پھیلتا سمٹتا دائرہ

25

بچپن میں اپنے بزرگوں سے اکثر ایسے واقعے سننے کو ملتے تھے کہ فلانی دادی ،فلا نے دادا ،فلانی نانی بیچاری بڑی سیدھی سادی تھیں دنیا وما فیہا سے انہیں کوئی مطلب نہیں تھا۔

بس دن رات اللہ کی عبادت میں لگی رہتی تھیں۔ارے انکا تو یہ عالَم تھا کہ انہوں نے کبھی ٹرین یا جہاز کا سفر کیا ہی نہیں،جس گاؤں یا قصبہ میں پیدا ہوئیں وہیں انکا جنازہ بھی دفن ہو گیا۔یعنی پوری زندگی ایک ہی جگہ کاٹ دی وجہ تھی وسائل کی کمی ۔

لیکن پھر زمانے کا رخ بدلا وقت اور حالات نے کروٹ لئے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اکثر و بیشتر لوگ ملک کے کونے کونے اور بیرون ملک میں سیر و تفریح کے لئے اور دوسرے معاملاتِ زندگی نکلنے لگے ۔

نوجوان روزگار کی تلاش میں،طالب علم،تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے بزرگ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے،نوجوان جوڑا شادی کے بعد سیر و تفریح کے لئے اور جسکی بھی جو بھی وجہ ہو ۔ایک معمولی آمدنی اور کم حیثیت رکھنے والے لوگوں کے لئے بھی یہ ممکن تھا کہ ملک کے جس کونے میں بھی جانا چاہے وہ آسانی سے آ جا سکتا تھا اور اپنے خوبصورت اور رنگا رنگی تہذیب والے ملک کو اپنی نگاہوں سے دیکھ سکتا ہے۔یعنی جدید ترقی اور وسائل کا استعمال اس کے دائرہ اور پہنچ میں تھا۔لیکن آنے والے دنوں میں جو حالات پیدا ہو رہے ہیں شاید اس میں یہ ممکن نہ رہے ۔وجہ یہ ہے کہ ایک طرف تو دنیا کا دائرہ سمٹتا جا رہا ہے جو پڑھا لکھا اور ذی شعور طبقہ ہے وہ انٹر نیٹ،لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون کے ذریعہ ہر وقت پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں لئے ہوئے ہے۔یعنی جہاں جس وقت،اور جس جگہ کے حالات کا جائزہ لینا ہو وہ جدید ٹیکنا لوجی کے استعمال کے ذریعہ لے سکتا ہے اور اس طرح وہ دنیا کے ساتھ ساتھ اور وقت کی رفتار کے ساتھ چل سکتا ہے۔جس کے ذریعہ اس کی معاشی ترقی بھی ممکن ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ اس قابل بھی رہیگا کہ دور دراز کے سفر طےء کرنے کے معاشی بوجھ کو برداشت کر کے جہاں بھی ضرورت ہو وہ آ جا سکتا ہے ۔اس طرح اس کی عملی زندگی کا دائرہ کار بڑھ کر پوری دنیا ہو جاۓگی اور دنیا کا کوئی بھی کونا اس کی پہنچ سے باہر نہیں رہ پاۓ گا۔

مگر دوسری طرف ایک بڑا طبقہ ایسا بھی وجود میں آ رہا ہے جسکو وسائل کی کمی کی مار جھیلنی پڑ سکتی ہے اور دو وقت کی روٹی سے زیادہ کے بارے میں شاید اس کو سوچنا مشکل ہو جاۓ۔وجہ صاف ہے امیر اور غریب میں بڑھتی کھائی ایک طرف تو جو با حیثیت لوگ ہونگے وہ موا قعے کا فائدہ اٹھا کر ترقی کی راہ پر گامزن رہیں گے مگر جس کے پاس وسائل کی کمی ہوگی وہ سب کچھ رہتے اس سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہینگے ۔پھر انکا دائرہ بہت مختصر ہو جاۓ گا ۔اور شاید اپنے محلے یا شہر سے آگے نکلنا ان کے لئے مشکل ہو جاۓ۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ گلو بلا ئز یشن اور آزاد معشیت کے نتیجے میں عمارت اور پسماندگی کے بیچ مزید فاصلے بڑھے ہیں امیر زیادہ امیر اور غریب زیادہ غریب ہو گئے ہیں ۔فار چون کے ایک جائزے کے مطابق 2007 تک دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی خاندان تھے۔جس میں ڈیڑھ سو زائدہ وہ خاندان بھی شامل تھے جو گذشتہ دس برسوں میں ارب پتی بن کر ابھرے تھے۔ان میں اکثریت امریکہ،روس،چین،ہندوستان برازیل،اسپین اور عرب ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

