شوہر کو الوداع اور شوہر کا استقبال کیسے کریں

16

ایک چیز جو بہت اہم ہے۔ مگر کچھ عورتیں کرتی ہیں کچھ نہیں کرتیں۔ وہ ہے خاوند کا استقبال اور خاوند کو الوداع کہنا۔ جب خاوند گھر سے رخصت ہونے لگے تو نیک بیوی ہمیشہ دروازے تک جاۓ اور نیک تمناؤں اور دعاؤں کے ساتھ شوہر کو رخصت کرے۔ بیوی کی آخری لمحے کی مسکراہٹ شوہر کو پورا دن یاد رہے گی۔ اور اسی طرح کام میں کتنی ہی کیوں نا مصروف ہو۔ جب خاوند گھر آۓ تو کاموں میں سے چند لمحوں کے لیۓ اپنے آپکو فارغ کرکے مسکراتے چہرے سے اپنے خاوند کو سلام کرے۔
یہ خاوند کی باہر کی پریشانیوں کو ختم کردیتا ہے یہ استقبال اور الوداع یوں سمجھیۓ کہ عورت کی ازدواجی زندگی پر تو واجب کی مانند ہے۔

عرب عورتوں سے ایک بار سوال پوچھا گیا کہ تم اپنے خاوند کو الوداع کرتے ہوۓ کیا کہتی ہو۔ تو مختلف عورتوں نے اپنے الفاظ بیان کیے۔
ایک کہنے لگی کہ میں یوں کہتی ہوں "فی امان اللہ۔ فی جوار اللہ”
دوسری نے کہا میں تو کہتی ہوں
"اے اللہ! انکو جلدی سلامتی کے ساتھ واپس لوٹادینا”
ایک نے کہا، میں تو یوں کہتی ہوں
"اے اللہ انکی حفاظت کرنا یہ میرے مثالی خاوند ہیں اور میرے بچوں کے ایسے باپ ہیں کہ انکا کوئ نعم البدل نہیں”
ایک نے کہا، میں اپنے خاوند کو الوداع کرتے ہوۓ کہتی ہوں
” ایسا مُکھڑا دوبارہ دیکھنے کی مجھے کب سعادت ملے گی”
ایک نے کہا، میں تو کہتی ہوں
"اپ اللہ سے ڈریے گا اور ہمیں وہی لا کردیجیۓ گا جو حلال ہو”

تو کیا ہماری عورتیں بھی اس قسم کا کوئ پیغام اپنے خاوند کو دیتی ہیں۔ انکو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ خاوند کب تیار ہوکر چلا گیا اور کب گھر آگیا۔ لہذا عورتوں کو چاہہۓ اس اہم چیز میں غفلت نا برتیں، اپنے شوہر کے لیۓ الوداع اور استقبال کا خاص اہتمام کیا کیجیۓ۔