بات کیا تھی ،کہ آج ایک کسان کی بیٹی نے اپنی وزارت اپنی مرضی، اپنے فیصلے سے چھوڑ دی.. اپنی حکومت کے آرڈیننس کے خلاف احتجاج کی آواز بن گئی.. سب باتیں ہوتی رہیں گی،، زرعی اصلاحات کی ضرورت اور اس کی جانب اٹھائے قدم کی معنویت بہت ہے، لیکن اس وقت اس اصل موضوع کو چھوڑیں، اس پر بعد میں بات کرلیں گے.. مجھے قوم کی اس بہادر بیٹی کے اقدام کو سراہنا ہے، جس نے اپنی عوام اور اپنے ووٹرز کی آواز کے سامنے راج سنگھاسن تج دیا.. مسز ہر سمریت کور بادل، اکالی دل، جو پارلیمنٹ میں بی جے پی کی حلیف جماعت ہے، کی ایک انتہائی بے باک طاقتور اور مضبوط اعصاب کی مالک خاتون پارلیمنٹیرین ہیں.. پارلیمنٹ میں مختلف مواقع پر حکومتی صف کی طرف سے گھن گرج کی اگوائی کرنے والی ممبر ہیں.. وہ موضوع پر بولنا جانتی ہیں، کیوں کہ وہ زمینی سطح سے سیاست کرکے یہاں تک پہونچی ہیں.. وہ شائستہ باوقار، حیادار اور پہناوے میں بھی روایت دار خاتون ہیں.. وہ اسٹیچ سے پسند کرکے لائی گئی نمایندہ نہیں.. وہ موضوع پر خوب بولتی ہیں،، تیور دکھانے کی اداکاری اور مزاحمت کی علامت ببنے کی شوقین نہیں.. میں نے ان کو بہت سنا ہے.. آج کا ان کا قدم انقلابی، جراتمندانہ، لیکن انفعالی ہرگز نہیں تھا.. انھوں نے پچھلے کئی ماہ سے ، جب سے زرعی اصلاحی قانون کی بات شروع ہوئی اور اس جانب عملی قدم اٹھائے جانے لگے، مسلسل اپنی بات مختلف مرحلوں میں رکھتی رہیں،، کسانوں کے اس مجوزہ قانون کے بارے میں اپنے تحفظات پیش کرتی رہیں.. اپنی حکومت کی تجویز پر اختلافی نوٹ دیتی رہیں.. اپنی تمام زیریں، لیکن سنجیدہ کوششوں کے باوجود جب اس مجوزہ ترمیم واضافے کو نہ روک سکیں، تو عوامی جذبات اور اپنے علاقے کے لوگوں کے احساسات کے ساتھ رہنے کو کابینی برتھ پر ترجیح دیتے ہوئے وزارت سے مستعفی ہوگئیں.. جو انتہائی اعلی جمہوری قدر ہے.. وزارتوں کی ہوس کے اس دور میں اپنے عوام کے مفادات اور ان کے جائز مطالبات کے حق میں اپنی حکومت کو نہ لاسکنے کی وجہ سے، ایک انتہائی مضبوط اور مستحکم حکومت سے علاحدگی بچوں کا کھیل ہرگز نہیں..اس سے ان کو وزارت کا نقصان ہوا لیکن ملک کی سیاست میں وہ بہت قدآور ہوگئیں… اب وہ پنجاب ہریانہ اور مغربی اترپردیش میں جیتنے کے لئے، کسی پارٹی کی محتاج نہیں ہوں گی.. اور ساری سیاسی پارٹیاں اگلے الکشنی معرکے میں ان سے سودا کریں گے.. اگر اس وقت جاری کسان تحریک کا وہ حصہ بن جاتی ہیں تو چرن سنگھ کے بعد وہ کسان موومنٹ کا سب سے بڑا چہرہ بن سکتی ہیں.. ان میں تحریکی منٹر بننے کی ساری صلاحیتیں موجود ہیں.. وہ اچھی منجھی ہوئی مقرر ہیں، مرتب بولتی ہیں اور حد درجہ بہادر ہیں.. موبلائیزیشن کا سنٹرک بن سکتی ہیں… ان تمام صلاحیتوں سے پرے ان کے اس اقدام نے یہ کہنے پر مجبور کردیا ہے کہ

ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی…