اپنی قسمت اور مقدرپر راضی ہوں جاؤں ۔ مولانا اکرم ندوی

21

دربھنگہ 25ستمبر(ممتازاحمدحذیفہ)قناعت سے بہتر کوئی دولت نہیں ، کیونکہ جب انسان کے دل میں ہوس کی آگ لگ جاتی ہے تو پھر اس کی کوئی حدو نہایت نہیں ہوتی ، پھر یہ ہوس انسان کو جلاتی رہتی ہے، اور حاصل کچھ نہیں ہوتا، اس لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی، ہم سب کو یہ دعا مانگنی چاہئے ،،اگر عربی الفاظ یاد ہوجائے تو بہت اچھا ہے، ورنہ اردو میں ہی مانگ لیا کریں ، وہ دعا یہ ہے اَللّٰہُمَّ قَنِّعْتِیْ بِمَا رَزَقَْتَنِیْ وَاخْلُفْ عَلٰی کِلِّ غَائِبَۃٍ لِی مِنْکَ بِخَیْرٍ ۔ترجمہ۔اے اللہ ! جو کچھ آپ نے مجھے رزق عطا فرمایا ہے، اس پر مجھے قناعت عطا فرمادیجئے ، اور جو نعمتیں مجھے حاصل نہیں ہیں ، ان کے بدلے میں مجھے اپنی طرف سے جو میرے حق میں بہتر ہو وہ عطا فرما۔ ہوسکتا ہے کہ میں جس چیز کی خواہش کررہا ہوں ، وہ میرے حق میں ٹھیک نہ ہو ، مناسب نہ ہو ، لیکن آپ اپنے فضل وکرم سے جو ہمیں عطا فرمائیں گے ، وہی میرے حق میں مناسب ہوگا ،وہی مجھے عطا فرمادیں ۔ایک اور دعا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سکھائی کہ : اَللّٰہُمَّ مَارَزَقْنِیْ مِمَّا اُحِبُّ فَا جْعَلْہٗ قُوَّۃً لِیْ فِیْمَا تُحِبُّ ، وَمَا زَوَیْتَ عَنِّیْ مِمَّا اُحِبُّ فَاجْعَلْہٗ فَرَاغًا لِیْ فِیْمَا تُحِبُّ ۔کیا عجیب و غریب دعا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی ہے، فرمایا کہ اے اللہ ! میری پسندیدہ چیز جو آپ نے مجھے عطا فرمائی ہے، اس چیز کو ان کاموں کا ذریعہ بنادیجئے جو آپ کو پسند ہیں ۔ اور میری پسندیدہ چیز جو آپ نے مجھے نہیں دی تو اس کے بدلے میں مجھے وہ چیز عطا فرمادیجئے جو آپ کی پسند ہے۔ نبی کے علاوہ کوئی دوسرا شخص یہ دعا مانگ ہی نہیں سکتا، بہر حال ! قناعت کے بغیر اس دنیا میں راحت حاصل نہیں ہوسکتی ۔ اس لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں کہ اگر تم صحیح معنی میں مالداری چاہتے ہو تو اس کا راستہ یہ ہے کہ اس مقدار پر راضی ہوجائو جو اللہ جل شانہ نے تمہاری قسمت کے حساب سے تمہیں عطا فرمادی ، تو پھر انشاء اللہ راحت اور آرام میں رہو گے، اور پھر کسی کے محتاج نہیں ہوگے ، اور نہ کسی کی طرف تمہاری نگاہیں اٹھیں گی، اور تم سیر چشم رہو گے ۔ لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی نہ ہوگے پھر ہزار ہاتھ پاؤں مارتے رہو، اور دل میں غمگین بھی ہوتے رہو ، کبھی بھی دل کا غنی حاصل نہیں ہوگا، جو اصل مقصود ہے۔ میرے پیمانے میں لیکن حاصل میخانہ ہے.خلاصہ یہ کہ اپنے تما م معاملات میں جائز اور حلال طریقے سے جو کچھ حاصل ہورہا ہے ، اس پر خوش ہوجائو ، دوسروں کی طرف مت دیکھو کہ دوسروں کے پاس کیا ہے؟ ارے بھائی ! دوسرے کا معاملہ وہ جانے ، تمہارا معاملہ تم جانو، تم اس فکر میں کیوں پڑے ہو کہ دوسرے کے پاس کیا ہے ہمارے حضرت ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک بڑا خوب صورت ، بڑا معنی خیز شعر ہے، اگر انسان اس پر عمل کرے تو اس کو بڑا سکون حاصل ہو جائے،فرماتے ہیں مجھ کو اس سے کیا غرَض کس جام میں ہے کتنی مئے میرے پیمانے میں لیکن حاصلِ میخانہ ہے.مجھے اس سے کیا غرض کہ کس کے گلاس میں کتنی ہے، ہاں مجھے جو کچھ ملا ہے ، وہ میرے لئے حاصل میخانہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے ، درحقیقت وہی میرے لئے کافی ہے، قناعت یہ ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے پر راضی ہوجائو، اور اس کو اپنے لئے نعمت سمجھو ، اور اس پر اللہ تعالیٰ کو شکر ادا کرو، اور دوسروں کی طرف دیکھ کر حرص و ہوس میں مبتلا نہ ہو