اولیاء کاملین اور ہمارا کردار

39

تحریر :حافظ میر ابراھیم سلفی طالب علم و مدرس
بارہمولہ کشمیر
در طلب کوش و مدہ دامنِ امید ز دست
دولتے ہست کہ یابی سرِ راہے گاہے

عصر حاضر میں فتنوں کا نزول جاری و ساری ہے.متبعین اسلام تحافظ ایمان کے سلسلے میں سخت دشواریوں کا سامنا کررہے ہیں.ہر سمت ابلیس لعین کے پیروکار دکھائی دے رہے ہیں .شرک و بدعات,کفر و خرافات,بےحیائی و بدکرداری کا دور دورہ ہے.ایسا گمان ہوتا ہے کہ شاید ہی اب کوئی شخص ایسا ہو جو اپنے قول میں صدیق ہو.ہر طرف قول و فعل میں تضاد نظر آرہا ہے. جان لو! اگرچہ فتنوں کا نزول رات کے اندھیرے کی طرح چھایا ہوا نظر آرہا ہے جس کی تاریکی میں مسلسل اضافہ ہی ہورہا ہے لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جہاں شرک ہو وہاں توحید کی کرنیں بھی اپنی روشنی اور چمک عام کرتی ہیں.جہاں کفر ہو وہاں ایمان کی صدا بھی بلند ہوتی ہے. جہاں بدکرداری,فحاشی و عریانی ہو وہاں شرم و حیا کی مہک پھیل جاتی ہے.اگرچہ ہمارا معاشرہ معصیت کی گہرائیوں میں جاتا ہوا نظر آرہا ہے لیکن وہیں دوسری طرف اطاعت و اطباع کے علمبرداروں کا وجود بھی موجود ہے.جیسا کہ علامہ اقبال رحمہ اللہ نے بیان فرمایا

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مُصطفوی سے شرارِ بُولہبی

یہ کشمکش ازل سے قائم ہے اور قیامت کی صبح تک جاری رہے گی.اس سلسلے میں سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی ملاحظہ فرمائیں "میری امت میں سے ایک گروہ ایسا ہو گا جو کہ اللہ تعالی کے احکام پر عمل کرتا رہے گا جو بھی انہیں ذلیل کرنے یا انکی مخالفت کرے گا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتی کہ اللہ تعالی کا حکم آ جاۓ کا اور وہ لوگ اس پر قائم ہوں گے”.(وسندہ صحیح) امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ یہ گروہ مومن لوگوں کی انواع میں پیھلا ہوا ہے : ان میں سے کچھ تو بہادری کے ساتھ لڑنے والے ہیں ، اور ان میں سے فقھاء بھی ہیں ، اور اسی طرح ان میں محدثین بھی ہیں ، اور ان میں عابدوزاھد لوگ بھی ہیں ، اور ان میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے بھی ہیں ، اور اسی طرح ان میں اور بھی انواع ہیں.
اس نجات یافتہ گروہ کو ہم طائفہ منصورہ اور فرقہ ناجیہ بھی کہتے ہیں.ہمارے معاشرے میں آج بھی قرآن خواں,تہجد خواں ,صالح اور متقی افراد موجود ہیں جنہوں نے غمنامی کی زندگی اختیار کی ہے.ایک اور حدیث کی طرف دیکھتے ہیں جسے امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ "اللہ تعالی میری اس امت کے لئے ہر صدی کے شروع میں ایک مجدد مبعوث کرے گا جو دین اسلام کی ان کے لئے تجدید کرے گا”.اسی کڑی میں ایک اور صحیح حدیث کی طرف دیکھتے ہیں کہ "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، یہاں تک کہ زمین پر کوئی اللہ کا نام لینے والا باقی نہ رہے گا۔”(وسندہ صحیح) ان روایات سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ایمان کی سنہری کرنیں کبھی زوال پزیر نہ ہونگیں.قیامت کی صبح تک حق زندہ رہے گا اگرچہ فرد واحد کے ذریعہ ہی کیوں نہ رہے.یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جہاں بےپردگی عام ہوچکی ہے وہاں باپردہ اور باحیا بہنیں بھی موجود ہیں.جہاں مفاد پرستی اور دھوکہ بازی اپنے عروج پر ہے وہاں ایفائے عہد کے عہمبردار بھی باحیات ہیں.اخذ یہ بات کرنا چاہتا ہوں کہ ولایت کا دروازہ بند نہیں ہوگا.جہاں ماضی بعید میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ,شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ,علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے تلامذہ ,حافظ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ ,ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ وغیرہ اولیاء کاملین گزرے ہیں ,اسی طرح جہاں ماضی قریب میں علامہ البانی رحمہ اللہ,ابن باز رحمہ اللہ ,ابن عثیمین رحمہ اللہ,ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ وغیرہ اولیاء کرام کا سایہ ہم پہ تادیر موجود رہا وہاں عصر حاضر میں بھی گمنام اولیاء موجود ہیں.اولیاء اللہ سے مراد وہ مخلص اہل ایمان ہیں جو اللہ کی بندگی اور گناہوں سے اجتناب کی وجہ سے اس سے قریب ہوجاتے ہیں.ولی کا معنی "قریب” کے بھی ہیں.

