نئی قومی تعلیمی پالیسی کے حوالے سے دوسری قسط

22

ملک کی جدید قومی تعلیمی پالیسی اور ہماری سرد مہری. قسط 2
از۔عبد الرشید مصباحی
آرایس ایس اپنے ابتدائے قیام سے ہی اس مشن پر گامزن ہے کہ قدیم ہندوستانی اقدار وروایات, تہذیب وثقافت, جمہوری اصولوں کی پاسداری, فرقہ وارانہ ہم آہنگی و آپسی رواداری کو ختم کرکے ملک کے آئن پر زعفرانی خول چڑھا دی جائے اور سیکولرزم پر مبنی دفعات وجزئیات آئین ہند سے خارج کر دئے جائیں. آرایس ایس کے قیام کو ایک صدی ہونے کو ہے جس میں انھوں نے اپنے نظریاتی و اعتقادی مشن وایجنڈے کی کامیابی کے لئے ایثار, اخلاص ,جذبۂ قربانی ,جہد مسلسل وسعئ پیہم کا مظاہرہ کیا ہے جوکہ صرف ایک خانہ پری ہی نہیں بلکہ اس کے لئے عملی اقدام کی زمینی حقیقت بھی صاف طور پر نظر آتی ہے جس کے نتیجہ میں موجودہ وقت میں آرایس ایس کے تیس ہزار اسکول وکالجز وسینکڑوں تعلیمی وسماجی تنظیمیں جس کاجیتا جاگتا ثبوت ہیں,” ودیا بھارتی, اکھل بھارتیہ شکشا سنستھان ,سرسوتی ششو مندر ,بھارتیہ ودیا نکیتن, گیتا ودیالیہ ,اور سرسوتی بال ودیا مندر وغیرہ جیسے ہزاروں اسکول وکالجز کے پورے ملک میں پھیلے نیٹورک اور ملک کے تمام صوبوں وضلعوں میں اس کے فرنچائزی اور ان میں نظام تعلیم کو کنٹرول کرنے والی ہزاروں سمیتیاں "ان سب کا ایک وجود اور ویژن ہے جو اپنے ایجنڈے پر شب وروز مصروف عمل ہیں اور جن کے مضبوط تعلیمی نظام کے اثر سے مسلم طلباء بھی نہیں بچ سکے ,ایک سروے کے مطابق آر ایس ایس کے اسکولوں میں پڑھنے والے مسلم طلباء کا گراف کافی زیادہ ہے جو پوری ہندو ریت رواج کے ساتھ ان اسکولوں میں ذوقیہ حصول تعلیم میں مصروف ہیں اور ڈسپلین و متاثر کن نظام تعلیم کو دیکھ کر اہل خانہ کو ان طلباء کی ذہن سازی پر کوئ اعتراض بھی نہیں ہوتا, حالیہ دنوں آسام میں ایک کمپٹیشن میں ایک مسلم بچہ نے گیتا نالج میں ٹاپ کیا تھا جس کی پورے ملک میں سراہنا ہوئ مگر ایسے حالات ہمیں تشویش میں ڈالنے کے لئے کافی ہیں اور ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور بھی کرنا ہوگا کہ ایسے حالات و واقعات آنے والی نسلوں کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں.
اب جو حکومت آرایس ایس کے نظریاتی واعتقادی مشن کی ترجمان وآئینہ دار ہو تو اس کی بنائ تعلیمی پالیسی جمہوری اصولوں کے تقاضہ کے مطابق ہوگی ! یہ بھی اپنے آپ میں ایک بہت بڑا سوال ہے .درانحالیکہ جدید تعلیمی پالیسی کی مشاورتی کمیٹی میں شامل آرایس ایس کے ارکان یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ” پالیسی کے بنیادی اصول کی وضع وتشکیل میں ہمارے اسی فیصد مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں.” نیز ماضی میں آرایس ایس کے پرچارک رہے وزیر اعظم نے ایک قومی کانفرنس میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ” یہ تعلیمی پالیسی ایک سرکلر ہی نہیں بلکہ مہا یگیہ ہے جو نئے ملک کی بنیاد رکھنے میں معاون ومددگار ثابت ہوگا.”
اور رام مندر بھومی پوجن کے موقعہ پر آرایس ایس سربراہ نے بہت واضح انداز میں ” نئے بھارت کے نرمان ” کا اشاریہ دے چکے ہیں جس سے صاف ہوگیا ہے کہ یہی تعلیمی پالیسی آنے والے وقت میں نئے بھارت کے نرمان کا سبب بنے گی جس کی بنیاد ہندوازم پر ہوگی ,جس میں دلتوں ,پچھڑوں ,قبائلیوں واقلیتوں کی کوئ حصہ داری نہ ہوگی . ان تمام ملتی کڑیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے وقت میں ہندوستان کے نظام تعلیم کا مکمل کنٹرول آرایس ایس کے ہاتھوں میں ہوگا.
شاید یہی وجہ ہے کہ جدید تعلیمی پالیسی کے نصابی خاکہ میں ہندوازم.کو فراغ دینے والے قصے وکہانیوں کو شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے , ہندوستان کے قدیم غیر جمہوری سناتنی علوم وافکار ,مشن نالندہ ,بھارتیہ سنسکرت اور بھارتیتا وقومیت کو بار بار نصاب میں ذکر کیا گیا ہے اور مسلم عہد حکمرانی کو سرے سے خارج ہی کر دیا گیا ہے نیز ویدوں کی تعلیم وتدریس ,گیتا,سوریہ نمسکار, یوگا , اور وندنا پر نصاب میں اس قدر زور دیا گیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ تعلیمی پالیسی کسی خاص نظریہ کو فروغ دینے کے لئے بنائ گئ ہے اور دوسرے مذاہب وقوم کے تاریخی ورثہ کو بالائے طاق رکھ کر صرف ایک ہی مذہب کی بالا دستی قائم کرنے کینسازش رچی گئ ہے .
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آر ایس ایس کے ذریعہ کئ دہائیوں سے یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ سبھی ہندوستانی "ہندو” ہیں یعنی ہندوستان میں بسنے والے سبھی مذاہب کے لوگوں کے آباء وجداد ہندو تھے اس لئے ان کے دعوی کے مطابق سبھی کی گھر واپسی ہونی چاہئے . بظاہر اس پر عمل تو ناممکن ہے اس لئے ممکن ہے اس مشن پر عمل آوری کے لئے ہندوازم پر مبنی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ ایک خفیہ سازش رچی گئ ہو،ظاہر ہے ہندوازم وہندومت پر مبنی نصاب تعلیم جب ملک کے تعلیمی ڈھانچہ کا حصہ بن جائے گا اور تمام اسکول وکالجز میں باضابطہ نافذ العمل ہوگا تو پھر ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والا بچہ اپنے مذہبی تشخص کو کس طرح محفوظ رکھ پائے گا؟ اس بات کو بھی ہمیں سمجھنا ہوگا.کیا ایسے طلباء میں اسلامی غیرت وحمیت بیدار رہ پائیگی ؟ یا پھر وہ عیسائ مشنری اسکولوں میں پڑھنے والے طلباء کی مانند دین بیزاری کی راہ چل پڑیں گے ؟
اگر ایسا ہوا تو پھر آنے والی نسلوں کو ارتداد کے سیل رواں سے بچا پانا بہت مشکل ہوگا.
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سقوط غرناطہ واسپین سے مسلم.حکمرانی کا مکمل خاتمہ نیز وہاں سے اسلامی آثار وعلامات کا نام ونشان مٹانے میں تعلیمی نظام ونصاب نے اہم.رول ادا کیا تھا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس لئے کہیں ایسا تو نہیں کہ اس جدید تعلیمی پالیسی کے ذریعہ ہندوستان کے جمہوری اصولوں کی پاسداری , بھارت کے مذہبی ,لسانی ,وثقافتی تنوعات پر شبخون مارنے کی تیاری چل رہی ہو اور ملک کو ہندوراشٹر بنانے کی ایک گہری سازش رچی جا رہی ہو تاکہ اسپین کی تاریخ دہرائ جا سکے .
اب ایسے سنگین صورت حال کے باوجود اگر ہم.نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو بھارتیۂ مسلمانوں کی تباہی کو کوئ نہیں روک پائے گا .ماضی کی سرد مہری و تعمیر ملت سے چشم پوشی نے ہمیں اس نتیجہ پر پہنچا دیا ہے کہ آج سینکڑوں میر جعفر ومیر صادق نیوز چینلوں و حکومت کے آلۂ کار بن کر قوم وملت کا سودا کرنے کی فراق میں ہیں اس کے باوجود بھی ہم اپنی عاقبت نااندیشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں .
اہل دانش وبصیرت افروزوں وعاقبت اندیشوں پر یہ حقیقت آشکارہ ہے کہ یہ تعلیمی پالیسی ایک سرکلر ہی نہیں بلکہ ملک کو ہندوراشٹر کی جانب لے جانے والی ایک تحریک ہے جس کا مقابلہ یقینا تحریک سے ہی ممکن ہے . اس لئے اب ضرورت ہے کہ ہم تعلیمی تحریک چلائیں , متحدہ پلیٹ فارم کے ذریعہ ملت کی تعمیر وترقی کی فکر کریں .
تعلیمی انقلاب کے بغیر کوئ بھی سماجی یا معاشرتی انقلاب ناممکن ہے.قوم کو بچانے کی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ہے .یہ عمدہ وفلک بوس تعمیرات ,دیدہ زیب قلعے نما خانقاہیں, تاج محل جیسے مزین مزارات, جن کی تزئین کاری میں لاکھوں کروڑوں کا صرفہ شاید اسلام کا واجبی تقاضہ نہ ہو مگر ملت اسلامیہ کے ایمان وعقیدہ کی حفاظت و ان کی تعلیمی ترقی وقت کے جبریہ تقاضہ کے ساتھ فریضۂ اسلامی بھی ہے.اسلئے اب یہ رجحان بدلنا ہوگا اور تعلیم وتربیت کے اعلی مراکز, اسلامی ریسرچ سینٹر, جدید عصری تقاضوں سے ہم.آہنگ تعلیمی ادارے کے قیام کی جانب ہمیں اپنارخ موڑنا ہوگا اورموجودہ اداروں کے تعلیمی معیار ,نظام ونصاب پر بھی سنجیدگی سے غور کرکے ان میں کار آمد اصلاحات کرنی ہوگی تاکہ دس سال تک مدارس کی چہار دیواری میں گذارنے کے بعد ہمارے فارغین اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس نہ کریں اور مستقبل میں سر اٹھانے والے فتنوں کا مقابلہ بآسانی کیا جا سکے .

مضمون نگار۔ جامعہ سکینہ اشرف البنات دھانے پور گونڈہ کے بانی ومہتمم ہیں