بھیڑ کی سیاست

55

تحریر :خورشید انور ندوی4 اکتوبر 2020 بھیڑ کی سیاست کا عنوان، کچھ بڑا نامعتبر سا لگتا ہے.. لیکن ایسا ہرگز نہیں.. بھیڑ کی سیاست ہی دراصل جمہوری سیاست ہے.. بھیڑ ہی اصل عوام ہے.. اور بھیڑ کے مفادات کا تحفظ، اس کے حقوق کی بازیابی اور اس کے مسائل کی نشاندہی ہی عوامی سیاست کا فریضہ ہے.. پڑھے لکھے، اچھی ملازمت پر برسرکار، کاروباری برادری کے لوگ ، اپنے حقوق جانتے پہچانتے ہیں اور ان کے حصول کے طور طریقے بھی جانتے ہیں.. لیکن بھیڑ ایسی صلاحیت سے محروم ہوتی ہے.. خاص طور سے ایسے ملک میں جہاں شرح خواندگی کم ہو اور سماجی اونچ نیچ اور طبقاتی استحصال عام ہو..
مجھے ہمیشہ یہ بات کھٹکتی رہی کہ سیاست میں وراثت، ایک بڑی رکاوٹ ہے، اور نئے وارثوں اور عوام الناس کے درمیان ہم آہنگی اور میل جول کے درمیان ایک مستقل فاصلہ ہے.. جو کوئی بڑی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی.. مسائل کا ادراک، ان کی تہوں کا علم ، اور زمینی سطح کی اطلاع و اندازہ لوگوں کے درمیان رہے اور پہونچے بغیر کس طرح ممکن ہے…
شہزادے اور شہزادی کا طعنہ کھا کر بھی کانگریس کا اگوا گھرانہ لیجنڈری اسٹار اسٹائل سے باہر نہیں نکل رہا تھا.. پہلی بار دیکھا گیا کہ وہ بیریر ٹوٹا اور پریانیکا گاندھی اور راہل گاندھی نے سڑک کی سیاست شروع کی.. سڑک کی سیاست میں یہی کچھ ہمیشہ ہوتا رہا ہے جو کل پرسوں ان دونوں نوجوان قائدین کے ساتھ ہوا.. لیکن سیاسی شہرت، اور عوامی مقبولیت کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے.. مقدمات سے تو سیاست میں مفر نہیں ہے.. کہتے ہیں کہ فائر برانڈ راج ٹھاکرے پر کم وبیش تین ہزار مقدمات ہیں.. اس سے ہندوستان میں سیاستدانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا.. یہاں کا عدالتی نظام تو کمال کا ہے.. سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں جس عمل کو لاقانونیت تسلیم کرتی ہے لوور کوٹ اس کو نظرانداز کردیتی ہے.. ایک عمارت کے انہدام کے ملزمان اعتراف کے باوجود اس لئے چھوڑ دئے جاتے ہیں کہ سازش کے تحت انہدام نہیں تھا گویا جرم اگر سازش کے بغیر ہوتو جرم نہیں رہتا..
میں سیاست کی لہریں دیکھنے والے کی حیثیت سے، راہل اور پریانیکا کی نئی سیاست کے فیصلے کو بڑے دوررس نتائج کا حامل دیکھ رہا ہوں.. ان دونوں نے موجودہ بڑے عوامی مینڈیٹ کی حکومت کو بیک فٹ پر لادیا ہے.. اور سیاسی نمایندگی کے ایوانوں میں بڑی عددی برتری کی حامل قدرے مغرور حکمران جماعت کو ایک بڑا جھٹکا دیا ہے.. سیاسی گلیارے چونکے ہیں.. سراسیمہ عوام، پچھلے چھ سالوں میں پہلی بار فرنٹ سے لیڈ کرنے والے پرجوش لیڈر دیکھ رہے ہیں اور ساتھ ارہے ہیں.. ہاتھرس واقعہ پر یوگی حکومت راہل پریانیکا کی ضد جذباتیت اور طراری کے آگے جھکی ہے.. دو دن پہلے عہدیداروں کی چوکسی ماند پڑ گئی اور انھوں نے پسپائی اختیار کرلیا.. موروثی سیاست کے وارث سیاستدان اگر یہ راز پالیں تو سیاسی درودیوار میں تربیت پانے والے کی وجہ سے وہ، عام سیاستدانوں سے بہتر ثابت ہوسکتے ہیں…
بھیڑ کی یہ سیاست ایک اچھی نوید ہے، اور بڑے امکانات کی حامل ہے.. اگر راہل اور پریانیکا، بھیڑ کی سیاست کی ماہر ممتا بنرجی، اکھلیش یادو، تیجیسوری اور بائیں بازو کی قیادت کو ساتھ رکھ سکنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں..