اقوام متحدہ کے انسانی حقوق آرٹیکل نمبر تین

25
پروفیسر مختار فرید بھیونڈی
پروفیسر مختار فرید بھیونڈی

ہر شخص کو زندگی ، آزادی اور سلامتی کا حق ہے۔ (پروفیسر مختار فرید بھیونڈی) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل تین اور قرآن: قرآن کسی کی بھی جان لینے سے صریح ممانیت کرتا ہے اس طرح ہر ایک کو زندگی جینے کا بلا تفریق مذہب نسل و رنگ آزادی اور سلامتی کا حقدیتا ہے۔ کسیکی جان لینا، بغیر شرعی وجوہات اور سیوائے معقول وجہ کے پوری طرح ممنوع ہے ،جو شخص دوسرے شخص کو مار ڈالتا ہے ، یا فوج بے گناہ لوگوں کو مارتی ہے جو لڑائی نہیں کررہے ہیں ، یا ایسا رہنما جو بغیر کسی وجوہ کے لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیتا ہے۔ہر اس قسم کی حرکت قرآن کے اعتبار سے غیر شرعی اور منع ہے۔
اللہ قرآن میں سورۃ الاسراء آیت نمبر ۳۳ میں فرماتا ہے، "قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اُس کی مدد کی جائے گی”۔
اس آیت کے ان الفاظ پر غور کرنا چاہیے ،”قتل نفس” اس میں ہر جاندار چیز شامل ہے۔ اور ساتھ ساتھ یہ بتا یا گیا ہے کہ مقتول کے وارث کو یہ حق دیا گیا ہے کہ قتل اگر ناحق ہو تو وہ قصاص کا مطالبہ کرسکتے ہیں، یعنی خون بہا کا معاوضہ جو پیسوں کے شکل میں ہو یا وارث قاتل کے قتل کا مطالبہ بھی کرسکتے ہیں ، یا معاف بھی کرسکتے ہیں۔
قرآن سورۃ المائد ہ آیت نمبر ۳۲ میں فرماتا ہے۔ "اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی” مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں”۔
اسی طرح سورۃ الانعام آیت نمبر ۱۵۱ میں فرماتا ہے،” اے محمدؐ! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں: یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ا ن کو بھیدیں گے اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو”۔
یہاں کسی قتل کو انصاف کے حصول میں کی جانے والی زندگی کی تباہی سے ممتاز کیا گیا ہے۔صرف کہ کسی دوسرے انسانوں کے زندگی اور سلامتی کے حق کو نظرانداز کرکے کسی فرد نے دوسرے کا حق زندگیچھینا ہے یا نہیںایک مناسب اور اہل عدالت ہییہ فیصلہ کرسکے گی۔یہ حق کسی فرد کو حاصل نہیں کہ قتل کے بدلے خود ہی اس کا بدلہ لے۔
پیغمبر اکرم ﷺ نے شرک کے بعد قتل ہی کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔حدیث کے الفاظ کچھ اس طرح کے ہیں۔ "سب سے بڑا گناہ خدا کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا اور انسانوں کا قتل ہے۔”
قرآن مجید کی ان تمام آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات میں لفظ ‘روح’ (نفس) کو عام الفاظ میں استعمال کیا گیا ہے جس میں بغیر کسی امتیازیا کسی قسم کی وضاحت کی جاسکتی ہے جس کی وجہ سے وہ افراد جو اس شخص سے تعلق رکھتے ہیں،کسی کی قوم ، کسی ملک کے شہری ، کسی خاص نسل یا مذہب کے لوگوں کو اُن کے ان فرق کی وجہ سے اُنھے ختم یا قتلکرنا منع ہے۔حکم امتناع تمام انسانوں پر لاگو ہوتا ہے جس کی رو سے انسانی زندگی کی تباہی ممنوع ہے۔
اسلام جانوں کے تحفظ کے لئے ایک قدم آگے جاتا ہے ، اورجانوروں کی زندگی کے تحفظ بھی دیتا ہے ، چونکہ وہ جو لفظ استعمال کرتا ہے وہ ہے ، "نفس” یہ لفظ زندگی کے حامل کسی بھی مخلوق کے لئے استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ کسی بھی مخلوق کو مارنا بغیر کسی وجوہ کی بنا پر منع قرار دیا گیا ہے۔
اسلام میں جانوں کی حفاظت اور سلامتی کا حکم۔
اگر کوئی جنگ کی صورت میں بھی سلامتی کے خواہاں ہے تو ، سورۃ التوبۃ میں قرآن نے کہا ہے کہ وہ اسے نہ صرف پناہ فراہم کرو بلکہ انہیں حفاظت کی جگہ پر لے جاوْ۔
"اور اگر کوئ دشمن جنگ کے وقت تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو ، اسے امن کی جگہ پہنچا دو یہاں تک کہ الله کا کلام سنے یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگ بےعلم ہیں”۔یعنی اللہ کے کلام سے نا واقف ہیں۔
قرآن نے زندگی کے تحفظ پر زور دیا ہے اور امن کو یقینی بنایا ہے۔لہذا ، یہ کسی بھی انسان کے قتل کو اور خدا کے ساتھ میں کسی اور کو شریک کرنے کے لئے ، دونوں جرائم کو انتہائی بُرے جرم قرار دیتا ہے۔خدا ہیزندگی بخشتا ہے۔ لہذا ، کوئی شخص خدا کی اجازت اور اس کی دئے ہوئے حدود کے سوا کوئی کسی کی زندگی کو نہیں چھین سکتا ہے۔جہاں تک قتل کے قصاص کا تعلق ہے جس میں جان لینےیا اس دھرتی پر بدعنوانی پھیلانے کی سزا کے سوال کا تعلق ہے تو ، اس کا فیصلہ صرف ایک مناسب اور مجاز قانون عدالت ہی کرسکتی ہے۔اگر کسی بھی قوم یا ملک کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو ، اس کا فیصلہ صرف ایک قانونی حکومت کے ذریعہ ہوسکتا ہے۔بہرحال ، کسی بھی انسان کو خود سے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ انتقامی کارروائی میںیا اس دھرتی پر فساد برپا کرنے میں خود ہی فیصلہ کرکے انسانی جان لے۔لہذا ، ہر انسان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں انسان کی جان لینے کا قصور وار نہ ہو۔ قرآن کہتا ہےاگر کسی نے کسی انسان کا قتل کیا ہے تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا ہے۔یہ ہدایات قرآن پاک میں متعدد مقامات پر دہرائی گئی ہیں۔ہر انسانی زندگیکو تقدس حا صل ہے ، جس کو پامال نہیں کیا جاسکتا ہے، اور اس حکم کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی ہے۔سزائے موت کے لئے خدا نے جن حدودمیں اجازت دی ہے وہ بالکل واضح ہے۔وہ تعصب یا ذاتی نظریہ یا کسی اثر و رسوخ کے تابع نہیں ہیں۔
غرض اس طرح قرآن نے نا صرف انسانی زندگی ، سلامتی کی تامین دی ہے ، بلکہ اس کو پوری طور سے واضع کیا ہے۔