وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

63
تحریر :حافظ میر ابراھیم سلفی طالب علم بارہمولہ کشمیر 
گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہرہے، وہ قند
کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب
پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند
اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
قدیم زمانے سے عورت کو فقط جنسی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ تصور کیا جاتا تھا,جسے استعمال کرکے کوڑے دان میں پھینکا جاتا تھا.نحوست جیسے قبیح لفظ کو عورت ذات کے ساتھ جوڑا جاتا تھا.عورت کو برائیوں کی جڑ مانا جاتا تھا بلکہ بعض اقوام نے تو عورت کو انسان تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا.لیکن شریعت اسلامیہ نے عورت کو ایک پہچان دی,مقصد حیات فراہم کردیا,مقصد تخلیق سے آشنا کردیا.نبوی تعلیمات کے مطابق صالحہ عورت دنیا کی سب سے عظیم نعمت ہے.عورت کے مختلف روپ اور کردار  ہوتے ہیں مثلاً ماں,بیٹی,بہن,بیوی,بہو وغیرہ.ہرکردار میں محبت,الفت اور جذبات کا سمندر دیکھنے کو ملتا ہے.عورت کو بحیثیت ملکہ کائنات کے سامنے پیش کیا گیا.قدیم زمانے میں بعض قبائل عورت کو شیطان کا روپ تصور کرتے تھے لیکن اسلام نے ان کا شمار جنت کی شہزادیوں  میں کردیا.کائنات کا ایک متفق اصول ہے کہ جس چیز کی جتنی زیادہ عظمت اور قدر و منزلت ہو اس پر فرائض و ذمہ داریاں بھی زیادہ عائد ہوتی ہیں.اہل عقل اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اقوام کا عروج و زوال عورتوں کے کردار پر ہی منحصر ہوتا ہے. بدکردار عورت جہاں باعث فساد و فتنہ ہے لیکن صالحہ عورت ہی باعث امن و سکون ہے.شرعی تعلیمات میں عورتوں کے مختلف کردار کو کس طرح پیش کیا گیا اور کون سے عظیم اصول حصول کامیابی کے لئے بیان کئے گئے…ان کی طرف ہم نظر ڈالتے ہیں.
                        مثالی بیٹی
بیٹیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا تھا اسے قرآن کی آیات مبارکہ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ”اور جس بچی کو زندہ قبر میں گاڑ دیا گیا تھا اس سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا”.(التکویر ) شریعت اسلامیہ نے ہی بیٹیوں کو زندگی بخشی.بیٹیاں جہنم سے نجات کا ایک بڑا سبب ہے.آئے اور ایک دردبھرا واقعہ نقل کرتے ہیں.”
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یاتین بہنیں ہوں اوروہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہوگا ”.(جامع ترمذی).جہاں عظمت اتنی بلند ہو وہاں احکام بھی بلند ہونگے.عصر حاضر میں ملت کی بیٹیوں پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں جنکی ادائگی لازمی ہے.مثالی بیٹی بننے کے لئے اولاً خود کو شرم و حیا سے متصف کریں.عصر حاضر کے کالجوں ,ہائرسکینڈریوں,مدرسوں میں دیکھا جاتا ہے کہ ملت کی لڑکیاں اجنبی افراد کے ساتھ ہمدردی کا رشتہ قائم کرتی ہیں.اگرچہ انکی نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتا لیکن شیر  کا اپنا منہ کھولنا شکار کی غرض سے ہوتا ہے نہ کی مسکراہٹ کی غرض سے.انسانی شکلوں میں درندے بیٹھے ہوئے ہیں جو آپکے عفت و عصمت ,شرم  حیا ,کردار و پاکدامنی کو داغدار بنانا چاہتے ہیں.