکر کیا گیا ہے ، اس میں سے ایک استعمال "لوگوں کو غلامی سے آزاد کرنے کے لئے بتا یا گیا ہے۔”

پرانے زمانے میں ، غلامی ایک بین الاقوامی نظام تھا جس کے تحت جنگ کے اسیروں کو غلام بنایا جاتا تھا۔ اس نظام کی وجہ یہ تھی کہ بڑی تعداد میں اسیروں کے لئے جیل کا انتظام نہیں کر سکتے تھے ، اسکے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا کہ اسیروں کو رہنے کھانے پینے کے انتظام کرنے کے لئے اُنھے غلام بنا کر فاتح افوج میں تقسیم کیا جائے۔ کچھ ظالم فاتح قیدیوں کو قتل کر دیتے تھے۔ اسلام کے اول دور میں یہ مسلئہ سب سے پہلے جنگ بدر کے بعد پیش آیا ۔ مکہ کے مشرکین جو اپنے چھڑانے کی فدیہ اداء کرسکتے تھے ان سے رقم لے کر چھوڑ دیا گیا ۔ اسلامی حکومت کے مناسب قیام کے بعد اسیروں کے متعلق واضع قوانین نافظ کیے گئے ، جیسے صرف ان ہی لوگوں کو قید کیا جاسکتا تھا جو میدان جنگ میں پکڑے گئے ۔ آزاد شہریوں ، بچوں کو اور عمر رسیدہ لوگوں سے لڑنا قتل کرنا منع تھا۔

بدلہ لینے کا قانون "آنکھوں کے لئے آنکھ” کی بنیاد پر لاگو کرنا پڑا جب تک کہ دنیا اس نظام سے نجات حاصل نہ کرسکی اور ان حالات کی وجہ غلامی سے نجات تقریباً نا ممکن تھی ۔ جنگ کی حالات میں اسیر غلام بنتے رہے۔ البتہ اسلام نے اس میں یہ آسانی پیدا کی کہ اسیر جو فدیہ دے سکتے تھے ، پیسے دے کرآزاد ی حاصل کرتے تھے ۔ حلانکہ وہ دشمن تھے اور مسلم فوج سے لڑتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ زکوٰ ۃ فنڈز کا کچھ حصہ کسی ایسے شخص کی مدد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا جو اپنی آزادی ان پیسوں کے بدلے خرید سکتا تھا جو اسے اپنے مالک کو ادا کرنا ہوتے تھے ۔ متبادل کے طور پر ، جو زکوٰۃ وصول کرنے کے ذمہ دار تھے وہ زکوٰ ۃ کے فنڈز کا ایک استعمال اس طرح سے کرتے تھے کہ اس سے غلاموں کو خریدا جائے اور پھر انھی حکام کے ذریعہ انہیں آزاد کردیا جائے گا ۔یہ زکواۃ کا ایک مصرف تھا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل پانچ :

کسی کو بھی اذیت یا ظالمانہ ، غیر انسانی یا ہتک آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آرٹیکل پانچ اور قرآن؛

قرآن میں ، ہمیں تاریخ کے اسباق سے مستقل یاد دہانی کرائی جاتی ہے اور ظلم کی سنگین برائیوں کے بارے میں ہمیں اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ، ظلم و ستم کبھی پنپ نہیں سکتے اور اس بات پر بار بار روکا گیا ہے اور متنبہ کیا گیا ہے۔

قرآن میں اللہ سورة الشعراء آیت نمبر ۱۳۰ میں ، قوم ھود کی مثال دیتے ہوئے فرماتا ہے۔

"جب آپ اپنی طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہیں تو ، یقیناً آپ ظالمانوں کی طرح ایسا کرتے ہیں۔” (26:130)

یہ مثال قوم ہود کی مثال ہے ، یہ لوگ بہت جسمانی طور پر بہت طاقتور اور مضبوط لوگ تھے اور غریب اور کمزور طبقے کے لوگوں کے ساتھ سلوک کرنے میں ان کا تکبر سب سے زیادہ تھا۔ اپنے طاقت کے غرور میں وہ دوسروں پر ظلم کرتے تھے ، بہت سارے لوگوں کی طرح ، جو مادی طاقت پر بھروسہ کرتے ہیں ، انتہائی ظلم کا استعمال کرتے ہوئے دوسروں کے ساتھ جابرانہ معاملہ کرتے تھے۔ لہذا ، ھود علیہ السلام ، انہیں یاد دلاتے تھےکہ انہیں خدا سے ڈرنا چاہئے اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا چاہیے ۔ اس طرح سے ان کے ظلم و ستم کا ازالہ ہوگا اور ظلم و تکبر رُک جائیگا ۔

اسی سورۃ میں ۱۳۱ نمبر کی آیت میں اللہ فرماتا ہے،” پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

اللہ قرآن میں سورة القصص آیت نمبر۴ میں فرماتا ہے،” بے شک فرعون زمین پر سرکش ہو گیا تھا اور وہاں کے لوگوں کے کئی گروہ کر دیئے تھے ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کر رکھا تھا ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا بے شک وہ مفسدوں میں سے تھا۔”

اور اسی طرح سورة النحل آیت نمبر۹۰ میں فرماتا ہے۔”خدا سب [کے ساتھ] انصاف ، احسان ، اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ سخاوت کا حکم دیتا ہے۔ اور وہ ان سب چیزوں سے جو شرمناک ، قابل مذمت طرز عمل، ظلم اور جارحیت سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم غور کرو اور سمجھ سکو۔ (16:90)