فوبرس کے مطابق 18 مارچ 2020 تک دنیا بھر میں 2095 ارب پتی تھے اور دنیا کے سبھی ارب پتی کی کل ماسیت 18ٹر یلین ڈالر تھی جو کہ پچھلے سال 2019 کے مقابلے میں 700 بیلین ڈالر کم تھی اس وقت امریکہ میں سب سے زیادہ 4 61 ارب پتی تھے چین میں 388 ارب پتی ،جرمنی میں 107 اور ہندوستان میں 102،اور روس میں 99 ارب پتی تھے ۔اور ہندوستان کے سب سے امیر آدمی مکیش امبا نی تھے جو آج بھی ہیں یعنی دنیا کے لگ بھگ آدھے ارب پتی امریکہ اور چین میں رہتے ہیں جو دنیا کی دو سب سے بڑی معیشت ہے ۔ جیف بیٹر یس دنیا کے سب سے امیر ترین شخص ہیں جو ایمیزون کے مالک ہیں اور امریکہ کے رہنے والے ہیں جنکی مجموعی دولت مارچ 2020 تک 9۔183 ارب ڈالر تھی ۔ہندوستان کے مکیش امبانی کا سا تواں نمبر تھا جن کی کل دولت 8 ۔71 ارب ڈالڑ تھی اور جو ریلا ئیںنس انڈ سٹر یز لمیٹڈ( R l L) کے مالک ہیں۔ 15جولائی 2020 تک مکیش امبا نی دنیا کے آٹھویں امیر شخص بن گئے تھے۔یعنی ایک پا ئیدان نیچے آ گئے تھے اور اب نو یں ہیورن گلوبل ریچ لسٹ شا ئع ہوئی ہے جس میں 71ممالک کے 2،817 بیلبنا ٹر س شامل ہیں جس میں جیف بیٹر یس پہلے نمبر پر ہیں اور مکیش امبانی کا نمبر دسواں ہیں جس میں ان کی مجموعی دولت لگ بھگ 67، ارب ڈالر ہے۔

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مکیش امبانی کی دولت پچھلے کچھ دنوں میں کم ہوئی ہے جو اب بھی ہندوستان کے امیر ترین شخص ہیں یہ سچ ہے کہ حالیہ کورونا وائرس اور لاک داؤن نے ملک کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے،کروڑوں افراد فی الحال بیکار ی کی مار جھیل رہے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کی مالی حالت خستہ ہو چکی ہے۔

ہندوستانی معشیت دوسرے ملکوں کے بہ نسبت تیزی سے زوال پذیر ہو رہی ہے۔نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 20ملین افراد ایک بار پھر غربت کی زد میں آ سکتے ہیں ۔عام لوگوں کی قوت زر کم ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں ڈیمانڈ کم ہو چکی ہے جسکی وجہ کر صنعتیں آ کسیجن پر چل رہی ہیں۔معاشی تجز یہ کار کا اندازہ ہے کہ ہندوستان دنیا کی پانچو یں سب سے بڑی معیشت ہونے کا فخر بھی کھو سکتا ہے۔سچ یہی ہے کہ وجہ جو بھی ہو لیکن آزادی کے بعد ملک نے کبھی ایسے حالات نہیں دیکھے تھے۔

ریزرو بینک کے مطابق گورنر رگھو رام راجن جو فی الحال شکاگو یو نیور سیٹی میں پروفیسر ہیں انہوں نے بھی گرتی ہوئی معیشت پر تشویش کا اظہار کیا ہے ان کے مطابق 21 _2020 كی پہلی سہ ماہی کے آنکڑ ے معیشت کی تباہی کی نشاندہی کرتے ہیں ۔انہوں نے اپنے ایک پوسٹ میں لکھا ہے "معیشت کی ترقی میں اتنی بڑی گراو ٹ ہم سبھی کے لئے وارننگ ہے ۔” ہندوستانی معیشت میں جی ڈی پی میں 23۔9،فیصد کی گراوٹ آئ ہے جب کہ کو و یڈ __19 سے سب سے زیا دہ متا ثر مما لک اٹلی میں 4۔ 2 1، اور امریکہ میں 9۔ 5، فیصد کی۔ گراوٹ آئ ہے ۔

حکومت ِوقت صورتحال کو سنبھالنے میں لگی ہے مگر سچ یہ ہے کہ حالات تشویشناک ہیں اور ہمیں بہت سنبھل سنبھل کر قدم کو آگے بڑھانا ہے۔امید بڑی طاقت ہوتی ہے اس لئے ہم سب کو بہتر امید کی توقع کرنی چاہئے ۔آج کے اس دور میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جب پورا کا پورا معاشرہ وبا ل میں پھنس جاتا ہے تو ہر کوئی اس سے نجات کا راستہ ڈھونڈھتا پھرتا ہے مگر اسے سمجھ میں نہیں آتا کہ اب اس ہیجا نی کیفیت سے ہمیں کیسے نجات ملے گی اور آخر میں رسی چھوڑ دیتا ہے اور اپنے آپ کو زمانے کے تیز و تند ہوا کے حوالے کر دیتا ہے اور اپنے آپ کو زمانے کے تیز و تند ہوا کے حوالے کر دیتا ہے چاہے وہ اسے بہا لے جاۓ یا کسی صفت اسے اپنے دامن میں جگہ دے دے اور وہ بربادی سے بچ جاۓ ۔ابھی کے حالات کم و بیش ایسے ہی ہیں ایک طرف وبائی امراض ہے تو دوسری طرف ہمارے پڑوسی ممالک ہماری طرف بری نگاہ لگاۓ بیٹھے ہیں جسکی وجہ کر ایک عام انسان عجیب صورت حال میں اپنے آپ کو بے بس پا رہا ہے لیکن ہمیں اپنے ملک کے با شعور شہری اور قابل فوج سے پوری پوری امید ہے ایسے ممالک کو صحیح جواب دیں گے اور ملک کی عوام کو اس برے دور سے نکالنے میں کامیاب ہونگے اس کے لئے صحیح کوشش اور بہترین حکمت عملی کا مظا ہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

ابھی کے اس دور میں حالات کچھ بھی ہوں سچ یہی ہے کہ ملکوں اور قوموں کے بیچ مقابلہ ہے۔اس میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ آپ جس میدان میں بھی قدم رکھنا چاہتے ہیں پوری تیاری کے ساتھ اپنے قدم رکھیں اور جہد و مسلسل اور استقامت کے ساتھ اپنے قدم جمائے رکھیں کم تیاری کے ساتھ زندگی کے رک سی میدان میں قدم رکھنا گویا نا کامی کو اپنا مقدّر بنانا ہوگا۔

منزل کی جستجو ہے تو کر جہد مسلسل

یوں مفت میں چاند ستارے نہیں ملتے۔!

تیاری دو پہلوں سے ہونی چاہئے ایک یہ کہ با قاعدہ ہو اور دوسرے یہ کہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق ہو،تب جا کر کہیں بات بن سکتی ہے ۔کام کے لئے منصوبہ بندی بہت اہم ہے اس لئے بہتر منصوبہ بندی اور بہتر فیصلہ کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے جو ملک اور ملک کی عوام کے حق میں ہو اور ہم دنیا کے سامنے ایک باوقار قوم کی طرح نظر آئیں اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں اس بات کا بھی خیال ہونا چاہئے کہ ترقی میں ملک کا کوئی شہری پیچھے نہ چھو ٹ جائے ۔

طو یلِ شبِ فراق سے گھبرا نہ اے جگر

ایسی بھی کوئی شام کیا جس کی سحر نہیں ۔!!