آپکی حیا اللہ کی دی ہوئی امانت ہے ,آپکا کردار والدین کا فخر ہے,اگر اس پر  کوئی آنچ آئی تو آپ معاشرے کے لئے فقط ناسور بن کے رہ جاؤ گے.کالج کے کینٹین (canteen)  ہو یا بازاروں کی چہل پہل ,گرد و نواح میں آپکو ملت کی بیٹیاں ہی نظر آئینگی.مرد حضرات دودھ سے دھلے ہوئے نہیں ہیں لیکن یہاں مخاطب ملت کی بیٹیاں ہیں.والد فخر سے آپکی مثال دیتے ہوئے پھرتا رہتا ہے.سیدہ طیبہ طاہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھیں کہ جنکے کردار پر منافقین نے انگلی اٹھائی لیکن اللہ نے عرش اعلی سے براءت کا اعلان فرمادیا اور ام المومنین کے کردار کی گواہی دی.آج سوشل میڈیا (facebook,whatsapp,insta,snapchat) و دیگر راہوں پر شیاطین الانس بیٹھے ہیں تاکہ کسی طرح وہ اپنی ہوس کی تکمیل کرسکیں.حان لو!آپکے اپنے نصبی بھائی کے سوا کوئی آپکا اپنا بھائی نہیں ہوتا,غیر محرم مرد کبھی آپکا ہمدرد نہیں ہوسکتا.مغربی اقوام ہمارے گھروں میں گھس کر بدکاری کے اڑے کھولنا چاہتے ہیں اور انٹرنیٹ (internet) کے ناجائز استعمال سے وہ اپنے مقاصد میں کامیاب بھی ہورہے ہیں.ملت کی بیٹیو! اپنی قدر و منزلت پہچانو! اپنے مقام و مرتبہ کا پاس و لحاظ رکھو.سیدہ فاطمہ ,سیدہ عائشہ,سیدہ آسیہ,سیدہ سمیہ,سیدہ خدیجہ,سیدہ مریم رضی اللہ عنہن اجمعین تمہارے لئے رہبر و رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں. شرم و حیا کے ساتھ ساتھ ثانیاً ملت کی بیٹیوں پر اسی طرح شرعی احکام نافض ہیں جس طرح مردوں پر.نماز,روزہ,زکاۃ,حج و دیگر عبادات آپ پر بھی فرض ہیں.اپنے گھریلو ماحول کی تصحیح کرو.گھر کا کام کرتے کرتے کہیں رب نہ بھول جائے.رب تعالی کی بندگی کے لئے وقت نکالا کرو.معاشرہ جس عریانی اور فحاشی کے دلدل میں ڈوب چکا ہے,خود کو اس سے محفوظ رکھو.تمہارے لئے عبدی آزادی جنت کی آزادی میں پوشیدہ ہے.یہ دنیا کی آزادی تمہارے لئے میٹھے زہر(sweet poison) کا کام دیتی ہے.والدین کی استطاعت دیکھ کر اشیاء کا مطالبہ کیا کریں.ملت کے بعض دیوث والدین ایسے بھی ہیں جو بیٹی کی ولادت کو باعث شر تصور کرتے ہیں.لیکن ان کا یہ گماں کسی حد تک سماجی بحران کا نتیجہ ہے.اس لئے اپنے وجود کی حفاظت کرو.بیٹیاں سراپا رحمت ہوتی ہیں اگر شرعی حدود میں رہیں.بیٹیاں والدین کے لئے تسکین کا عظیم اور مقدس ذریعہ ہے.ثالثاً ملت کی بیٹیاں خود کو شرعی تعلیم سے مستفید کریں.سلف و صالحین کے زمانہ سے ہی ملت کی بیٹیاں دعوت و تبلیغ کا کام کررہی تھیں.اس سلسلہ میں ہمارے سامنے سب سے بڑا اور روشن اسوہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذات گرامی ہے جو درس گاہ نبویؐ کی سب سے کامیاب طالبہ اور امت کی سب سے بڑی معلمہ تھیں. وہ قرآن کریم کی بہت بڑی مفسرہ تھیں، حدیث رسول کی ایک بڑی راویہ و شارحہ تھیں،وہ مجتہد درجے کی مفتیہ تھیں,اور طب و علاج (medical science)کے بارے میں بھی ضروری معلومات سے بہرہ ور تھیں.یہ تنگ اور چست لباس,یہ بغیر دوپٹہ مے خانوں کی زینت بننا فقط گندگی ہے جس میں جسمانی اور روحانی امراض چھپے ہوئے ہیں.خود کو اس نجاست سے پاک رکھو.اپنے پردہ کی حفاظت کرو,اپنے حجاب کی حفاظت کرو.اللہ کا وعدہ سچا ہے اگر تم اپنے عفت و عصمت کی حفاظت کرو گی تو اللہ تمہارے لئے باکردار جوڑے کا ہی انتخاب کرے گا.خود کو غیر شرعی تعلقات میں مبتلا ہونے سے بچالو.
