عصر ِحاضر میں اساتذہ و طلبا کے ذریعہ روحانی اقدار کا فروغ

36

انسان طبعاً معاشرت پسند ہوتا ہے (از قلم :۔ شیبا کوثر ،(آرہ ،بہار )انڈیا ) اس کی گروہی جبلت اپنے اپنے ہم جنسوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کی دعوت دیتا ہے وہ اپنی پوری زندگی بیشمار افراد کی توجہ امداد اور سہا رو ں کا محتاج ہے ۔یہی نہیں بلکہ اپنی فطری صلاحیتوں کے نشو و ارتقا ء اور ان کے عملی اظہار کے لئے بھی وہ اجتمائی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے جس میں ہر فرد کے کچھ حقوق و فرائض ہوتے ہیں ۔ان حقوق میں بعض کی حیثیت محض اخلاقی ہوتی ہے اور بعض حقوق انسانی ہوتے ہیں اور یہ حقوق رنگ ،نسل ،علاقے ،زبان اور دوسرے تمام امتیازات سے ماورا ہیں اور انسان کو محض انسان ہونے کی بناء پر حاصل ہیں۔اگر کوئی اسے پورا نہیں کرتا تو وہ ایک طرح سے انسانیت کا مجرم ہے۔لیکن آج ہم جب سماج کا جائزہ لیتے ہیں تو بخوبی اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ عصر حاضر میں اکثر و بیشتر لوگ اس حقوق انسانی سے محروم نظر آتے ہیں جس کی وجہ کر انکی زندگیاں جانوروں سے بھی بدتر ہو چکی ہیں اور وہ گھٹ گھٹ کر جینے کے لئے مجبور کر دئے گئے ہیں جس کی خاص وجہ روحانی اقدار کی کمی ہے ۔
آج جس دور سے ہم لوگ گزر رہے ہیں سچ یہ ہے کہ علم کا دٙور دورا ہے انسان تر قی کے منازل طئے کرتے ہوئے آج چاند اور ستارے پر کمند یں ڈال رہا ہے۔زمین کا کوئی بھی گوشہ سمندر کی گہرائی ہو یا پہاڑوں کی چو نٹی،زمین کی سطح ہو یا زیر زمین، انسان اپنے علم کی بنیاد پر ذرے ذرے سے فیضیاب ہو رہا ہے ۔جو یقیناً خالق کائنات کی بے مثال تخلیق ہے۔اور یقینا ً الله تعالی نے ان سبھی چیز کی تخلیق میں انسانوں کے لئے بےپناہ فائدے کو چھپا رکھا ہے ۔ساتھ ساتھ اس سے فائدہ اٹھانے کے تدبیر اور طریقے بھی بتائے ہیں۔اللّه سبحان تعالی نے قرآن مجید میں جگہ جگہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے کائنات کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے اور فرمایا کہ کیا تم ہماری تخلیق پر غور و فکر نہیں کرتے یعنی غور و فکر کا حکم اللّه پاک نے ہمیں دیا ہے۔آج جو قومیں بام عروج پر پہونچنے کا دعوی کر رہی ہیں وہ قرآن حکیم کے اسی نسخہ کیمیا کو اپنا کر دنیاوی ترقی کے منازل طئے کر رہی ہیں۔ لیکن دوسرا پہلو جس کی بنیاد ایمان اور یقین پر ہے وہ اس سے کوسوں دور ہیں،وجہ ظاہر ہے کہ جو چیزیں ظاہری طور پر نظر آتی ہیں اور انسان کو فائدہ پہنچا تی ہیں وہ اس پر فورا ً یقین کر لیتا ہے مگر جس چیز کا تعلق موت کے بعد ہے یعنی جو مراحل موت کے بعد آتے ہیں اس پر یقین کرنے کے لئے ایمان کی پختگی کی ضرورت ہوتی ہے جس کا تعلق روحانی علوم سے جڑا ہے ۔
جدید تعلیم کی بنیاد دراصل سائنس پر ہے جو ظاہری علوم سے وابسطہ ہے۔روحا نیت سے اس کا کوئ تعلق یا رشتہ نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تو انسان وائر س اور بیکٹیر یا پر تو یقین کر لیتا ہے چو نکہ وہ الیکٹرون ما ئکرو اسکوپ سے نظر آ جاتا ہے مگر اللّه سبحان تعالی کی ذات جو پورے کائنات کا خالق اور مالک ہے اس پر یقین نہیں کرتا ہے وجہ صاف ہے کہ اس کی ذات ایسی ذات ہے جس کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا بلکہ اس کی تخلیق کردہ چہروں کو دیکھ کر یا مشاہدہ کر کے اس ذات پر یقین کر سکتا ہے اور ایمان والوں کی یہی صفت ہوتی ہے کہ وہ جب اللّه پاک کی تخلیق کردہ چیزوں کو دیکھتا ہے اور اس پر جب غور و فکر کرتا ہے تو اسے اپنے رب پر یقین کامل ہو جاتا ہے اور وہ پکار اٹھتا ہے کہ بےشک اس کی تخلیق کرنے والا کوئی انسان نہیں ہے بلکہ وہی پاک ذات ہے جو سارے کائنات کا مالک ہے ۔ قرآن پاک مومن کی اسی صفت کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے ۔
"وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیا ں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اتارتا ہے اور نصیحت تو وہی پکڑ تا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے "۔(سور ة المومن)
آج جب ہم دنیا کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو اس بات کو نجو بی سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا میں جو انسانی اقدار کی پا مالی ہو رہی ہے اور انسان، انسان کے خون کا پیاسا بنا ہوا ہے اس کی وجہ کیا ہے ۔۔۔۔وجہ ہے روحانی اقدار کی کمی ،اس لئے اگر دنیا کو امن کا گہوا رہ بنا نا ہے تو انسانوں کے بیچ روحانی علم کا فروغ نہایت ضروری ہے بغیر اس کے دنیا سے ظلم و ستم ،جبر و تشدد اور بے راہ روی کو ختم کرنا ممکن نہیں ۔
انسان کی جو تعریفیں مختلف فلسفوں اور مختلف۔ نظریات میں کی گئی ہیں ان میں نہایت جامع اور سب سے معقول تعریف اشرف المخلوق قرار دیا جا سکتا ہے یعنی اللّه پاک کی مخلوقات میں سب سے بہتر ہے ۔اللّه سبحان تعالی نے اسے عقل و شعور بخشا، اچھے برے کی تمیز عطا کی اور اس منصب کی وجہ سے انسان دوسری مخلوقات کے حقوق اسی کے تحفظ کا ذمہ دار بھی ہے ۔لیکن حقیقت حال کچھ اور بیان کرتے ہیں حضرت انسان جس کے اجزائے مر کب میں خدائے لم یزل نے دو طرح کی فطرتوں کو ڈال رکھا ہے ایک فطرتِ انسا نی ہے اور دوسری فطرتِ حیوانی اور پھر انسانوں کو دونوں فطر تو ں کے برتنے کے نتیجے سے آگاہ کر دیا ہے جسے ہم عام زبان میں اچھی اور بری فطرت یا اگر اور وضاحت کے ساتھ کہا جائے تو فطرت ِانسانی جس کی بنیاد پر ہم ترقی کرتے ہوئے اشرف المخلوقات کے درجے پر پہونچ جا تے ہیں اور صحیح مانوں میں اشرف المخلوقات کے کہلانے کے حقدار ہوتےہیں مگر دوسری فطرت جو فطرت حیوانی کہلاتی ہے اگر ترقی کر جاتی ہے توانسا نی شکل و صورت سے انسان نظر آتا ہے مگر اس کے عمل سے جانور بھی شرمسار ہونے لگتے ہیں ۔اس طرح اللّه پاک نے انسانوں کو اختیار دے رکھا ہے کہ وہ اپنے کو جس راہ پر ڈالنا چاہے اس کو اختیار ہے،مگر موت کے بعد یہ اختیار ختم ہو جاتا ہے اور پھر اس کے عمل کی بنیاد پر اس کا معا ملہ ہوتا ہے اور پھر جنّت یا دوزخ کا مستحق) قرار پاتا ہے ۔قرآن شریف میں اللّه سبحان تعالی فرماتا ہے "جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا ،تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے "۔(سورة الملک٢)
عمل کی بنیاد حقیقی علم پر ہے اور جہاں تک علم کے فروغ کا سوال ہے وہ دنیاوی علوم ہو یا روحانی اساتذہ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سماج کے بناؤ یا بگاڑ میں اساتذہ کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل ہے جس کی وجہ کر سماج میں اساتذہ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یہی نہیں بلکہ درجہ کے اعتبار سے بھی والدین کے بعد کردار سازی میں جو رول ادا کرتے ہیں وہ ہمارے اساتذہ حضرات ہی ہوتے ہیں۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ حضرات بھی اپنی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے کردار کا محا سبہ کرتے رہیں کیوں کہ اساتذہ کی شخصیت کا اثر انکے شاگردوں پر بھی ہوتا ہے تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جتنے بھی با کردار اور روحانی شخصیتیں دنیا میں پیدا ہوئی ہیں ان کے استاد بھی با کمال اور روحانیت کے اعلی درجے پر فا ئض تھے جنکی شخصیت کا حلقہءاثر ان کے طالب علموں پر پڑا۔ اور وہ بھی روحانیت کے اعلی درجے پر فائز ہوئے ۔جہاں تک روحانی پیشوا یا استاد کا معا ملہ ہے تو بلا شبہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ دنیا کے عظیم تر استاد ہمارے نبی پاک حضرت محمّد صلی اللّه علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے جس کی ذات جا مع الصفات اور حسن و اخلاق کی تمام انواع و اقسام کا مرقع تھی اور ہمارے نبی پاک نے ہر جگہ انسانوں کی رہنمائی فرمائی ہے ۔
مثالی انسانی معاشرہ کی نشو و نما اور حفاظت کیلئے ایک معتدل متوازن اور منصفا نہ معاشرہ کی تشکیل کی بڑی اہمیت ہے ۔دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں سب کا پیغام یہی ہے کہ انسان کے لئے ایسے معاشرہ کی بنیاد ہو جس میں ہر طرف عدل کا بول بالا ہو اور ہر انسان کو اس کی صلاحیت کے مطابق آزادانہ طور پر رہنے کا موقع فراہم ہو کسی کے حقو ق کی پامالی نہیں ہو اور سبکا حق اس تک پہنچ جائے ،جس کے لئے سب سے اہم ہے کہ انسان کو اپنے اندر ایک انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے اور ہر انسان کو اپنے اندر اخلاق فاضلہ کی پرورش کرنی ہوگی ،معاشرتی اور انسانی مسا وا ت کو عام کرنا ہوگا ۔اور جس کام کے لئے اساتذہ و طلبا کو روحانی اقدار کو فروغ دینا ہوگا ۔اور اپنے کردار و عمل سے یہ بتانا ہوگا کہ ایک بہتر انسان کی زندگی کیا ہونی چاہئے _ایک انسان کی پہچان یہ ہے کہ اس کا اخلاق بہت بلند ہو ،اس کا کردار بہت پاکیزہ ہو ،اس کے معاملات بڑے صاف ستھرے ہوں اس کی زندگی کا ہر شعبہ بے داغ و بے غبار ہو ،جب وہ کسی سے وعدہ کرے تو اس کی پاسداری کرے،جب کسی سےبات چیت کرے تو اچھی اور سچی کرے اور جب اپنے پاس کسی کی امانت رکھے تو اس میں خیانت نہ کرے اپنی طرف سے کسی کو نقصان نہ پہنچا ئے بلکہ اپنی ذات کو بے ضرر بنا ئے ۔ہمارے پیارے نبی محمّد صلی اللّه علیہ وسلم نے فرما یا لا ضررولاضرار یعنی نہ اپنے کو تکلیف دو اور نہ دوسرے کو تکلیف۔ پہونچاو اور فرمایا لا یخدع و لا یخدع،یعنی نہ کسی دوسرے کو دھوکا دو اور نہ خود دھوکا کھاؤ اور آپ صلی اللّه علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جو بڑے چھوٹے سے شفقت نہ کرے اور جو چھوٹے بڑے کا اکرا م نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ،آپ نے پڑوسیو ں کے ساتھ حسن و سلوک کرنے کا حکم دیا آپ کا فرمان ہے کہ فلیکر جا رھ، اور مہمانوں کہ متعلق فرمایا فلیکرم ضیفہ یعنی اپنے مہمانو ں کا اکرام کرو ۔
اس۔ طرح حقو ق کی ادا ئگی پر آپ صلی اللّه علیہ وسلم نے بہت زور دیا ہے اور حقوق کے ادائیگی کے سبب ہی حضور اکرم صلی اللّه علیہ وسلم کا تیار کردہ معاشرہ ایک عظیم انقلابی قوت کا ذخیرہ بن گیا تھا ۔جب ہماری نگاہ نبی پاک صلی اللّه علیہ وسلم کی روحانی زندگی پر جاتی ہےتو عدل و انصاف ہمیں نمایاں طور پر نظر آتا ہے قرآن پاک میں ہے کہ "اللّه تمہیں عدل و احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی سے بے حیا ئی و ظلم و زیاد تی سے منع کرتا ہے ۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو (سورة النحل) اس لئے ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کے حقو ق چاہے معاشرتی ہوں یا سیاسی ،اخلاقی ہوں یا معاشی ہر لحاظ سے اس کی ضرور ت ،حیثیت اور صلاحیت کے مطابق ادا کئے جائیں ۔
اللّه کے نبی آپ صلی اللّه علیہ وسلم نے باہمی احسان کرنے کاحکم بھی دیا ۔احسان یہ ہے کہ افراد باہمی فیا ضی، فراخدلی، کشادہ دلی، ہمدردی، رواداری، خوش خلقی، نیکی اور مروت کا رویہ اختیار کرے۔اپنے حق کو موثر کر کے بھی دوسرے کا حق پہلے دیں ۔اپنا حق چھوڑ کر بھی دوسرے کا حق ادا کرے ۔خود تکلیف اٹھا کر بھی دوسروں کو راحت پہنچاۓ اور یہی طرز عمل ہمارے نبی پاک صلی اللّه علیہ وسلم کا بھی تھا ۔جسکی وجہ کر معاشرے میں خوشگوار ی ،شیر نی ،محبت و الفت پیدا ہو گئی تھی اور اس کا نتیجہ تھا کہ لوگوں کے اندر شکر گزار ی اعلی ظرفی اور ایثارو قربانی جیسی صفات عالیہ پیدا ہو گئی تھی اس لئے ضروری ہے کہ ہمیں بھی نبی کریم صلی اللّه علیہ وسلم کی۔ زندگی کو نمونہ مان کر اپنی زندگی کو گزارنے کی کوشش کر نی چاہئے اور ہمارے اساتذہ اور طلبا حضرات بھی ان رہنما اصولوں پر چل کر ہی سماج کو نجات کا راستہ دکھا سکتے ہیں جس کے لئے اپنے نفس کو پاک وصاف کرنا پڑے گا جو ایک مجاھد ہ ہے ۔اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز اسی میں پنہاں ہے ۔!!