یہودی زیادہ سچ بولتے ہیں.

17

تحریر :خورشید انور ندوی

12 ستمبر 2020
یہودی زیادہ سچ بولتے ہیں.
اس خبر کا انتظار کہ سعودی عرب نے بھی اسرائیل سے معاہدہ کرلیا ہے، محض خبر کی تصدیق کے لئے ہے.. ورنہ یہ بھی ایک مصدقہ خبر ہی ہے.. خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کی موافقت کے بغیر مملکت بحرین کوئی اہم قدم نہیں اٹھاتی.. اب کہ جب اس نے باقاعدہ اعلان کردیا ہے، اور اپنے پیش رو امارات کی ہم رکابی کرلی ہے تو، سعودی عرب اور اسرائیل کے معاہدہ امن کے اعلان کا انتظار رسمی رہ گیا ہے.. عرب ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی پرجوش نفی کرتے رہے ہیں، اور فلسطین اور قضیہ فلسطین کے تئیں اپنی حمایت ہی نہیں بلکہ اپنی وفاداری اور ایک ہی قوم کا مسئلہ قرار دیتے رہے ہیں.. مسئلہ فلسطین تو اسی وقت اپنی موت مرگیا تھا جب وہ مسلمانان عالم کا مسئلہ نہ رہ کر عربوں کا مسئلہ بن گیا تھا.. اور اس کا یہی انجام لکھا جاچکا تھا جب وہ عرب قومیت اور لادینی سوشلسٹ رجحان کی قیادت میں جا چکا تھا.. عرب قومیت کا مطلب کچھ نہیں.. اور سوشلسٹ رجحان کا مطلب یہود سے مقابلہ آرائی نہیں بلکہ ایک سیاسی قیادت سے دوسری کمزور قیادت کی بارگیننگ، کچھ حقوق طلبی اور ان کو حاصل کرلینے کی ضمانت کے ساتھ بقائے باہم کے اصولوں کی تدوین اور ان پر عمل آوری.. ذیلی جزوی مقید خود مختاری کا حصول.. اور کچھ نہیں.. مزاحمت اور اس کا دینی ترجمہ سرے سے غائب.. بعینہ یہی ہوا.. سارے عرب یہی چاہتے تھے، اور 1967 کی نمائشی جنگ کے بعد وہ فلسطین اور قضیہ فلسطین کو بوجھ سمجھنے لگے تھے.. بلکہ وہ اس خدشے کا شکار رہے کہ یہ مسئلہ ان کے اقتدار اعلی کے لئے کوئی چیلنج نہ پیدا کردے.. ساری عرب حکومتیں آمر تھیں.. اور آمر ہیں.. ان کے کسی سیاسی فیصلے میں ان کی قوم کی کوئی شرکت نہیں ہوتی.. قوم پوری طرح آسائش زدہ اور سہولتوں کی افیون کی رسیا ہے.. وہ اپنے گھر کے آنگن سے آگے نہیں دیکھتی.. اسے آزادی سے کوئی سروکار ہے.. سافٹ ڈرنک کے کین اس کی آخری طلب ہے، اور فٹبال اس کی کمزوری.. عرب نوجوان فلسطین کہاں ہے نہیں جانتے..صرف کچھ جان غیر سرکاری شیوخ میں تھی جو وہاں کے مخصوص سیاسی ماحول میں سخت نگرانی میں رہتے تھے.. ان کو سرکاری ملازمتوں کے ذریعہ پوری طرح قابو میں رکھا گیا.. یہی وجہ ہے کہ پرامن حالات میں، عربوں کی پس پردہ حمایت کے ساتھ بلاجنگ فلسطین کا رقبہ 75٪ فیصد اسرائیل کی عملداری میں چلا گیا.. اور یہ کام آہستہ آہستہ ہوا.. آبادی کا بڑا حصہ امریکہ کناڈا، جنوبی امریکہ اور یورپ ہجرت کرگیا..
جس وقت قضیہ فلسطین پر خطبوں میں گھن گرج ہوا کرتی تھی اس وقت بھی، عرب ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ روابط انتہائی گہرے اور بامعنی تھے.. اسرائیل سے جنگ لڑنے والے مصر کو کئی سال تک امریکہ سے سالانہ دو ارب ڈالر کی امداد دی جاتی رہی، آخر کیوں؟ اردن نے تو فلسطینیوں کے پناہ گزین کیمپوں تک میں خونی آپریشن کیا.. مصر ان کو انتہائی مشکل راہداری دیتا تھا، جیسے وہ دشمن ملک کے باشندے ہوں.. لبنان میں وہ اسرائیل اور کرسچین ملیشیا کے بے رحم آپریشن کا شکار ہوتے رہے، اور عرب کچھ نہیں کرتے تھے سوائے کچھ مالی ریلیف کے..
ان تمام حالات میں اسرائیلی وزراء ہمیشہ یہ دعوی کرتے رہے کہ عرب اٹھاریٹیز سے ہمارے تعلقات مثالی ہیں.. اور ہمیں ہر سطح پر ان کا قابل قدر تعاون حاصل ہے.. ہمارے عرب دوستوں کی خواہش پر ہم ان تعلقات کا اعلان نہیں کرتے.. ادھر عربوں کی طرف سے فلسطین کی حمایت، اور اسرائیل کی مذمت کا رسمی بیان جاری ہوجاتا،، اور ایک طویل خاموشی.. حتی کہ عربوں نے اپنے ہی عرب سیاسی مخالفین کو سبق سکھانے کے لئے اسرائیل کا استعمال متعدد بار کیا….. اب جو کچھ ہورہا اسے دیکھ کر یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ، یہودی سچ زیادہ بولتے ہیں.