               مثالی بہو اور مثالی بیوی
جب اللہ خالق کائنات نے تمہارے لئے ایک باکردار نوجوان کو منتخب کیا تو تم بھی اس پر راضی رہو.نکاح کرتے وقت صالح,پاکدامن کا انتخاب کریں.جو بندہ اللہ کا خوف رکھتا ہوگا وہی بندہ آپکے حقوق بھی ادا کرے گا.نکاح کے بعد آپ پر شوہر کی اطاعت جائز انور میں واجب ہوجاتی ہے.بناؤ سنگھار فقط اپنے شوہر کے لئے کریں.گھر میں صفائی کا اہتمام کریں.فتنوں کو گھر میں پروان چڑھنے کا موقع نہ دیں.شوہر کی غیر موجودگی میں اپنے شرم و حیا کی حفاظت کریں.عصر حاضر میں ملازمین کا تبادلہ تیزرفاری کے ساتھ ہورہا ہے ,کبھی کبھار آپکا شوہر دو مہینوں کے لئے بھی گھر سے باہر رہ سکتا ہے.ان ایام میں اپنے کردار کی حفاظت کریں.بناؤ سنگھار(make up) کرکے گھر سے باہر نہ نکلیں.فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "عورت پردہ ہے ۔جب یہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان لوگوں کی توجہ اس کی طرف پھیرتا ہے ۔چنانچہ یہ شیطانی صورت میں آتی اور جاتی ہے”.(جامع ترمذی)شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کا فتوی ہے کہ "محرم اور خاوند کے علاوہ دیگر لوگوں کے سامنے بازواور کلائی ننگی رکھنا حرام ہے۔عورت پر اپنی استطاعت کے مطابق پردہ اور حیاء کرنا فرض و لازم ہے ۔اسی طرح بازو کو ڈھانپنا بھی ضروری ہے ۔ہاں اگر ایسی جگہ ہو جہاں سوائے اس کے خاوند کے اور کوئی نہیں تو پھر کوئی حرج نہیں ۔نیز بازار جاتے ہوئے بھی عورت اپنے بازو اور ہاتھ برقعہ یا چادر وغیرہ میں چھپا کر رکھے گی”.یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اگر شوہر کسی غیر شرعی کام کا حکم دیں,تب اس کی اطاعت بھی نہیں کی جائے گی.شوہر کے والدین کے ساتھ  حسب استطاعت حسن سلوک کریں.فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "مسلمان عورت اگر پنجگانہ نماز کی پابندہو ۔رمضان کے روزے رکھے اپنی عزت کو محفوظ رکھے اور خاوند کی فرمانبردار ہو تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے”.(صحیح ابن حبان) شریعت نے آپ پر صرف شوہر کی اطاعت واجب کی ہے لیکن شوہر کے فرائض اپنے والدین کے تئیں بہت زیادہ ہیں ,اس لئے اس بارے میں اعتدال پسندی سے کام لیں.کسی غیر کی باتوں میں نہ آئیں.اپنے شوہر کی ہمراز اور ہمسر بن کے رہیں. شوہر کو مفید مشورہ دیا کریں,پریشانی میں اس کی دوست بن کے رہیں.اچھے القاب سے اپنے شوہر کو پکاریں.غلیظ زبان کا استعمال نہ کریں.کڑواہٹ کو مٹھاس میں تبدیل کرنے کا ہنر سیکھ لیں.حقوق زوجین کا خیال رکھیں.لیکن یہاں بھی اللہ کی اطاعت مقدم رکھیں. اس اصول کو اپنا کر دیکھ لیں
"Have a clean slate attitude,forgive and forget”.
