کس موڑ پر آ پہونچے!

38

کہتے ہیں، جب سارے منظر آنکھوں میں چبھنے لگیں تو، آنکھیں بند کرلیں.. یہ مشورہ برا نہیں. بےبسی میں، جب کوئی راہ نہ سجھائی دے تو چند ثانیہ کا اطمینان بھی بڑی چیز ہے.. یہ بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن آنکھیں بند ہوجائیں گی، منظر نہیں بدلیں گے.. کیونکہ وہ زمین میں گڑے ہوتے ہیں.. اور کوئی بھی منظر پس منظر کا دلکش یا خوفناک چہرہ ہوتا ہے…تبدیلی آنکھیں موندنے سے نہیں، ماحول بدلنے سے آتی ہے.. ہاں ماحول کی تبدیلی کوئی شوقینوں کا کھیل نہیں، جی جوکھم کا کام ہے… گھر کے اندر تبدیلی آسانی سے نہیں لائی جاسکتی، ملک میں لانا تو بہت بڑا کام ہے.. قابل ٹیم، ٹھوس منصوبے، حقیقت پسندانہ طرز عمل، صبر وثبات، اور وسائل کی بلاروک ٹوک فراہمی, سب کچھ بنیادی طور پر ضروری ہے.. اور ان سب سے پہلے ملک اور اہالیان ملک سے وفاداری، ہمدردی اور بلند سوچ کی ضرورت ہے.. اگر صبح کے بعد شام، اور شام کے بعد صبح، ہونا، زندگی کی عافیت ہے، تو يقينا ہم سب عافیت سے ہیں.. لیکن ملک اور اہالیان ملک کی عافیت وقت گزاری نہیں ہوتی.. بلکہ حال، خوش حال اور مستقبل توانا و تابدار ہونا چاہئے.. معیشت مستحکم، سیاسی حالات پرسکون، سرحدیں محفوظ، تعلیم گاہیں آباد، سوسائٹی فروغ پذیر ہونی چاہئے.. سوسائٹی کے سبھی لوگ بہت سارے ایشوز پر ایک دوسرے سے بہت زیادہ اختلافی نقطہ نظر رکھنے کے باوجود، خود کو محفوظ سمجھ سکیں.. رائے کا اختلاف اور فکر کی ثنویت، سماج کے لئے چیلنج نہ بنے بلکہ وسعت پیدا کرے.. اگر واقعی یہ باتیں اطمینان اور ترقی کی بنیادیں ہیں، پھر تو ہم آگے بڑھنے کے بجائے، کافی پیچھے چلے گئے ہیں…
معیشت تو ایک چوتھائی کٹ چکی،، صرف اس کٹی ہوئی معیشت کو جوڑ کر ڈائیگرام کے سرکل کو مکمل کرنے میں سال لگ جائے گا.. جو معیشت اتنی گر چکی ہو وہ ٹھیک تین سال بعد کس طرح 50٪ اپنے حجم میں اضافہ کرکے 21/2 سے 5 ٹریلین کا ہدف پورا کرپائے گی؟ وہ رام مندر ہے جو سپریم کورٹ کے عجیب فیصلہ کی بنیاد پر پانچ گنبدوں پر تعمیر کرلی جائے گی؟ قوم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، وہ مان لے گی کہ کرونا تو بھگوان کی کرنی تھی، ہم کیا کرتے… تعلیم گاہوں کو طے شدہ بجٹ بھی نہیں مل رہا، لاکھوں تقرریاں پرائمری سے لے کر یونیورسٹی سطح تک زیر التوا ہیں.. اسکالر شپس گھٹائی گئی ہیں.. مجوزہ روٹینی اضافے روک دئے گئے ہیں.. ریاستوں کے پاس صحت و صفائی کے اخراجات کی رقم نہیں ہے،، جی ایس ٹی کی ریاستی استحقاقی رقم کی ترسیل نہیں کی گئی ہے.. بیرونی سرمایہ کاری سرکار جس میں اضافے کو اپنا کارنامہ گردانتی ہے، اور سرمایہ کار دنیا کے اعتماد کا مظہر قرار دیتی ہے، وہ چند ایک سیکٹر میں اور چند ایک کارپوریٹس