فضائل و پہچان

ہم نے جان لیا کہ اولیاء کاملین اس دور میں بھی موجود ہیں ,تب ہم پر لازم آتا ہے کہ اولیاء کی پہچان اور ان کی عظمت کا ادراک کریں.

(١)اللہ کی محبت————-امام بخاری رحمہ اللہ نے الجامع الصحیح کے اندر کتاب الرقاق کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے ,میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں”.چونکہ اعمال صالحات انجام دیتے دیتے ہی ایک فرد یہ منزل حاصل کرسکتا ہے.ولی سے مراد "اللہ کا محبوب,اللہ کا دوست,اللہ کا پیارا”, ہے.عصر حاضر میں بعض ڈاکو نما وفراد خود کو اولیاء اللہ باور کرانے کے لئے مختلف طریقے اپناتے ہیں.کوئی شراب کی لت میں گرفتار ہے تو کوئی چرس کی نجاست میں.یاد رکھو! اللہ کی قربت فقط طیب اشیاء اور حسن عمل سے ہی حاصل ہوسکتی ہے.بلکہ یوں کہوں گا کہ بعض کم ظرف افراد نے دین کو ایک پیشہ بنالیا ہے.خبردار! اللہ کے اولیاء نجس اور ناپاک اشیاء سے اجتناب کرنے والے ہوتے ہیں.
(۲)خوف سے آزادی—————فرمان ربانی ہے کہ "بے شک جن لوگوں نے اعلان کیا کہ ہمارا رب اللہ تعالی ہے پھر اس پر جم گئے ,اللہ کی طرف سے انکی طرف فرشتوں کا نزول ہوتا ہے جو انہیں اطلاع دیتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور غم زدہ نہ ہو تمہارے لئے اعلی جنت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاچکا ہے.”(حم سجدہ) اللہ کے اولیاء دنیا و آخرت میں خوف سے آزاد ہونگے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کے ولی توحید و توکل کے علبردار ہوتے ہیں نہ کہ شرک و بدعت کے داعی.عصر حاضر میں جو علماء اور صالحین توحید و سنت کے پرچار کے لئے اپنے ایام صرف کررہے ہیں ,وہیں لوگ اللہ کے دربار میں حقیقی اولیاء ہیں ان شاء اللہ.آپکو ایسے افراد بھی ملیں گے جو گھر گھر چکر لگاتے ہیں تاکہ کوئی جاہل اور معصوم مرید پھنس جائے.بچو ان شریروں کے شر سے.

(٣)زھد اور غمنامی————-امام مسلم رحمہ اللہ اپنی الصحیح کے اندر کتاب الزھد والرقاق کے حوالے سے ایک روایت لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”اللہ تعالی اپنے ان بندوں سے بے حدمحبت کرتا ہے جو متقی ہوں ,غم نام ہوں اور دنیا سے بے نیاز ہو”.جس شخص کا مقصد حصول دنیا ہو وہ کبھی اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا ,اسی طرح جو شخص شہرت کی طلب رکھتا ہو وہ محب الہی نہیں ہوسکتا کیونکہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان حق ہے.عصر حاضر میں دین اسلام کو بدنام کرنے میں ان نام نہاد راھبوں کا بڑا ہاتھ ہے جو طلب شہرت و طلب مال کی خاطر کوئی بھی حد تجاوز کرسکتے ہیں.امام مسلم رحمہ اللہ تعالی نے ہی کتاب البر والصلہ کے تحط ایک عظیم روایت نقل کی ہے کہ تاجدار حرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پراگندہ حال ہوتے ہیں,جنہیں دروازوں کے باہر سے ہی منع کردیا جاتا ہے مگر اللہ عزوجل کے یہاں ان کا مقام و مرتبہ اتنا بلند ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی معاملے میں اللہ تعالی کی قسم کھالیں تو وہ اسے ضرور پورا فرمادیتا ہے”.اس سے ایک اور بات واضح ہوگئی کہ لوگ انکی عظمت سے بالکل غافل ہوتے ہیں.

(۴)اللہ کی معرفت———-امام نسائی رحمہ اللہ نے السنن الکبری میں اور امام ابن مبارک رحمہ اللہ نے کتاب الزھد میں ایک اثر نقل کیا ہے کہ "اللہ کے اولیاء تو وہ لوگ ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آجائے”.جب بندہ فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کا خصوصی اہتمام کرتا ہے تو یہ منزل پاتا ہے.اسی طرح جو شخص شب بیداری کو اپنا معمول بنالے وہ اس منزل سے ہوکر گزرتا ہے.آج جھوٹی کرامات کا دم بھرنے والے آپکو بہت ملیں گے لیکن یاد رکھو اس پرفتن دور میں بھی اللہ کا ولی بس وہ شخص ہے جو شریعت کا پابند ہو,جو حلال و حرام میں قرآن و سنت کا پیروکار ہو,جو اوامر و نواہی میں شرعی حدود کا خیال رکھنے والا ہو ,جس کی تنہائی پاک ہو.اور حقیقتاً یہی سب سے بڑی کرامت ہے.عصر حاضر میں علماء سوء اور ڈاکو نما اولیاء نے اپنی طمع نفسانی اور دنیا طلبی کی غرض سے ہمارے سادہ لوح عوام کو اپنےمکر و فریب کے جال میں پھانس کر توحید و سنت پر خوب پردہ ڈالا.ولایت کوئی عطائی تحفہ نہیں بلکہ بقول امام شافعی رحمہ اللہ "من طلب العلی سحر اللیالی” یہ مقام و مرتبہ تب حاصل ہوتا ہے جب بندہ اللہ کی عبادت میں اپنی راتوں کو دن بنالے.