اسی طرح محبت و الفت عام کریں.اپنے شوہر کا لباس بن کے رہیں.اپنی ساس سے بھی مشورہ لیا کریں,آتے اور جاتے وقت اس سے اجازت طلب کیا کریں.اپنی ساس کو ماں کا درجہ دیں,ہمیشہ اسکا دل جیتنے کی کوشش کریں.جائز امور میں اسکی نصیحت پر عمل کریں اور ناجائز کام میں اپنی ساس کو احسن طریقے سے سمجھائیں.یاد رکھو! شوہر کے اجازت کے بغیر کوئی غیر محرم گھر میں داخل نہ ہوجائے.نہ ظلم کریں اور نہ ہی خود پر ظلم ہونے دیں.شرعی تعلیم اور حجاب و پردہ پر نکاح کے بعد بھی عمل کریں.اپنے دیور سے سختی سے پردہ کیا کریں کیونکہ وہ گھر کا نامحرم ہے,اس سے میل جول بڑھانے سے اجتناب ہی کریں.کیونکہ یہی ہمارا دین ہے.شوہر سے ناراضگی بھی ہو تو عائشہ جیسی .امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ "جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو قسم کھاتے وقت”ربِ محمد کہتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو تو ربِ ابراہیم کہتی ہو”.(صحیح مسلم)
                              مثالی ماں
ماں کی قدر و منزلت سے کون واقف نہیں.عباس تابش کا ایک شعر ملاحظہ ہو
ایک مُدت سے ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے​
ماں محبت کا سرچشمہ ہے.ماں جذباتوں کا سمندر ہے.ماں کی مسکراہٹ غموں کا کفارہ ہے.ماں کی شفقت ہر مرض کی دوا ہے.ماں کے اپنی اولاد پر بہت زیادہ حقوق ہیں انہیں شمار میں لانا ممکن نہیں.دل و جان کے ساتھ جس قدر ممکن ہو سکے ماں سے محبت اور ماں کا احترام ؛ کیونکہ ماں سب سے زیادہ حسن سلوک کی حق دار ہے۔ماں نے ہی تمہیں اپنے پیٹ میں حفاظت کے ساتھ اٹھائے رکھا،  اپنے سینے سے تمہیں دودھ پلایا، اس لیے ماں کی محبت لازمی  چیز ہے، اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں، بلکہ فطرت بھی اسی کی متقاضی ہے، اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ بچوں کی ماں سے اور ماؤں کی بچوں سے محبت  تو جانوروں اور چوپاؤں میں بھی اللہ تعالی نے فطری طور پر رکھی ہے، اس لیے انسان میں ان سے بھی زیادہ ہونی چاہیے جبکہ مسلمان میں انسانوں سے بھی زیادہ ہونی چاہے.فرمان ربانی ہے کہ "اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے لیے حسن سلوک کی تاکیدی نصیحت کی ؛ کہ ماں نے اسے  دوران حمل تکلیف جھیل کر اٹھائے رکھا اور زچگی کے دوران بھی تکلیف اٹھائی”.(الاحقاف) جہاں ماں کی رفعت و عظمت کسی سے چھپی نہیں بلکل اسی طرح فرائض میں پوشیدہ نہیں.عصر حاضر میں ملت کی ماؤں پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھیں.بچوں کی ضد کے آگے نہ جھکے,غیر شرعی امور میں اولادوں کو پہلے سے ہی دور رکھیں مثلاً غیر شرعی لباس,غیر شرعی آلات (instruments) , غیر شرعی کتب وغیرہ.بچوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون(smart phone)دینے میں جلدی نہ کریں.اپنے گھر میں فحش اور غیر شائستہ کپڑوں,کتابوں,ڈراموں اور فلموں(movies) کو جگہ نہ دیں.عصر حاضر میں ایک ذمہ داری یہ بھی عائد ہوتی ہے کہ گھریلو استاذ (tutor) کا انتخاب تحقیق کرکے کریں.بچوں کے صبح و شام پر نظر رکھیں.بری صحبت سے بچوں کو محفوظ رکھیں.ثالثاً اسکول (school) کا انتخاب کرتے وقت نام اور داخلی رقم (admission fee) نہ دیکھیں بلکہ اسکول کے نظم و نظام تعلیم پر نظر ڈالیں.رابعاً اپنے بچوں کا  داخلہ دینی مدارسوں و درسگاہوں میں بھی کریں.سماج اخلاقی بحران کی زد میں ہے ,اس سے بچنے کی واحد صورت دینی مدارس اور علماء ہیں.ماں ہونا ایک عہدہ بھی ہے اور ایک منصب بھی.مگر یہ عہدہ و منصب باعث عزت و افتخار اس وقت ہے جب صاحب منصب اپنی ذمہ داریاں بخوبی اور احسن طریقے سے ادا کرے لیکن اس کے برعکس اگر صاحب منصب کی طرف سے اس عہد ے میں خیانت اور غفلت کا مظاہرہ کیا جائے تو یہی منصب اور عہدہ انسان کیلئے وبال جان بن جاتا ہے ا ور اس مصیبت میں گرفتاری نہ صرف دنیا میں رہتی ہے بلکہ قیامت میں بھی صاحب منصب سے عہدے اور اپنے ماتحتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا.سرور کونین ﷺنے بھی امانت کی ادائیگی کی بہت تاکید فرمائی ہے ، سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں بہت کم ایساہوگا کہ رسول اللہ ﷺنے کوئی خطبہ دیا ہو اور اس میں یہ ارشاد نہ فرمایا ہو ’’جسمیں امانت داری نہیں اسمیں ایمان نہیں ،اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں‘‘.(شعب الایمان). آج ملت کی ماں اس بات میں فخر محسوس کرتی ہے کہ اس کی بیٹی تنگ,چست لباس زیب تن کرے.ملت کی ماں اس بات میں اپنی عزت تلاش کرتی ہے کہ اس کی بیٹی یہود و نصارٰی و ہنود کے طریقے پر چل کر ننگے بال رکھے.کس طرح ملت کی مائیں اپنے اولادوں کو زہر پلا رہی ہیں اور اس پر ناز  کر رہی ہیں.آج اسکول کا انتخاب بھی غیر شرعی طریقہ کو دیکھ کر ہی کیا جاتا ہے.بچوں کا نام رکھنے سے لیکر نکاح کرنے تک مغربیت کو گلے لگایا جارہا ہے.امت کی ماؤں سے مجھے ایک گلا ہے کہ بچوں کو دین سے متنفر کرنے میں ان کا بھی ایک خاص حصہ ہے.سیدہ سارہ و سیدہ ہاجرہ بھی ملت کی مائیں تھی لیکن تم نے تو ام اسماعیل کے خلاف اعلان جنگ کردیا.
