محرم الحرام عرس امین شریعت کے موقع پر ایک خصوصی تحریر

33

حضور امین شریعت اسلام کے عظیم داعی

از قلم: خلیفۂ امین شریعت و تاج الشریعہ محمداشرف رضا قادری
چیف ایڈیٹر: سہ ماہی امین شریعت

صالحین کے ذکرسے قلب کو تسکین،عقیدے کو صلابت اور ایمان کو تازگی ملتی ہے۔کتابوں میں آتا ہے کہ جہاں صالحین کا ذکرہوتاہے وہاں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔صالحین کا ذکرکرنا،لکھنااورسنناسب عبادت ہے یہی وجہ ہے کہ ہرزمانے میں حالحین کی حیات وخدمات کے ہرگوشے کو قید تحریرمیں لانے اور اسے بڑے پیمانے پراجاگرکرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے ۔آج دنیاکی کوئی مسلم آبادی ایسی نہیں ملے گی جہاں صالحین کے تذکرے پر مشتمل کتابوں کا ذخیرہ موجود نہ ہو، دنیامیں بڑی بڑی دانش گاہیں،جامعات اور لائبریریاں بھی موجودہیںان میں بھی صالحین،عابدین اورمتقین کے حوالے سے ہرموضوع پرجدیدوقدیم کتابوں کی اتنی کثرت ہےکہ ایک عام آدمی انہیں دیکھ کرحیرت واستعجاب کے سمندرمیںڈوب جاتاہے ۔خودصالحین کی اپنی تالیفات وتصنیفات اور ان کے ملفوظات پرمشتمل کتابیں بھی اچھی خاصی تعدادمیں ہرجگہ دستیاب ہیں ان کتابوں کا مقصدِ تصنیف اس کے سواکیاہوسکتاہے کہ محبوبان الٰہی کی حیات کےہرگوشے کو محفوظ کردیاجائے تاکہ آنے والی نسلیں ان کتابوں کے مطالعہ سے اپنے دلوں میںخوف وخشیتِ الٰہی کا چراغ روشن کرسکیں اور اپنی زندگی کو قرآن واحادیث کی روشنی میںبرتنے کی کوشش کریں ۔ایساہوتابھی ہے اس کی مثالیں اکثردیکھنے کو مل جاتی ہیں ۔صالحین کی حیات کوپڑھنے اور ان کے حالات وواقعات کو سننے کے بعد دل ایک عجیب سی کیفیت سے سرشارہوجاتاہے کبھی کبھی صالحین کے بعض واقعات کو پڑھنے کے بعد اس احساس میں شدت آجاتی ہے کہ یہ واقعات کسی انسان کے نہیں ہوسکتے لیکن حقیقت بہرحال حقیقت ہے ماضی قریب میں بھی ایسی پاکیزہ شخصیات دیکھی گئی ہیں انہیں شخصیات میںمرشد کریم حضور امین شریعت مخدوم چھتیس گڑھ حضرت علامہ مولانامفتی محمدسبطین رضاخاں علیہ الرحمہ کا بھی شمارہوتاہے۔
حضورامین شریعت خانوادہ ٔرضویہ بریلی شریف کے چشم وچراغ تھے ،علمی اور روحانی ماحول میں ان کی ولادت ہوئی ،اسی نورونکہت سے معمورماحول میں انہوں نے تعلیم وتربیت کے تمام مراحل طے کئے اور تعلیم وتربیت کی تکمیل کے بعد اسی ماحول میںاپنی عملی زندگی کا آغازکیا۔حضور مفتی اعظم ہند کے کرم کی آغوش میںآپ کی زندگی کا کارواں آگے کی سمت بڑھتا رہااور جب حضور مفتی اعظم ہند نے محسوس کرلیا کہ مٹی سونا ہوگئی ہے اور ذہن وفکرمیں اتنی پختگی آگئی ہے کہ وہ دعوت وتبلیغ کی راہوں میں آنے والی ہرطرح کی مشکلات کا بآسانی سامناکرسکتے ہیں تب آپ نےکانکیر چھتیس گڑھ کی ولایت انہیں سونپ دی۔
خواجہ خواجگاں فخرہندوستاں ،چراغ چشتیان حضورسیدناخواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہندوستان کی سرزمین کو مرکز تبلیغ بنانے کا حکم بارگاہ رسالت سے ہوتاہے ،آپ نے ہندوستان سے اپنی اجنبیت کا اظہارکیاآپ کی نگاہوں کے سامنے پوراہندوستان رکھدیاگیااورجس شہر کو مرکز تبلیغ بناناتھا اس کی نشاندہی کردی گئی ،نبوی اجالوں کے سائے میں آپ کا تبلیغی سفر شروع ہوااس طرح آپ وارد ہند ہوئے اور آپ نے اپنے حسن تبلیغ کی تلوارسے ہندوستان کے کفرکی شہ رگ کاٹ دی۔حضور امین شریعت کو بھی کانکیر چھتیس گڑھ بھیجنے سے پہلےحضور مفتی اعظم ہند نے خواب میں آپ کی نگاہوں کے سامنے اس شہرکا پورانقشہ رکھدیاجس شہرکو آپ کا مرکزتبلیغ ہوناتھا ،جب آپ کانکیرچھتیس گڑھ حاضرہوئےا ور شہرکودیکھاتوخواب کے سارےمناظرنگاہوں میں تیرنے لگے اور آپ نے محسوس کیاکہ اس شہر کے سارے نشیب وفرازمیرے دیکھے ہوئے ہیں ،حضورسیدناخواجہ غریب نواز نے آقائے کریم ﷺ کے کرم کے سائے میں اپناتبلیغی ودعوتی سفرجاری رکھااورحضورامین شریعت نے نائب مصطفی ﷺ حضور مفتی اعظم ہند کے کرم کے سائے میں اپنا تبلیغی ودعوتی سفرشروع کیا،حضورسیدناخواجہ غریب نوازز کا مرکز تبلیغ کفروشرک کی غلاظتوں میں ڈوباہواتھا اور حضور امین شریعت کا مرکز تبلیغ بدعات ومنکرات کی غلاظتوں میں ڈوباہواتھا ،اجمیرمیں کفرہی کفرتھااورچھتیس گڑھ میںاسلام بھی تھا اور کفربھی تھا لیکن اسلام وکفرمیں کوئی تمیز نہ تھی ۔اہل اسلام مسجد میں سجدہ ریز بھی ہوتے تھے اور دیوی دیوتاؤں کے سامنے بھی سرنیاز خم کردیاکرتے تھے۔اسلامی تیوہاروں کاجشن بھی مناتے تھے اورہندؤں کی مذہبی تقریبات میں بھی شریک ہوتے تھے ۔حضورسیدناخواجہ غریب نوازنے اپنے حسن اخلاق سے کفرکی تاریکیوں کو دور کیااور اسلام کے نور سے سینوں کو منورکردیا۔حضورامین شریعت نے بدعات ومنکرات کی تاریکیوں کو دورکیااوراسلامی اخلاق وعادات سے جبینوں کو روشن کردیا۔حضور امین شریعت نے ہروقت حضور سیدنا خواجہ غریب نواز کی سیرت پاک کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھااورغلام خواجہ غریب نواز کی حیثیت سے اسلام کے چہرہ پہ پڑی ہوئی دھول کواس طرح صاف کیاکہ تھوڑے ہی دنوں میں اسلام کا گردآلود چہرہ چودہویں کے چاندکی طرح چمکنے لگا۔
حضورامین شریعت کا نسبی رشتہ خانوادہ رضویہ سے ہے خانوادہ ٔرضویہ کی دینی ،ملی اورسماجی خدمات کا دائرہ پانچ صدیوں سے زائدپر پھیلاہواہے۔اس دوران عالمی وملکی سطح پہ نہ جانے کتنے طوفان اٹھے ،کتنے فتنے نمودارہوئے اور نہ جانے کتنی قیامتیںٹوٹیں لیکن خانوادہ رضویہ کبھی کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوابلکہ ہرفتنے کا پوری ایمانی جرات کے ساتھ مقابلہ کیااوراس وقت تک چین سے نہیں بیٹھا جب تک فتنے کو اس کے گھر تک نہیں پہنچادیا۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی قدس سرہ کا عہد ہی دیکھ لیاجائے آپ کے عہد کو اگر فتنوں کے عہد سے تعبیر کیاجائے تو غلط نہ ہوگا۔آپ کے عہد میں جتنے فتنے اٹھے چاہے اس کی حیثیت ملکی رہی ہویاعالمی آپ نے ہرفتنے کا تعاقب کیا اور اسے پورے طور پر بےنقاب کیا۔آپ کی تالیفات وتصنیفات میں اس کے شواہد موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں۔حضور امین شریعت جہاں دوسری بہت ساری خصوصیات کے حامل تھے وہیںاپنی خاندانی روایات کے بھی امین ومحافظ تھے۔اُن کی حیات کے مطالعہ سے اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ آپ زندگی کے کسی موڑ پر کبھی کسی مصلحت کے شکار نہیں ہوئے۔آپ ہمیشہ اظہار حق،اعلان حق اور اعتراف حق میں خود کو پیش پیش رکھا۔مصیبتیں آئیں،کٹھینائیاں دامن گیرہوئیں اور الجھنوں کا طوفان راہ میں حائل ہوالیکن آپ کی استقامت کے سامنے ساری مصیبتیں،الجھنیںاور کٹھنائیاں دم توڑتی چلی گئیں۔آپ جہادزندگانی میں تنہاتھے مگرکبھی کسی سے اپنی تنہائیوں کا شکوہ نہیں کیاآپ تاحیات اپنی زبان مبارک سے یہی اعلان واظہارکرتے رہے کہ

صلیب ودارسہی دشت وکوہسارسہی
جہاں بھی تم نے پکاراہے جاں نثارچلے
سنی جو باگ جرس توبقتلِ گاہ جفا
کفن بدوش اسیرانِ زلف یارچلے

