میوات کے شاہ ولی اللہ حضرت مولانا عبد السبحان صاحب قدس سرہ

22

میوات کے شاہ ولی اللہ حضرت مولانا عبد السبحان صاحب قدس سرہ میو قوم بانی تبلیغ کی آمد سے پہلے
جب کسی قوم کے اندر دینی دینی بے راہ روی ہندوانہ رسوم و رواج اور عقائد و نظریات میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس قوم کی صحیح رہبری اور دین حق کی طرف رہنمائی کرنے کے لیے اپنی برگزیدہ مقدس اور پاکباز ہستیوں میں سے کسی ایسی ہستی اور ایسی شخصیت کا انتخاب فرماتے ہیں جو ان کی کایا پلٹ کر رکھ دیتی ہے اور اُس کی خصوصی توجہات سے وہ اس شعر کے مصداق بن جاتی ہے
*خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے*
*کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا*
قارئین محترم یہی حالت زار میؤ قوم کی تھی اس کا صحیح اندازہ *ابو عاصم میواتی* کی اس تحریر سے لگایا جاسکتا
*”بانی تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس نے جب دعوت وتبلیغ کے کام کا آغاز کیا تو اس وقت میو قوم میں تہذیب و تمدن؛ اخلاق و شرافت؛ دین و دیانت کی کوئی ہلکی سی کرن موجود نہیں تھی یہ لوگ پہلے سے مسلمان ضرور تھے مگر کسی رخ سے بھی وہ حقیقت میں مسلمان کہلانے کے حقدار نہیں تھے ان کے نام ماتا سنگھ؛ پرہلاد سنگھ؛ بھیم سنگھ؛ کفار جیسے نام ہوا کرتے تھے حتی کہ پوجا پاٹ پر بھی اتر آیا کرتے تھے؛دیوی، دیوتا اور بھوانی تک کی پرستش بھی کرتے تھے حد تو یہ تھی کہ گوبر تک کی بھی پوجا کرتے تھے اور ان کے مراکز عقیدت اور عبادت گاہوں کے نام بھی ہندوانا ہوا کرتے تھے مثلا پنج پیرا، بھیسا؛چاہنڈ؛ کھیڑا دیو، مہادیوی؛اور ان پر قربانیاں بھی چڑھاتے اور پوجتے بھی تھے ۔مرد دھوتیاں پہنتے اور عورتیں گھگھریاں باندھتی تھی، ہاتھوں اور پیروں میں عورت مرد سبھی چاندی کے بڑے کڑے پہنتے، عموما سبھی لوگ ڈاڑھیاں منڈواتے اور لمبی لمبی مونچھیں رکھتے تھے اور کانوں میں سونے کی مر کیا پہنتے تھے کہّدرکا ہاتھ کا بناہوا لباس پہنتے تھے*
*عقائد اور شکل و شبہات پر ہندوانہ رسوم کا غلبہ تھا نمازیوں کو دیکھ کر ہنسنا اور مذاق اڑانا اور ان کو حیرت سے دیکھنا انکا عام شیوہ تھا،*
*حتیٰ کہ اکثر لوگ ہندوؤں کی ہولی بھی گایا کرتے تھے ان کی بودوباش طور طریق موجودہ دور میں خانہ بدوش نٹوں جیسا تھا عورت مرد کسی کو بھی دیکھ کر کوئی ان کو مسلمان نہیں کہہ سکتا تھا’*
*حضرت مولانا شاہ محمد الیاس اختر صاحب کاندھلوی کو اللہ تعالیٰ ان کی خدمات جلیلہ کا اپنی شی
*شایان شان بدل عطا فرمائے جنہوں نے میواتیوں کے پژمردہ دلوں کو تازگی اور قوت ایمانی کو تابندگی بخشی*
خطہ میوات میں جو دینی شعور و آگاہی اور سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں مدارس دینیہ اور مکاتب اسلامیہ نظر آرہے ہیں میں اگر یہ کہوں تو بجا ہوگا یہ اس مقدس اور بابرکت تحریک کے دین ہے جس کو فرشتہ صفت انسان نے اپنی مخلصانہ کوششوں اور جان و مال کی بے لوث قربانیوں کے ذریعہ وجود بخشا جس کی نظیر ہمیں خال خال نظر آتی ہیں
*آپ کی ولادت*
علوم و معارف کے بہر بے کراں وراثت نبویہ کے پاسباں نابغہ روزگار استاد الاساتذہ حضرت مولانا عبد السبحان نور اللہ مرقدہ و برد مضجعہ کی ولادت باسعادت میوات کے مشہور و معروف گاؤں آلی میؤ کے نگلہ ناٹولی میں ہوئ آپ جس خانوادے کے جشم و چراغ تھے اس میں دینی انحطاط کی وجہ سے علوم قرآنیہ اور سنت نبویہ کا تصور بھی ممکن نہ تھا
چنانچہ جب آپ سن شعور کو پہنچے تو علاقہ کے عام ماحول اور آباؤ اجداد کے قدیم دستور کے مطابق زراعت اور کاشتکاری کے پیشہ اور کاروبار سے منسلک ہوگئے یہ آپ کی فطری عادت تھی کہ آپ جس کام کی ذمداری کا بیڑا اٹھا لیتے اس کو تندہی اور بڑی ہی خوش اسلوبی کے ساتھ پائے تکمیل کو پہنچاتے مگر باری تعالٰی نے آپ کو زمینی کاشتکاری اور زراعت کی ترقی و خوشحالی کیلئے نہیں بلکہ عوام کے دلوں کی بنجر اور غیر ذی زرع زمین میں علوم و معارف کا پاکیزہ بیج دبا کر علم و عرفان کا گنج گرانمایہ تیار کرنے کے اہم فریضہ سرانجام دینے کے لئے پیدا فرمایا ہے باری تعالٰی کی توفیق نے رہبری فرمائی اور آپ اپنے جملہ کاروبار کو خیرآباد کہتے ہوئے طلب حق اور حصول علم کے لئے دہلی کا قصد کیا اور حضرت مولانا محمد صاحب کاندھلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے مدعا کہ سنایا