یہ کتاب ، یعنی قرآن ، تمام عالم کو ایک جٹ کرنے اور دنیا میں سکون اور اطمنان لانے میں اور سارے انسانیت کو منظم کرنے اور ایک بہترین نظام قائم کرنے کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ یہ پوری انسانیت کے لئے ایک عالمی پیغام کی نمائندگی کرتا ہے ، جو قبیلے ، قوم یا نسل سے کسی فرق کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ ایمان وہ واحد بندھن ہے جو تمام انسانی برادری اور تمام اقوام کو متحد کرتا ہے۔

اسلام نے ان اصولوں کو آگے بڑھایا ہے جو افراد ، گروہوں ، قوموں اور ریاستوں کے لئے معاشرے میں اتحاد ، سلامتی اور یقین دہانی کے ساتھ ساتھ مکمل پر اعتماد بناتے ہیں ، اور تمام لین دین ، اور وعدوں کو مستحکم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انصاف قائم اور برقرار رکھنا چاہئے ، کیونکہ انصاف افراد اور برادریوں کے مابین تمام لین دین اور سودے کی ایک مستحکم اور مستقل بنیاد کو یقینی بناتا ہے۔ ایسی کوئی بنیاد جو تعصب ، ترجیح یا مفاد پرستی کے تابع نہ ہو۔ ایک ایسی بنیاد جو خاندانی رشتے ، دولت اور طاقت سے متاثر نہ ہو۔ ایک ایسا اساس جو سب کے لئے یکساں سلوک کو یقینی بنائے اور سب ایک جیسے معیارات اور قوانین کے تابع ہو۔

انصاف کے ساتھ ساتھ ، قرآن کریم شفقت کی بھی تاکید کرتا ہے ، جو مطلق انصاف کی سختی کو حالات کے مد نظر درگزر کرنے کی لچک رکھتا ہے۔ اس میں ہر ایک کے لئے دروازہ کھلا ہوا ہے جو کسی مخالف کا دل جیتنا چاہتا ہے جس میں بجا طور اپنے حق کا حصہ اپنے غریب رشتہ داروں کے لئے چھوڑ کر اللہ کے نزدیک احسان کا حقدار بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سخت انصاف سے بالاتر ہوکر سب کے لئے یہ موقع موجود ہے ، جو کہ ایک حق اور فرض دونوں ہے ، تاکہ دشمنی کے زخموں پر مرہم رکھنے یا ان کا دل جیتنے کے لئے شفقت کا مظاہرہ کرسکیں ۔احسان ایک وسیع تر احساس ہے۔ ہر نیک عمل احسان ہوتا ہے۔ احسان کا حکم دینے والی آیت میں ہر قسم کا عمل اور لین دین شامل ہے۔ اس طرح یہ زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے ، یہ رب کا حکم ، کنبہ ، برادری اور بنی نوع انسان کے ساتھ تعلق کو بھی اُجاگر کرتا ہے۔

احسان کا ایک پہلو ہے ’’ ہرایک کے رشتے داروں کے لئے سخاوت ‘‘ ، لیکن اس کی اہمیت پر زور دینے کے لئے اسے یہاں خاص طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے ، یہ محدود خاندانی وفاداری پر مبنی نہیں ہے ، بلکہ مشترکہ یکجہتی کے اسلامی اصول پر مبنی ہے جو چھوٹے ، مقامی حلقے سے لے کر بڑے ، معاشرتی تناظر میں منتقل ہوتی ہے۔یہ اصول اسلامی معاشرتی نظام کے مرکزی مقام کے نفاذ کا ایک جامع حکم ہے۔ یہ آیت جس طرح سے شروع ہوتی ہے جو تین احکامات کو ساتھ لے کر تین ممنوعات کا خاکہ پیش کرتی ہے ۔

۔”خدا سب [کے ساتھ] انصاف ، احسان ، اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ سخاوت کا حکم دیتا ہے۔ اور وہ ان سب چیزوں سے جو شرمناک ، قابل مذمت طرز عمل، ظلم اور جارحیت سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم غور کرو اور سمجھ سکو۔ (16:90)

شرمناک طرز عمل کے تحت ہر وہ چیز شامل ہے جواللہ کے قائم کردہ حدود سے آگے نکل جاتی ہے ، لیکن یہ اصطلاح اکثر بے ایمانی اور بے حیائی کو ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہے۔ اس طرح ، یہ جارحیت اور خطا دونوں کو جوڑتا ہے۔ لہذا یہ شرمندگی کا مترادف ہوگیا ہے۔ ’’ قابل مذمت طرز عمل ‘‘ سے مراد ایسی کسی بھی کارروائی کی ہوتی ہے جس سے پاک نوعیت کی فطرت پر یہ ناگوار ہوجاتی ہے۔ اسلام ایسے کسی بھی طرز عمل سے روکتا ہے کیونکہ یہ خالص انسانی فطرت کا مذہب ہے۔

بہرحال انسانی فطرت مسخ ہوسکتی ہے ، لیکن اسلامی قانون مستقل رہتا ہے ، اور اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانی فطرت کس طرح ان حالات کا سامنا کریے اور اپنی فطرت قدرت کے بنایے ہوئے قانون کے عین مطابق گزارے۔

یہ قرآن کے احکمات ہم کو اس طرح کی تعلیم دیتے ہیں جو اقوام متحدہ کے اس قانون سے پوری طور سے مطابقت رکھتے ہیں ” کسی کو بھی اذیت یا ظالمانہ ، غیر انسانی یا ہتک آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

پروفیسر مختار فرید ۔

بھیونڈی