افسانہ۔۔۔۔۔۔۔۔بجلی بِل

36

موجِ خیال افسانہ نگار: وزیر احمد مصباحی (افسانہ نگار: جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے ریسرچ اسکالر ہیں)

منٹو نے ابھی اپنی زندگی کی اتنی بہاریں نہیں دیکھی تھی کہ جہاں پہنچ کر اس عمر کے بچے عقل و شعور کی بالیدگی سے لیس ہوتے ہیں۔ وہ تو غالباً چوتھی/ پانچویں جماعت ہی میں اپنے گاؤں کے سرکاری اسکول میں پڑھتا تھا۔ والد (تلسی داس) ایک غریب محنتی آدمی تھا، دن بھر دوسروں کی مزدوری کرتا تو کسی طرح پیٹ کی آگ بجھتی، ورنہ کبھی کبھار تو وہ یوں ہی رات بھر شدت کے ساتھ جلتی رہتی۔ ہاں! ماں، بڑی نیک دل خاتون تھی، غربت و تنگدستی کا شکوہ تو کبھی بھی وہ زبان پر نہیں لاتی تھی، صابرہ ہونے کے ساتھ یہی تعلیم وہ اپنے بچوں میں بھی منتقل کیا کرتی۔


منٹو کا یہ مختصر سا گھرانہ ہنسی خوشی چکاچوند شہروں سے کوسوں دور ایک دیہات میں آباد تھا۔ بڑی مشکل سے ایک مختصر سی پگڈنڈی نما کچی سڑک گاؤں سے شہر کو ملتی تھی، اسی کے سہارے وہاں کے باشندے بوقت ضرورت شہر کا رخ کرتے، ورنہ تو بالکل ہی نہیں۔ منٹو نے اپنی زندگی میں ابھی تک شہر کا منہ تک نہیں دیکھا تھا، اسے اپنا گاؤں ہی دنیا جہان معلوم پڑتا، اگرچہ یہاں نہ لائٹ تھی اور نہ ہی ہردم سڑکوں پر تیز رفتار دوڑتی ہوئی چمکدار بسیں اور موٹر۔ یہی وجہ تھی کہ منٹو بھادَو کے مہینے میں اکثر پریشان ہو جایا کرتا تھا۔سورج غروب ہوتے ہی جب وہ اپنی ڈیوڑھی پر لالٹین کی مدھم مدھم سی سرخ روشنی میں سبق یاد کرنے بیٹھتا تو پروانے ٹوٹ پڑتے، پل بھر میں وہ اپنے ہم جنسوں کی بدولت شمع کے ارد گرد ٹھاٹھیں مارتا سمندر جمع کر دیتے اور پھر باری باری اپنی جان لٹانے شروع کر دیتے۔ مگر۔۔۔مگر۔۔۔! ان بے زبان کیڑوں کو کیا معلوم تھا کہ ہماری اس غیر دانشمندانہ اقدام سے کسی ایسے بچے کی مستقبل بھی داؤ پر لگ جاتی ہے، جسے ابھی بہت کچھ کرنا ہے، ہاں! جسے تو آئندہ دنیا جہان میں اپنی محنتوں کے بل بوتے علم و نور کی آگہی تقسیم کرنی ہے۔ یقین مانیں! منٹو نے جب سے شعور کی آنکھیں کھولی ہے، اسی وقت سے لالٹین اور دئیے سے اس کی آنکھوں کا گہرا رشتہ رہا ہے اور خدا ہی جانے کب تک یہ سلسلہ یوں ہی دراز سے دراز تر ہوتا رہے گا!!!
مگر۔۔۔مگر۔۔۔آج تو منٹو کے گاؤں نے زبردست پلٹا کھایا تھا، مانو اس کی قسمت میں تروتازہ گلاب کھلنے والا ہے۔ بجلی محکمے کی طرف سے جون ماہ ہی کی اس کھنکتی دھوپ میں عین بھری دوپہر کے وقت مکمل سوٹ بوٹ سے لیس کچھ افراد شہر سے گاؤں کو آئے تھے۔ وہ شہر کی بجلی کنکشن سے اس دور افتادہ گاؤں کو بھی جوڑنا چاہتے تھے، گلی گلی میں جا کر وہ جائزہ لے رہے تھے اور گاؤں کے کچھ معمر افراد بھی قدم قدم پر ان کے ساتھ تھے۔ شدہ شدہ یہ بات منٹو کے کانوں سے بھی ٹکرائی اور پھر ایک ہی لمحے? میں اس نے مستقبل کے لیے اپنے سارے سنہرے خواب بن لیے کہ کبھی نہ کبھی تو وہ اسے شرمندہ تعبیر کرکے ہی دم لے گا۔
جی! چند ہفتے گزرنے بھی نہ پائے تھے کہ گاؤں میں بجلی کا پول نصب کیا جانے لگا، تار کھینچے گیے، گاؤں کے باہر ایک ٹرانس فارمہ بھی نصب کر دیا گیا اور پھر گھر گھر لائن کنکشن فٹ کیا جانے لگا۔ گاؤں کے وہ افراد جو بجلی کی قیمت سے ناواقف تھے، وہ اپنے اپنے گھر کنکشن جڑوانے میں گھبرا رہے تھے، وہ تو یہی سوچ سوچ کر ہلکان ہوئے جا رہے تھے کہ ” پتا نہیں، اس کی لاگت کیا ہے، کتنی مہنگی ہے یہ لائن اور اس کے کیا کیا طریقہ کار ہیں؟”۔ انھیں میں سے ایک منٹو کے غریب والد بھی تھے۔ علم و ادب سے ناواقف، دن بھر دوسروں کی مزدوری کرنے والا شخص بھلا بجلی پروسیس کے بارے میں بھلا کیا جانے؟۔ خاندان میں بھی کوئی ایسا آدمی نہیں تھا جو اسے تفصیل سے بجلی کے فوائد و نقصانات سے آگاہ کرتا۔بس کام پر جاتے ہوئے کبھی کبھار راستے میں لوگوں سے جو سن لیا اسے وہی بھر معلوم تھا۔ کچھ دنوں تک یوں ہی چلتا رہا، گاؤں کے جانکاروں کا گھر بجلی سے روشن ہو گیا اور بے چارے منٹو کے ابا سمیت اور بھی چند افراد کے گھروں میں حسب سابق لالٹین و دیا کا قبضہ تھا۔ منٹو کی پریشانی جوں کی توں برقرار تھی۔ پڑوس کے گھروں میں آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی روشنی دیکھ کر منٹوکبھی کبھار جھلا جاتا، اسے گھٹن سا محسوس ہونے لگتا، شاید اسی لیے وہ لالٹین کی قید سے نکلنا چاہتا تھا اور بسا اوقات تو وہ دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے بجلی عملوں کے ساتھ ساتھ سرکاری محکموں پر اپنی ہی زبان میں دو چار جملوں کے سہارے سخت تنقیدی تیر بھی برسا لیا کرتا۔

آج اتوار کا دن تھا۔ دن کے دس بج رہے تھے، منٹو کے اسکول میں تعطیل تھی۔ ناشتہ کے بعد جیسے ہی منٹو ڈیوڑھی پر اپنے والد کو کدال اور مٹی ڈھونے والی ڈیلی دینے آیا، اس کی آنکھوں میں ایک دفعہ پھر سرکاری عملوں کی وہی سوٹ بوٹ والی تصویر ابھری، وہ لوگ ان کے والد محترم کو سمجھا بجھا رہے تھے۔ اس مرتبہ وہ لوگ I P L اور B P L کارڈ لے کر آئے تھے۔ یعنی گاؤں کے ان لوگوں کو جن کا نام B P L لسٹ میں تھا انھیں یہ لوگ فری فری میں تار، L D بلب اور بورڈ و میٹر مہیا کرا رہے تھے۔ آج منٹو کے والد کے چہروں پر حسب مخالف خوشیوں کا بسیرا تھا، یہ دیکھ کر منٹو کی بھی بانچھیں کھل گئیں اور جلد ہی دونوں باپ بیٹا بجلی کنکشن کے لیے کمر بستہ ہو گیے۔
اب کیا تھا دوسری ہی رات منٹو کا گھر بھی روشنی سے معمور ہو چکا تھا، اب تو منٹو کو رات بھی دن کے اجالوں کی طرح لگتی۔ منٹو کے لیے ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا، آس پڑوس کی ساری چیزیں بارونق ہو گئی تھیں، پھیلی شعائیں اور دلکش نظارے نے تو آج ان کے قلب و ذہن میں تابندگی بھرنے کا کام کیا تھا، گھر میں مسرتوں کا ڈیرا تھا، سچ میں! اسے اپنی اس مختصر سی زندگی میں پہلی دفعہ اس طرح ایک عجیب قسم کی کیف آگیں لمحات سے شرابور ہونے کا موقع ملا تھا، یہی وجہ تھی کہ آج سر شام ہی سے اس نے اپنے فلک شگاف قہقہوں اور من موہنی حرکتوں سے گھر آنگن کے سارے سکوت توڑ ڈالے تھے، آج اس کے گھر میں حسب معمول خاموشی نہیں تھی، روزانہ کی طرح سناٹا نہیں تھا، بلکہ چہل پہل اور نقل و حرکت کا دور دورہ تھا۔ خاندان میں ایک چھوٹی سی پیاری بہن کے سوا صرف اس کے والدین ہی تو تھے جہاں منٹو کو دنیا جہان کی ساری مسرتوں و رونقوں کی تلاش و جستجو رہتی!۔