(٥)دعا و مناجات————اولیاء کاملین کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ خود بھی اللہ کے دربار میں بحیثیت سائل آکر فریاد کرتے ہیں اور اپنے متبعین کو بھی اسی کی طرف دعوت دیتے ہیں.پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ "ساری مخلوق عاجز ہے نہ کوئی تجھ کو نفع پہنچاسکتا ہے نہ نقصان۔ بس حق تعالیٰ اس کو ان کے ہاتھوں سے کرادیتا ہے ۔ اسی کا فعل تیرے اندر اور مخلوق کے اندر تصرف فرماتا ہے ، جو کچھ تیرے لیے مفید یا مضر ہے ، اس کے متعلق اﷲ کے علم میں قلم چل چکا ہے ، جس کے خلاف نہیں ہوسکتا”.(فیوض یزدانی) نیز فرمایا کہ "جو شخص حق تعالیٰ سے واقف ہوجاتا ہے ، اس کے قلب سے دنیا اور آخرت اور حق تعالیٰ کے سوا ہر چیز غائب ہوجاتی ہے ۔ تجھ پر لازم ہے کہ تیرا وعظ(بات کرنا) خالص اﷲ تعالیٰ کے واسطے ہو، ورنہ گونگا بنا رہنا ہی تیرے لیے بہتر ہے ۔ ضروری ہے کہ تیری زندگی حق تعالیٰ کی طاعت میں خرچ ہو ورنہ تیرے لیے موت بہتر ہے”.(فیوض یزدانی) دعا تقرب الی اللہ کے لئے عظیم نسخہ ہے.اولیاء کاملین نہ تو غیر کے در پہ جھکتے ہیں اور نہ ہی متبعین کو اپنے سنے جھکنے دیتے ہیں.

(٦)انفاق فی سبیل اللہ————-جان لو! اولیاء کرام کی ایک واضح نشانی یہ ہے کہ وہ دوسروں کا مال نہیں لیتے اور نہ اس پر نظر رکھتے ہیں بلکہ اللہ کے دئے ہوئے مال سے خود بھی راہ حق میں خرچ کرتے ہیں اور متبعین کو بھی اس کی دعوت دیتے ہیں.فرمان باری تعالی ہے کہ "اے ايمان والو! جو كچھ ہم نے تمہيں ديا ہے اسميں سے وہ دن آنے سے قبل اللہ كے راستے ميں خرچ كرلو جس دن نہ كوئى تجارت ہو گى، اور نہ ہى دوستى كام آئے گى، اور نہ سفارش، اور كافر ہى ظالم ہيں”.(البقرۃ)فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "جس نے پاكيزہ كمائى سے ايك كھجور كے برابر صدقہ كيا ـ اللہ تعالى پاكيزہ كے علاوہ كچھ قبول نہيں كرتا ـ اللہ تعالى اسے اپنے دائيں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے، پھر اسے خرچ كرنے والے كے ليے اس كى ايسے پرورش كرتا ہے جس طرح تم ميں كوئى اپنے گھوڑے كے بچھيرے كى پرورش كرتا ہے، حتى كہ وہ پہاڑ كى مانند ہو جاتا ہے”.(صحیح بخاری)

(۷)سنتوں کی پیروی———-اولیاء کاملین خود بھی سنتوں پر عمل کرتے ہیں اور متبعین کو بھی اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی تاکید و تلقین کرتے ہیں.اولیاء کبھی خود ساختہ بدعات ایجاد نہیں کرتے.انبیاء کرام کے بعد صحابہ کرام ہی اللہ کے مقرب بندے اور حقیقی اولیاء ہیں اسکے بعد وہ جو احسن طریقے سے ان کی اطباع و اطاعت کریں.اللہ کے صالح بندے کبھی خواہشات کی پیروی نہیں کرتے.فرمان ربانی ہے کہ "اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑ ا ہوا ہوبغیر اللہ کی رہنمائی کے”.(القصص)امام آجری رحمہ اللہ تعالی نے الشریعہ کے اندر اور امام شاطبی رحمہ اللہ نے الاعتصام کے اندر حسن سند سے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "جس نے کسی بدعتی کی توقیر کی تو گویا اس نے اسلام کو گرانے میں اس کی مدد کی”.امام اوزاعی رحمہ اللہ کے قول کےمطابق صاحب بدعت احادیث کا دشمن ہوتا ہے جیسا کہ الطیوریات میں موجود ہے.ولی کامل امام ابوالعالیہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ "اپنے نبی کی سنت اور اس چیز کو لازم پکڑو جس پر آپ کے صحابہ تھے ، اور ان بدعتوں سے بچو جو دشمنی اور آپس میں بغض پیدا کرتی ہیں” .(شرح اعتقاد اهل السنة)

