غاصب اسرائیل سے امن معاہدے کی کوشش میں مصروف مسلم ممالک: از: خورشید عالم داؤد قاسمی

22

خلافت عثمانیہ کا خاتمہ مسلمانان عالم کے لیے ایک بہت بڑا المیہ تھا۔ خلافت کے خاتمہ کے بعد، جہاں مسلمان ٹکڑوں میں بٹ گئے اور ان کی طاقت منتشر ہوگئی،  وہیں دوسری طرف بہت ہی سوچی سمجھی سازش کے تحت اسرائیل کے نام سے ایک صہیونی ریاست کے قیام کا منصوبہ تیار کیا گیا اور بالآخر سن 1948 ء میں، فلسطین کی زمین پریہ صہیونی ریاست قائم کی گئی۔ تاریخ اس بات کو محفوظ رکھے گی کہ آج دنیا جس ناجائز وجود کو ریاست اسرائیل کے نام سے یاد کرتی، وہ در حقیقت فلسطین کا حصہ ہے جو فلسطینیوں کی آبائی زمین پر، زور زبردستی سے قائم کی گئی ایک صہیونی غاصب وقابض ریاست ہے۔فلسطینیوں کی زمین پر اس ریاست کے قیام کا واضح مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے دشمن کو پوری دنیا سے اٹھا کر، قلب عرب  میں جمع کیا جائے، اس کی مادی وعسکری مدد کی جائے  اور پھر اس کے ذریعے پورے عرب خطہ کو کنٹرول میں رکھا جائے۔ منصوبہ بنانے والے اپنے منصوبہ میں کام یاب ہوگئے، مگر بد قسمتی سے عرب ممالک  اس منصوبہ کو سمجھنے میں ناکام رہے۔

اس غاصب صہیونی ریاست کے قیام کے فورا بعد، اس کو  رسیاستہائے متحدہ امریکہ نے تسلیم کرلیا اور مادی وعسکری تعاون فراہم کرنا شروع کردیا۔ آج یہ غاصب ریاست ایک ایٹمی طاقت بن چکی ہے۔ اس وقت بہت سے ممالک نے امریکہ کی راہ پر چلنے سے انکار کیا اور اسرائیل کے یک طرفہ قیام کو منظور نہیں کیا۔ انھوں نے اس وقت دو ریاستی حل، یعنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کے قیام کی بھی بات کی۔ پھریہ آج کادن ہے کہ یہ حل صرف زبان  سے ادا کرنے کے لیے باقی رہ گیا؛ ورنہ اس حل کو زمین پر وجود بخشنے کی کوشش نہیں کی گئی اور اقوام عالم نے کھل کر، سنجیدگی سے اس موضوع پر کبھی بات بھی نہیں کی۔ پھر بعد میں، یورپی ممالک نے بھی اسرائیل کو منظور کرنا شروع کردیا۔

یورپی ممالک جو پوری دنیا اور خاص طور پر عرب واسلامی ممالک کو  ہر صبح وشام، "حقوقِ انسانی” پر  لکچر دیتے رہتے ہیں، انھوں نے اسرائیل کو منظور تو کرلیا؛ مگر وہ اسے  یہ لکچر دینا بھول گئے کہ فلسطینی بھی انسان ہیں اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی بھی انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ جن فلسطینیوں کی آبائی زمین پر، اقوام متحدہ نے  اسرائیل کو قائم کیا، آج ان فلسطینیوں کو اس غاصب ریاست کی فوجیں جب اور جہاں موقع ملتا ہے، اپنی گولیوں سے بھون دیتی ہیں۔ جب جس فوجی ٹکڑی کے جی میں آئے، وہ فلسطینیوں کے گھروں میں گھس کر، چھاپا ماری شروع کردیتی ہیں۔ غاصب صہیونی ریاست فلسطینیوں کی نقل وحرکت پر روک لگانے کے لیے بچے کھچے فلسطین میں جگہ جگہ پر پولیس چوکیاں قائم کر رکھی ہے۔ ان پولیس چوکیوں کے قیام کا مقصد فلسطینیوں کے دلوں میں ڈر اور خوف بیٹھانا ہے؛ تاکہ وہ اپنی خود مختاری کی بات نہ کرسکیں۔ ان   صہیونی فوجوں کو ریاست کی طرف سے اتنی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ جب چاہے، کسی بھی فلسطینی کے گھر میں گھس کر، توڑ پھوڑ شروع کردیتی ہیں۔ وہ  فلسطینیوں کا اغوا کرکے جیلوں میں سالوں سال کے لیے ڈال دیتی ہیں۔ آج اسرائیل کی جیلوں میں نہ  صرف فلسطینی مرد؛ بل کہ ان گنت خواتین اور نابالغ بچے بھی  کسی جرم کے بغیر، قید وبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔

جب سے فلسطینیوں کی زمین پر اسرائیل کے قیام کا منصوبہ بنا، اسی وقت سے فلسطینیوں کے ساتھ نا انصافیاں شروع ہوگئی تھیں جو آج تک جارہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے اپنی قرار داد کے تحت جس صہیونی ریاست  کو قائم کیا، آج کی تاریخ میں وہی غاصب ریاست اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی میں پیش پیش ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف اس صہیونی ریاست کی دہشت گردی تاہنوز جاری ہے۔ فلسطینیوں کا قتل عام ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔  فلسطینیوں کے املاک کو مسمار کرنا اور ان کی آباد کھیتیوں کے تہس نہس کرنا،  ان کا روز کا معمول ہے۔ قابض فوجیں دشمنی میں اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ مذہبی مقامات کے احترام کا بھی خیال نہیں کرتی؛ بل کہ جب چاہے ان پر حملے کردیتی ہیں۔ بہت سی مسجدوں کو نائٹ کلب اور شراب خانوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ صہیونی ریاست بین الاقوامی قوانین کی پرواہ کیے بغیر،  فلسطینیوں کے گھروں کو توڑ  کر،ان مکینوں کو بے گھر کردیتے ہیں۔ دن بہ دن صہیونی بستیوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔

بہرحال، رفتہ رفتہ دنیا کے دوسرے متعدد ممالک نے بھی اس صہیونی غاصب ریاست کو تسلیم کرنا شروع کردیا۔ پھر مسلم ممالک میں سے سب سے پہلے اس وقت کی ترکی حکومت، جس کی باگ ڈور مصطفی عصمت اینونو (1884 – 1973) کے ہاتھوں میں تھی،نے بھی مارچ 1949 میں، اسرائیل کو تسلیم کرلیا۔ مگر اس وقت تک دوسرے عرب اور مسلم ممالک نے اسرائیل کے وجود نامسعود کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اسلامی تعاون تنظیم کے 1977 میں، منعقدہ اجلاس  میں، عرب و مسلم ممالک نے ترکی کو اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی بات کی، مگر اس وقت کی ترکی حکومت نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ پھر ایک وقت آیا کہ فلسطین کا عرب پڑوسی برادر ملک: مصر نے سن 1979ء میں، اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا اور 26/جنوری 1980 کو باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرکے، قابض اسرائیل سے تعلق قائم کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا۔ پھر  سن 1994ء میں، مملکت اردن اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرکے، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا دوسرا عرب ملک بن گیا۔

ابھی کچھ مسلم ممالک کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات قائم ہیں۔ فلسطین واقصی کو فراموش کرکے، اسرائیل سے کچھ مسلم ممالک اپنے خفیہ تعلقات کو امن معاہدے کے زیر عنوان  باضابطہ سفارتی تعلقات میں تبدیل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اپنی مملکت وسلطنت کی حفاظت وضمانت اور مال وزر کی لالچ میں، بہت سے عرب اور مسلم ممالک اسرائیل سے امن معاہدے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے بے تاب نظر آرہے ہیں۔ اب ان عرب اور مسلم ممالک میں کچھ نے کھل کر، اسرائیل کے سامنے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ حال میں دوستی کا ہاتھ بڑھانے والوں میں، خلیجی ممالک میں سےمتحدہ عرب امارات (یو اے ای) ہے جس نے 13/ اگست 2020 کو امن سمجھوتے کا اعلان کیا ہے۔ یو اے ای کا یہ کتنا مضحکہ خیز دعوی ہے کہ اس کے اور اسرائیل کے درمیان اس سمجھوتے کے نتیجے میں، اسرائیل مغربی کنارے کے حصوں کے الحاق کو مؤخر کردے گا اور فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ نہیں کرے گا؛ جب کہ دوسری طرف غاصب ریاست کا وزیر اعظم :بنجامن نیتن یاہو یہ اعلان کر رہا ہے کہ یہ منصوبہ اب بھی موجود ہے۔ اب یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فلسطین واقصی کے حوالے سے اس کوشش کو کیا عنوان دیا جائے!