اب تک تین سال کا طویل عرصہ گزر چکا تھا۔ کبھی بجلی بل نہیں آیا، سوٹ بوٹ والے بھی کافی عرصے سے نظر نہیں آئے تھے۔ منٹو کے والد تو ان جھمیلوں سے تھے ہی نا واقف، مستزاد یہ کہ وہ دن بھر مزدوری کرتے، شام کو واپسی پر اہل خانہ کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانا کھاتے اور پھر اگلی صبح کام پر نکل پڑتے۔ وہ اس لیے بھی مطمئن تھے کہ B P Lوالوں کو تو سرکار فری میں بجلی فراہم کرتی ہے۔۔۔ہاں! اب تک تو منٹو بھی بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ آٹھویں جماعت کا طالب علم بن چکا تھا، خوب محنت و لگن سے پڑھائی کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ابو کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹاتا، بہن بھی بڑی ہو چکی تھی۔منٹو کے گھر روزانہ شام کے وقت والدین پر مشتمل ایک مختصر سے محفل جمتی اور دونوں بھائی بہن والدین کے ہمراہ مختلف موضوعات پر گونا گوں باتیں کرتے۔ گزرتے ایام کے ساتھ والدین بھی اپنے بچوں کو ترقی کرتے ہوئے دیکھ کر فخر محسوس کر رہے تھے۔ غرض یہ کہ منٹو کے گھر اب مسرت و شادمانی کی ایسی پریاں اتر چکی تھیں جو اپنے وجود سے ہمہ وقت سبھوں کے چہروں پر ہمیشہ خوشیوں کی چاندنی بکھیرا کرتیں۔
آج جمعہ کا دن تھا، اسکول سے واپس لوٹتے ہی منٹو نے اپنے ابو کو جھٹ سے مخاطب کیا۔
منٹو: آج میں نے اسکول جاتے ہوئے سوٹ بوٹ والوں کو گاؤں کے چوراہے پر دیکھا تھا ابو!
ابو: کس طرح کے سوٹ بوٹ والے بیٹا!

منٹو: اُف۔۔۔ابو، آپ کو بھی کچھ یاد نہیں رہتا۔ وہی لوگ جو تین سالوں پہلے بجلی کنکشن لے کر ہمارے گھر آئے تھے، جنھوں نےB P L سے متعلق ہمیں سمجھایا تھا اور ہم بجلی لینے کے لیے تیار ہوئے تھے۔
ابو: اوہ۔۔۔!!! ہاں!ہاں! اب سمجھ لیا بیٹا، اچھا وہ کیا کہ رہے تھے چوراہے پر؟
منٹو: وہ تو ٹھیک طرح سے مجھے معلوم نہیں ہے ابو! پر ہاں! میرے ایک ہم درس یہ کہ رہے تھے کہ:” وہ بجلی بل لینے آئے ہیں”۔
ابو: اوہ؛ ہاں! خیر وہ ہم لوگوں کے پاس تھوڑے نا آئیں گے، ہم لوگ تو B P L والے ہیں۔ بیٹا، اچھا سنو! کچھ پیسے جو میں نے خرچ سے بچا کر تجوری میں رکھے ہیں وہ تمھاری امی کے علاج کے لیے ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے جلد از جلد علاج کرانے کا مشورہ دیا ہے۔ ورنہ۔۔۔ورنہ بیماری جان لیوا ہو سکتی ہے۔
منٹو: جی، درست کہا آپ نے ابو، ہمیں اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔
ابو: کل تمھاری امی کو شہر ہسپتال لے کر جانا ہے منٹو! صبح تیار رہنا۔
آج صبح سے ہی منٹو اور اس کی بہن و والد صاحب، امی کو شہر لے جانے کی تیاری میں مصروف تھے۔ چھوٹی سی بہن کو تو یہ جان کر ایک عجیب سی خوشی حاصل تھی کہ اس کی امی آج شہر گھومنے جا رہی ہیں، وہ فُدک فُدک کر یاد سے امی کے ایک ایک سامان جھولے میں بھر رہی تھی، ابو نے مشکل سے بھاڑے پر ایک تانگہ لیا تھا، وہ تو صرف اسی فکر میں ڈوبے رہتے کہ کسی طرح جلد از جلد منٹو کی والدہ کا کامیاب علاج ہوجائے اور ہماری سابقہ خوشیاں واپس لوٹ آئے۔
ناشتے کے بعد جیسے ہی منٹو کے والد سامان اٹھائے گھر سے باہر نکلے سامنے وہی پرانے سوٹ بوٹ والے کھڑے نظر آئے۔ منٹو کے والد نے انھیں چارپائی پر بٹھایا اور وہ ان سے آنے کا سبب دریافت کرنے ہی والے تھے کہ ان لوگوں نے خود ہی بتا دیا۔
منٹو کے والد پر ۸۱/ ہزار روپیے کی خطیر رقم کا بجلی بِل آیا تھا اور وہ لوگ جلد از جلد اس کی ادائیگی کی مانگ بھی کر رہے تھے۔
منٹو کے والد: لیکن B P L والوں کو تو فری بجلی ملتی ہے نا صاحب!