(۸)دعوت توبہ—————-جان لو! انبیاء کرام کے بعد کوئی معصوم نہیں ہوتا.خطا ہر ایک سے سرزد ہوجاتے ہیں جیسا کہ شرعی نص سے ثابت ہے.اولیاء کاملین بھی معصوم نہیں ہوتے بلکہ مقرب ہوتے ہیں.خطا سرزد ہونے کے بعد توبہ کرنا محبت الہی کی واضح علامت ہے.فرمان ربانی ہے کہ "جو شخص عزت چاہتا ہے تو عزت تو تمام تر اللہ ہی کے لئے ہے۔ پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور صالح عمل انہیں اوپر اٹھاتا ہے اور جو لوگ بری چالیں چلتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے، اور ان کی چال ہی برباد ہونے والی ہے”.(فاطر) نیز فرمایا کہ "اور جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اچھے عمل کرے اور راہ راست پر گامزن رہے تو اسے میں یقینا بہت زیادہ معاف کرنے والا ہوں”.(طہ) اولیاء کاملین فرماتے ہیں کہ "گناہ کی جگہ توبہ رکھ دی جاتی ہے، پھر اللہ تعالی انہیں ہر گناہ کے متعلق ندامت، اور آئندہ گناہ نہ کرنے کے صلے میں نیکی عنائت فرماتا ہے”.

(۹)باحیا و باکردار—————جان لو! اللہ کا دوست کبھی ہوس پرست نہیں ہوتا.عصر حاضر میں ایسے افراد کثرت سے پائے جاتے ہیں جو دین کا لباس پہن کر امت کی معصوم کلیوں کو برباد کررہے ہیں.ہوس پرست کے نذدیک ماں بہن بیٹی کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ ان کا واحد مقصد تکمیل ہوس ہوتا ہے لہذا خود کو ان درندوں سے بچالو.ایسے ہی افراد کو ہم اولیاء الشیطن کہتے ہیں.اولیاء الرحمن باحیا ہوتے ہیں.فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "(بیشک تمہارا پروردگار حیا کرنے والا اور نہایت کرم کرنے والا ہے، وہ اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ جب وہ اس کی جانب ہاتھ اٹھائے تو انہیں خالی واپس لوٹا دے”.(سنن ابوداؤد) علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ "اللہ تعالی کی اپنے بندے سے حیا کرنے کی کیفیت انسانی ذہن سے بالا تر ہے؛ عقل اس کی کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کی حیا میں سخاوت، احسان، جود اور جلال شامل ہے”.ولی کامل ابن قیم رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ "حیا قلبی حیات کا جوہر ہے، حیا ہمہ قسم کی بھلائی کا سرچشمہ ہے، اگر حیا ختم ہو جائے تو پھر بہتری کی کوئی رمق باقی نہیں رہتی”.

(١۰)خالی خولی دعوے نہ کرنا—————کرامت اولیاء برحق ہیں جن کا کوئی منکر نہیں لیکن یہ کرامات شرعی حدود کے اندر ہی ہوتی ہیں.جیسے انبیاء کرام کو اللہ معجزات سے نوازتا ہے اسی طرح اللہ اپنے مقرب بندوں کو کرامات سے بھی نوازتا ہے لیکن کرامت کبھی معجزے کے آگے نہیں جاسکتی.جیسے جریج رحمہ اللہ کا واقعہ ,فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا واقعہ وغیرہ.لیکن معجزہ اور کرامت دونوں اللہ کے اذن سے ہی ظہور کرتے ہیں جو کہ بندے کے اختیار میں نہیں ہوتیں.کرامت کے لئے بندے کا صالح ,متقی ہونا لازمی ہے.لیکن اگر کبھی بدکردار,بدعمل ,فاسق سے کوئی غیر فطری چیز ظاہر ہوجائے تو اسے کرامت نہیں بلکہ استدراج کہتے ہیں یعنی شیطانی دھوکہ.جیسا کہ جادوگروں کا معاملہ ہوتا ہے.فرمان ربانی ہے کہ "اللہ کے نزدیک یہ بات انتہائی بیزار کن ہے کہ تم کہو وہ کچھ جو کرتے نہیں ہو”.(الصف)

