پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

26

آج کل جب کہ ہم آپس میں خوب ذوق وشوق سے دست وگریباں ہیں، ہمارے ازلی دشمنوں کی طرف سے ہمارے وجود اور شہریت کے ساتھ ساتھ ہمارے دین پر بھی روز یلغار جاری ہے، اسی درمیان ٹی وی ڈبیٹ سے نکل کر ایک جملہ ان کی زبان پر یہ عام ہورہاہے کہ:
"ہندو دھرم پانچ ہزارسال پرانا ہے اور اسلام صرف ساڑھے چودہ سوسال پہلے آیا ہے تو پھر اسلام سے پہلے تمام لوگ کس دھرم پر تھے؟” ان جیسے سوالوں کا مقصد ظاہر ہے کہ جاہلیتِ اولی کی طرف لوٹنے اور اسلام کی روشنی سے کفر کی تاریکی کی طرف پلٹنے کا بےجا اصرار ہے جو دھرم پریورتن یعنی ارتداد کی ناپاک چالوں میں سے ایک کمزور چال ہے۔
اس سلسلے میں مختلف اسلوب میں کئی جوابات دیئے جارہے ہیں، راقم الحروف کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارا دین کیاہے؟ پہلے یہ جاننا ضروری ہے، خود ہمارے لئے بھی اور غیروں کے لئے بھی، تبھی جواب سمجھ میں آسکتاہے ورنہ نہیں۔
ہمارا دین جو کہ اسلام ہے یہ توحید رسالت آخرت جنت وجہنم ملائکہ وغیرہ پر ایمان لانا ہے یہی دین سب سے پہلے انسان نیز سب سے اول پیغمبر بابا آدم علیہ السلام کا دین تھا، اور ہر زمانے میں جب جب لوگوں نے ان حقائق کو بھلا دیا تو نبی اوررسول خاص طور پر انہی باتوں کو یاد دلانےکے لئےبھیجے گئے۔چنانچہ اللہ کے سچے نبی حضرت عیسی علیہ السلام ایک خدا کی بندگی کا حکم پہنچاکر جب گئے، تو ایک عرصے کے بعد ان کی قوم نے ان کی اصل دعوت کوطاق نسیان پر رکھ دیا اور اپنے ذاتی اغراض ومفادات کی بنیاد پر ان کی شریعت اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لیا اور یہی نہیں بلکہ تین خدا کا بے بنیاد نظریہ بھی گڑھ لیا اور غضب یہ کہ ان تین میں سے ایک خدا اسی عیسی نبی کو بنالیا جو ایک خدا کی عبادت وبندگی کا درس دے کر گئے تھے۔ مؤرخ ابن عساکر کی تاریخی روایت کے مطابق کوئی چھ سو برس کے درمیانی فاصلے کے بعد جب دنیا شرک اور بت پرستی سے بھرنے لگی، اور گذشتہ تمام آسمانی مذاہب مسخ کردیئے گئے تو خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ توحیدِ خالص کی دعوت لے کر اور اس آخری کتابِ ہدایت "قرآن” لےکر آئے(تاریخ دمشق ۱/۳۱) جس میں آج کی تاریخ تک کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہوئی ہے اور نہ آئندہ ممکن ہے، اس لئے پورے اطمینان اور ثبوت کے ساتھ کہا جائے گا کہ ہمارا دین، دینِ اسلام ہے بابا آدم علیہ السلام سے اب تک، کوئی مذہب اور دھرم ہم سے زیادہ قدیم ہونے کا دعوی نہیں کرسکتا اور اگر کرتا ہے تو ہمارے مقابلے میں بے دلیل ہی ثابت ہوگا۔
دھرم پریورتن اور ارتداد کی زوروشور سے کوشش کرنے والے ایک بات یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا دھرم سچاہے اسی لئے ان کی دھارمک کتابوں خصوصا ویدوں میں کئ ایک ایسے اشلوک اور دیوتاؤں کے نام موجود ہیں جن کے بارے میں اسلامک ودوان بھی مانتے ہیں کہ یہ چیزیں اسلام میں بھی ہیں اور بعض نام ان کے نبیوں کے ناموں سے ملتے جلتے ہیں۔
لیکن اس الٹی بات کو سیدھی کرکے دیکھا جائے تو یہ اسلام کی سچائی کی دلیل ہے کیونکہ پوری بات ہمارے پاس ہے ، جس بات کو ہم مکمل طور سے اپنی کتابوں میں دیکھتےہیں اس کے کچھ نامکمل حصے تحریف وتبدیلی کے باوجودآج بھی ان کی کتابوں میں دبے چھپے مل جاتے ہیں اور اسلام کی سچائی کی گواہی دیتے ہیں۔
دنیا میں بے شمار مذاہب ہیں جن میں پیروکاروں کی تعداد کے اعتبار سے اسلام، عیسائیت، بودھ مت اور سناتن عرف ہندومت بڑے مشہور اور آسمانی مذاہب مانے جاتے ہیں۔ لیکن اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ اسلام تاریخ کی روشن فضا میں ایک جامع،کامل اور واضح مذہب ہے،قرآن مضبوط ترین شہادتوں کے ساتھ اپنی اصلی حالت میں موجود ہے، نبی کی پوری زندگی کا ایک ایک گوشہ تاریخ ک اجالے میں کھلی کتاب کے مانند ہے،نبی کے اقوال افعال اور احوال روایت ودرایت کے سخت ترین اصولوں کے ساتھ منقول ومحفوظ ہیں۔جبکہ دیگر مذاہب کی کوئی بنیادی چیز محفوظ نہیں، کسی سوال کا جواب نہیں، تاریخیت سے عاری،کوئی اصول وضوابط نہیں ، بس وہمی قصے، غیر معقول حکایتیں اور دنیا بھر کے خرافات ۔۔۔۔۔۔۔خلاصہ یہ کہ اسلام کے علاوہ سارے مذاہب اپنے احبار، رہبان اور پنڈوں کے ہاتھوں زبردست تحریف کا شکار ہوئے ہیں، سب حقائق مٹادیےء ظالموں نے، ورنہ آج سبھی مسلمان ہوتے کیونکہ سچا مذہب تو ہمیشہ اسلام ہی رہا ہے”ان الدین عنداللہ الاسلام” دین تو اللہ کے نزدیک ‘ہمیشہ’ اسلام ہی رہا ہے۔(سورۃ آل عمران ۱۹)
ہاں کچھ چیزیں ان تحریفات کے کھنڈرات میں کبھی مل جاتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی صورتیں آج جیسی نظر آرہی ہیں پہلے ایسی نہیں تھیں۔اور اسی لئے اللہ نے ان تحریف شدہ مذاہب کومنسوخ اور کالعدم کردیا۔اب صرف اسلام ہی مذہب ہے باقی سب باطل۔
"جاءالحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا”۔