سو یا ضمیر وقت کا : شیبا کوثر

24

"سو یا ضمیر وقت کا "(ہاتھرس سانحہ سے متاثر ہوکر )
از :شیبا کوثر (آرہ، بہار) ۔

نہیں اب محفوظ کوئی ننھی کلی تم سے؟
نہیں اب محفوظ کوئی
معصوم دوشیزہ تم سے؟
نہیں محفوظ تم سے ہے
برس اسّٙی کی بیوہ بھی
میں حیران اس پر ہوں
نظر تم کو جو آجاۓ،
کلی بس آٹھ سالوں کی
نہیں کرتے ذرا سی دیر
تم اس کو مسلنے میں !!
نہ تم کو پاس غیروں کا
نہ اپنوں ہی کی حرمت ہے
ہو بس اک جسم عورت کا
فقط اتنی ضرورت ہے
نہیں ہے محفوظ عصمت
اب تو عورت کی کہیں پر بھی
نہیں ہے زندگی میں چین
نہیں ہے سکون مر کر بھی
ستم پر ستم دیکھو
پھر آدم کے سوالوں کو
ہو س اپنی بجھا کر پوچھتے ہیں
بڑی دیدہ دلیری سے
کہ اس کمسن کلی کا
بتاؤ پیر ہن کیا تھا؟
ارے تم پوچھ لو بس
اب وہ عورت ذات ہی کیوں تھی ؟
کریں کس سے فریاد یہاں
غم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں
ہمار ےمادرِ وطن پر
مولا درندے راج کر رہے ہیں
نہیں محفوظ ہے انسان
اب اپنے ہی چہار د یواری میں
میت کی بھی عزت کہ
اب تو جنازے اٹھ رہے ہیں
چند دنوں تک شور رہتا ہے
عدل و انصاف کا
نعرہ لگتا ہے
ظلم کی چکّی میں مگر کیوں
بے گناہ ہی پستے ہیں
مجرم تو سرے عام گھوم رہے ہیں کہ
انکو ڈر نہیں ۔۔۔۔۔
آخر انکی پشت پناہی
کون کرتا ہے
کوئی ہے جو اب جگا د ے
سویا ضمیر وقت کا
ہا ئے چار دن کی بے خبری
اور تانے جہنّم سے مل رہے ہیں
یہ دیکھ کر ظلم اب تو
روح بھی کانپ جاتی ہے
چھلنی ہو جاتا ہے میرا جگر بھی
ہا ئے میرا دل بھی
معصوم دوشیزہ پر
عصمت دری کہ تاز یانے
سسک رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!