جب یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی بات مختلف ذرائع ابلاغ سے دنیا کے سامنے آئی؛ تو خلیج تعاون ممالک (جی سی سی) میں سے مملکت بحرین اور سلطنت عمان نے یو اے ای کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔ اس وقت کسے معلوم تھا جو بحرین آج متحدہ عرب امارات کے اس حرکت کی تائید اور خیر مقدم کر رہا ہے، وہ درحقیقت اس تائید کے در پردہ ، اسرائیل سے اپنے تعلقات استوار کرنے کی تمہید قائم کررہا ہے! پھر چند ہی دنوں میں، مملکت بحرین نے بھی یو اے ای کی تقلید کرتے ہوئے، اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کے نام پر اپنے تعلقات کا اعلان 11/ ستمبر 2020 کو کردیا۔

امن کے نام پر ہونے والے ان معاہدوں میں ثالثی کا کردار، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ادا کررہے ہیں۔ امریکی صدر خود ایک ایسا صہیونی ذہن آدمی ہے کہ اس کی نگاہوں میں، فلسطین  اور مسجد اقصی کے قضییے کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے۔ اس کا واضح ثبوت ابھی حال میں اس کی طرف سے پیش کیا جانے والی صدی کی ڈیل ہے۔ دوسری طرف آئندہ سال امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکی سیاست میں صہیونی یہودی لابی کا اثر ورسوخ ہمیشہ رہا ہے۔ کسی بھی صورت میں ٹرمپ کی یہ تمنا ہوگی کہ وہ اس آنے ولےانتخابات میں ایک بار پھر منتخب ہوسکیں۔ اس کے لیے وہ کسی حد تک جاسکتا ہے۔ یہ نام نہاد امن معاہدے اور سمجھوتے بھی انتخابات جیتنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے؛ لہذا یہ عین ممکن ہے کہ ابھی کچھ اور مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ، امریکہ کی ثالثی میں امن معاہدے کرسکتے ہیں۔

ابھی دو دنوں قبل کی ہی بات ہے کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے  واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ایک اور عرب ملک ایک یا دو دن میں ایک معاہدے پر دستخط کرے گا  اور تمام ممالک اس کی پیروی کریں گے۔ کرافٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکیوں کو امید ہے کہ سعودی عرب اسرائیلی وجود کے ساتھ معمول کے معاہدے پر دستخط کرے گا۔  ٹرمپ کا داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر نے بھی یہ بات کہی ہے کہ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے کیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ سمجھوتہ اور معاہدہ کرنے والے ممالک میں اب اگلا نمبر "سلطنت عمان” ، "مراکش” اور "سوڈان” کا ہوسکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا داماد اور وائٹ ہاؤس میں مشیرکار  جیرڈ کشنر ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا اچھا دوست ہے، نے بارہا یہ کوشش کی ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرے؛ مگر خبر رساں ادارے "اےایف پی” کے مطابق سعودی عرب  کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے برلن کے دورے کے موقع پر، صحافیوں سے بات چیت کرتے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرسکتا، جب تک یہودی ریاست، بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد پر فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کردیں۔ ایسے وقت میں جب کہ متعدد مسلم وعرب ممالک اسرائیل سے تعلقات بڑھانے کے حق میں ہیں اور اس کا کچھ عملی نمونہ سامنے بھی آگیا ہے، ایسے وقت میں سعودی کی طرف سے، ایک بڑے ذمے دار شخص کا  یہ باضابطہ بیان، فلسطینیوں کے حق میں "ڈوبتے کو تنکے کا سہارا” سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آج فلسطین اور مسجد اقصی کا قضیہ نہایت نازک موڑ پر آچکا ہے۔ سعودی عرب، ترکی، ملیشیا وغیرہ کو چاہیے کہ ہم خيال ممالک کو ساتھ لے کر،قائدانہ رول ادا کرتے ہوئے، جتنی جلدی ہوسکے، وہ اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کرے؛ ورنہ یہ مسئلہ دن بہ دن مزید الجھتا چلا جائے گا۔ ●●●●