علامہ ارشد القادری: ہاں! مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے : از قلم:وزیر احمد مصباحی (بانکا)

51

(موجِ خیال) یقیناً علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ، ماضی قریب کی ایک شش جہات و عہد ساز شخصیت کا نام ہے. جنھوں نے اپنی پوری زندگی اللہ و اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے لیے تن من دھن کی بازی لگا کر دین و سنیت کی آبیاری فرمائی. تحریر و تقریر، سیاست و قیادت اور تصنیف و تالیف کے میدان ہوں یا امت مسلمہ کی زلف برہم کو سنوارنے کے لیے کوسوں دور کا سفر، ہر ایک محاذ پر آپ نے گہرا نقش چھوڑا ہے. آئیے آئندہ سطور کی مدد سے قدرے آپ کی باکمال حیات سے آشنائی حاصل کرتے ہیں۔
ارشد القادری ہندوستان میں ایک حنفی سنی اسلامی مسلم عالم دین تھے۔ ان کا تعلق بریلوی مسلک سے تھا۔__

نام:-?? اصل نام غلام رشید ہے لیکن قلمی نام ارشد القادری سے مشہور ہیں والد عبد اللطیف رشیدی.

ولادت:-?? آپ5 مارچ 1925ء اتر پردیش کے ضلع بلیا کے سیدپورہ گاؤں میں پیدا ہوئے.

تعلیم:- ?? ابتدائی تعلیم گھر کے علمی ماحول میں حاصل کی، پھر تقریباً آٹھ سال حافظ ملت حضرت علامہ عبد العزیز محدث مبارکپوری بانی جامعہ اشرفیہ، کی آغوش تربیت میں رہ کر اکتساب علم کیا۔1944ء میں دار العلوم اشرفیہ کے سالانہ جلسہ ? دستار بندی میں آپ کو سند فضیلت سے نوازا گیا۔ اس کے بعد آپ تدریس کے لیے ناگ پور پھر وہاں سے 1952 میں جمشید پور تشریف لے آئے۔ نصف صدی سے زائد پر محیط تدریسی دور میں تقریباً ڈیڑھ ہزار طلبہ نے آپ سے اکتساب علم کیا آپ ایک صاحب طرز ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ تحقیقی ذہن وفکر رکھنے والے صاحب قلم بھی تھے۔ آپ کی نثر میں بلا کی جاذبیت وہ کشش پائی جاتی ہے میرے اس دعوے کی واضح دلیل ہے.

تصنیفات: – ?? آپ کی تین درجن سے زائد تصنیفات وتالیفات ہیں جن میں

زلزلہ،
زیروزبر،
لالہ زاربطور خاص قابل ذکر ہیں۔

کارہاے نمایاں:- ?? آپ نے پورے ملک میں مدارس ومساجد کا ایک جال بچھا دیا ہے۔ آپ کی دو درجن سے زائد تصانیف متعدد کتب پر مقدمہ اور

تقریظ جام نور،جام کوثر،رفاقت، شان ملت کے علاوہ ملک کے مختلف جرائد و رسا ئل میں آپ کے شہہ پارے آپ کی ادبی حیثیت کا ثبوت ہیں۔
ملک سے باہر بھی آپ نے کئی ادارے قائم کیے ہیں۔ جن کی مجموعی تعداد تین درجن سے زائد ہے جن میں جامعہ حضرت نظام الدین اولیا دہلی،ادار? شرعیہ،عالمی دعوتی، اصلاحی تحریک دعوت اسلامی،ورلڈ اسلامک مشن لندن، جامعہ مدینۃالاسلام ہالینڈ، دار العلوم علیمیہ سورینام امریکا، مدرسہ فیض العلوم جمشید پور وغیرہ کا قیام آپ کے زرین کارنامے ہیں۔
انہوں نے ملی،جماعتی،مفاد میں ملک وبیرون ملک سینکڑوں مضبوط ومستحکم قلعہ تعمیر کرنے کے باوجود اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے ایک جھونپڑی بھی نہیں بنا ئی۔

القابات:- قائد اہل سنت، رئیس القلم.

وفات: – ارشد القادری 29 اپریل 2002ء) کو وفات پا گئے۔
_______________-__________-___
اللہ کریم نے گوناگوں خصوصیات و کمالات سے آپ کو خوب خوب نوازا تھا…. عشق نبی کی دولت لازوال تو خوب خوب پائی تھی. یہی وجہ تھی کہ جب آپ کبھی تصور جاناں کی طرف لو لگا کر صفحہ قرطاس پر اشعار رقم فرماتے تو بالکل روانگی کے ساتھ اظہارِ عقل و خرد کرتے چلے جاتے اور پھر جب اسے گنگناتے تو ایسی بلا کی چاشنی ملتی کہ پورا وجود تاجدارِ مدینہ کی حسین یادوں سے بھیگ جاتا اور ساتھ ہی دل مضطر کو بھی قرار آ جاتا. آپ کی ہر ایک نعت عشق نبی کی رنگ سے معمور ہے….آپ کا ایک نعتیہ مجموعہ بھی بنام ”اظہارِ عقیدت” مارکیٹ میں دستیاب ہے. راقم الحروف کو یہ نعت تو بے حد پسند ہے. لیجیے ??آپ بھی گنگنائیں اور صاحب کون و مکان کی حسین یادوں میں گم ہو جائیں. ___

بہرِ دیدار مشتاق ہے ہر نظر دونوں عالم کے سرکارآجائیے
چاندنی رات ہے اور پچھلا پہر دونوں عالم کے سرکارآجائیے

سدرۃ المنتہیٰ، عرش وباغِ ارم ہر جگہ پڑچکے ہیں نشانِ قدم اب تو اک بار اپنے غلاموں کے گھر دونوں عالم کیسرکار آجائیے

شامِ امید کا اب سویرا ہوا شہرِ طیبہ نگاہوں کا ڈیرا ہوا
بچھ گئے راہ میں فرشِ قلب ونظر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

سامنے جلوہ گر پیکرِ نور ہو منکروں کا بھی سرکار شک دور ہو
کرکے تبدیل اک دن لباسِ بشر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

دل کا ٹوٹا ہوا آبگینہ لیے جذبہ? اشتیاقِ مدینہ لیے

کتنے گھائل کھڑے ہیں سرِ رہ گزر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

میرے گلشن کو اک بار مہکائیے اپنے جلوئوں کی بارش میں نہلائیے
دیدہ? شوق کو کیجئے بہرہ ور دونوں عالم کے سرکار آجائیے

تاابد اپنی قسمت پہ نازاں رہیں خاک ہوجائیں پھر بھی فروزاں رہیں
دل کی بزمِ تمنا میں اک بار اگر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

آخری وقت ہے ایک بیمار کا دل مچلنے لگا شوقِ دیدار کا
بجھ نہ جائے کہیں یہ چراغِ سحر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

شامِ غربت ہے اور شہر خاموش ہے ایک ارشدؔ اکیلا کفن پوش ہے
خوف کی ہے گھڑی وقت ہے پُر خطر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

(مضمون نگار: جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے ریسرچ اسکالر ہیں)