ایم آئی ایم کے کارکنان نے تھاما ایس ڈی پی آئی کا دامن

22

ارریہ (معراج خالد)
جیسے جیسے بہار اسمبلی انتخابات قریب آرہے ہیں ویسے ہی لیڈران اور کارکنان خود کو آراستہ کرتے نظر آرہے ہیں ہر کسی کو جہاں اپنی فکر ہے وہیں کارکنان بھی اس تعلق سے بیدار نظر آرہے ہیں، جوکی ہاٹ بلاک کے بگڈھرا پنچایت ایم آئی ایم صدر مولانا عبدالباری مظہری کے علاوہ درجنوں کارکنان نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے سیاسی بازو ایس ڈی پی آئی(سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا) میں شمولیت حاصل کی

نامہ نگار کے سوال پر مولانا عبدالباری نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی انہیں ایم آئی ایم سے بہتر لگی کیونکہ اس کے پاس بہترین آئیڈولاجی اور سسٹم کے علاوہ زمینی سطح پر مضبوط کیڈر موجود ہیں، منصوبہ بندی ہے، شخصیت پرستی کے بجائے اس میں شورائیت اورجمہویت ہے، یہ صرف باتوں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ تعلیم تربیت،ہیلتھ، معاشی ترقی، قانونی امداد وغیرہ امور بھی انجام دیتی ہے، مسلمانوں اور دیگر دبے کچلے طبقات کے حقوق کےلئے سب سے پہلے سڑک پر اترتی ہے، جہاں عزائم و منصوبے میں خلوص اور ایثار کا جذبہ ہے ان چیزوں نے مجھے ایس ڈی پی آئی کی طرف مائل کیا اور دوستوں کو اس میں شمولیت کی دعوت دی علاوہ ازیں کاکن پنچایت سے مولانا عبدالحق عظیمی اور بگڈھرا پنچایت سے مولانا عبدالباری سیفی کا انتخاب صدر کیلئے ہوا اور حافظ اطہر امین اور نیاز احمد کو سکریٹری نامزد کیا گیا اس موقع پر اکبر علی سماجی کارکن ، حافظ احمد حسین ، معیز الہی، مبارک حسین ،اظہر امین، مجاہد عالم دانش قمر، عبداللہ قمر اورحافظ ہلال کے علاوہ درجنوں لوگ موجود تھے۔