بھارت کی ٹوٹتی ہڈی اور سسکتی جمہوریت؟: محمد قاسم ٹانڈؔوی

66
ویسے ہماری آج کی تحریر کا موضوع اور دائرہ (2/اکتوبر) بمناسبت گاندھی جی کا یوم پیدائش تھا، کیوں کہ اس دن ستیہ (سچ) کے پجاری اور آہنسا (امن) کے حامی؛ مہاتما گاندھی (باپو جی) کا یوم پیدائش دنیا بھر میں پورے تزک و اہتشام اور ہندوستانی اقدار و روایات کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ سرکاری و نیم سرکاری محکموں، اداروں اور تعلیم گاہوں کی اس دن تعطیل رہتی ہے۔ ( بس تعطیل کا یہی عمل اس دن کی اہمیت و معنویت کی عکاسی کرنے کےلئے کافی ہے) اسی وجہ سے اہل علم و میدان صحافت سے وابستہ حضرات کو اس دن کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کرنے کے واسطے اس معنی کر بھی لکھنا اور روشنی ڈالنا ضروری سمجھنا چاہیے کہ آج سچ کو اپنانے اور سچائی کے اختیار کرنے والوں کو کیسے کیسے  پریشان کیا جا رہا ہے؟ امن کے رکھوالوں اور امن کی مشعل اٹھانے والوں کی راہیں بزور طاقت و اقتدار کس طرح محدود و مسدود کی جا رہی ہیں، نیز جن دو اصولوں اور راستوں پر گاندھی جی نہ صرف خود ہمیشہ چلتے رہے بلکہ انہوں نے انہیں دو اصولوں پر اس ملک کے خوش و خرم اور آباد و شاداب رہنے کی بنیاد رکھی تھی، آج وہ دونوں نزع کے عالم میں ہیں اور دونوں چیزیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ کیوں کہ میڈیا؛ جس کی اولین ذمہ داری اور ترجیحات میں جو چیز شامل ہونی چاہیے تھیں، وہ یہی تھی کہ: وہ اپنی طاقت و استعداد کے ذریعے اس ملک کے عوام کے سامنے سچائی کو پیش کرے، یا جس فرقے، طبقے اور پیمانے کے لوگ طاقت و اقتدار کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور ملک و ملت کے خلاف ناپاک حرکتیں اور سازشیں کر رہے ہیں، ان تمام سے پردہ اٹھا کر ان کو سچائی کا آئینہ دکھاتے ہوئے میڈیا ان کو بےنقاب کرتا، تاکہ یہ ملک جسے ہمارے اکابرین اور مجاہدین نے بڑی دقت و پریشانی اور تمام تر جان و مال کی قربانی پیش کرنے کے بعد آزادی دلائی تھی، اس کی آن بان شان مکمل طور پر سالم اور اس کی جمہوریت ہر اعتبار سے محفوظ و مکرم رہتی۔ مگر افسوس! ہمارا یہ قومی میڈیا تاریخی واقعات اور موجودہ حالات کو سمجھے بغیر بدقسمتی سے پانی کے بہاؤ کی مانند بہہ گیا اور برسراقتدار ٹولے اور چند اہل ثروت گھرانے کا وفادار بن کر رہ گیا، جس کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر نہ تو تاریخی شواہد کو پیش نظر رکھنا گوارہ کیا اور نہ ہی اپنے کرتوتوں کی بدولت ملک پر خطرات کے منڈراتے بادل کی طرف دھیان دینا مناسب سمجھا اور وہ رات و دن زعفرانی خیمہ سے حاصل شدہ خبروں کی ترسیل و اشاعت میں خود کو منہمک کر زر خرید غلام کی حیثیت سے اپنے آقاؤں کی چاپلوسی اور ان کے تلوے چاٹتے ہوئے ملک اور اس کی ایک سو پینتیس کروڑ کی آبادی کے جذبات و احساسات سے کھلواڑ کرتا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ وہ ان اہم باتوں اور خاص مدعوں سے عوام کا ذہن بھٹکاتا رہا بالفاظ دیگر سیدھے سادے عوام کے ذہنوں میں نفرت و تعصب کا زہر گھولتا رہا جس کی تاب لانا ایک عام آدمی کےلئے مشکل کام ہوتا ہے۔ مگر ہمارا یہ بکاؤ اور زعفرانی رنگ میں رنگا میڈیا اپنے مشن کو برابر آگے بڑھاتا رہا اور زہر میں ڈوبے اپنے نشتر عوامی ذہنوں پر مسلسل چلاتا رہا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج انسانی جانوں بالخصوص صنف نازک کے ساتھ حیوانیت و درندگی عروج پر ہے، شیطان نما انسان جگہ جگہ کم سن بچیوں اور راہ چلتی دوشیزاؤں کو اپنا شکار بنا کر ان کی عزت و عصمت کو تار تار کر اپنی حوس مٹا رہے ہیں، جنہیں نہ تو پولس کا کوئی ڈر خوف ہے اور نہ ہی قانون و عدالت کی کارروائی کا کچھ اندیشہ؟ کیوں کہ انسانی جانوں کے دشمن ان درندوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ قومی میڈیا تو اس وقت سرکاری میڈیا بن کر کام کر رہا ہے، جسے ہندو مسلم تفریق ہی سے فرصت نہیں۔ دوسرے ہمارے جو حکمراں ہیں وہ اولاد کے دکھ درد سے آشنا نہیں، ایسے میں ہمارا کون کیا بگاڑ لےگا؟ رہی بات حفاظتی دستوں اور پولس اہل کاروں کی تو انہیں کچھ لے دے کر معاملہ رفع دفع اور کیس ختم کرا لیں گے۔
الغرض ملک میں اس وقت ہر طرف بےچینی، انارکی، خود غرضی، افرا تفری اور دہشت و وحشت پاؤں پھیلائے ہوئے ہے۔ جس کا جیتا جاگتا ثبوت ہاتھرس/علی گڑھ کا دل سوز واقعہ ہے، جہاں دو ہفتے قبل (14/ستمبر کو) ایک دلت لڑکی کے ساتھ وہی گھناؤنا کھیل اور ناپاک حرکت کی گئی جو 16/دسمبر/2012 کی سرد رات میں ملک کی راجدھانی دہلی کی سڑکوں پر دوڑتی ایک بس میں کی گئی تھی۔ یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ واقعہ جب بھی کوئی رونما ہوتا ہے تو ماضی میں اس قبیل کا جو بھی حادثہ ہوا ہوتا ہے تو اس کی یادیں اور دلخراش لہریں عوامی ذہنوں پر سے بجلی بن کر گرتی ہیں، جس سے حالات میں سراسیمگی اور ڈر و خوف پیدا ہونا فطری ہوتا ہے۔ چنانچہ ہاتھرس میں رونما ہوئے اس واقعہ سے ماقبل میں پیش آئے واقعات کے متعلقہ تمام افراد کا بھی دل افسردہ اور طبیعت رنجیدہ ہونا ایک فطری امر ہے۔ مگر قانون کے رکھوالوں اور اقتدار کی کرسی پر فائز لوگوں کو پیش آمدہ واقعات سے کوئی سبق حاصل کرنے کی کوشش اور ضرورت نہیں ہوتی۔ دیکھ لینا اب کی بار بھی وہی سب کچھ ہوگا جو ہر وقوع پذیر حادثہ اور رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعہ کے بعد ہوا کرتا ہے کہ چند (مرد و خواتین) پر مشتمل اشخاص متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کےلئے سڑکوں پر اتریں گے، جن کی طرف سے احتجاج و مظاہرہ ہوگا، روڈ اور سڑکوں کو بلاک کیا جائےگا، رسمی طور پر کینڈل مارچ بھی نکالیں گے اور وقتی طور پر عورتوں اور بچیوں کے تحفظ میں صدائے دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے صدائے احتجاج بھی بلند کیجائےگی؛ مگر نتیجہ ! وہی صفر کا صفر ہوگا، کیونکہ ان کا یہ تمام عمل وقت کے گزرنے کے ساتھ قانون سازی اور حکمرانی کرنے والوں پر فراموشی کی چادر ڈال کر آگے بڑھ جائےگا اور پھر ان کی یہ سستی و لاپرواہی اگلے کسی نکمہ، ناہنجار و نامراد اور بدطینت و بدقماش شخص یا ٹولے کو ایسے ہی حادثہ کو انجام دینے کا حوصلہ و ہمت بخشےگا۔