آپ نے حضرت مولانا عبد السبحان صاحب کو فورا ہی اپنے سایہ عاطفت میں لیا
آپ نے حصول علم کی خاطر کیسی کیسی تکالیف کو خوش دلی سے برداشت کیا اور کن کن آلام و مصائب کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا ان کو بیان کرنے کی میں اپنے قلم میں طاقت نہیں پاتا
درس نظامی کی کتب ابتدائیہ و متوسطہ حضرت مولانا محمد صاحب سے اور باقی کتب متداولہ ماہرین فنون حضرت مولانا سکندر وغیرہ سے پڑھیں
اور دورۂ حدیث شریف مدرسہ امینیہ میں مفتی اعظم ہند حضرت مولانا محمد کفایت اللہ صاحب قدس سرہ اور حضرت مولانا محمد ضیاء الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ سے پڑھا
*اکابر علماء کرام کی نظر میں*
چنانچہ جب اعطاء سند اور دستار بندی کی تقریب منعقد ہوئی تو آپ کے اساتذہ کرام نے آپ کے تعلق سے جو کلمات کہے وہ آپ کی تبحر علمی اور اساتذہ کی نظروں میں آپ کی قدر و منزلت کی سب سے بڑی دلیل ہے فرمایا *آپ کو سند کی کیا ضرورت ہے عبد السبحان تو خود ایک سند ہیں*
یوں تو آپ بے پناہ صلاحیتوں کے اور گوناگوں خصوصیات کے مالک تھے
حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب اٹاوڑی اپنی خود نوشت "یاد ایام "میں ص367 پر لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری قدس سرہ کا یہ ارشاد گرامی دوران طالب علمی بارہا سنا کہ *”مولانا عبد السبحان صاحب تو ایک ہزار پہلے کی ارواح میں سے ایک روح ہیں”* یعنی حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ سے بھی پہلے اولیاء کرام و حاملین وراثت سید الانام کے نفوس زکیہ جن اوصاف حمیدہ سے متصف اور جن خصوصیات کے حامل تھے انہی پاکیزہ نفوس و قدسی صفات سے زمرہ کے ایک فرد حضرت مولانا عبد السبحان تھے”
ص 368 پر تحریر کرتے ہیں کہ *”جب مولانا مرحوم کو حضرت مولانا محمد الیاس صاحب نور اللہ مرقدہ بیعت کی غرض سے اپنے مرشد حضرت مولانا خلیل احمد صاحب محدث سہارنپوری قدس سرہ العزیز کی خدمت میں لے گئے .حضرت نے بیعت کی درخواست کی. حضرت سہارنپوری نے فرمایا :مولوی الیاس "ان کو بیعت کی کیا ضرورت ہے. انہیں تو بیعت کا مقصد پہلے ہی سے حاصل ہے”*
اسی ص پر
مولانا عبد الستار کے حوالے سے لکھتے ہیں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی فرمایا کرتے تھے کہ *”اگر کسی کو زندہ ولی دیکھنا ہو تو مولانا عبدالسبحان صاحب میواتی کو دیکھ لیں”*
شیخ الاسلام آپ کا کس قدر احترام فرماتے تھے اس اندازہ حضرت مولانا اسحاق صاحب کے سفر حج (1954ء)کے اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے مولانا فرماتے ہیں شیخ الاسلام رحمہ اللہ علیہ اسی سال سفر حج کے دوران ایک جم غفیر سے خطا ب فرمارہے تھے تو ہم بھی سننے کی غرض سے اس نورانی مجلس میں پہنچے مگر جگہ کی تنگی کی وجہ سے ہمیں بیٹھنے کے لئے جگہ نہ ملی تو حضرت مولانا عبد السبحان صاحب شیخ الاسلام سے نظریں چراتے ہوئے سیڑھیوں میں جوتییوں کے اوپر بیٹھ گئے حضرت مدنی کی نظر پڑتے ہی فرمایا کہ *”آپ یہ کیا کرتے ہیں کھڑے ہوئیے میرے پاس آئیے آپ کی جگہ وہاں نہیں یہاں ہے آپ آگے بڑھے تو شیخ الاسلام نے آپ کے احترام میں اپنی مسند چھوڑ کر نیچے اتر آئے”* اللہ اللہ کیا تواضع تھا حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا
بانی و مبانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا محمد الیاس صاحب قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ *”حضرت مولانا عبد السبحان میواتی تو علم کی مشین ہے”*
مولانا اسحاق صاحب لکھتے ہیں واقعی حضرت الاستاذ کی یہی شان تھی. صبح سے شام تک اسحاق کا ایک سلسلہ تھا جس فن میں کتاب شروع فرماتے بس اس میں کھو جاتے تھے فن کے نکات ودقائق اور مسائل و مشکلات کا حل کرنا اور ذہن نشین کرادینا حضرت مولانا کی امتیازی شان تھی.
راقم الحروف کھلے بندوں یہ اعترف کرتا ہے کہ حضرت مولانا عبد السبحان صاحب رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ کی حیات مبارکہ کے جملہ حالات و واقعات اور کیفیات کو قید تحریر میں لانا اگر محال نہیں تو مشکل ضرور ہے
___________

یوسف حیدرمیواتی ندوی
___________
پیش کردہ: محمد مبارک میواتی آلی میو