ہم، ایک لاکھ، مرگئے. نہ شور نہ سوگ.

36

واقعی زندگی اتنی ہی قیمتی (تحریر :خورشید انور ندوی 28 ستمبر 2020) ہے، جتنی آپ سمجھتے ہیں.. آپ کی زندگی کی قدروقیمت آپ سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا، کیوں کہ آپ سے زیادہ بہتر آپ کو کوئی دوسرا نہیں جان سکتا… سوچ کا اپنا دائرہ ہے. جو بہت سارے متحرک اور ساکت عوامل کے ساتھ بن جاتا ہے.. ان میں زیادہ تر عوامل کا، بسا اوقات ہم ادراک بھی نہیں کرپاتے.. یہ ہماری اپنی سوچ ہی ہے کہ سرحدوں پر 20 فوجی، بالآخر شہری، مرتے ہیں تو پورا ملک ایک ایجنڈا سیٹ کرلیتا ہے. اور ٹھیک ہی کرتا ہے.. میڈیا مہینوں ویر گتی کو پراپت ویروں کی ویرتا کے گن گاتا ہے، مان سمان ارپت کرتا ہے، ان کی اپورت آہوتی کو نمن کرتا اور ان کو شیش نواتا ہے.. لیکن انھیں سرحدوں کے اندر بسنے والے باسیوں کی زندگیاں بےبسی کے ہاتھوں روندی جاتی ہیں تو کوئی آنکھ دکھ کی چبھن سے نہیں بھیگتی. سکھ نین نیر نہیں بہاتے.. لاکھ شہریوں کی موت جھوٹ ہے، سرکار کے سارے اعدادوشمار، لیکھا جوکھا بے پر کی ہے.. کووڈ کے مریض، پھنس کر سرکاری ہسپتالوں، اور خصوصی طبی مراکز تک پہونچتے ہیں..اور بے بس لوگ پہونچتے ہیں،یا زبردستی پہونچائے جاتے ہیں. کوئی اپنی مرضی سے نہیں جاتا.. سو فیصد لوگ ان مراکز سے بچ کر اپنا علاج کرانے کو ترجیح دیتے ہیں.. جو یقیناً سرکاری ریکارڈ پر آتے ہی نہیں.. نہ مریض نہ مرنے والے.. سرکاری مراکز سے لوگوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے.. ایک انکوائری چل رہی ہے. چار ہسپتالوں کو 48 کووڈ مریض ریفر کئے گئے، سارے مرگئے… ہیر پھیر اور لاپرواہی کا ایک سلسلہ ہے.. زندگی سے کھلواڑ کی داستانیں ہیں.. طبی سہولتوں کا حال یہ ہے کہ ہرسال 75 ہزار ڈاکٹر پیدا کئے جاتے ہیں اور 1 کروڑ 40 ہزار شہری.. ہمارے پاس سپر سونک بالسٹک میزائل بنتے ہیں ونٹیلیٹرس نہیں بنتے.. میزائل سے زندگی ختم کرنا ہے اور ونٹیلیٹرس سے بچانا ہے.. یہ ہم نے طے کیا ہے کہ زندگی لینا ہے خود جینا نہیں ہے..کسی نے ہم پر یہ مسلط نہیں کیا یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے.. 1885 سے رام مندر کو زندہ کیا گیا، 1949 میں تنازعہ کو باضابطہ کیا گیا اور 2020 میں رام مندر کا شیلا نیاس رکھا گیا.. ہزاروں شہری ملک کی سرحد کے اندر مارے گئے، سماجی یکجہتی بکھری، دل دور ہوئے اور ایسی منافرت بڑھائی گئی جو ملکوں کی تاریخ میں ملک توڑ دیتی ہے.. اب پھر آج متھرا میں کرشن بھومی کا ابھییان شروع کردیا گیا.. اور پھر ایک آگ سلگانے کا بندوبست کرلیا گیا.. جب کہ سرحدیں مخدوش، معیشت بےحال اور آبادی وبائی مرض سے نڈھال ہے.. ریاستوں کا جی اس ٹی حصہ سنٹرل پول سے نہیں دیا جارہا ہے، اور ان کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ آر بی آئی سے قرض لے لیں.. آربی آئی کی سیال نقدی 25٪ مانگنے پر گورنر گجراتی ہونے کے باوجود گھر چلا گیا.. لیکن ہماری سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی.. آج اپوزیشن نے اچھا سوال پوچھا ہے کہ دیس واسیوں کو کووڈ ویکسین دینے کے لئے 80 ہزار کروڑ کا انتظام کہاں سے ہوگا؟ اب من کی بات میں 61 لاکھ کووڈ مریض اور 96 ہزار اموات کا تذکرہ کیوں نہیں ہوتا.. یومیہ ایک لاکھ مریض اور 12 سو موتوں کی کوئی بات کیوں نہیں ہوتی..؟ ششانت سنگھ کی موت، ڈھائی گرام ڈرگ کا سیون اور نشہ پارٹی پر ہماری قومی ایجنسیاں مہینے صرف کررہی ہیں، میڈیا ڈیبیٹ سے بھرا ہے،، ہزاروں ڈرگ پارٹی سالوں سے ہورہی ہیں اور ہندوستان میں صدیوں ہوں گی.. لیکن اگر کوئی سوال نہیں کیا جارہا ہے تو ان زندگیوں پر نہیں کیا جارہا ہے، کہ موت کے اس بے رحمانہ رقص کا کیا انتظام ہے.. چند دنوں میں ہم کووڈ متاثرین اور مہلوکین کی تعداد میں دنیا میں نمبر ون پوزیشن پر آجائیں گے.. لیکن کوئی سنجیدہ آواز نہیں اٹھ رہی ہے، کوئی واضح روڈ میپ نہیں دیا جارہا ہے.. حیرت ہے کہ اس اہم مسئلے پر حکمران بنچ آل پارٹی میٹنگ تک نہیں کررہی ہے.. شرم اگر کی جائے تو بہت موقعے ہیں.. پڑوسی ملک پاکستان کی WHO نے کووڈ سے انتہائی محدود لاک ڈاؤن کے ساتھ کامیابی سے نمٹنے کیلئے کھل کر تعریف کی اور اسے دنیا کے لئے رول ماڈل قرار دیا ہے.. اور ہم بےحسی کی تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں.. جہاں لاک ڈاؤن نمازیوں پجاریوں پر لاٹھیاں برسانے کا عنوان بن کر رہ گیا ہے.. تبلیغی جماعت پر 9 سو لوگوں کے اجتماع کا الزام لگاکر 4 مہینے میڈیا پروگرامس کئے کرائے گئے اور ہری دوار اور گجرات کے مندروں میں چھ چھ ہزار کے جتھے لگائے گئے، جس کی کوئی دھمک نہیں.. اس پر بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں،، لیکن ان ایک لاکھ دیس واسیوں کی زندگیوں کی کوئی تو قیمت تھی؟ اور آگے لاکھوں زندگیوں کے جوکھم کی بات کیوں نہیں کی جارہی ہے؟ میرا درد یہ ہے.. کیا واقعی ہم صرف بے توقیر دکھیاری زندگی اور بے رحم موت کا نوالہ ہیں؟