میوات کی عظیم علمی شخصیت مولانا شمس الدین سلفی گلالتہ کی وفات سے میوات میں غم کی لہر

29

جمعیت اہل حدیث ہریانہ کے فعال وسرگرم کارکن حضرت مولانا شمس الدین صاحب سلفی رحمۃ اللہ علیہ میوات کے ایک قادر الکلام مقرر اور بے باک خطیب تھے نہایت ملنسار اور خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے مذکورہ خیالات کا اظہار میوات کے علماء کرام نے مولانا مرحوم کی وفات پر پیش کئے جمعیت علماء متحدہ پنجاب کے نائب صدر مولانا حکیم الدین اشرف اٹاوڑی نے کہا میری کئی بار ان سے ملاقات ہوئی بہت ہی محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے انکا انداز تکلم نہایت شستہ اورشعلہ نوا ہوتا تھا مہمان نوازی میں نمایاں تھے جمعیت علماء متحدہ پنجاب کے سرگرم کارکن مولانا عمر مفتاحی آلی میو امام وخطیب جامع مسجد گلالتہ،مرکز صوت الحجاز فروز پور جھرکہ کے ناظم تعلیمات مولانا حکیم الدین سنابلی،ہریانہ وقف بورڈ کے ویلفیئر آفیسر مبارک مدنی، قاری زکریا امام نگر استاد مدرسہ افضل العلوم عیدگاہ روڈ مہوں، سماجی کارکن حضرت مولانا توفیق احمد پھونسیتہ، قاری رفیق احمد روپڑاکا امام و خطیب نورانی مسجد ساپنکی، پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق ہنسی، سماجی کارکن زبیر فتح علیگ جھانڈا، میوات لیٹیسٹ گروپ، میواتی تہذیب و ثقافت گروپ کے سبھی ممبران نے کہا مولانا مرحوم کے اندر قوم کی ہمدردی انکے رگ وریشہ میں رچی بسی تھی سبھی نے کہا مولانا مرحوم بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے مگر وقت موعود سے کسی کو مفر نہیں ہے انکے اچانک چلے جانے سے ملت اسلامیہ عموماً اورمیؤقوم خصوصاََ ایک اچھے اورذی استعداد عالم سے محروم ہو گئی ہے ہم دعاء گو ہیں اور اپنے احباب سے بھی مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کے خواستگار ہیں اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے مولانا مبارک مدنی نے کہا مولانا مرحوم کے اچانک چلے جانے سے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے