زخموں سے چور، یہ امت مجبور!

23

آپ یقین کریں، ہندوستانی مسلمانوں کے سر سے مصیبتوں کا سایہ، انچ بھر نہیں کھسکا.. سب کچھ ویسے ہی ہے، جیسے 6 ماہ پہلے تھا.. جن اندیشوں بلکہ حتمی قانونی پریشانیوں، پیچیدگیوں کا سامنا تھا بعینہ ویسے ہی ہے.. افراتفری مچادینے والے کسی مجوزہ پلان اور پروگرام سے بدنیت و بدخواہ سرکار ذرہ برابر پیچھے نہیں ہٹی ہے. کووڈ 19 کی بلا سب پر آئی، اور سب پر ہے. وہ تو معاملات نفاذ کی حد تک، معرض التوا میں چلے گئے ہیں.. اس دوران نئی تعلیمی پالیسی آچکی ہے، جس میں مسلمانوں کے لئے تہذیبی انضمام کا باب الداخلہ کھڑا کردیا گیا ہے.. ہندو مذہبی روایات کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے، اور مسلم عہد حکومت کے کچھ تاریخی حقائق کی تشریح من مانی کی گئی ہے.. یہ ذہنی مسمومیت کی ابتداء ہے.. سنسکرت لازمی بنیادی گئی اور عربی فارسی کا بچا کھچا حصہ اور کم کردیا گیا ہے.. دو مزید مسجدوں کی واگزاری کو ہندوتوا قوتوں نے آیندہ کے ایجنڈے پر لے لیا ہے، اور اس کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا ہے.. مساجد کی تالا بندی، اور عبادت گاہوں پر پابندی اور اس کے نفاذ کا ریہرسل کیا جا چکا ہے.. مسلم علاقوں کی گھیرا بندی کا ٹیسٹ مکمل کیا جا چکا ہے. مدارس کے مالیاتی ذرائع پوری طرح سرکاری راڈار پر آچکے ہیں.. چرم قربانی، ایک مستقل ذریعہ آمدنی، جو مدارس کے تین ماہ تک کے اخراجات کی تکمیل کرتا تھا، ایک طویل تجربے اور نگرانی کے بعد خشک کردیا گیا ہے. اور پچھلے پانچ سال سے وہ زیرو لیول پر آگیا ہے.. بڑے جانور کے گوشت کے خردہ کاروبار کو کم فائدہ اور پرخطر کردیا گیا ہے.. مسلمان کاروباری، صنعتی علاقے، شناخت کردہ ہیں اور وہاں دانستہ پروڈکشن کاسٹ میں اضافے کی نئی نئی چالیں چلی جارہی ہیں.. پارچہ بافی کی صنعت سے وابستہ مسلمان ایک خوش حال کمیونٹی تھی، ان پر بجلی کی شرح بڑھائی جارہی ہے اور سبسڈی واپس لی جارہی ہے.. تاکہ مصنوعات کی تیاری مہنگی ہوجائے اور یہ صنعت مارکیٹ میں اپنی مسابقت کی صلاحیت سے محروم ہوجائے.. جب کہ eas to do business کے نام پر ہر صنعت کو سہولتیں زیادہ سے زیادہ دی جارہی ہیں.. پانچ پانچ سال تک اکسائز ڈیوٹی معاف کی جارہی ہے، انفرسٹکچر فراہم کیا جارہا ہے، مشینوں پر امپورٹ ڈیوٹی فری کی جارہی ہے.. صنعتی زونس میں بینکوں سے بہت معمولی شرح منافع پر فینانس دیا جارہا ہے.. اور مسلمانوں کے بنے بنائے صنعتی علاقے، تاراج کئے جارہے ہیں.. سب کچھ ہورہا ہے.. لیکن ان تمام باتوں، خطروں سے پرے امت کا بڑا حصہ.. پھر مشاجرات صحابہ میں ایک پرعزیمت موقف طے کرنے پر تلا ہوا ہے.. اب پھر منبروں پر علی رض کو لعن طعن ہوگی اور اہل بیت کی توقیر کم کی جائے گی.. تو معاویہ رض کے فضیلتیں ڈھونڈھی جائیں گی.. یہ تو یہ صحابیت کی شان سے آگے بڑھ کر فساق امت کو بر بنائے تابعیت ایک نیا مرتبہ فضیلت عطا کیا جائے گا.. ہزاروں صحابہ، امت کے دسیوں آئمہ کو قتل وصلب کرنے والے قاتلوں کو برگزیدگی کا تمغہ دیا جائے گا.. اب یہ بحث پھر ہوگی کہ یزید ملعون ومطعون ہے یا مرحوم ومغفور.. اس کو رضی اللہ عنہ کہا جائے یا رحمہ اللہ پر اکتفا کیا جائے.. اس حمام میں علی کے غالی اور معاویہ کے لاابالی سب ایک ہیں..
آج کل مدرسے بند ہیں، اس لئے اس چٹخارے دار موضوع سے بہتر کوئی موضوع نہیں.. مولویوں کی متفکرانہ کارپردازیوں نے معتقدات کی فہرست اتنی طویل کردی ہے کہ ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما بھی دیکھ کر پریشان ہوجائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ سب کچھ نہیں بتایا تھا..
سوشل میڈیا پر دین پسندوں کی اس بیہودہ دلچسپی کے سوا کچھ نہیں مل رہا.. جس میں بدترین تنابز بالالقاب ہے جس سے قرآن نے منع کیا ہے.. باقاعدہ تم تڑاک ہے.. امت کا سنجیدہ طبقہ، اس روش پر سخت نالاں ہے اور ششدر ہے..
جس ملک میں ہمارا خون ارزاں ہورہا ہے، ہمارے ملی اثاثے زد پر ہوں، ہمارے لئے اپنا وجود بچانا چیلینج بن گیا ہو.. ہمارا دینی طبقہ یورپ کی قرون مظلمہ کی سی مذہبی کیفیت میں مبتلا ہو تو پھر کیا توقع کی جائے. آگے کی معرکہ آرائی میں علماء کو شاید اتنا اسٹیج شیئر بھی نہ ملے جو سی اے اے کے خلاف احتجاج میں مل گیا تھا، جس میں تقریر بازوں نے لابنگ کرکے اسٹیج لیا تھا، لوگوں نے دیا نہیں تھا… اگر ایسا ہوا تو یہ ایک بدقسمتی ہوگی..