مغربی اتر پردیش کی دو عظیم المرتبت شخصیات کی رحلت سے دوہرا غم

29

بوڑیہ : افسوس کہ جامعہ مظاہرعلوم وقف سہارنپور کےبلند پایہ، قدیم استاذمولانامحمدطہ مظفرپوری ثم سہارنپوری اور مغربی اترپردیش کے قدآورسیاسی رہنماء جناب قاضی رشید مسعود صاحب گنگوہی رحلت کر گئے۔
اناللہ واناالیہ راجعون
مولانا رح جید عالم دین اور لائق وفائق استاذ تھے آپ نے تقریباً۷۷/سال کی عمرپائی ایک طرف ایک مشفق استاذ تو دوسری طرف آپ مصلح ومربی بھی تھے تصوف وسلوک میں اعلی مقام پر فائز تھے۔
مولانا اوراد ومعمولات اورسنن ونوافل کے بڑے پابندتھے ان کے ہزاروں شاگردان ومریدان عالم اسلام میں پھیلے ہوئے ہیں۔
طویل عرصہ تک مظاہرعلوم کی بے لوث خدمت کی ہے۔
مولانامفتی ناصر الدین مظاہری صاحب کی اطلاع کے مطابق
"آج بھی وقت پرنمازفجرپڑھی ذکرواذکارکامعمول پوراکیاتلاوت کلام اللہ سے فارغ ہوکرتھوڑی دیرکے لئے لیٹ گئے۔(گویا ابدالآباد کے لئے آنکھ بند کرلی)
مولاناپابندی کے ساتھ مظاہرعلوم تشریف لاتے تھے چنانچہ اہل خانہ نے وقت ہونے پربیدارکرناچاہاتب پتہ چلاکہ روح قفس عنصری سے پروازکرچکی ہے۔”
اللہم اغفرلہم وارحمہم
اس موقعہ پر جامعہ مظاہرعلوم وقف کے مؤقر رکن شوریٰ رہبرملت حضرت الحاج پیرجی حافظ حسین احمد صاحب حفظہ اللہ رئیس فیض العلوم خانقاہ بوڑیہ یمنانگر ہریانہ نے قلبی تکلیف کا اظہار فرماتے ہوئے مولانا اور قاضی صاحب کے اوصاف وکمالات پر مختصراً روشنی ڈالی اور فرمایا کہ مولانا محمد طہ اور قاضی رشید مسعود صاحب رحمہم اللہ کی رحلت ہم سب کے لئے باعث رنج و الم ہے مولانا اپنے تعلیم وتربیت کے میدان کے بلند پایہ بزرگ وعالم دین تھے اور وہ بڑی بے لوثی اور اصول پسندی کے ساتھ دینی خدمات میں مشغول تھے اور سیاسی وسماجی قائد محترم قاضی مسعود صاحب اپنے میدان کے ممتاز رہمنا تھے انہوں نے گویاسیاسی وسماجی کاموں کے لئے اپنے آپ کو وقف کررکھا تھا اللہ تعالیٰ ان مرحومین کے درجات بلند فرمائے پسماندگان اور اہل تعلق کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ مولانا کی رحلت پرجامعہ میں اور سیاسی میدان میں قاضی صاحب کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوگیا ہے اس کو پرفرمائے۔جملہ حضرات گرامی ایصال ثواب ودعاء کا اہتمام فرمائیں۔ آمین
ان للہ ما أخذ ولہ مااعطی وکل شیئ عندہ بأجل مسمی فلتصبر ولتحتسب۔ والسلام
سوگوار:محمد ناصر ایوب ندوی بوڑیاوی
رفیق فیض العلوم خانقاہ بوڑیہ یمنانگر ہریانہ
۱۷/صفرالمظفر۱۴۴۲ھ م 05/10/2020ء
بروزپیر۔