معروف سماجی شخصیت ڈاکٹر جلال الدین سپردخاک،

38

دھن گھٹا ( سنت کبیر نگر
اس دنیا میں جو بھی آیا ہے اسے ایک دن جانا ہی ہے،اور موت ایک اٹل حقیقت ہے جس مسلم غیر مسلم ہر مذہب اور فرقے کے لوگ مانتے ہیں اور اس کی حقیقت سے آشنا ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا اس دنیا سے جانا قوم کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ،انہیں میں مہولی سنت کبیر نگر کے باشندہ سماجی شخصیت ڈاکٹر جلال الدین کا نام نامی بھی ہے، مرحوم کی خدمات خاص طور مہولی واطراف کے لیئے کسی سے پوشیدہ نہیں ہے،وہ ہر ایک کی خبر گیری اور دین کے کاموں اور سماجی خدمت گزاری میں ہمہ تن مصروف رہتے تھے،ان کے انتقال سے اہل مہولی غمگین ومایوس نظر آئے پورے علاقے سے سوگواروں کا جم غفیر ان کی رہائش گاہ پر جمع ہونا شروع ہوگیا، نماز جنازہ دس بجے مدرسہ عربیہ مصباح العلوم مہولی کے وسیع وعریض احاطہ میں استاذ الاساتذہ حضرت مولانا مقبول احمد صاحب جونپوری بانی و مہتمم مدرسہ عربیہ مصباح العلوم روضہ کی اقتداء میں ادا کی گئی،بعدہ مہولی کی قبرستان میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں تدفین عمل میں آئی، مرحوم کے پسماندگان میں دو صاحبزادے اور چھ صاحبزادیاں ہیں، دونوں صاحبزادے ڈاکٹر نور الامین اور ڈاکٹر مکین احمد پیشہ سے ڈاکٹر ہیں اور طبی خدمات انجام دے رہے ہیں،
اس موقع پر مولانا عظیم اللہ قاسمی بکولی، مفتی محبوب احمد قاسمی،ماسٹر ابو الکلام لوہرسن،مولانا محمد حسان ندوی،مولانا حسان احمد قاسمی، مولانا مبشر حسین ندوی ڈائریکٹر مولانا علی میاں اسکول خلیل آباد،آفتاب احمد انصاری،سابق ممبر اسمبلی الگو پرساد چوہان،گرام پردھان مہیش یادو، اشوک کمار، محمد ارشد خان، حافظ آفتاب احمد ببلو، مولانا نیاز احمد مظاہری مانپوری، سماجوادی پارٹی کے اقلیتی سیل کے ضلع صدر اور نوجوان شاعر اسد مہتاب خان ،ڈاکٹر اطہر حسین رحمانی ،مولانا ندیم احمد، مولانا قاری عبد الوھاب مانپور وغیرہ نماز جنازہ میں شریک تھے،