میں ہے جو موجودہ حکومت کی جانب واضح جھکاؤ رکھتے ہیں.. اس سرمایہ کاری میں شمولیت نہیں ہے، اس کا فائدہ بھی مرتکز ہوگا.. ٹرانسپورٹ اور ٹیکسٹائل، اور کنسٹرکشن سیکٹر دوبنے سے بے روزگاری بڑھی تو ساتھ ساتھ فینانسر بینکوں کی ان پی اے بھی بڑھ گئی.. جو پہلے سے ہی خطرہ میں تھی.. لا اینڈ آرڈر کی صورت حال کی ابتری، محض قانون کے نفاذ کی ابتری نہیں رہی بلکہ آگے بڑھ کر سماجی تانے بانے کے بکھرنے کی وجہ بن گئی،، پولیس کے عام ایکشنس فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے کے الزامات کی زد میں رہے.. طاقت کے بیجا اور بے رحمانہ استعمال نے سالوں سے سوچکے ہیومن رائٹس، وومن رائٹس کمیشن، چائلڈ پرٹیکشن کمیشن تک کو جگا دیا، اور وہ ریاستی دباؤ کے باوجود بول اٹھے.. دوسو کے اس پاس موب لنچنگ کے واقعات میں قانون خاطر خواہ کچھ نہ کرسکا.. چارج شیٹڈ ملزمان کی ضمانت پر عوامی نمایندوں تک نے تہنیتی تقریب منعقد کی اور ملزمان کی گل پوشی کی گئی.. وبا سے نمٹنے کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات کے بجائے لوگوں کی توہم پرستی اور فراڈ بھکتی جگائی گئی.. جو ریاست کا کام نہیں، ریاست کا کام موجود انتظامی ڈھانچوں کی چاک چوبندی تھی جس کو نظر انداز کیا گیا.. جتنے بیڈ موجود ہونے کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے وہ تو تین چار دن میں بھر چکے.. اب ان کی تعداد میڈیا میں نہیں دی جاتی…
سب سے زیادہ خطرناک اور دھماکو صورت حال سرحدوں کی ہے.. جہاں سب کچھ داؤ پر ہے… جنگ منڈلارہی ہے.. اور نیرو بانسری بجا رہا ہے، اور مور سے ہیرے چگوا رہا ہے.. میڈیا ہر شام ایک محاذ چین سے جیت رہا ہے، اور فوجی مارے جارہے ہیں…. آج کی جنگ بچوں کا کھیل ہے؟ دنیا دو بڑی آبادیوں والے ملک، ایٹمی جنگی صلاحیتوں کے مالک، دو سب سے بڑی فوجی نفری رکھنے والے پڑوسی، آمنے سامنے کھڑے ہیں.. دو پرماننٹ اسلحہ فروش، حربی صنعتوں کے چمپئن امریکہ اور اسرائیل متوقع جنگی سودوں کی راہداری بناررہے ہیں، اور نئی مصنوعات کی فہرست سازی کررہے ہیں.. اور ہمارے پالیسی ساز نہ قوم کو اعتماد میں لے رہے ہیں، نہ صحیح معلومات فراہم کررہے ہیں.. اگلی جنگ میں کیا بچے گا.؟ .. کیا بل گیٹس کی آبادی کم کرنے کے خیالی منصوبے کا ہم حصہ بننے جارہے ہیں؟
میرا ملک عظمت کے جنونیوں کی اس طالع آزمائی کا متحمل نہیں ہوسکتا.. میری ہزاروں سال کی تہذیبی وراثت، بے مثال قابل فخر ثقافت، رشک جناں ہریالی دھرتی، میرے آبشاروں کی نغمگی، کوہساروں کے سر، ندیوں کا کل کل بہتا پانی، میرے جوانوں کے سینے میں مچلتی آرزوئیں، دوشیزہ آنکھوں کی آشا دیپ، سب کچھ بارود کو پروسنے کی تیاری ہے.. میں ہر دم یہی سوچتا ہوں کہ :
ہم کس موڑ پر آ پہونچے……..