جدا تھی شان ان کی ہرزماں سے

24

نصیر نو رالحق سراجی
دوحہ قطر 55002012
.     استاذ محترم فضیلت الشیخ عبدالمنان صاحب سلفی رحمہ اللہ کے بارے میں کیا لکھوں،اور کہاں سے لکھوں،کیا میرے الفاظ شیخ کی حیات و خدمات پر لکھتے ہوئے حق ادا کر کرپائیں گے،وہ تو انگنت کتابوں کے مصنف،خالق،آتھر اور نگارندہ تھے،مایہ ناز قلم کار اور ممتاز عالم دین تھے،بیش بہا علمی مضامین کے کاتب تھے،اعلاہ کلمة اللہ،تبلیغ دین آپ کی زندگی کا اہم حصہ تھا،امت مسلمہ کی بہتری،بھلائی،ترقی،خوش حالی،عمدگی اور فلاح و بہبود کیلئے بے حد فکر مند رہتے تھے،دلیری،بہادری،بےباکی،بےخوفی جیسی بےشمار صفات کے مالک تھےانتہائی خلیق اور ملنسار،علم و ادب کے آفتاب،صبر و تحمل ،ضبط و متانت،شعور و آگہی کے پیکر اور حلم و بردباری کے مجسم تھے۔بیک وقت وہ ایک مفکربھی تھے اور ایک کامیاب مدرس،محرر،باکمال منتظم اور خطیب بھی.آپ کی تحریر تمام خوبیوں سے پر ہوا کرتی تھی،آپ کے مضامین کے مطالعہ سے قلوب و اذھان کی منجمد کڑیاں اور دماغ کی بند کھڑکیاں کھلتی چلی جاتی ہیں،آپ کی تصنیفات کے مطالعہ سےجگر کو حلاوت،دل کو لطافت،آنکھوں کو نور،بےچین روحوں کو سرور،دماغ کو تازگی،لسان کو شائستگی اور ایمان کو جلا ملتی ہے۔ان کی شخصیت ہمہ گیر و ہمہ جہت تھی،متحمل،سنجیدہ مزاج،خوددار اور امت کے تئیں سینے میں درد رکھنے والے تھے۔

.     لیکن کسی انسان کے نیک اعمال اس کی زندگی میں ایک دن کا بھی اضافہ نہیں کرسکتےہیں،ہرذی روح کو ایک نہ ایک دن اس دنیائے فانی سے جانا ہوگا،موت وہ جام ہے جسے ہر شخص کو اپنے ہونٹوں سے لگانا ہوگا،نہ انسان کی طاقت اسے موت سے بچاسکتی ہے،نہ اس کی دولت و سلطنت اس کو موت کے منہ سے نکال سکتی ہے۔

.    ابھی واٹسپ وغیرہ پر یہ خبر پڑھنے کو ملی ہی تھی کہ آپ کی طبیعت  خراب ہے پھر خبر ملی کہ بہت زیادہ خراب ہیں ،ہم آپ کی صحت یابی کی دعا کررہی رہےتھے کہ فیس بک،واٹسپ اور ایمو کی دنیا میں ہنگامہ ہونے لگا،ہر آنے والی تحریر  کے کاتب کی انگلیاں کانپ رہی تھی،ہر طرف ایک شور سا برپاتھا،ہر طرف سے آہ و بکا کی آوازیں آنے لگیں،سناٹا چیخ و پکار سے تھرانے لگا،انٹرنیٹ پر موجود ہر شخص کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں،ہر شخص کے چہرے پر اداسی نمایاتھی،ہر آدمی پریشان تھا،تمام آنکھیں اشکبار تھیں،ہر کوئی حزن و ملال کی تصویر بن چکاتھا.

.    23/اگست 2020ء کی رات ہمیشہ کیلئے  ہمیں یاد رہے گی،چونکہ اسی رات کو ہمارے مربی ہمیں چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے چلے گئے،بہت ساری خوبیاں تھیں آپ میں،انسان اپنے اعمال سے پہچانا جاتاہے،ایک انسان کی اصل قدروقیمت اس کے اچھے اور نیک اعمال طے کرتے ہیں،تاہم اس کی اصل شناخت اس کے کارناموں سے بنتی ہے۔

.   اللہ شیخ کی خدمات کو قبول کرے، ان کو غریق رحمت کرے،ان کی لغزشوں کو درگزر کرے،ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے،امت کو ان کا نعم البدل عطافرمائے،پسماندگان و لواحقین کو صبرجمیل کی توفیق دے آمین یا رب العالمین