اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل نمبر دو

22

اس اعلامیے میں کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر ، نسل ، رنگ ، جنس ، زبان ، مذہب ، سیاسی
یا دیگر رائے ، قومی یا معاشرتی اصلیت ، املاک ، پیدائش یا دیگر حیثیت، ہر شخص کو اس
اعلامیے میں متعین کردہ تمام حقوق اور آزادی کا حقدار ہے۔ مزید برآں ، کسی بھی ملک یا علاقے
کی سیاسی ، دائرہ اختیار یا بین الاقوامی حیثیت کی بنا پر کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا ،
خواہ وہ آزاد ، خود حکومت ہو یا خودمختاری کی کسی دوسری حد کے تحت ہو۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا آرٹیکل نمبر دو اور قرآن؛
قرآن پاک میں سورۃ الحجرات ، آیت نمبر تیرہ میں آتا ہے۔" ا ے لوگو ہم نے تمہیں ایک ہی مرد
اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمہیں آپس میں پہچان
ہو بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے الله کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے
بے شک الله سب کچھ جاننے والا خبردار ہے"
آپ سب لوگ جو مختلف نسلوں اور رنگوں ، برادریوں اور قبیلوں کو پیش کرتے ہیں ، ایک اصل
سے ہیں۔ لہذا آپ کو گروپوں میں تقسیم نہیں کرنا چاہئے یا ایک دوسرے کے ساتھ امتیازی برتاو
اور اپنے آپ کو کسی سے بالاتر نہیں سمجھنا چاہئے ، اور ان بے مقصد باتوں میں اپنی توانائی
کو ضائع نہیں کرنا چاہئے چونکہ اللہ نے آپ کو کسی پر کوئی برتری نہیں دی اور ہر ایک کو
دنیا میں ایک ہی مقام دیا ہے۔
انسانوں! آپ کو اللہ نے پکارہ ہے جس نے آپ کو ایک مرد اور ایک مادہ سے پیدا کیا ہے تاکہ آپ
کو قوموں اور قبائل میں بنانے کے مقصد سے آگاہ کریں۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ تنازعات اور
دشمنی کو ہوا دیں۔ یہ ایک دوسرے کو جاننے اور ایک ساتھ مل کر پر امن رہنے کے مقصد کے
لئے ہے۔ زبان ، رنگ ، مزاج ، آداب ، قابلیت اور صلاحیتوں میں فرق تنازعات کا باعث نہیں ہونا
چاہیے ۔ در حقیقت ،یہ فرق صرف تعاون کی غرض سے ہیں تاکہ تمام کام پورے ہوں اور تمام
ضروریات پوری ہوں۔ رنگ ، نسل ، زبان ، وطن اور اسی طرح کے عوامل خدا کی نظر میں
کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہیں۔ لوگوں کے قابل قدر ہونے کے لئے صرف ایک معیار ہے: "خدا
کے نزدیک آپ میں سے عظیم فرد وہی ہے جو حقیقی طور پر پرہیزگار ہے" (49: 13)
اس طرح ، تمام منقسم عوامل اور اقدار میں صرف ایک اقدام اور ایک قدر چھوڑ کر کسی بھی
چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، سیوائے تقویٰ کے جس کے ذریعہ تمام انسانیت کی آزمائش کی
جائے گی۔
اس طرح ، زمین پر تنازعات اور جھگڑوں کی تمام وجوہات ختم ہوجاتی ہیں ، انسانوں کے لالچ
میں لانے والے تمام تحفظات اپنی قدر کھو دیتے ہیں۔ ان کی جگہ ، اور دوستی اور تعاون کی اہم
اور وجہ واضح ظاہر کردئی گئی ہے۔ صرف اللہ کے قوانین پر عمل کرنا یہ مانتے ہوئے کہ اللہ
ہر بات کو ہر عمل کو دیکھتا ہے جو آپ کھلے عام کرتے ہیں یا لوگوں سے چھپ کر کرتے ہیں۔
ایک ہی بینر بتایا گیا ہے تاکہ سب اس کے ماتحت کھڑے ہوں اور کوئی اپنے آپ کو کسی سے
بہتر نا سمجھے ۔اور یہ بینر کا کنٹرول صرف ایک ہی ذات کے ما تحت ہے ، جس کی تابعداری
ہر انسان کو ضروری ہے۔ نسل ، وطن ، قبائل ، قبیلہ ، خاندان ، وغیرہ کے جنونی بندھنوں کے
برے نتائج سے انسانیت کو بچانے کے لئے، ہر انسان کو ایک ہی بینر تلے لانے کے لئے یہ قدم
اٹھا یا گیا ہے۔ یہ پہلا معیار ہے جو انسانوں کو دوسرے مخلوق سےممتاز کرتا ہے اور انہیں

زمین پر انتخاب کی آزادی اور انفرادی ذمہ داری ان کے اعلی مقام کے قابل بنا دیتا ہے۔ زمین پر
موجود وسائل ہر ایک کے لئے ہیں ، اور ہر مخلوق کو اس کےضرورت کے مطابق استعمال
کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ اس میں بغیر ضرورت کے ذراسا بھی ضائع کرنا منع ہے۔ سورۃ
الاسرا آیت نمبر ۲۷ میں فرماتا ہے۔ " بے شک بیجا خرچ کرنے والے شیطانو ں کے بھائی ہیں اور
شیطان اپنے رب کا ناشکر گزار ہے"
اللہ سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۲۹ میں فرماتا ہے،" الله وہ ہے جس نے جو کچھ زمین میں ہے سب
تمہارے لیے پیدا کیا ہےپھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو انہیں سات آسمان بنایا اور وہ ہر چیز
جانتا ہے"۔ یہ ایک طاقتور اثبات ہے کہ خالق نے اپنی مخلوق کو استعمال کرنے کے لئے زمین
میں جو کچھ پیدا کیا ، وہ بغیر کسی امتیاز کے تمام مخلوقات کے لئے ہے۔
لہذا ہمیں ان حقائق ، نظریات اور تصورات کو تلاش کرنا چاہئے جو ان قرآنی تاثرات سے ثابت
ہوتے ہیں اور انسان کے فائدے کے لئے زمین پر موجود ہر چیز کی تخلیق سے وابستہ ہیں۔ آئیے
ہم اس وجود پر انسانی وجود اور انسان کے عظیم کردار کے مقصد اور خدا کے نزدیک اس کی
اہمیت کا جائزہ لینگے۔ قرآن واضع کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک انسانوں کے ساتھ قرآن کیا قدر و
منزلت رکھتا ہے ، اور بتاتا ہےکہ معاشرتی نظام میں ان کا کیا کردار ہے؟ “
"وہی ہے جس نے زمین میں سب کچھ آپ کے لئے پیدا کیا۔" (2:29) ۔ اس آیت کے کلیدی الفاظ
"آپ کے لئے" غور کرنے کے قابل ہیں۔ وہ واضح طور پر یہ کہتے ہیں کہ خدا نے انسان کو ایک
اہم مقصد کے لئے پیدا کیا ، اور اسے زمین کے ہر وسائل کا نگہبان اور ذمہ دارہونا اور اس
میں موثر کردار ادا کرنا ، اور اس کے حفاظت کی پوری طرح سے ذمہ داری اداء کرنا۔ انسان اس
وسیع و عریض دنیاوی دائرے کاحافظ ہے ، اور اس کی نشوونما اور فلاح و بہبود میں اس کا
کردار سب سے اہم ہے۔ انسان زمین پر ماسٹر ہے ، اور وہ ان وسائل کا ماسٹر ہے جو اس کائینات
میں اسے دستیاب ہیں۔ اللہ قرآن میں سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۳۰ میں انسانی تخلیق کرتے ہوئے اس
کے شرائط و ضوابط کا خاکہ پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے ، ور جب تیرے رب نے فرشتوں سے
کہا میں زمین میں ایک نائب اور اپنا نمائندہ بنانے والا ہوں، اللہ نے انسانوں کو ذمہ داری دی اور
انھے ایک خاص مقام عطاء کیا ہے۔ وہ ان وسائل کا غلام نہیں بن سکتا ، جیسا کہ اسے جدید مادیت
پسندانہ سوچ نے سمجھا ہے۔ نہ ہی وہ ٹیکنالوجی اور انسانی تعلقات اور معاشروں پر ان کے اثر و
رسوخ کے ذریعہ رونما ہونے والی تبدیلیوں یا پیشرفتوں کا ماتحت ہے ، یا اس پر انحصار کرتا
ہے ۔
اس طرح کی سوچ انسان کے کردار کو کمزورکرتی ہے ، دنیا میں اس کی حیثیت کو نیچے کرتی
ہے ، اور اسےوسائل کا ماسٹر بننے کی بجائے مشینوں سے کمتر قرار دیتی ہے۔اللہ نے انسانوں
کوجو اہمیت دی ہے ، انسان اسے بھلا کر ایسی مخلوقات کو اپنا خدا بنا نے کے درپے ہے جو
انسانوں سے کسی صورت میں مطابقت یا کوئی قدرتی طاقت اور سوچنے سمجھنے کی قوت بھی
نہیں رکھتے۔ یہ انسانوں کی اس کے عطاء کردہ مقام سے تنزیلی ہے ، جو اللہ نے اُسے عطاء کیا
ہے۔ کسی بھی مادی قدر کو انسانی اقدار ، یا انسان پر حاکم اورحاوی نہیں سمجھنا چاہئے۔ کسی
بھی وجہ سے جس سے انسان کی قدر کم ہوتی ہے وہ انسانیت کےمخالف ہے ، چاہے اس سے
کتنا ہی مادی فائدہ حاصل کیوں نا ہو۔ انسان کا وقار اور سالمیت جو تمام مادی اقدار اور نظریات
کو جوثانوی اہمیت کے حامل ہیں کو مستردکرتی ہے ۔

ان آیات میں شامل فضل و کرم ، جس کی طرف خدا انسانوں کو یاد دلاتا ہے ، حالانکہ بعض انسان
اللہ کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کی بندگی سے قدرے دور ہیں اس کی اللہ مذمت کرتا ہے ، پھر
بھی ہر انسان کو اس نے ان کو زمین پر سب کچھ مہیا کیا ہے ، بلکہ یہ بھی کہ اس نے ہر انسان
کو بغیر تفریق اپنا نائب مقرر کیا ہے ، اور اس پر اسے ہر چیز سے بالاتر کیا ہے اس اعزاز کی
نمائندگی اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ انسان کو خدا نے زمین پر وسائل کے صحیح استعمال
کےلئے تفویض کیا ہے۔
یہ خدا کے قانون جو انسانوں کو ہر مخلوق پر فضلیت دیتی ہے ، اور ہر ایک کو ایک آزادانہ حق
دیتا ہے کہ بلا امتیاز ، نسل ، رنگ ، جنس ، زبان ، مذہب ، سیاسی یا دیگر رائے ، قومی یا
معاشرتی اصلیت ، املاک ، پیدائش یا دیگر حیثیت کی کوئی اہمیت دئے بغیر ہر انسان کو برابری
کا درجہ گیا ہے۔ یہ اللہ کا قانون ہے جو ہر انسان کے لئے ہے۔