بجلی افسر: نہیں ایسا کہا ہے؟ بل سب کو ادا کرنا پڑتا ہے۔
منٹو کے والد: (گھبراتے ہوئے) مگر۔۔۔مگر۔۔۔اس وقت تو۔۔۔
بجلی افسر: نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔اب تک آپ نے جتنا استعمال کیا ہے، سب کا تخمینہ لگا کر آپ کو پورے ۸۱/ ہزار روپے ادا کرنا ہی پڑے گا۔
منٹو کے والد: مگر۔۔۔مگر صاحب! ایک ہی بلب تو میرے گھر جلتا ہے، پھر بھی اتنی خطیر رقم کیسے ہو گئی؟۔
بجلی افسر: سنیں بزرگوار!!! ہم کرم چاری ہیں، ہم آپ سے اتنی رقم لینے کے پابند ہیں، یہ لیں اور دیکھیں بل! بورڈ، میٹر، تار اور بلب، جو آپ کو اوّلاً فری میں ملے تھے، اس کے بھی پیسے دینے پڑیں گے آپ کو!
پھر چند ہی ثانیے بعد بجلی افسران جا چکے تھے اور منٹو کے والد غور و فکر کی گہرائیوں میں ڈوب چکے تھے، ان کی نظروں کے سامنے گھپ اندھیرا تھا، خوف کے مہیب سائے تھے، انھیں اپنی مسکراتی ہوئی دنیا اُجڑ جانے کا یقین ہو چکا تھا، زبان پر غریب و سادہ دل عوام کا لہو چوس لینے والی ظالم سرکار کے خلاف بھرپور شکوے تو تھے ہی۔۔۔مگر۔۔۔مگر وجود بھر میں پھیلی ارتعاش کی لہریں جرأت اظہار کی اجازت نہیں دے رہی تھیں۔ اہلیہ کو علاج کے لیے شہر لے جانے کا ارادہ مکمل رد ہو چکا تھا، اب انھیں دوسری ہزار قسموں کی فکر بڑی تیزی سے ستائے جا رہی تھیں، وہ اندر ہی اندر سے انھیں کھا رہی تھیں، اگر وہ مہینہ بھر بھی مزدوری کرتا تو اتنی خطیر رقم جمع نہیں کر سکتا تھا۔ منٹو بھی یہ منظر دیکھ کر سہم گیا تھا، ان کے سامنے اگر ان کی بیمار ماں کا قابل رحم چہرہ تھا تو وہیں دوسری طرف ظالم سرکار کی خطیر رقم کا بجلی بل بھی۔ ہاں! یہ وہی بِل تھا، جسے شروع شروع میں فری آف کاسٹ کا جامہ پہنا کر متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ گھر گھر میں چسپاں کر دیا گیا تھا۔ اب تو اس غریب خاندان کا بھی کوئی پرسان حال نہیں تھا، منٹو کی والدہ جہاں بستر مرگ پر پڑے ہوئے اب بھی موت و حیات کی جنگ لڑ رہی ہیں وہیں منٹو بھی برابر اپنی سابقہ مسرتوں پہ بے انتہا لعنتوں کی ہتھوڑیاں برساتا چلا جا رہا ہے۔