(١١)دورنگی نہیں بلکہ یک رنگ ہو————-اولیاء کاملین چونکہ ایک اعلی منصب پر فائز ہوتے ہیں اسی لئے لازم ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ ساتھ خود بھی شریعت و حدود پر عمل پیرا ہوں.ظاہر و باطن ایک ہو,خلوت و جلوت ایک ہو.قول و فعل میں تضاد نہ ہو.حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد پر سختی سے عامل ہوں.حرام و ناجائز امور سے براءت کا اظہار کرنے والے ہوں.قرآن و سنت کا علم و فہم رکھتے ہوں.علوم شریعت پر گہری نظر رکھتے ہوں کیونکہ ولایت کا دعوی بغیر علم صریح جھوٹ ہے.اپنی کمائی سے گزر بسر کرتے ہوں.لوگوں کے چندے و بھیک پر نظر نہ رکھتےہوں.بعص اسلاف سے منقول ہے کہ "عالم بنویا طالبعلم بنو یا علمی گفتگو کو کان لگا کر سننے والے بنو،یا علم اور اہل علم سے محبت رکھنے والے بنو، مذکورہ چار کے علاوہ پانچویں قسم کے مت بنو، کہ ہلاک ہو جاؤ گے اور پانچویں قسم یہ ہے کہ تم علم اور اہل علم حضرات سے بغض رکھو”.(مجمع الزوائد معجم الکبیر)

پیغام

جان لو! انبیاء کرام اولیاء کاملین کے سردار ہوتے ہیں.انبیاء کرام کے بعد یہ منصب صحابہ کرام و اہل بیت کو حاصل ہوا.صحابہ کے بعد محدثین کرام ,فقہاء عظام,ائمہ دین,حفاظ اور ائمہ جرح و تعیل کو ملا جنہوں نے اللہ کے اس دین کی حفاظت فرمائی.(باذن اللہ)قرآن و سنت کی خدمت کرنے والے علماء بھی اللہ کے حقیقی اولیاء ہیں.صالحین ,شہداء بھی اللہ کے پیارے اور مقرب بندے ہیں.ولایت کا دروازہ قیامت کی صبح تک کھلا رہے گا.اولیاء کاملین شرک و بدعت کے خلاف ننگی تلوار ہوتے ہیں.حدیث میں انہیں افراد کو غرباء کا لقب بھی دیا گیا جو لوگوں کو منکرات و محرمات سے روکتے اور ٹوکتے ہیں. اولیاء کاملین لوگوں کو مخلوق سے کاٹ کر خالق سے جوڑتے ہیں.اولیاء لوگوں کو بدکاری کے اڈوں سے نکال کر مساجد کے حوالے کریتے ہیں.ان کی مجالس میں بیٹ کر مردہ قلوب حیات حاصل کرتے ہیں.سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کا ہاتھ پکڑ کر کہتے تھے آو ہم سب چند لمحوں کے لئے بیٹھ کر اپنا ایمان تازہ کریں، اللہ کا ذکر کریں اور اللہ کی اطاعت کرکےاپنا ایمان بڑھائیں.ہم پر لازم ہے کہ علماء و صالحین کی مجالس میں شرکت کریں تاکہ ہمارے بنجر دلوں پر علم و حکمت کی بارش کا نزول ہو……..ان شاء اللہ.

انداز بیاں اگرچہ میرا شوخ نہیں ہے
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات