کب تک ہم اغیار کے دامن میں رہیں گے

27
شوکت علی دربھنگوی

شوکت علی دربھنگوی بہار کا اسمبلی چناؤ بہت قریب ہے تمام سیاسی جماعتیں اپنی پوری توانائی کے ساتھ انتخابی مہم میں سرگرم ہیں ہر کوئی اپنے ووٹروں کا دل جیتنے کیلئے رس بھری زبان استعمال کر رہا ہے۔
خاص کر مسلمانوں کو اپنا شکار بنانے کیلئے ہر حربے آزمائے جارہے ہیں ہر پارٹی مسلم قد آوار لیڈر کا چہرہ سامنے کرکے مسلمانوں کے حق میں اپنی ہمدردی اور خیر خواہی کا ثبوت دے رہی ہے۔
لیکن اب فیصلہ مسلمانوں کو کرنا ہے کہ سابق روایتوں کی طرح استعمال ہونا ہے یا پھر اپنے وجود کا احساس دلانا ہے، اداس شام کی روشنی تلے مابقیہ زندگی گزارنی ہے یا پھر چمک دمک سے پُر سورج کی شعاع تلے اپنے سفر کا آغاز کرنا ہے ، اپنی زندگی کے ٹھہرے پانی میں ارتعاش پیدا کرنا ہے یا پھر منجمد ہوکر کمزور جھولوں پر جھولنا ہے۔
کیا ہمیں اس پارٹی(جے ڈی یو)کا ساتھ دینا ہے جس نے تین طلاق ,CAA NRC بل کی حمایت کرکے مسلمانوں کے دلوں کو چھلنی کیا ہے، یا اس پارٹی (AIMIM ) کے ساتھ جو ہماری آواز میں آواز ملاکر اس بل کی مخالفت کی، کیا ہمیں اس پارٹی(بی جے پی ،کانگریس) کا تعاون کرنا ہے جسکے دامن مسلمانوں کے خون سے شرابور ہے یا اس پارٹی(AIMIM)کا جو مسلمانوں کے مستقبل کو سنوارنا چاہتی ہے، کیا ہم اس پارٹی(آرجےڈی) کا دامن تھامنا چاہتے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو ہمیشہ استعمال کیا ہے۔
بی جے پی کے ساتھ جے ڈی یو الائنس ہوتے ہی٨٠ سالہ بوڑھے کی سیتامڑھی میں ماب لنچنگ ہوجاتی ہے، اورنگ آباد کی عیدگاہ کی زمین پر بجرنگ دل کا پرچم لہرایا جاتا ہے، رام نومی کے موقع پر مسلمانوں کی دکانوں کو چن چن کر آگ کے حوالے کیا جاتا ہے روسڑا کی جامع مسجد پر حملہ کرکے بھگوا جھنڈا لہرایا جاتا ہے، فرقہ وارانہ تشدد بھڑکا کر نوادہ، بھاگلپور، مونگیر اور سیوان کے مسلمانوں کو خوفزدہ کیا جاتا ہے، کیا اب بھی غفلت کی اوڑھی ہوئی چادر کو نہیں اتاریں گے؟ کیا اب بھی ظلم کے دلدل میں رہیں گے؟ کیا اب بھی ریشم کے دھاگوں میں الجھے رہیں گے؟
بہار کا مسلمان اس پوزیشن میں ہے کہ یہاں کے سیاسی منظر نامے کو بدل دیں، مسلمانوں کی یہاں اتنی تعداد ہے کہ فرقہ پرست اور مسلمانوں کے آستین کے سانپ کو چنا چبوا سکیں، لیکن شرط یہ ہے کہ بہار کا مسلمان متحد ہوکر صحیح فیصلہ کرے، ذاتی مفاد و عناد کو پس پشت ڈال کر ملی مفاد کیلیے قدم آگے بڑھائے تب جاکر مسلمانوں کی سیاسی تقدیر بدلے گی۔
ان شاءاللہ