خیر دیکھتے رہیں اور اپنی یا اپنے اہل خانہ پر ایسی کسی منحوس گھڑی کے آنے سے پناہ مانگتے رہیں، کیونکہ حکومتیں گونگی، بہری اور اندھی بن کر کام کرنے میں مشغول ہیں، جن کے سائے میں کب کیا ہو جائے؛ اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے۔ آپ ذرا اندازہ کیجئے کہ: ہاتھرس کی اس بٹیا کے ساتھ جو ہوا وہ بےحد درد ناک و شرمناک اور انتہائی خوفناک تو تھا ہی لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھنے کے قابل بات ہے کہ درندوں نے واردات کو اسی طریقے پر انجام دیا ہے، جو 2012 میں نربھیا کے ساتھ دہلی میں کیا گیا تھا، جیسے وہاں اجتماعی عصمت دری کے بعد متاثرہ کو موت کے منھ میں ڈھکیل دیا گیا تھا تاکہ وہ بیان بازی کے قابل نہ رہے، ویسے ہی ان درندوں نے یہاں بھی کیا کہ اول لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی، اس کے بعد اپنی حیوانیت کے ثبوت مٹانے کےلئے وہی کھیل کھیلا جو نربھیا کے ساتھ شیطان صفت لوگوں نے کھیلا تھا کہ اسے مار پیٹ کر ادھ مرا کیا، جھاڑیوں میں پھینک دیا، زبان کاٹ دی گئی یہاں تک اس کی ریڑھ کی ہڈی تک توڑ دی گئی تاکہ وہ کسی قابل نہ رہ سکے یا زندہ ہی نہ بچ سکے، جس میں یہ درندے بہت حد تک کامیاب بھی رہے۔ کیونکہ یہاں کا منظر بھی وہی سب پیش کر رہا تھا جو نربھیا پر گزری حالت پیش کر رہی تھی۔ اور جیسے اس وقت زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے نربھیا نے دوران علاج ہسپتال میں دم توڑا تھا، آج (29/ستمبر، دو ہفتوں کے بعد) ہاتھرس کی یہ دلت متاثرہ بھی دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں موت و حیات کی جنگ لڑتے لڑتے زندگی ہار گئی اور انسانوں کا روپ دھارے درندوں کی شکار یہ لڑکی بھی قانون کے رکھوالوں اور اقتدار کے بھوکوں کے سامنے اپنے پیچھے وہی سوالات چھوڑ گئی جو ہر مظلوم اور عوامی زیادتی کا شکار چھوڑ کر جاتا ہےکہ:
کب تک اس طرح ملک و سماج کو عالمی سطح پر شرمندہ کیا جاتا رہےگا؟
کب سماج کو ان درندوں کی درندگی اور انسانی جانوں کے دشمنوں سے مکتی ملےگی؟
کب حکومتی اداروں میں بیٹھنے والے اور حفاظتی دستوں سے وابستہ افراد اپنی ذمہ داری کو مکمل دیانت داری کے ساتھ نبھانے والے ہوں گے؟
اور سب سے بڑھ کر عدالتی ادارے اور سرکاری محکمے ایسے توہین آمیز رویہ اپنانے والوں کی فی الفور سرکوبی اور انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والے ٹولے کو برسر عام کیفر کردار تک پہنچانے پر کب آمادہ ہوں گے؟
یہ چند ایسے سوالات ہیں جو اس طرح کے ظلم و ستم سہنے یا موت کے گھاٹ اتر جانے کے بعد ہر مظلوم اپنے سینے میں لےکر اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے اور اپنے پیچھے عوام و خواص کے دل زبان پر قانون و انصاف کی دہائی کا تذکرہ چھوڑ جاتا ہے، تاکہ حساس دل، زندہ ضمیر اور شعور و آگہی رکھنے والے افراد اس کی موت کے بعد اٹھیں اور حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مضبوط و خوشحال سماج کی تشکیل کے واسطے قانون بنانے پر مجبور کریں۔ اور بزبان حال طاقت قلم رکھنے والوں کی توجہ بھی اس طرف مبذول کراتے ہیں کہ:
"دیکھو ! میری تو ریڑھ کی ہڈی ٹوٹی ہے مگر تم میرے بھارت کی ہڈیاں مت ٹوٹنے دینا اور میری تو زبان کٹی ہے مگر تم انصاف اور جمہوریت کی زبان مت کٹنے دینا”۔