                        مثالی ساس
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں جو عورتیں پریشان رہتی ہیں ان میں سے% 60 وہ ہوتی ہیں حو سسرال والوں کی طرف سے ستائی جاتی ہیں.بہو پر ظلم و تشدد شرعی,سماجی اور قانونی جرم ہے.ساسوں کو چاہئے کہ اپنی بہو کی خامیوں کو برداشت کرلیں اور خوبیوں کو مد نظر رکھیں.بہو کی معمولی معمولی خطاؤں پر اسے ٹوکنے کے بجائے محبت و الفت سے سمجھایا جائے.حقوق نسواں کی بات کرنے والی خواتین اکثر خود ہی ان حقوق کو پامال کررہی ہوتی ہیں.آپ کی بہو بھی کسی والد کے جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے.کسی ماں کے دل کا قرار ہوتی ہے.اپنی بیٹی کے لئے آرام و سکون تلاش کرنے والے آخر کیوں دوسروں کی بیٹی کی زندگی کو دوزخ بنانے پہ تلے ہوئے ہوتے ہیں.طلاق کی شرح میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور اسکی وجوہات میں سے سسرال کا ظلم بھی شامل ہے.جہاں بہو اپنے فرائض ادا کرے گی وہیں ساس کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہونگی.اگر بیٹا بہو کے ساتھ محبت کرتا ہے تو یہ مبارک کی بات ہے لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے.ماں کو بیٹے کا رجحان بیوی کی طرف برداشت ہی نہیں ہوتا.بعض ایسے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں کہ ساس بہو کو احکام الہی پر عمل پیرا نہیں ہونے دیتی.ہر ساس ایک جیسی نہیں ہوتی.رسہ کشی (tug of war) کو ترک کریں.بہو کو بھی فیصلہ لینے کا حق دیں.ہماری ساسوں کی زبان پر اکثر ایک کلمہ ہوتا ہے کہ "اس نے میرے بیٹے کو مجھ سے چرا لیا”. یہ سب کچھ دراصل رشتوں کو نہ سمجھنے اور شریعت سے دوری کا ہی نتیجہ ہے.
ساس کو چاہئے کہ بہو سے توقعات کم رکھیں اور بہو کو اپنے حساب سے گھر چلانے دیں.بہو کی محنت کی تعریف کریں.اسے لاڈلی بیٹی کی طرح پیار دیں.اور یاد رکھیں کہ
"to run a big show,one should have a big heart”.
                       مثالی طالبہ
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ "صحابہ کرام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی,لیکن علماء صحابہ  ایک سو انچاس تھے جنہیں
افتاء پر عبور تھا .اور ان میں سے بھی سات صحابہ کبار مفتیان کرام کی حیثیت رکھتے تھے.اور ان میں سے ایک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں.ملت کی بہنو! خود میں خوداعتمادی,خودی,طلب علم کی حرص پیدا کرو.بس ایک چیز کا خیال رکھنا کہ دنیا سے نکل کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو منہ دکھانا ہے,سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا کا سامنا کرنا ہے.اپنے کردار کو اتنا اعلی کرو کہ لوگوں کی نظریں تمہیں دیکھ کر جھکی رہیں.بدنگاہی سے محفوظ رہنا.معاشرے کی اصلاح میں تمہارا کردار نمایاں ہے.اعلی تعلیم یافتہ بچیاں تصنیف و تالیفی کام میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں.فقہی علوم میں رسوخ پیدا کیجئے کیونکہ آپ کو آگے چل کر ملت کی کشتی کو چلانا ہے.
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اُسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں