اہل اسلام بدنام کیوں؟ بعض الزامات کا تحقیقی جائزہ

38
تحریر:حافظ میر ابراھیم سلفی مدرس بارہمولہ کشمیر
آمنہ کے لال سے شمس وقمر شرما گئے
روشنی پھیلی فضا جھومی محمد آگئے
تعارف
محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم شرط ایمان ہے.بغیر اس کے ہمارا ایمان نامکمل ہے.صحابہ کرام سے لیکر آج تک کے مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ کلمہ طیبہ تب تک ناقص ہے جب تک حب نبوی شامل نہ ہو.اہل ایمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں.سنت مبارکہ کی دفاع میں اہل ایمان اپنا سب کچھ داؤ پر لگاسکتے ہیں.لیکن کمال تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے محبت کریں.لیکن بعض بدقسمت افراد ایسے بھی ہیں جنہیں ایمان لانے کے باوجود نبوی محبت حاصل نہیں ہوتی بلکہ ان پر سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ غضبناک ہوتے ہیں.میدان محشر سجا ہوگا,اعمال کا وزن میزان پر ہورہا ہوگا,پل صراط سے گزرنے کی تیاریاں ہورہی ہونگی,نامہ اعمال اپنے ہاتھ میں لینے کا وقت آگیا ہوگا ,ایسی ساعت میں اگر آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دھتکار اور پھٹکار ملے ,آپ کائنات کو کیا منہ دکھائیں گے جہاں اولین و آخرین جمع ہونگے.اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جام کوثر نہ پلایا, آپ کدھر کی اور رخت سفر کریں گے.حقیقی اور ابدی عزت اسی سعادت مند کو حاصل ہے حسے نبوی محبت حاصل ہوئی اور بڈا خسارہ اٹھانے والا ہے وہ فرد جسے رہبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے باراضگی کا سامنا کرنا پڑا.تاحیات جس عظیم اور مبارک ہستی کی محبت کا دم آپ بھرتے رہے اگر اسی کی جانب سے آپ کو غضب کا سامنا کرنا پڑا تو کہاں جائیں گے؟بقول شاعر
کیا کروں گا اگر محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو کوئی اور کام بھی نہیں آتا
 نبوی محبت پانے کے لئے شریعت پر پابندی ,شرعی حدود پر عمل لازمی ہے.بعض منکر اعمال ایسے بھی ہیں جنہیں انجام دے کر آپ دو جہانوں کا خسارہ مول لے رہے ہیں.جنہیں ہم یہاں بیان کرنے والے ہیں.اصول ہے کہ محب کی محبت اگر محبوب کے حق میں صدق اور اخلاص پر مبنی ہو تو محبوب بھی محب کی طرف توجہ کرتا ہے.لیکن اگر دوعی محبت خالی لسان تک محدود ہو تو واپس بھی آپکو کچھ حاصل نہ ہوگا.محبت ثابت کرنی ہے تو تقاضوں کو پورا کرلو.آل یاسر جیسی محبت دھونڈ کے لا,سیدنا بلال حبشی کی جیسی محبت دکھا ,آل صدیق کا کردار پیش کر,سیدنا فاروق و عثمان کی شجاعت اور پاکدامنی حاضر کر,سیدنا ابو ھریرہ کا ذوق علم دکھا,سہیب رومی و مصعب بن عمیر کی قربانی پیش کرکے دکھا,سعد بن ابی وقاص کا شوق جہاد پیش کر.الغرض اپنی محبت کو ثابت کرنے کی خاطر شروط کو پورا کر وگرنہ تجھے رحمتہً للعالمین کے غضب کا سامنا کرنا ہوگا.
                           اسباب و علاج
(١)تارک جماعت———-فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے,میرا ارادہ ہوا کہ لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں,پھر کسی کو کہوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں اس کی بجائے ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگادوں جو جماعت سے پیچھے رہتے ہیں”.(صحیح مسلم)یہ وعید نماز کی جماعت کے ساتھ ساتھ اجتماعیت کے متعلق بھی واضح ہے.اسلام معاشرے میں اتحاد و اتفاق چاہتا ہے,محبت و الفت چاہتا ہے کیونکہ اختلاف و افتراق معاشرے کے لئے وبال جان کی حیثیت رکھتا ہے.دوسری بات مساجد میں اہل ایمان کا اجتماع باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے میں کافی معاون ثابت ہوتا ہے.
(۲)ناقص خشوع—————فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز کے اندر اپنی نگاہیں آسماں کی اور اٹھاتے ہیں,انہیں اس بات کا خوف رکھنا چاہئے کہ کہیں اللہ عزوجل ان کی بینائی نہ صلب کردے”.(صحیح بخاری) یہ حدیث تربیت کے لحاظ سے بھی عمدہ اور اعلی ہے.اللہ کی بندگی ہو یا کوئی اور فعل ,بغیر توجہ و خشوع تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا.ابن آدم بھی مقصد حیات تک تبھی رسائی حاصل کرسکتا ہے جب دل و جان سے منزل پانے کی چاہت رکھتا ہو.
(٣)صاحب فتنہ————-فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک کردئے گئے کہ وہ کتاب اللہ میں جھگڑا کرنے لگے”.(صحیح مسلم) تاریخ اسلام ان واقعات سے بھری پڑی ہے کہ کس طرح شیاطین الانس نے اہل ایمان کے درمیان پھؤٹ ڈال کر اختلاف کی آگ کو ہوا دی.نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے رخصت ہوتے ہی اہل ایمان آزمائشوں میں مبتلا ہوگئی.ایک طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت رو دوسری طرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی دردناک رحلت.بعض فتنہ پرور جب اہل ایمان کے صفوں میں گھس گئے تو کیا سے کیا ہوا پوری ملت اس سے باخبر ہے.افکار و آراء جب تبدیل ہوتی ہے ,اختلاف جنم لیتے ہیں.علماء امت جب تک فہم سلف کے تحط دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام  دے رہے تھے,امت میں وحدت اور یکتائی تھی,جیسے ہی فہم سلف کے مقابلے میں اہل اقتدار کی پیروی,مال و دولت کی حرص,طلب شہرت,خواہشات پرستی,فخر و تکبر تائج ہوا امت مسلمہ ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی.عصر حاضر میں اگر ہم اپنے وطن کی بات کریں تو افسوس کے کہنا پڑتا ہے کہ تعصب اور فرقہ پرور افراد نے کس طرح تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا گیا,کبھی کورونا وائرس (covid-19)  کے نام پر تو کبھی دیش دروہی کا طعنہ دے کر.اسی طرح ہماری مساجد اور مدرسے بھی یہاں محفوظ نہیں.جب تک ملک میں اعتدال پسندی کو رائج نہ کیا جائے تب تک امن و شانتی کے خواب دیکھنا جنون ہے اور جب تک مذہبی منافرت کو ختم نہ کیا جائے ملک ترقی کی راہ پہ گامزن نہیں ہوسکتا.ملکی و ریاستی حکومت کو یہ مسئلہ وقت رہتے حل کرنا ہوگا.
(۴)تارک عدل—————-فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "اگر اللہ تعالی اور اسکے رسول عدل نہ کرتے تو پھر کون ہے جو عدل کرے گا؟”.(صحیح بخاری) نظام شریعت سراپا عدل ہے.عدل و انصاف کی روشنی اسلام نے ہی طلوع کی.سوسائیٹی کا نظام مضبوط بنانے کے واسطے شرعی اصولوں کو مدنظر رکھنا لازمی ہے.فرد واحد سے لیکر ملکی سطح تک عدل و انصاف کے اصول دین الہی نے ہی کائنات پہ واضح کردئے جن کو نظر انداز کرکے عصر حاضر میں جمہوریت کے علمبردار بھی ظلم و بربریت پر اتر آتے ہیں.مظلوم اور مغلوم عوام سراپا رنج و غم میں مبتلا ہے.اولاد کو قتل کردیا جاتا ہے اور والدین کو خبر بھی نہیں ہوتی.ہزاروں افراد گمشدہ ہیں جنکی کوئی خبر نہیں.غرباء اور فقراء کے ساتھ مختلف راہوں سے استحصال ہوتا ہے.ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی عفت و عصمت پر ڈاکہ ڈالا گیا مگر انصاف کی کرن آج تک طلوع نہ ہوئی.بے گناہوں کو دس دس بیس بیس سال قید خانوں میں رکھا گیا لیکن وجہ آج تک کسی کو معلوم نہ ہوسکی.یہ پورا نظام ہی کھوکھلا ہے.حق کی بات کرنے پر جہاں پابند سلاسل ہونا پڑے ایسے نظام میں حیات مثل قیدی پرندہ کی ہے.جہاں مذدوروں کو دہشتگرد کی لیبل لگا کر سرعام قتل کردیا جائے وہاں انصاف کی بات کرنا دشوار ہی ہوگی.بحرحال ارباب اقتدار کو اس حانب توجہ کرنی ہوگی.آخر کب تک غریبوں کا خون اسی طرح ضایع کیا جائے گا.
(٥)معزور افراد کا خیال نہ رکھنے والا————–شریعت اسلامیہ نے امت کے ائمہ کرام پر یہ فرض عائد کردیا ہے کہ دوران امامت مزدور ,ضعیف,کمسن افراد کا خیال رکھا جائے.طویل قرأت نہ کی جائے بلکہ تخفیف سے کام لیا جائے.سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو طویل قیام کرنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹا.اس سے ایک اور بات واضح ہوگئی کہ جن عظیم  مسجدوں کو نشانہ بنایا جارہا  ہے درحقیقت ملک چلانے کا مضبوط اور مستحکم نظم آپکو وہیں سے ملے گا.لیکن افسوس صد افسوس! آج اہل ایمان بھی مقاصد مساجد سے لاعلم اور جاہل ہیں.مسلم ناموں کو ایک ایک کرکے مٹایا جارہا ہے,کہیں ہسپتالوں کے نام تبدیل ہورہے ہیں تو کہیں عوامی راستوں کے.یہ قوم بری طرح جہل کے زد میں گرفتار ہوچکی ہے.لاک ڈاون(lockdown) کے دوران روایتی کاروبار سے وابستہ جان کی بازی دیتے ہوئے دکھائی دئے ,کسان لوگ مختلف مصیبتوں میں گرفتار ہوئے لیکن اصحاب اقتدار سوئے ہوئے تھے. اگر حقیقتاً حکومت وقت عوام کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہے تو اولاً رشوت پرستی (corruption) کا خاتمہ کرنا ہوگا.چن چن کر ایسے افراد کی نشاندہی کی جائے جو اس ملعون پیشے کا حصہ بنے ہوئے ہیں.
(٦)ناجائز سفارش کرنے والا——————امام مسلم رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کے اندر ایک عظیم واقعہ نقل کیا ہے کہ "ایک صحابی نبوی دربار میں کسی اعلی گھرانے کی  خاتوں کے لئے سفارش کرنے کے لئے آیے جس نے چوری کی تھی.اس پر مبارک نبوی چہرہ غضبناک ہوگیا اور ارشاد ہوا کہ "کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کررہے ہو.قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضہ میں میری جان ہے! اگر محمد کی لخت جگر سیدہ فاطمہ بھی شوری کرتی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا”.عصر حاضر میں صاحب حق کو بڑی چرب زبانی کے ساتھ اپنے حق سے برطرف کیا جاتا ہے.ان پڑھ اور جاہل قسم کے عیاش لوگ اعلی عہدوں پہ فائز ہیں.جبکہ تعلیم یافتہ سبزی منڈی میں ثمرات بیجھتے ہوئے نظر آتے ہیں.عیاش اور رذیل قسم کے لوگ سرپرست بنے ہوئے ہیں جبکہ اہل دانش و اہل فن خادم بنے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں.اہل اسلام بھی سرعام شریعت کا جنازہ نکالتے ہوئے نظر آرہے ہیں.
(۷)راستے پر رکاوٹ ڈالنے والا——————
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "جو شخص اہل اسلام کو راستوں میں تکلیف دے ,گندگی یا کوئی اور تکلیف دہ چیز دے اس پر اللہ کی لعنت واجب ہوگئی”.( المعجم الکبیر).سوسائٹی(society)  میں رہنے کے لئے آپکو خودغرضی اور خود پرستی ترک کرنی ہوگی.زمین کے معمولی تنکے پر فسادات کو پیدا کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ عوامی فائدہ مقدم رکھنا ہوگا.معاشرے میں آپکی پہچان تبھی نمایاں ہوگی جب آپ مثل کچھجور کے درخت بنو گے.ماضی قریب میں جو انسانیت کا رشتہ مستحکم تھا ,آج اس کا فقدان ہے.سماجی تعلقات (social behaivour) میں شریعت کا پابند بناؤگے تو زندگی آسان ہوجائے گی.
(۸)غیروں کا اسوہ قبول کرنے والا————-یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اہل ایمان کسی بھی معاملے میں اپاہچ نہیں ہے.ہم بحمداللہ تعالی ہر معاملے میں رہبر شدہ ہے.ہمیں فخر ہے کہ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر شعبے میں صغائر تا کبائر,افضل تا مفضول  کی رہنمائی فرمائی.عقائد,عبادات,معاملات,سیاست,اخلاقیات,معاشیت ,لین دین ,علم و فن تمام علوم و فنون میں ہمیں رہبر اعظم نے رہنمائی فرمائی.جان لو ! اسلام فقط نماز تک محدود نہیں ہے البتہ نماز کے بغیر دعوی اسلام ناقص ہے.اسی طرح دین فقط شلوار کمیص میں میں البتہ یہ شعائر دین میں سے ہے.اسلام تو پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہے بلکہ ذاتیات سے لیکر اجتماعیت تک کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے.محدثین کرام ,فقہاء عظام ,ائمہ دین,ائمہ جرح و تعدیل ,مجددین اور علماء اسلام نے اس قدر شریعت کو ابواب کے تحط مرتب کیا کہ جس کی کوئی مثال نہیں.صحابہ کرام نے تاجدار حرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال نیز حسن و جمال کو اس طرح قید کردیا کہ کائنات حیران ہے.اسناد و متون کا خیال جس قدر اسلامی شریعت میں رکھا گیا ,اللہ کی قسم! کسی دوسرے مذہب و فکر میں نہیں مل سکتا.تعلیم نسواں ,حقوق نسواں,حقوق وراثت,عدل و انصاف کی میزان دین اسلام نے ہی قائم کی.اے اہل اسلام!شرمندہ ہوں کہ کس طرح ہم اپنی وراثت سے کس طرح محروم ہوگئے.ہائے افسوس! ہم کس طرح بدنام زمانہ ہوگئے.کیا ہمارا ضمیر مردہ ہوچکا ہے.سلف و صالحین نے فقر و جہد سے کام لیکر اس شریعت کو مرتب کیا تھا…افسوس کہ ہم عبد دینار و عبد درہم بن کے رہ گئے.
(۹) انسانیت کا جنازہ نکالنے والا————-
بحمداللہ تعالی ہم اس دین کے متبعین ہیں جس مقدس نظم نے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا پیغام کائنات کے سامنے رکھا.بزرگوں کا احترام,بوڑھوں کا احترام ,والدین سے حسن سلوک ,چھوٹوں پر شفقت واجب قرار دیا گیا.استحصال کرنے والے کو ملے سے اخراج کا حکم دیا گیا.ضعفاء ,فقراء ,یتیم  اور لاچار افراد کا خیال خصوصی اہتمام کے ساتھ رکھا گیا. خیر الوریٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ پیاسے کتے کو پانی پلانے پر بدکار عورت کی مغفرت فرمائی گئی.(یا سبحان اللہ) اسلام پر دہشتگردی کا الزام لگانے والو! بس ایک بار تعصب کی پٹی ہٹا کر خلوص قلب سے دین رحمت کا مطالعہ کیا کرو.
(١۰)کذب بیانی پر حلف لینے والا—————
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "جس نے دعوی کیا اس چیز کا جو اس کی تھی ہی نہیں وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں دیکھ کے”.نیز فرمایا کہ "جو شخص  جھوٹی  قسم کھا کر اپنا سودا فروخت کر لے ,سودا تو فروخت ہوجائے گا البتہ برکت صلب کرلی جائے گی”.(اسنادہ صحیح) حقیقی جہاد یہ بھی ہے کہ  جن لوگوں نے ناحق ظالمانہ دوسروں کی جائداد پر قبضہ جمایا ہوا ہے وہ وقت رہتے اس جائداد کو صاحب حق کے حوالے کردے.جن افراد نے دوسروں کے مکانوں پر قبضہ جمایا ہوا ہے وہ اپنے ملعون فعل سے باز آجائیں.اگر حکومت وقت اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھاتی ہے تو ہمیں خوش دلی سے اس پہل کا خیر مقدم کرنا ہوگا.کیونکہ یہی عین اسلام ہے.
                              پیغام
آئیے  اور عملاً دین رحمت پر عمل کرکے کائنات کو دکھائیں کہ ہماری شریعت کس طرح مرض ملت کی دوا ہے.اپنے اقوال کا تعاقب اعمال کے ذریعہ کریں.اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں عمل کی توفیق عنایت فرمائے….آمین یا رب العالمین.