غیبت ایک سنگین گناہ ہے – محمد سجاد عالم

30

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے گناہوں کا بیان شروع فرمایا ہے جو اس زبان سے سرزد ہوتے ہیں
اور سب سے پہلے اس گناہ کو ذکر فرمایا جس کا رواج بہت زیادہ ہو چکا ہے وہ ہے غیبت کا گناہ یہ ایسی مصیبت ہیں جو ہماری مجلسوں پر اور ہمارے معاشرے پر چھا گئی ہے کوئی مجلس اس سے خالی نہیں کوئی گفتگو اس سے خالی نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بڑی سخت وعیدیں بیان فرمائی ہیں اور قرآن کریم نے غیبت کے لئے اتنے سنگین الفاظ استعمال کیے ہیں کہ شاید اور کسی گناہ کے لئے اتنے سنگین لفظ نہیں کیے چنانچہ فرمایا یعنی ایک دوسرے کی غیبت مت کرو کیونکہ یہ ایسا برا عمل ہے جیسے اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانا کیا تم میں سے کوئی اس کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردار بھائی کا گوشت کھائے تم اس کو بہت برا سمجھتے ہو لہذا جب تم اس عمل کو برا سمجھتے ہو تو غیبت کو بھی برا سمجھو اس میں ذرا غور کریں کہ اس میں غیبت کی کتنی شناعت بیان فرمائی ہے ایک تو انسان کا گوشت کھانا کتنی شناعت کی بات ہے اور انسان بھی کونسا بھائی اور بھائی بھی زندہ نہیں بلکہ مردہ اپنے بھائی کا گوشت کھانا جتنا سنگین ہے اتنا ہی دوسرے کی غیبت کرنا سنگین اور خطرناک ہے غیبت کے معنی ہیں دوسروں کے پیٹھ پیچھے برائی بیان کرنا چاہے وہ برائی صحیح ہو وہ اس کے اندر پائی جا رہی ہو پھر بھی اگر بیان کرو گے تو وہ غیب میں شمار ہوگا حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیبت کیا ہوتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا یعنی بھائی کا اس کے پیٹ پیچھے ایسے انداز میں ذکر کرنا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو اور اس کو برا سمجھے تو یہ غیبت ہے ان صحابی نے پھر سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میرے بھائی کے اندر وہ خرابی واقعات موجود ہو جو میں بیان کر رہا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ اگر وہ خرابی واقعات موجود ہے تب بھی تو غیبت ہے اور اگر جھوٹی نسبت کر رہے ہو تو پھر یہ غیبت نہیں پھر تو یہ بہتان بن جائے گا اور دوہرا گناہ ہو گا لہذا ہم سب اللہ سے دعا کریں کہ اللہ تبارک و تعالی ہم سب کو ایسی برائی سے حفاظت فرمائے اور اللہ توبہ کی توفیق دے