نالی نہیں رہنے کی وجہ سے کئی لوگوں کے گھروں میں گھسا پانی

37

کرسا کانٹا بلوک کے پہوسی پنچایت واٹ نمبر دو میں کئی لوگوں کے گھروں میں گھسا بارش کے پانی لوگوں میں ہے خوف کا ماحول گھر سے نکلنا ہوا دشوار ملی معلومات کے مطابق لوگوں نے بتایا کہ پچھلے کئی ماہ سے ہم سب اس پریشانی سے لڑ رہے ہیں نہ ہی مکھیا نہ ہی سمیتی نہ ہی ویدھایک ہماری پریشانی کو سنتے ہیں اور نہ ہی ان پریشانی سے نجات دلانے کا کوئی سخت سے سخت قدم اٹھاتے ہیں وہی پر لوگوں نے موجودہ مکھیاں سمیتی ودھایک جیسے بڑے بڑے لیڈر پے گمبھیر اروپ لگائے ہیں ساتھ ہی راج سرکار کے خلاف بھی اپنے غصے کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ سرکار نالی کی بات تو کرتی ہے پر نالی نہیں بناتی سرکار سڑکیں کی بات تو کرتی ہیں پر سڑکیں نہیں بنا تی سرکار ترقی کی بات تو کرتی ہیں پر ترقی نہیں کرتی بلکہ سرکار عوام کو بیوقوف بنانے کا کام کرتی ہیں اور لوگوں کو پیسے کے بل اپنی کرسی کی طاقت کے بل لوگوں کو الو بنا کراپنی کرسی مضبوط کرنے میں لگی رہتی ہیں بہار کے سرکار وزیر اعلی جناب نتیش کمار آسمانی باتیں تو کرتے ہیں ذرا زمینی سطح پر کام کرتے تو آج ہم سب پانی میں کھڑے نہیں ہوتے انتخابات کے وقت جیسے ہی قریب آتا ہے چھوٹے بڑے تمام لیڈران گلی میں گھوم گھوم کر اپنی کرسی کی بھیک مانگتے ہیں اور وعدے کرتے ہیں کہ ہم غریبوں کی آواز بے بسوں کی آواز لاچاروں و مجبوروں کی آواز بن کر آپ کے بیچ دن ورات کھڑا رہنے کا کام کریں گے پنچایت میں سماج میں جو بنیادی کمی ہے ان کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے جب صاحب جیت کر اپنی کرسی پر بیٹھتے ہیں تو نہ جانے کہاں وہ چلے جاتے ہیں اور ان کے وعدے بھی غائب ہو جاتے ہیں پھر پانچ سال وہ سڑکیں وہ نالیاں وہ غریبوں کی آواز پانچ سالوں تک صاحب کا انتظار کرتی رہتی ہیں ہم سب سرکار سے گزارش کرتے ہیں کہ جلد سے جلد نالی کا کام شروع کروا کر پریشانی سے نجات دلائیں