حضورامین شریعت کی ذات میں اسلاف کی ساری خصوصیات موجودتھیں۔آپ صورتابھی اورسیرتابھی حضورمفتی اعظم ہندکے مشابہ تھے ۔آپ کو دیکھ کرحضورمفتی اعظم ہند کی تصویرنگاہوں میں تیرنے لگتی تھی اور حضورمفتی اعظم ہندکو دیکھ کر حضور غوث اعظم کی شباہت نگاہوں میں جھلملانے لگتی تھی۔حضورامین شریعت کو دیکھ کر حضور مفتی اعظم ہندیادآتے تھے اور حضور مفتی اعظم ہند کو دیکھ کرغوث اعظم کی یادآتی تھی یعنی حضور امین شریعت کی ذات میں حضور مفتی اعظم ہنداور حضورغوث اعظم کے عکوس دیکھے جاسکتے تھے۔حضورغوث اعظم کو قبولیت عامہ حاصل تھی ہروقت آپ کے قریب مخلوق خداکا ہجوم رہتاتھااورحضور غوث اعظم کے فیضان سے حضور امفتی اعظم ہند کو بھی قبولیت عامہ حاصل تھی، آپ کابھی حال یہ تھا کہ جہاں ہوتے مخلوق خداپروانہ وارآپ پر نثارہوتی اور حضور مفتی اعظم ہندکے کرم سے حضور امین شریعت کوبھی قبولیت عامہ حاصل تھی ۔آپ کے قرب کی لذت سے آشنا ہونے والوں کابیان ہے کہ آپ جس طرف سے گذرتے روشنی آپ کے
پیچھے پیچھے ہوتی،حاجت مندوں اور ضرورت مندوںکی بھیڑ ہروقت آپ کے حضور دیکھی جاتی،مذکورہ شخصیات کی قبولیت کا دائرہ الگ الگ ہے،غوث اعظم غوث اعظم ہیں ،حضورمفتی اعظم ہند مفتی اعظم ہیں اور حضورامین شریعت امین شریعت ہیں۔
حضورغوث اعظم کی شان یہ ہےکہ
سارے اقطاب جہاں کرتے ہیںں کعبے کا طواف
کعبہ کرتاہے طواف ِدرِوالا تیرا

حضورمفتی اعظم ہندکی شان یہ ہے کہ
ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس دہرمیں تھک جاؤگے
ایسامرشدنہ زمانے میں کہیں پاؤگے

اورحضور امین شریعت کی شان یہ ہے کہ
رہاان کا ہرلمحہ سنت کا پیکر
قتیلِ محبت کو ڈھونڈیںکہاں اب
حضور امین شریعت نے حق کے پرچم کو کبھی سرنگوں ہونے نہیں دیااور باطل کو کبھی سراٹھانے نہیں دیا۔حق اپنا رنگ وروپ کبھی نہیں بدلتالیکن باطل ہمیشہ اپناروپ بدلتارہتاہے۔حضور امین شریعت اپنی حیات میں حق کی ترویج وتشہیرسے لمحہ بھرکے لئے غافل نہیں ہوئے اور باطل کبھی آپ کوفریب دینے میں کامیاب نہیںہوسکا۔آپ کی دینی،ملی اور اصلاحی خدمات کادائرہ نصف صدی سے زائد پر محیط ہے،آپ پچاس سال سے زائد عرصہ تک آلات حرب وضرب سے لیس ہوکرمیدان جہاد میں رہے ،نظام قدرت کےتحت جسمانی اعضا ضعف کاشکار ہوئے مگر احقاق حق کا جو جذبہ عنفوان شباب میں دیکھاگیا وہی جذبہ عالم پیری میں بھی نظرآیابلکہ عالم پیری میں حق کی اشاعت کے جذبے میں مزیدشدت آگئی تھی ۔کسان کھیتوں میں پودے لگاتاہے ان مین بعض پودے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان پودوں پہ شباب آنے سے پہلے کسان دنیاسے گذرجاتاہے لیکن حضور امین شریعت نے حق کی ترویج کے جو پودے لگائے تھے وہ تمام پودے آپ کی حیات ہی میں تناوردرخت کی شکل اختیار کرچکے تھے اور ان کے پھولوں کی خوشبوسے مشام انسانیت معطرہونے لگی تھی آپ نے دعوت وتبلیغ اور رشدوہدایت کے میدان میں جب قدم رکھاتو تنہاتھے لیکن جب عمر کے آخری پڑاؤ میں آپ نے پیچھے پلٹ کر دیکھاتو سپاہیوں کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ تھا۔آپ انتہائی وسیع النظرتھے آپ کی گفتگومیں حلات اور اثرپذیری تھی اور حق کی راہ میں آپ کے پاس نہ تھکنے والاعزم تھاآپ کی حیات ڈاکٹراقبال کے اس شعرکی مکمل آئینہ دارتھی کہ

نگہ بلند،سخن دل نواز جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفرمیرِکارواں کے لئے