گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

31

دینا آنی جانی اور فانی ہے، یہاں قرار کسی کو نہیں، جو ہیں سب فانی ہیں، فنا سے کسی کو مفر نہیں، بس فرق اتنا ہے کہ آج وہ کل ہماری باری ہے، مگر کچھ لوگوں کا جانا کچھ اس رُت سے ہوتا ہے کہ ان کے جانے کا غم زندگی کا لاحقہ بن جاتا ہے، جن کے جانے سے صرف ان کے اہل خانہ، علاقہ یا محلہ ہی نہیں؛ بلکہ ایک دنیا سوگوار ہوتی ہے، انہیں خوش نصیب لوگوں میں حضرت مولانا معزالدین احمد صاحب قاسمی رحمہ اللّٰه ہیں،ادھر کئی روز سے ان کی علالت کی خبریں سن کر ہمہ وقت متفکر رہتا تھا، کہ اسی دوران ۱۳؍ ستمبر ۲۰۲۰ء بروز اتوار یہ جانکاہ خبر ملی کہ حضرت مولانااب دنیا میں نہیں رہے۔ آہ !

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
اس خبر نے دل کو کتنا بے چین کیا وہ دل ہی جانتا ہے، اس کے پاس وہ الفاظ وتعبیرات نہیں جن میں اس درد و ٹیس کو بیان کیا جاسکے، جمعیۃ علماء ہند سے احقر کی وابستگی دو دہائیوں سے زیادہ کے عرصہ پر محیط ہے، مگر حضرت مولانا سے تعلق ادھر قریب پانچ سالوں سے تھا، وہ بہت شفیق اور حد درجہ محبت رکھنے والے تھے، ناچیز ہیچ مداں کو فقہی سیمیناروں میں نہ صرف شرکت کی دعوت دیتے؛ بلکہ مقالات لکھنے کے بھی پابند بناتے اور خصوصیت سے اس کی تاکید ایسے ہی کرتے جیسے کوئی مشفق باپ اپنی اولاد کو شفقت ومحبت سے تاکید کرتا ہے، وہ جمعیۃ علماء ہند کے بے لوث خادم اور ادارۃ المباحث الفقہیہ کے ناظم اعلیٰ تھے، سادگی اور ملنساری میں بے مِثل، اصابتِ رائے میں ضرب المَثَل ، حق گوئی میں یکتا، اصول پسندی میں معروف ، اور بہت سی ان خوبیوں کے مالک تھے جو خال خال ہی لوگوں میں پائی جاتی ہیں، انہوں نے زندگی کے ۳۰؍ سے زائد قیمتی بہاروں کو لٹاکر جمعیۃ علماء کو سینچا اور پروان چڑھایا، ادارۃ المباحث الفقہیہ کی نشأۃ ثانیہ کے آپ معمار تھے، دو درجن سے زائد فقہی سیمینار آپ کی نظامت میں ہوئے، فقہی سیمیناروں کو حسن ترتیب، عمدہ انداز اور بہتر سے بہتر پیرائے میں منعقد کراتے، اس کے لئے خود تنِ تنہا شب وروز محنت کرتے، مگر خلوص اور سادگی اتنی تھی کہ سب کچھ کرکے بھی نام ونمود اور اسٹیج سے دور ہی نہیں؛ بلکہ بہت دور رہتے. معاملات میں صفائی آپ کا وصفِ ممتاز تھا جس بنا پر صرف جمعیۃ ہی نہیں؛ بلکہ جمعیۃ کے باہر کے افراد بھی آپ پر مکمل اعتماد کرتے تھے۔
علم ومطالعہ کا شغف اور کتابوں سے لگاؤ عشق کی حد تک تھا، تاریخ آپ کا خاص موضوع تھا، اس میں بھی جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ سے خصوصی دلچسپی رکھتے تھے، ان کے پاس معلومات کی جتنی وسعت تھی اس سے کہیں زیادہ وہ سخی واقع ہوئے تھے، کوئی کچھ لکھتا تو نہ صرف ان کی رہنمائی کرتے؛ بلکہ بہت سے مفید مشورے بھی دیتے، اس کا غلغلہ پہلے سنتا تھا مگر احقر کو خود بھی اس کا تجربہ ہوا، پچھلے سال اکتوبر، نومبر میں جمعیۃ علماء سے وابستہ حضرات اکابر علماء کشن گنج کے حالات وخدمات کو جب جمع کرنے کا موقع ملا تو اس سلسلے میں حضرت مولانا سے کئی بار رابطہ کیا ہر بار انہوں نے نہایت شفقت و محبت سے بہت سی کار آمد باتوں کی طرف اشارہ کیا، مزید کتاب کی طباعت کے سلسلے میں بھی انہوں نے خاصی راہنمائی فرمائی، پھر جب کتاب طباعت کے مرحلے سے گذر رہی تھی تب بھی از خود حال و احوال دریافت کرتے رہے۔
’’تذکرہ اکابر علماء کشن گنج‘‘ کی طباعت مکمل ہوئی اور اس کا رسمِ اجراء مرشدی حضرت اقدس مفتی سید محمد سلمان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم العالیہ کے ہاتھوں ۱٤؍ دسمبر ۲۰۱۹ء کو عمل میں آیا ، اسی دن رات دیر گئے حضرت مولانا ؒ کا فون آیا ، وہ فون کیا تھا محبت بھرا شکوہ تھا، میرے حوصلوں کو مہمیز کرنے کے لئے کتاب کے مشمولات کے ساتھ ساتھ اس کی عمدہ طباعت کی خوب دل کھول کر تعریفیں کیں اور ساتھ ہی شکوہ بھی کیا. جمعیہ علماء کی لائبریری، حضرت ناظم صاحب اور میرا نسخہ کیوں نہ بھجوایا ، حضرت ؒ کا محبت بھرا یہ شکو ہ تھا اور میں مارے شرم کے گڑا جارہا تھاکہ کیا جواب دوں، دل تو میرا بھی چاہ رہا تھا کہ کم از کم ایک نسخہ حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم کے ساتھ حضرت مولانا کے لئے بھجوادوں ، لیکن اولاً تو ادب مانع رہا، پھر حضرت کا نظام سفر کچھ ایسا تھا کہ یہ مشکل ہوجاتا اس لئے نہیں بھیج سکا، الغرض حضرت مولانا ؒ سے معذرت چاہا اور چوں کہ فقہی سیمیناروں کی تاریخیں طے تھیں اس لئے وعدہ کرلیا کہ میں خود آپ تک پہونچاؤں گا، سفر قریب تھا اس لئے ایک کارٹون میں ۲۰؍ عدد کتابیں میں نے پیک کرلی جو اب تک اسی حال میں ہیں، مگر تقدیر کے لکھے کو کون جان سکتا ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے سفر ملتوی ہوگیا اور اب حضرت ؒ ہی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، یوں میں حضرت مولانا ؒ سے کئے گئے اس وعدہ کو وفا نہ کرسکا جس کا مجھے اس وقت بیحد قلق ہورہا ہے۔
اس تھوڑے سے عرصہ میں حضرت مولاناؒ کی جو عظمت اور محبت میں اپنے دل میں پاتا ہوں وہ لازوال ہیں، بلاشبہ یہ مقام محبوبیت اللّٰه نے انہیں ان کے خلوص وتقویٰ کی وجہ سے عطا کیا تھا، وہ اب ہمارے بیچ نہیں رہے؛ مگر انہیں رب کریم جو لسانَ صدقٍ فی العالمین کا اعزاز بخشا ہے وہ نہ صرف تاریخ کا حصہ ہوگا؛ بلکہ وہ دلوں میں بھی آباد رہیں گے.
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
حضرت مولانا ؒ کی وفات کی خبر ایسے وقت ملی جب ہم تمام خدام جمعیۃ علماء کشن گنج جمع تھے ، جمعیۃ علماء بہار کے صدر محترم حضرت مولانا ومفتی محمد جاوید اقبال صاحب قاسمی، حضرت مولانا محمد غیاث الدین صاحب قاسمی صدر جمعیۃ علماء کشن گنج ، حضرت مولانا محمد خالد انور صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء کشن گنج، مفتی عیسیٰ جامی صاحب قاسمی، مولانا نوید صاحب قاسمی، مولانا صدام صاحب قاسمی، مکھیا اظہار صاحب آصفی اور سیکڑوں علماء ودانشوران نے حضرت کے لئے ایصالِ ثواب کیا اور ان کے لئے دعاء مغفرت کی گئی، اللّٰه رب العزت ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین.